محمد محسن خالد (قلمی نام:محسن خالد محسن) ؔ شاعر ،ادیب،محقق ،نقاد اور اُستاد ہیں۔ ان کے چار شعری مجموعے "کچھ کہنا ہے”دُھند میں لپٹی شام "تلاش” اور” محبت معاہدہ نہیں” شائع ہو چکے ہیں۔ا نھوں نے 2024 میں صنفِ غزل میں "کلاسیکی غزل میں تلمیحات کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ” کے موضوع پرناردرن یونی ورسٹی نوشہرہ سے پی ایچ ۔ڈی(اُردو) کی تحصیل کی ہے۔بہ حیثیت لیکچرار(اُردو) گورنمنٹ شاہ حسین گریجوایٹ کالج چوہنگ،لاہور میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ ان کے پنتیس سے زائد تحقیقی مقالات ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے مصدقہ جنرلز میں شائع ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان کے معروف ادبی رسائل وجرائد اوربرقی اخبارات و بلاگز میں ان کے متفرق موضوعات پر مضامین اور کالمز باقاعدگی سے شائع ہو تے رہتے ہیں۔ ادب،سماج، معاشرت،سیاست و حالاتِ حاضرہ پر ببانگِ دُہل اپنی رائے کا اظہارکرتے ہیں۔
ڈاکٹر محسن خالد محسن نثری نظم کے نمایاں شعرا میں شمار کیے جاتے ہیں۔ا ن کی نظموں کی اُٹھان ہی مختلف ہے۔ انھوں نے اُردو نثری نظم کو ایک نیا جہان دیا ہے ، ان کے موضوعات روایت سے ہٹ کر ہیں۔ ان کے ہاں علامت اور اساطیری انداز ؛خیال سے زیادہ تجربے کی واردات معلوم ہوتی ہے۔
یہ مصاحبہ ان کی شخصیت اور علمی و ادبی کاموں سے متعلقہ معلومات کی غرض سے کیا گیا ہے جس میں ان کی زندگی ،شاعری، شخصیت اور علمی و ادبی نکتہ نظر کے حوالے سے سوالات کیے گئے ہیں۔ اس مصاحبے میں ڈاکٹر محسن خالد محسن نے نہایت بےباکی سے سبھی سوالات کے تسلی بخش جوابات دئیے ہیں جسے مصاحبہ کار نے ان کی شاعری پر ہونے والے ایم فل اُردو کے مقالے کے لیے محفوظ کیا ہے۔
سوال:ڈاکٹر صاحب ! اپنے آبائی گھر کے بارے میں بتایئے؟
جواب:ہمارا آبائی گھر گزشتہ چار نسلوں سے رسول پورچک 5 کرانی والا ہے۔ مزے کی بات یہ کہ ہماری دادی امرتسر سے تھی اور دادا اسی گاؤں سے تھے۔ دادی بتایا کرتی تھیں کہ تمہارے دادا امرتسر کی منڈی میں گُڑ، تیل بیچنے جایا کرتے تھے اور وہاں سے سوتی کپڑا خرید کر لاتے تھے اور گاؤں میں بیچتے کم تھے دوستوں اور عزیزوں کو تحفے میں دیا کرتے تھے۔ ہمارے نانا یعنی ننھیال کا گھر بھی اسی گاؤں میں ہے،ہمارے نانا مگلن کوٹ (عرف عام مجھیٹا کوٹ) سے ہجرت کر کے آئے تھے۔ ہماری اماں اور ابا کا بھی یہی مشترکہ آبائی گاؤں ہے۔ یوں اس گاؤں سے نسبت بہت دور کی ہے ۔
سوال: اپنے والدین کے بارے میں بتایئے؟
جواب: اماں کا نام شمیم اختر (مرحوم) ہے اور جو اپنے زمانے کی روایتی تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔ ان کی دُنیاوی تعلیم بظاہر مڈل تھی مگر صوفیانہ رُجحان کی وجہ سے ان کی شخصیت پورے گاؤں میں ایک ہمدرد اور غمخوار خاتون کی حیثیت سے معروف تھی۔اس بات کا اندازہ مجھے ان کے جنازے میں شریک لوگوں کی تعداد سے ہوا۔ ان کے انتقال کے بعد ان کا طریقہ حیات مجھ پرکُھلا کہ انھوں نے ساری زندگی دوسروں کی جھولی بھری اور دُعائیں سمیٹیں۔ ابا جان حیات ہیں ،ان کا نام خالد پرویز ہے، آرمی سے ریٹائرڈ ہیں ۔ حال مقیم اسی گاؤں میں زمین داری کرتے ہیں اور ساتھ ایک چھوٹا سا کریانہ سٹور چلاتے ہیں۔
ابا جان کے بار ے میں اتنا ہی کہوں گا کہ انھوں نے ساری زندگی فوج میں گزاری ہے ، ہمارا بچپن،لڑکپن جوانی ان کی غیر موجودگی میں پھلا پھولا۔ 2006 میں انھوں نے ریٹائر منٹ لی ، ایک دو جگہ جز وقتی ملازمت کے بعد واپس گاؤں مستقل قیام پذیر ہوگئے۔ ان کی شخصیت بڑی پُراسَرار قسم کی ہے۔ خاموش طبع ہیں اور بڑے مرنجاں مرنج سی شخصیت ہیں۔ زندگی کو بہت معصومانہ انداز سے دیکھتے ہیں ۔ کسی سےکوئی گلہ نہیں اور شکایتِ زمانہ سے کوسوں دور ہیں۔ کہا کرتے ہیں کہ "آپ بھلے تو جگ بھلا”۔ ان کا غصہ بلا، کا ہے اور پیار بھی ناقابل ِ فراموش ۔ اماں کے انتقال کے بعد ان کی دوسری شادی شمیم سے کر دی ہے ،جن کا تعلق لاہور سے ہے۔ ابا سے ان کی ذہنی ہم آہنگی خوب ہے۔ دونوں زندگی کے بقیہ ایام باہمی افہام و تفہیم سے گزار رہے ہیں۔
