باعثِ اضطراب دیکھتے ہیں

ثوبیہ نورین نیازی کی ایک اردو غزل

باعثِ اضطراب دیکھتے ہیں
ہم اسے بےحساب دیکھتے ہیں

لوگ چہروں کو دیکھتے ہیں یہاں
ہم کہ دل کی کتاب دیکھتے ہیں

آنکھ لگتی نہیں شب ہجراں
اور ہم تیرے خواب دیکھتے ہیں

پھول سارے ہی پھول ہوتے ہیں
ہم مگر اک گلاب دیکھتے ہیں

عجز اول ہو سادگی آخر
ہم کہاں آب وتاب دیکھتے ہیں

عشق والے گھڑے پہ تیرتے ہیں
کب وہ بپھرا چناب دیکھتے ہیں

کس کی نورین آنکھ بینا ہے
آج کر کے نقاب دیکھتے ہیں

ثوبیہ نورین نیازی

ثوبیہ نورین نیازی

ثوبیہ نورین نیازی کا تعلق فیض احمد فیض کی سرزمیں نارووال سے ہے - ابتدائی تعلیم اپنے ہی شہر سے حاصل کی - بعد ازاں اعلی تعلیم کے لیے لاہور کا رخ کیا اور یہی پہ رہائش پذیر ہیں - شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں- ایک شعری مجموعہ میرا محرم راز اور ایک نثری مضامین کی کتاب کبھی دیکھ پلٹ کر شائع ہو چکی ہیں - جبکہ دوسرا شعری مجموعہ تاروں کے دشت میں زیر طبع ہے - ثوبیہ نورین نیازی پاکستان کے بڑے اخبار نوائے وقت میں کالمز لکھتی ہیں - اس کے علاوہ خدمت خلق کے کئی اداروں سے وابستہ ہیں - ثوبیہ نورین نیازی نے اپنے اشعار میں محبت کے سچے جذبوں کو پورے خلوص سے بیان کیا ہے ان کے ہاں سادگی، سلاست اور روانی ہے - زیادہ تر چھوٹی بحر میں شاعری کرتی ہیں - چند لفظوں میں بڑی سے بات بیان کرنے کا ہنر جانتی ہیں - نثر میں واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ سے متاثر ہیں - تصوف اور وحدت الوجود کا بیان بڑی گہرائی اور وسعت قلب سے کرتی ہیں -