میں تلاش میں کسی اور کی مجھے ڈھونڈھتا کوئی اور ہے

ایک اردو غزل از حسن عباس رضا

میں تلاش میں کسی اور کی مجھے ڈھونڈھتا کوئی اور ہے

میں سوال ہوں کسی اور کا میرا مسئلہ کوئی اور ہے

کبھی چاند چہروں کی بھیڑ سے جو نکل کے آیا تو یہ کھلا

وہ جو اصل تھا اسے کھو دیا جسے پا لیا کوئی اور ہے

کٹی عمر ایک اسی چاہ میں اسے دیکھتے کسی راہ میں

مگر اک زمانے کے بعد جو ہوا آشنا کوئی اور ہے

فقط ایک پل کے فراق میں کئی خواب کرچیاں ہو گئے

جو پلٹ کے آئے تو یوں لگا یہاں سلسلہ کوئی اور ہے

وہی لوگ ہیں وہی نام ہیں وہی گھر وہی در و بام ہیں

مگر اب دریچوں کی اوٹ سے ہمیں جھانکتا کوئی اور ہے

کسی آنے والے سفر کی جب کرو ابتدا تو یہ سوچنا

میں اکیلا اس میں شریک ہوں کہ مرے سوا کوئی اور ہے

اسے مل کے آئے تو شام کو مجھے آئنہ نے کہا سنو

وہ جو صبح دم تھا حسن رضاؔ وہ تمہی ہو یا کوئی اور ہے

حسن عباس رضا

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