سوال: ایامِ شِیر خواری کے چُنیدہ واقعات بتائیں؟
جواب:میں بچپن میں بہت زیادہ شرارتی تو نہیں تھا البتہ میٹھی چیزیں کھانے کا از حد شوق رہا ۔ میرا بچپن پھوپھو (نام-رانی:حال مقیم،لاہور) کے ساتھ زیادہ گزرا ہے۔ ان کی شادی ہمارے گاؤں کے ساتھ واقع چک نمبر 8 گوہڑ میں ہوئی تھی۔ میں پیدل برسات میں ان کے ہاں اکیلا چلاجاتا تھا۔ ان سے ذہنی موانست بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے ان سے قُربت بھی بہت بڑھی ہوئی تھی۔ مجھے یاد نہیں لیکن شعور سنبھالنے کے بعد پھوپھو بتایا کرتی تھیں کہ میں نے ان کی شادی کے دن رخصتی کے وقت کلہاڑی نکال لی تھی کہ کوئی میری پھوپھو کو اپنے ساتھ نہیں لے کر جاسکتا ، میں کاٹ ڈالوں گا۔
ان دنوں سلطان راہی اور مصطفی قریشی کی فلمیں گھر گھر چلا کرتی تھیں اور گاؤں کے کلچر میں کلہاڑی اور ڈنڈے سونٹے کا بڑا دخل تھا۔ میں سلطان راہی سے متاثر تو نہیں تھا البتہ دیہی کلچر کے زیرِ اثر کچھ ایسا ضرور کیا ہوگا جومجھے اب یاد نہیں ۔ پھوپھا جان بہت شفیق اور مہربان شخص تھے انھوں نے پھوپھو سے میری تنہائی اور جدائی کو اپنے درمیان حائل نہ ہونے دیا وہ اکثر مجھے اپنے ٹریکٹر پر بٹھا کر ساتھ لے جایا کرتے تھے ،راستے میں قسم قسم کی میٹھی چیزیں بھی کھلایا کرتے تھے ۔ پھوپھو کی دوسری شادی ہوئی تو وہ لاہور میں آبسیں۔
سوال: آپ کا بچپن بڑا یادگار گزرا ہے،بچپن کے بارے میں مزید بتائیے؟
جواب: پھوپھو بتاتی ہیں کہ میں اپنے دادا کے بہت قریب رہا ہوں ، مجھ پر دادا کی شخصیت کا بڑا گہرا اثر ہوا ہے۔ میں دادا کی حویلی میں اکثر وبیشتر پایا جاتا تھا۔ گھر آکر دادی سے کہتا تھا کہ دادا میٹھا پانی مانگتے ہیں ۔ میری دادی انرجائل والا لال شربت بنا کر مجھے ڈول بھر کر دیا کرتی تھیں اور میں راستے میں گھونٹ گھونٹ پیتے پیتے حویلی تک آدھا پانی ختم کر لیتا تھا ۔ دن میں تین چار دفعہ پانی بنوا کر خود ہی پی لیا کرتا تھا اور دادا کو اس واقعے کی مطلق خبر نہ ہوتی تھی۔ گاؤں کے بچے آج بھی میٹھے کے بہت شوقین ہیں ، میٹھی سویاں، میٹھی کھیر، میٹھے چاول اور گنے کے رس کی میٹھی کھیر ان کی پسندیدہ ڈشز ہیں۔ بچپن میں بھی کچھ ایسا ہی چٹورا رہا ہوں۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں پھوپھو کے ہاں گیا ہوا تھا کہ ایک خرگوش کو مرغیوں کے ڈربے کے آس پاس پھرتے دیکھا ۔میں نے ضد کی کہ مجھے خرگوش کا انڈہ چاہیے۔ مجھے تو نہیں علم تھا کہ خرگوش انڈے نہیں دیتے لیکن میں نے ضد کی اور رونا شروع کر دیا کہ مجھے خرگوش کا انڈہ چاہیے۔ پھوپھو نےبتایا کہ تمہارے پھوپھا نے مرغی کا انڈہ تمہاری نظر سےبچا کے خرگوش کے ڈربے کے پاس رکھ دیا اور پھر تم سے کہا کہ جا کر خرگوش کا انڈہ اُٹھا لو اور میں نے وہاں سے انڈہ اُٹھا لیا اور گھر لے کر آیا اور سب کو بتایا کہ میں پھوپھو کے گھر سے خرگوش کا انڈہ لایا ہوں ۔میری بات سُن کر سبھی ہنستے تھے اور میں خاموش ہو جاتا تھا کہ ہنستے کیوں ہیں؟ کیا یہ بھی خرگوش کی طرح انڈے دیتے ہیں جو میں چُرا لوں گا۔ بچپن کے واقعات ہر شخص کو بہت ہونٹ کرتے ہیں اس طرح کےبیسویوں واقعات ہیں ۔ان واقعات کا تذکرہ میں اپنے کالمز میں بھی کر چکا ہوں۔
سوال: شعور سنبھالنے کے بعد کی ابتدائی دلچسپیاں اور مشاغل کے بارے میں کچھ بتایئے؟
جواب: میری ابتدائی دلچپسیاں مجھے یاد نہیں البتہ لڑکپن میں کچھ کچھ یاد ہےکہ کتابوں اور کنچوں کو ہاتھ میں دیکھا ہے۔ دادی ہماری اپنے زمانے کی پڑھی لکھی خاتون تھیں جیسے علامہ اقبال کے والد ِمکرم ان پڑھ فلسفی تھے۔ دادا کے ہاں بیسویوں بھینسیں تھیں جن کا دودھ پورے گاؤں میں جاتا تھا اور وہ زمینداری کی حیثیت سے اور پہلوانی اور میزبانی کی حیثیت سے پورے گاؤں میں ممتاز مقام کے حامل تھے۔ دادی کے ہاں میں ہر رات اُن کے بستر میں ساتھ سویا کرتا تھا۔ میری نظموں میں جو علامتیں اور اساطیری جُزیات استعمال ہوئی ہیں ان کا ماخذ یہی کہانیاں ہیں۔ دادی نے تقسیمِ ہندوستان کا پورا منظر نامہ اپنی آنکھوں سے دیکھا بھی تھا اور تجربے سے یہ سانحہ گزارا بھی تھا۔
