لب و رخسار و جبیں سے ملئے

ابن صفی کی ایک اردو غزل

لب و رخسار و جبیں سے ملئے
جی نہیں بھرتا کہیں سے ملئے

یوں نہ اس دل کے مکیں سے ملئے
آسماں بن کے زمیں سے ملئے

گھٹ کے رہ جاتی ہے رسوائی تک
کیا کسی پردہ نشیں سے ملئے

کیوں حرم میں یہ خیال آتا ہے
اب کسی دشمن دیں سے ملئے

جی نہ بہلے رم آہو سے تو پھر
طائر سدرہ نشیں سے ملئے

بجھ گیا دل تو خرابی ہوئی ہے
پھر کسی شعلہ جبیں سے ملئے

وہ کوئی حاکم دوراں تو نہیں
مت ڈریں ان کی نہیں سے ملئے

ابنِ صفی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