لہو اشکوں میں مِلنے دو

ایک اردو غزل از عُظمی جٙون

لہو اشکوں میں مِلنے دو، انہیں خُونناب ہونے دو
ہماری چشمِ گریاں کو ذرا تالاب ہونے دو

ابھی تک ذہن و دل پر جس کی یادوں کا بسیرا ہے
اُسے تو بھول جانے دو، اُسے تو خواب ہونے دو

نہ کاٹو پھول ندیا کے کناروں پر اُگے ہیں جو
مِرے چشموں کے پانی کو ذرا *مشکاب* ہونے دو

ابھی تو سُرمئی سی شام اُتری ہے دریچوں میں
ستارہ جیب میں رکھو، اسے مہتاب ہونے دو

ابھی سے خوابِ وصلِ یار دکھلاو نہیں عُظمی
جسے ہے فخرِ ضبطِ غم، اسے بیتاب ہونے دو

عُظمی جٙون

عُظمی جَون

عُظمی جَون- سِبّی : بلوچستان-دو شعری مجموعوں کے خالق :*خِزاں کی رُت سُنہری ہے**ستارے میرے آنسو ہیں*- پروفیسر/پرنسپل (ریٹائرڈ)- مقامی، صوبائی، ملکی اور عالمی مشاعروں میں شرکت۔ لاتعداد ایوارڈ و اسناد یافتہ۔ *فن اور شخصیت*- *خِزاں کی رُت سُنہری ہے کا فنی جائزہ* - *"خِزاں کی رُت سُنہری ہے" کا تنقیدی جائزہ*- *عُظمی جَون کی شاعری میں روایت و جدیدیت کا تقابلی جائزہ* جیسے عنوانات کے تحت BS, ایم ایس اور M.Phil کی سطح پر تحقیقی مقالہ جات۔ Face Book, YouTube، Instagram جیسے سوشل میڈیا پر Uzmee Jaon کے نام سے چینل اور پیجز۔ریختہ اور گوگل پر مواد موجود۔آذربائیجان میں عارضی رہائش۔

تبصرے دیکھیں