امرتسر سے دادی بیاہ کر پنجاب پتوکی(قصور) میں لائی گئی تھیں مگر میکا تو وہیں تھا۔ تقسیم کی لڑائی میں ان کا آدھا خاندان وہاں اور آدھا یہاں رہ گیا تھا۔ خود ہمارے دادا بھی اسی تقسیم میں زخمی ہوئے تھے لیکن بچ بچا کر آگئے تھے۔دادی نے دادا کو پہلی بار دیکھنے کی کوشش میں اپنا بایاں بازو تڑو الیا تھا جس میں خم عمر بھر رہا ۔ دادی کے پاس تین چار کتابیں تھیں جو مذہبی نوعیت کی تھیں، میں انھیں پڑھتا رہتا تھا لیکن سمجھ نہیں آتی تھیں۔ ان کی سُنی ہوئی کہانیاں قصہ چہار درویش اور قصہ گل بکاولی کی طرح محسوس ہوتی تھیں۔ داستان امیر حمزہ اور داستان لیلیٰ مجنوں تو انھیں از بر تھیں۔ ان کی فارسی اچھی تھیں البتہ بولنےمیں ہچکاتی تھیں۔ مجھے شاعری کا شوق ورثے میں تو نہیں ملا لیکن مشاہدے کی ریہرسل دادی کی صحبت میں کافی حد تک ہوگئی تھی۔
سوال: کیا آپ نےدورانِ طالب علمی نوکری بھی کی۔اگر کی ہے تو اس کی تفصیل سے آگاہ کیجیے۔
جواب:گاؤں میں سبھی محنت کش ہوتے ہیں ،وہاں کوئی سونے کا چمچ لے کر پیدا نہیں ہوتا۔ سبھی کو کام کرنا پڑتا ہے، مجھے بھی پڑھائی کے ساتھ گھر کے کام کرنے پڑے۔ بھینسوں کو چارا ڈالنا، بکریوں کو عصر کے وقت کھیتوں میں لے کر جانا، شام کو دودھ دوہنا اور خریداروں کو فروخت کرنا اور لکڑیاں کاٹ کر چولہے کا ایندھن جمع کرنا اور پینے کا صاف پانی میلوں دور سے سر پر اُٹھا کر لانا وغیرہ تو معمول کے کام تھے اس کے علاوہ اینٹ کے بھٹوں پر کام کرنے اور جاگیر داروں کے زمینوں پر اُجرت پر کام اور شہر میں جا کر سٹور پر کام اور نجی کارخانوں میں روزانہ کی بنیاد پر معمولی اجرت کا کام وغیرہ شامل ہے۔ محنت کی عادت بچپن سے ہی گھٹی میں پڑگئی تھی۔
ابا کی خاموش طبیعت والی عادت میرے اندر کہیں راسخ ہوگئی تھی ۔ اس کا ظہور میری نظموں کے گُنگ کرداروں میں اب جا کر ہوا ہے کہ بچپن میں آزمائے ہوئے تیروں کے نشتر کس طرح استعاروں اور علامتوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔ قوت ِمشاہدہ میں گہرائی اور پختگی حالات کی سنگینی سے آتی ہے۔آسائش کی گود میں پلنے والے ممولے صرف کھانوں اور کھابوں کے منصوبے باندھتے ہیں ان سے شعر،خیال،مشاہدہ، تجربہ، فلسفہ اور فکر کی بات کہاں پھوٹ سکتی ہے۔
سوال: آپ کی پہلی ادبی تحریر کون سی ہے ؟اس کے بارے میں بتایئے۔
جواب: پہلی ادبی تحریر جو ہوئی تھی وہ تو اب یاد نہیں ،وہ شائد پہلی آواز ہوسکتی ہے یا پہلی سانس جو میں نے وقتِ پیدائش لی تھی ،اس لیےکہ شاعر ہمیشہ سے شاعر ہوتا ہے اور بطو ر شاعر جنم لیتا ہے ۔زمانہ ، حالات اور واقعات انسان کو شاعر نہیں بناتے۔ غالباً نویں جماعت میں ایک نظم کہی تھی جو کچھ کچھ یاد رہ گئی ہے ،کچھ اس طرح تھی۔
وہ تم نہیں تھی/کوئی اور ہی تھی/جسے میں نے پہلی بار دیکھا تھا/ اب یاد نہیں پڑتا/ کتنی بار دیکھا تھا
دورانِ میٹرک میں نے کئی نظمیں لکھی تھیں لیکن علم نہیں تھاکہ یہ نظمیں ہیں ۔میں انھیں اپنی طرف سے شاعری سمجھتا تھا ۔ اصناف کیا چیز ہے؟ اس کےبارے میں تو کچھ علم نہیں تھا۔ حسین خان والا(چک نمبر 8) کے سکول میں اُردو کے بہترین اساتذہ موجود تھے۔ ظفر صاحب ہمیں اُردو کا مضمون پڑھایا کرتے تھے اور لطیف صاحب جن کا ذوقِ علمی بہت خوب تھا وہ انگریزی پڑھاتے تھےمگر اشعار اُردو کے سنایا کرتے تھے۔ انھیں غالبؔ اور اقبالؔ کے شعر بہت یاد تھے۔ ہم نے سلیبس کی شاعری پڑھی تھی ۔یہ موبائل کا دور نہیں تھا ۔ٹین ایج لڑکے لڑکیاں ڈائری میں اچھے اچھے اشعار ڈھونڈ کر لکھتے تھے اور ایک دوسرے سے مقابلہ کیا کرتے تھے ۔اس ادبی مشغلے سے شاعری کی ابتدا تو ہوگئی تھی لیکن باقاعدہ شاعری ایم اے اُردو کے دوران شروع ہوئی۔
سوال: میٹرک کے بعد آپ نےکس کالج میں داخلہ لیا،کالج کی ادبی فضا کیسی تھی؟
