میں نے سوچا ہے تمہیں، اور بہت سوچا ہے
دور سے لوگ بھی کیا خوب نظر آتے ہیں
پاس آتے ہیں تو کھل جاتے ہیں چہروں کے نقاب
کتنے چہرے ہیں جو چہروں میں چھپے جاتے ہیں
ہم نے چاہا تھا جنہیں اپنی حقیقت کی طرح
وہ بھی اک خواب کی مانند بکھر جاتے ہیں
فاصلہ صرف جدائی کا سبب کب ٹھہرا
کچھ تعلق تو بہت پاس بھی مر جاتے ہیں
جن کو اک عمر نگاہوں میں بسائے رکھا
وہی اک روز نگاہوں سے اتر جاتے ہیں
ہم سمجھتے تھے کہ خاموشی محبت ہوگی
لوگ خاموش بھی رہ کر تو مکر جاتے ہیں
کتنی حیرت ہے کہ جن سے تھا اجالوں کا گماں
وہی چہرے ہمیں تاریکی میں کر جاتے ہیں
ہم نے ہر بار محبت کو بچانا چاہا
لوگ ہر بار نئے زخم ہی دے جاتے ہیں
حسنؔ، اب کس سے کریں شکوۂ تنہائی ہم
لوگ ملتے ہیں، مگر مل کے گزر جاتے ہیں
میر حسنؔ