شہروں کی طرف گاؤں سے جاتا ہوا مزدور

ارشاد نیازی کی ایک اردو غزل

شہروں کی طرف گاؤں سے جاتا ہوا مزدور
مر جاتا ہے یوں رزق کماتا ہوا مزدور

سوتا ہے کسی درد کو اوڑھے ہوئے لیکن
ڈرتا ہے کوئی خواب سجاتا ہوا مزدور

اک عمر سے چمنی کا دھواں پھانک رہا ہے
بیٹی کے لیے گہنے بناتا ہوا مزدور

روتا ہے لپٹ کر یہ در و بام سے پہلے
گھر آتا ہے جب چھالے چھپاتا ہوا مزدور

کب دیکھتا ہے عکس بکھرتے ہوئے شب کا
اک صبح کا آئینہ سجاتا ہوا مزدور

بستے میں پڑے خواب جواں دیکھ رہا ہے
سوتے ہوئے بچوں کو جگاتا ہوا مزدور

سینے پہ مرے زخم بناتا ہے مسلسل
غربت کا عجب نوحہ سناتا ہوا مزدور

ڈرتا ہے کہیں شور مچا دیں نہ ہوائیں
خاموش ہے جو دیپ جلاتا ہوا مزدور

پیڑوں کی دعا لے کے نکلتا ہے یہ گھر سے
خوش رنگ پرندوں کو بلاتا ہوا مزدور

تپتے ہوئے سورج کو بھی للکار رہا ہے
اک سوچ میں گم اینٹیں اٹھاتا ہوا مزدور

بچوں کا یہ غم دیکھ نہیں سکتا ہے ارشاد
ہنس دیتا ہے جب اشک بہاتا ہوا مزدور

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