جواب: میڑک کے بعد پتوکی شہر کے گورنمنٹ گریجوایٹ کالج پتوکی سے 2006 میں آئی سی ایس اور 2008 میں بی اے کا امتحان پاس کیا۔ اس کالج میں ادبی فضا بہت زرخیر تھی۔ اس کالج میں اگرچہ کوئی مشہور ادبی شخصیت ہمارے زمانہ طالب علمی میں نہ تھی مگر اردو اور انگریزی کے اساتذہ میں کمال کی ادبیت موجود تھی۔ پروفیسر منور عثمانی،پروفیسر اکرام الحق،پروفیسراسلم زمان سے پڑھنے کا موقع ملا جبکہ ڈاکٹر سعید احمد، ڈاکٹر اختر حسین عزمی صاحب سے براہ راست استفادہ کیا۔
اسی کالج میں قصور کی نامور ادبی شخصیات سے ملاقات کا موقع بھی ملا جن میں پنجابی کےمشہور شاعر تجمل کلیم ،راؤ محمد اشرف اور "سخنورانِ قصور” کے مصنف محمد لطیف اشعر شامل ہیں۔ اس کالج نے میرے ادبی ماحول کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اسی شہر میں ہم نے محمد یونس جان مرحوم سے شاعری کے بنیادی رموز سیکھنے اور ایم اے اردو کی تیاری کرنے میں بھی کچھ وقت گزارا ہے۔ اسی زمانےمیں میرا پہلا شعری مجموعہ” کچھ کہنا ہے” کی غزلیات موزوں ہو رہی تھیں یعنی نئے نئے شاعرانہ میلانات کی برکھا ہم پر برس رہی تھی۔
سوال:پہلے شعری مجموعے کی اشاعت کا احوال بیان کیجیے؟
جواب: 2013 کی بات ہے،غالباً مارچ میں پچاس کے قریب غزلیات اور چند نظمیں لکھ لیں تھی۔ گاؤں کےمقامی اُستاد مولوی امتیاز حالیؔ کو دکھائیں جن کے دادا عربی اور فارسی میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے۔ حالیؔ صاحب بھی اُردو شاعری کا اعلیٰ ذوق رکھتے ہیں انھوں نے مجھے رموزِ شعر کے بارے میں کافی معلومات بہم پہنچائیں ۔ انھوں نے اواخر عمر میں آکر شادی کی ہے۔ جب یہ تنہا رہتے تھے اور ہم بےیارو مددگارتو شاعری نے ہمارے ہاں پڑاؤ کیا۔
میں عجیب وغریب خیالات موزوں کرنے کی کوشش کرتا اور یہ صاحب مجھے غالبؔ،اقبالؔ،جونؔ، فرازؔ اور فانیؔ کے اشعار سنا یا کرتے اور کہتے کہ اس معیار اور اس وزن میں شعر کہو تو بات بنے۔ انھیں ہم نے رجسٹر دکھایا اور ساتھ لے کر لاہور چلے آئے جہاں وحید احمد زمان (حُسن قلم پبلشر کے مالک)سے لاہور میں اچھرہ آفس میں ملاقات کی۔ انھوں نے شعری مجموعہ دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا مگر اسے مزید بہتر بنانے کا مشور ہ دیا اور کہا کہ تمہارے اندر پورا شاعر موجو دہے بس تھوڑی اور محنت کر لو تو بات بن سکتی ہے۔ ان کے مشورےکے بعد ہم نے انھیں یعنی وحید احمد زمان کو اپنا شاعری کا اُستاد بنا لیا۔
سوال: تعلیم کے حصول کے بعد لاہور کو اپنے قیام کا مرکز بنانے کا فیصلہ کیسے کیا؟
جواب: لاہور میں ملازمت کے سلسلے میں 2011 میں آگیا تھا لیکن کہیں ملازمت نہ مل سکی ۔ میں فیکٹری میں کام کرنے کا مزاج نہیں رکھتا تھا اور تدریس میں پیشہ ورانہ تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے اچھی جگہ رسائی ممکن نہ تھی۔ اسی اثنا میں "راوی ریان” نزد مریدکے میں کچھ عرصہ کام کیا اور جو پیسے ملے ان سے پہلا شعری مجموعہ”کچھ کہنا ہے” شایع کروالیا کہ ہر گمنام شاعر کو پہلا شعری مجموعہ عموماً خود ہی چھپوانا پڑتا ہے۔
سوال:شاعری کے اساتذہ کون سے تھے یعنی کن اساتذہ سے شاعری سیکھی؟
جواب: شاعری کا پہلا اُستاد میری دادی ہی تھی جن سے بچپن سے اُن کی وفات تک مولا علی ؑ سے منسوب منقبت اور سلام سُنا کرتا تھا ۔ مجھے ان کے کلام پڑھنے اور گنگنانے سے یہ سمجھ آگئی تھی کہ شاعری کوئی بہت بڑی چیز ہے جو سبھی گنگاتے ہیں خواہ انھیں سمجھ آئے یا نہ آئے۔ مولوی امتیاز حالیؔ سے شاعری کی ابتدائی معلومات لی۔ ماسٹر محمد یونس جان مرحوم (پتوکی)نے شاعری کی دلچسپی کو مزید پختہ کیا اور سینکڑوں اشعار زبانی یاد کروا کے حافظہ کو شاعری کے لیے موزوں کیا ۔ لاہور میں قیام کے دوران وحید احمد زمان ؔسے باقاعدہ شاعری کے اوزان سیکھنے کا موقع ملا تو پتہ چلا کہ یہ تو حساب کی طرح ہے یعنی فعلن فعلن فعلن فعولن کیا ہے،کیسے لام گِر جاتا ہےاور نون حذف کرنا پڑتا ہے ، علت اور ملول کیا ہے اور اخفا و تکرار و اعادہ کیسے کہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
سوال: ڈاکٹر اجمل نیازی سے کیسے ملاقات ہوئی اور ان سے کیا سیکھا؟
