کبھی جو آنکھوں کے آ گیا آفتاب آگے

حسن عباسی کی ایک اردو غزل

کبھی جو آنکھوں کے آ گیا آفتاب آگے

ترے تصور میں ہم نے کر لی کتاب آگے

وہ بعد مدت ملا تو رونے کی آرزو میں

نکل کے آنکھوں سے گر پڑے چند خواب آگے

دل و نظر میں ہی اپنے خیمے لگا لئے ہیں

ہمیں خبر ہے کہ راستہ ہے خراب آگے

نظر کے حیرت کدے میں کب کا کھڑا ہوا ہوں

اک آئنے میں کھلا ہوا ہے گلاب آگے

گزرنے والا تھا رہ گزار حیات سے میں

وہ ایک لمحہ کہ آ گئے پھر جناب آگے

حسنؔ جو ماضی کا صفحہ الٹا تو آ گئے ہیں

کھجور کے پیڑ ٹیلے اور ماہتاب آگے

حسن عباسی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