میں نے سوچا ہے تمہیں

میر حسن کی ایک اردو غزل

میں نے سوچا ہے تمہیں، اور بہت سوچا ہے
دور سے لوگ بھی کیا خوب نظر آتے ہیں

پاس آتے ہیں تو کھل جاتے ہیں چہروں کے نقاب
کتنے چہرے ہیں جو چہروں میں چھپے جاتے ہیں

ہم نے چاہا تھا جنہیں اپنی حقیقت کی طرح
وہ بھی اک خواب کی مانند بکھر جاتے ہیں

فاصلہ صرف جدائی کا سبب کب ٹھہرا
کچھ تعلق تو بہت پاس بھی مر جاتے ہیں

جن کو اک عمر نگاہوں میں بسائے رکھا
وہی اک روز نگاہوں سے اتر جاتے ہیں

ہم سمجھتے تھے کہ خاموشی محبت ہوگی
لوگ خاموش بھی رہ کر تو مکر جاتے ہیں

کتنی حیرت ہے کہ جن سے تھا اجالوں کا گماں
وہی چہرے ہمیں تاریکی میں کر جاتے ہیں

ہم نے ہر بار محبت کو بچانا چاہا
لوگ ہر بار نئے زخم ہی دے جاتے ہیں

حسنؔ، اب کس سے کریں شکوۂ تنہائی ہم
لوگ ملتے ہیں، مگر مل کے گزر جاتے ہیں

میر حسنؔ

میر حسن

میرا نام حسنؔ ہے، جو کہ میرا ہی انتخاب ہے، تعلق منڈی بہاؤالدین، پنجاب سے ہے۔مادری زبان پنجابی ہے، مگر اردو سے بھی محبت ہے اور احساسات کو شعر میں ڈھالنے کا شوق۔ جو بات زبان کہنے سے رہ جائے، اسے قلم کے سپرد کر دیتا ہوں۔ محبت، ہجر اور زندگی کے اَن کہے احساسات میری شاعری کا محور ہیں۔