جواب: وحید احمد زمان کے توسط سے ڈاکٹر اجمل نیازی سے گاہے گاہے ملاقات رہتی تھی،ڈاکٹر صاحب واقع شمع چوک اچھرہ لاہور میں حُسن قلم پبلی کیشنز کے آفس میں تشریف لایا کرتے تھے ۔ میں یہاں "دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے” مصرے پر تیس تیس مصرعے باندھنے کی مشق کیا کرتا تھا جوکہ ایک انتہائی ذہنی اذیت کا عمل تھا۔ ان دنوں مجھے غزل کہنے کا زیادہ شوق تھا اور اس کی وجہ غزل کی شہرت تھی ۔ نظم ان دنوں بہت کم کہتا تھا کہ نظم میں بات کہنے سے خیال میں وزن کم محسوس ہوتا تھا اور لگتا تھا کہ یہ کوئی شاعری ہی نہیں کہ غزل کا ایک شعر جان نکال لیتا ہے اور واہ واہ کے غلغلے چہار سُو رونق سجا دیتے ہیں اورنظم پوری پڑھنے کے بعد مزہ نہیں آیا کا بےکار جملہ سننے کو ملتا ہے۔
سوال:شعر و شاعری اور تحقیق و تنقید کے اُصول و مبادی کے حوالے سے مزید کن اساتذہ سے کسبِ فیض کیا؟
جواب: ایم فل کے دوران ڈاکٹر اشفاق احمد بخاری(حال مقیم:لاہور) سے بھی شاعری کی نشستیں ہوا کرتی تھیں۔ قیام ِ ڈسکہ میں پروفیسر اسحاق مرحوم سے بھی ادبی محافل کا ایک سلسلہ جاری رہا۔ پروفیسر اسحاق انگریزی کے اعلیٰ درجے کے اُستاد تھے مگر اُردو، ان کا اوڑھنا بچھونا تھی۔سہ پہر ان سے روز کی ملاقات تھی۔ ان کے ہاں آجایا کرتا تھا،انھوں نے گھر کےسامنے ایک جگہ (علمی بیٹھک ڈسکہ) مختص کر رکھی تھی جہاں ڈاکٹر انجم یوسف خان،ڈاکٹر ساجد محمود ڈار، ڈاکٹر عاصم بخاری،ڈاکٹر شام بخاری، ڈاکٹر عظمی نورین، مشتاق ماجد، کاشف ،پروفیسر بنیامین، انجینئر مبشر ریاض، پروفیسر عارف لاوی، ڈسکہ کالج کے لائبریرین بھٹی صاحب اور دیگر دسیوں دوست جمع ہوتے تھے اور شعر و ادب پر نقد و جرح کی خوب نشستیں جمتی تھیں۔ کرونا وبا نے اُردو ادب کی بستیاں ویران کر ڈالیں، پروفیسر صاحب بھی اسی وبا کا شکار ہوئے اور آج مشتاق احمد کےبقول "کوئی کہیں کوئی رہتا ہے”۔
سوال: شعر و شاعری کے علاوہ اعلیٰ تعلیم کا خواب صرف دیکھا یا پورا بھی ہوا؟
جواب: اماں کی خواہش تھی کہ میں بڑا اُستاد یعنی پروفیسر بنوں۔ ہمارے گاؤں میں تنہا ایک پروفیسر(حبیب اللہ صاحب) ہیں جو اپنے آپ میں ایک مکمل انسان ہیں۔ اماں کہا کرتی تھیں کہ تمہیں سکول کا ٹیچر نہیں بننا پروفیسر بننا ہے کیونکہ اس لفظ میں ایک اُٹھا ن موجود ہے۔ میں نے جب دوستوں سے پوچھا کہ پروفیسر کیسے بنا جاتا ہے تو انھوں نے کہا کہ ایم این اے کی سفارش پر بنتا ہے تو دل مرجھاگیا۔ لاہور آکر پتہ چلا کہ تھوڑی محنت کرنے اور اپنے مضمون پر گرفت مضبوط کر لینے سے یہ ممکن ہے۔ ڈی پی ایس ماڈل ٹاؤں میں جونیر ٹیچر اُردو کی حیثیت سے تدریس کا آغاز کیا تو اکثر دوستوں نے میرے حلیے اور وضع وقطع سے مجھے پروفیسر کہنا شروع کر دیا ۔
اس تحسین سے مجھے حوصلہ ملا اور میں نے لیکچرشپ کی تیاری شروع کر دی ۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں تیاری کر رہا ہوں مجھے تو اُردو زبان پر گرفت کا جنون سوار تھا۔ جو بھی کتاب میسر آتی پڑھ ڈالتا اور اس کےنوٹس بناتا ۔ کمرہ جماعت میں بچوں کو لکھنے پر لگائے رہتا اور خود کتابوں میں راہنما کتب کے نوٹس چھپا کر پڑھتا رہتا۔ اسی دوران سید باسط علی شاہ جو میرے شاعری کے علاوہ زندگی کے اُستاد ہیں انھوں نے مجھے مشورہ دیا کہ ایم فل کر لو کہ اس سے پروفیسر بننا زیادہ آسان ہو جائے گا۔ میں نے ناردرن یونی ورسٹی نوشہرہ سے ایم فل (اُردو) میں داخلہ لے لیا اور دسمبر2016 میں ایم فل کی ڈگری حاصل کر لی۔ سید باسط علی شاہ ، عاطف علی شاہ اور کاشف الرحمان نے حوصلہ بڑھایا نیز کاشف ضیا ، اکرم عباسی اور ممتاز صاحب نے کمر تھپکی کہ پروفیسر صاحب! ایم فل کر لیا ہے تو لگتے ہاتھ پی ایچ۔ ڈی بھی کر ہی لو کہ تم کر سکتے ہو۔ یوں ہم نے اعلیٰ تعلیم کی تحصیل کا یہ خواب 2024 میں پورا کر لیا۔
سوال:نوشہرہ شہر سے تحصیل علم اور شعورِ آگہی کا سفر کیسا رہا، تفصیل بتائیے؟
