جیسا خُدا کا حُکم ہے ویسا سمجھتا ہوں

ایک اردو غزل از محمود کیفی

جیسا خُدا کا حُکم ہے ویسا سمجھتا ہوں
پتّھر کے اِک مکان کو کعبہ سمجھتا ہوں

تم کہہ رہے ہو اِک بڑی نعمت ہے زندگی
میں تو اِسے حضورؐ کا صدقہ سمجھتا ہوں

کاغذ کے ایک ٹکڑے سے قائل نہ کر مجھے
میں تو تمھارے فعل کو شجرہ سمجھتا ہوں

تم کہہ رہے ہو عشق پہ لاؤ دلیل بھی
میں تو بس ایک یاد کا نُقطہ سمجھتا ہوں

میں جانتا ہوں مرتبہ کِس کا بُلند ہے
اپنے نبی ؐ کا آخری خُطبہ سمجھتا ہوں

کیا تم بتاؤ گے مجھے ، کیا میرا حال ہے
کیفی ہوں اپنے حال کا قِصّہ سمجھتا ہوں

محمود کیفی

محمود کیفی

" مختصر تعارف " شاعر : محمود کیفی نام : محمودالحسن ولدیت : ظفراقبال تاریخ پیدائش : 23 فروری 1986ء گاؤں : گھُمنال ضلع : سیالکوٹ تحصیل : پسرور شعری مجموعے : " اِقرار محبت کا " اشاعت 2011ء / " کیفیت " اشاعت 2014 ء ۔ سینئر نائب صدر : بزمِ دوستانِ ادب سیالکوٹ ۔