جو دیکھا آئینہ گھبرا گیا تھا
میں اپنے آپ سے ٹکرا گیا تھا
وہاں ملبے کی بولی لگ رہی تھی
میں گرچہ شام کو گھر آگیا تھا
مری ہی کر چیوں میں گم کہیں ہے
وہ پتھر جو مجھے راس آگیا تھا
اب آدھی قیمتوں پہ بک رہا ہوں
میں پوری قیمتیں ٹھکر ا گیا تھا
مجھے کچھ یا د آئے آج عرفاں
جو عرفاں کل مجھے سمجھا گیا تھا
ڈاکٹر عرفان احمد بیگ