جواب: نوشہرہ شہر میں ایم فل اور پی ایچ ڈی(اُردو) کی تحصیل کے سلسلے میں دس برس جانا پڑا ۔ اس دوران نوشہرہ شہر کو دیکھنے اور یہاں رہنے اورعلم و ادب کی محافل میں بیٹھنے کاموقع ملا۔ نوشہرہ میں ڈاکٹر اشفا ق حسین بخاری کی وساطت سے داخلہ لیا پھر یہاں ڈاکٹر منور ہاشمی سے شعر و شاعری میں کچھ مزید سیکھنے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر منور ہاشمی میرے پی ایچ ۔ڈی اُردو کے نگران تھے اور صدر شعبہ اُردو بھی تھے۔ انھوں نے ریکٹر کی حیثیت سے بھی اس یونیو رسٹی میں خدمات انجام دی ہیں۔
انھوں نے میری طبیعت اور رجحان کے پیشِ نظر مجھے غزل کی بجائے نظم یعنی نثری و آزاد نظم لکھنے کی طرف راغب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ ان دونوں میرا دوسرا شعر ی مجموعہ” کچھ کہنا ہے” منظر عام پر آیاتھا۔ ڈاکٹر منور ہاشمی نے میری طبیعت کی موزونی دیکھ کر مجھے مشورہ دیا کہ تم روایت سے ہٹ کر کہتے ہو،تمہارے موضوعات اُردو شاعری کے روایتی موضوعات سے بہت مختلف ہیں۔ گھریلو زندگی کے مسائل ،خانگی معاملات،نسائی شعور کی واردات ، میاں بیوی کے قضیے اور سماجی و معاشرتی تنزل کے المیے کا جو اظہار تمہاری نظموں میں ہوتا ہے وہ غزل کے سانچے میں ممکن نہیں۔ تمہاری نظمیں سادہ ،آسان اور سیدھے سبھاؤ دل سے نکل کر کاغذ پر اُترتی ہیں، اس لیے تم نظمیں ہی کہو کہ یہی تمہاری پہچان کو کافی ہوں گی۔
ڈاکٹر منور ہاشمی زمانہ شناس ہیں، اسلام آباد کے ادبی حلقے میں ان کا نام اور کام اپنی ایک شناخت رکھتا ہے،ان کا مشورہ کام کر گیا ۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر سید طاہر علی شاہ اور ڈاکٹر نذر عابد سے بھی شاعری کے رموز وعلائم پر خوب بحثیں رہیں۔ یونی ورسٹی کے مشاعرو ںمیں میری شرکت باقاعدہ نہ رہی البتہ نوشہرہ کی علمی و ادبی فضا میں اُٹھنے بیٹھنے کاموقع ملتا رہا ہے۔علاوہ ازیں احمد فرہاد سے اسلام آباد میں ملاقتیں رہیں جن دنوں وہ ترجمے کر رہے تھے اور کشمیر سے اسلام آباد منتقل ہونے کی کوشش میں تھے۔علی یاسر مرحوم سے بھی ایف 10 میں ملاقات رہی۔ کشمیر مظفر آباد کی مشہور ادبی شخصیت اعجاز احمد نعمانی سے بھی علمی دوستی آج بھی برقرار ہے۔
سوال:اسلام آباد کے علمی و ادبی اداروں سے کسب فیض کا سلسلہ کب تک جاری رہا؟
جواب: شاعر گھر بیٹھے نہیں بنتا بلکہ حالات و اقعات کے آگے سرنگوں ہونے کی بجائے مزاحمت سے بنتا ہے۔ اکادمی ادبیات اسلام آباد میں ایم فل کے دوران آنے جانے کاموقع ملتا رہا۔ یہاں افتخار عارف، محمد حمید شاہد، اختر رضا سلیمی،محمد عارف،شاہد ساز،ڈاکٹر محمد سلیم،نسیمِ سحر،سرفراز شاہد،ڈاکٹر احسان اکبر، خاور اعجاز اور ڈاکٹر راشد حمید وغیرہ سے گاہے گاہے ملاقتیں رہیں۔ مقتدرہ قومی زبان میں کتابیں خریدنے کا جنون ابھی تک قائم ہے۔ علاوہ ازیں نیشنل لائبریری میں جانا بھی ایک حسین اتفاق رہا۔
اسلام آباد کی نسبت روالپنڈی میں زیادہ ادبی ماحول دیکھنے کوملتا ہے کہ یہاں ادب کو رکھ رکھاؤ سے الگ کر کے فطری انداز میں پروان چڑھانے کا سلسلہ موجود ہے۔ ڈاکٹر صلاح الدین درویش ، اختر عثمان ، ڈاکٹر شیر علی اور ڈاکٹر عابد سیال وغیرہ کی ادبی محافل ان دنوں بہت فعال ہیں۔ ادب کی پرورش ہمیشہ گمنام جگہوں پر ہوتی ہے جہاں اسے جاننے والے کم اور پرداخت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید ہمارے مربی ومحسن و اُستاد ہیں۔ان سے کسب ِ فیض کا موقع اسلام آباد میں ملتا رہا۔ نیشنل بک فاونڈیشن میں ان سے ملاقاتیں حسین لمحات کا محفوظ سرمایہ ہیں۔
سوال:لاہور کے علمی و ادبی اداروں سے کسب ِ فیض کے بارے میں بتایئے؟
جواب: لاہور ایک ایسا شہر ہے جہاں کوئی بھولا بھٹکا کہیں سے جیسے بھی آگیا پھر جانے کا نام نہیں لیتا۔ لاہور کے بارے میں جو مقولہ مشہور ہے کہ "جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا” مبنی بر حقیقت ہے۔ لاہور میں آنے کے بعد یہاں سے ہنوز جانے کو جی نہیں چاہتا کہ ناصر کاظمی ایسے عظیم شاعر نے بھی اس کی بو باس اور آب و ہ ہوا میں سب درد و غم بھلا نے کا اشارہ کیا تھا۔ لاہور میں تعلیم کی تحصیل کے ساتھ روزگار کے حصول کے لیے کئی اداروں میں کام کیا جن میں تعلیمی ادارے زیادہ اور دیگر کم ہیں۔ الحمرا ادبی بیٹھک میں کچھ عرصہ جانے کاموقع ملا لیکن وہاں کا مصنوعی ماحول راس نہیں آیا ۔یہاں ظاہر داری اور خوشامد زیادہ ہے، خاصی محنت کے بعد یہاں نمائندگی ملتی ہے اس لیے یہاں سے جلد نکل گیا ۔ حلقہ ارباب ِ زوق ، پاک ٹی ہاوس گاہے گاہے جاتے رہے ،یہاں بھی ایک سلسلہ خوشامدانہ موجود ہے لیکن بات کرنے اور سانس لینے کاموقع مل جاتا ہے ۔
لاہور اور اس کے گردو نواح میں نجی محافل کا انعقاد باقاعدہ ہوتا ہے جہاں ادیب و شاعر کثرت سے جمع ہوتے ہیں جو زیادہ تر اپنی تصانیف کی تشہیر اور اشاعت کے لیے ریفرنس تلاش کرنے آتے ہیں اور بیشتر مایوس ہو کر جاتے ہیں۔ ترقی پسند مصنفین کے اجلاس بھی یہاں ہوتے ہیں مگر رونق کم ہی ہوتی ہے۔ چغتائی لائبریری میں بھی اقبال سڈیز کا دور چلتا ہے ۔علاوہ ازیں لاہور میں سیکڑوں ایسی ادبی محافل موجود ہیں جہاں جانا ممکن نہیں تاہم ان کے نام گنوانا مقصود نہیں۔ڈاکٹر فرحت عباس شاہ کی "ہانڈی روٹی محفل” معقول جگہ ہے جہاں نو آموز شعرا اور قد آور سنجیدہ شعرا ایک صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز کے مصرعے پر پورا ُترتے دکھائی دیتے ہیں۔
لاہور کے تعلیمی اداروں میں پنجاب یونی ورسٹی، ایف سی یونیو رسٹی، ایجوکیشن یونیورسٹی، لمز یونی ورسٹی وغیرہ میں جانا معمول میں شامل ہے۔ان تعلیمی اداروں کے شعبہ اُردو میں ملک کے ممتاز ترین اساتذہ موجود ہیں جو اپنے اپنے فن اور صنف میں اختصاص رکھتے ہیں۔ لاہور میں جتنے بڑے علمی و ادبی نام ہیں سبھی سے شناسائی ہے ۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیر ، ڈاکٹر نجیب جمال، ڈاکٹر زاہد مینر عامر، ڈاکٹر محمد کامران، ڈاکٹر ضیا الحسن ، ڈاکٹر عابدہ بتول، ڈاکٹر اختر شمار، ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا، ڈاکٹر تبسم کاشمیری ،پروفیسر علی محمد خان، ڈاکٹر اشفاق احمد ورک،ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی،ڈاکٹر سعادت سعید وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ علاوہ ازیں لاہور میں سیکڑوں اساتذہ سے کسبِ فیض کیا ہے ان کے نام گنوانا مقصود نہیں تاہم ان کی عظمت کا احترام کرنا ضروری ہے۔
سوال: اپنے علمی و ادبی دوست ،ہم عصر اور ان سے معاشرتی روابط کے بارے میں بتایئے؟
جواب: دوست ہر دور میں انسان کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ دوستی کا آغاز بچپن سے ہوجاتا ہے ،جیسے جیسے عمر بڑھتی جاتی ہے دوستی کا سلسلہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔میں بچپن سے اب تک دوست اور ان کے احسانات گنوانا چاہوں تو ایک لمبی فہرست بنتی ہے۔ تاہم آپ پوچھ رہی ہیں تو کچھ نام لے لیتا ہوں ۔گاؤں میں اُردو زبان ادب کی طرف راغب کرنے میں ڈاکٹر عظمت مرحوم کا نام لینا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ گاؤں میں مولوی امتیاز حالی، علی رضا، عنایت، حکیم رضوان، چاند نمبردار، حاجی رضوان وغیرہ ہیں۔
لاہور میں آمد اور قیام کے اوائل انتظامات پروفیسر شہزاد مسیح نے کیے۔ شہزاد کے ساتھ میرا تعلق ایسا ہی ہے جیسے سانس اور جسم کا ہے۔ اس تعلق میں حافظ محمد شاہد صدیق بھی شامل ہو گئے ہیں۔ جن دوستوں نے علم و ادب کی راہ دکھائی ان میں ڈی پی ایس ماڈل ٹاؤن کے اساتذہ کی طویل فہرست شامل ہے جن میں کاشف الرحمان،سید باسط علی شاہ، عاطف علی شاہ، اکرام عباسی، ممتاز صاحب، کاشف ضیا، شمسی صاحب، رانا صاحب وغیرہ مجھے عزیز ہیں جبکہ مالی معاونت اور ملازمت کے حصول کے لیے جناب مبارک ڈرائریکٹر آئی بی ایل کالج، جناب محمد اقبال پرنسپل دی پنجاب سکول سسٹم، جناب محمد شفیع صاحب ڈرائریکٹر دی ایجوکیٹر ٹاؤن شپ،محمد حسین ایڈوکیٹ ڈرائریکٹر سنٹرل ماڈ ل سکول،پروفیسر محمد عظیم ڈرائریکٹر گرین انسٹیٹوٹ آف سائنسز،جناب ڈاکٹر محمد پرویز، السلام ہائی سکول،شیخ عابد ،غلام مصطفی، جی ایم اکیڈمی،ریاض احمد فاروقی ڈرائریکٹر المتین ڈویلپرز وغیرہ ہیں۔
علم و ادب سے متعلقہ دوستوں میں ڈاکٹر عابدہ بتول، ڈاکٹر عظمی نورین، ڈاکٹر خادم حسین رائے، ڈاکٹر محمد اقبال، ڈاکٹر جاوید اقبال جاوید،سر محمدآصف، ڈاکٹر محمد اشتیاق،ڈاکٹر سیدہ عطیہ خالد،ڈاکٹر ثمینہ گل،ڈاکٹر سید طاہر علی شاہ، ڈاکٹر نذر عابد، ڈاکٹر شام بخاری،ڈاکٹر عاصم بخاری،ڈاکٹر ساجد محمود ڈار، ڈاکٹر اللہ یار ثاقب، ڈاکٹر رمیشا قمر، ڈاکٹر مجاہد عباس،ڈاکٹر عامر سہیل، ڈاکٹر اشفا ق حسین بخاری، ڈاکٹر منور ہاشمی، سید ظہیر گیلانی، پروفیسر علی احمد ڈولا،پروفیسر عارف لاوی، پروفیسر محمد فاروق، محمد عمر سندھو، پروفیسر محمد وقار،پروفیسر شہزاد مسیح، پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس،ڈاکٹر نجیب جمال، ڈاکٹر محمد نعیم، ڈاکٹر اظہار اللہ اظہار، مقصود احمد کامران ،وحید احمد زمان(مرحوم) وغیرہ ہیں، ان دوستوں سے زندگی میں بہت کچھ سیکھنے کاموقع ملا ۔
سوال: آپ کا نظریہ فن کیا ہے یعنی آپ فن کے بارے میں کیا نظریہ رکھتے ہیں؟
جواب:زندگی عجب سفر ہے یہ آپ کے لیے اُستاد بھی ڈھونڈتی ہے ،دوست بھی اور دُشمن بھی، اس کا اپنا ہی رنگ اور ڈھنگ ہے۔ انسان کچھ سوچتا ہے اور اندر کا انسان کچھ اور ہی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ زبان اظہار کا ذریعہ ہے اور ادب اسی اظہار کو منفرد پیرائے میں بیان کرنے کا طریقہ۔ میں ادب کو زندگی کا ترجمان سمجھتا ہوں ۔ نظم میرے لیے سانس کے مترادف ہے اور تحریر میری سانس کی روانی ہے۔ دولت ،شہرت،عورت اور عزت آنی جانی ہے لیکن خیال اور تجربہ آپ کے پاس ہمیشہ رہتا ہے۔ دُنیا میں کوئی کسی کا نہیں ہے لیکن آپ کا جوہر اور آپ کے تجربے سے کشید کیا ہوا نظریہ آپ کا ہے۔ آپ جو سمجھتے ہیں وہی جیتے ہیں اور جو جیتے ہیں وہی آپ کا نکتہ نظر ہے اور نظریہ فن بھی۔ فن کو زوال نہیں اور جو چیز فن کہلاتی ہے وہی نظریہ ہے ۔ انسان ہو یا معاشرہ یا قوم ،سبھی کسی نہ کسی نظریے کی اساس پر اُستوار ہیں۔
سوال:آپ کی پسندیدہ شخصیات کون سی ہیں،مختصراً بتایئے؟
جواب: میری پسندیدہ شخصیات کی فہرست بہت طویل ہے تاہم جن علمی و ادبی اور سماجی و مذہبی شخصیات نے مجھے متاثر کیا اور شعور دیا اور تحریر و تقریر کے لائق بنایا ان میں سرفہرست سرفراز احمد شاہ صاحب(معروف روحانی اسکالر) ہیں جو میرے روحانی پیشوا ہیں۔ جاوید احمد غامدی کو میں ذاتی طور پر اپنا راہنما تسلیم کرتا ہوں جبکہ پروفیسر رفیق احمد اختر کو میں عقلی منطق پر استدلال کے لیے اپنا مرشد تصور کرتا ہوں۔ ڈاکٹر اَسرار احمد کی تصانیف نےمیرے شعور کو جلا بخشی جبکہ مولانا وحید الدین خان کی تقاریر اور تحاریر سے میں نے زندگی کے فلسفے کو جانا۔ احمد جاوید کے فلسفہ ادراک سے میں بہت متاثر ہوا جبکہ قاضی جاوید ، محمد سلیم الرحمان اور اجمل کمال کے ترجموں سے میں نے غیر ملکی ادب کو سمجھا۔ ساحل عدیم سے میں نے اسلام کی جدید تشریحات کو سمجھا اور ڈاکٹر طاہر القادری ،علامہ طالب جوہری،مولاناثنا اللہ امرتسری،مولا نا تقی عثمانی سے تقابل مسالک کی صحت مند رویت کا گیان حاصل کیا۔
شعر و ادب میں علامہ اقبال، مرزا غالب،مولانا حالی، مولانا آزاد، شمس الرحمان فاروقی، شمیم حنفی، ڈاکٹر ناصر عباس نیر، ڈاکٹر نجیب جمال، ڈاکٹر تبسم کاشمیری، ڈاکٹر منور ہاشمی، ڈاکٹر روبینہ ترین، ڈاکٹر جمیل جالبی ،ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا سے میں نے اُردو زبان کو ادب کے بنیادی مباحث کو جانا۔
سوال: کیا مشہور ہونا ہی اصل شخصیت کی پسندیدگی کی وجہ ہے یا اس کا کوئی اور مطلب بھی ہوسکتا ہے؟
جواب: شخصیت کی پرچاری کا تعلق مشہور ہونے سے نہیں ہوتا۔ بعض دفعہ کوئی گمنام شخص آپ کی زندگی کی سب سے بڑی شخصیت ہوتا ہے جس نے آپ کو زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ کرنے کامشور ہ دیا ہوتا ہے۔ اس معاملے میں کئی ایک نام میرے ذہن میں ہیں جنھوں نے مجھے انتہائی کٹھن مراحل میں جینے کا سبق سکھایا اور یہ حوصلہ دیا کہ آگے بڑھنا ہی مزاحمت کرنا ہے اور مزاحمت کرنے والا ہی مقابلہ کرتا ہے اور مقابلہ کرنے والا ہی میدان میں رہتا ہے اور جو میدان میں رہ گیا جیت اُسی کی ہے۔
میاں محمد اویس ایڈوکیٹ اور سیم دانیال ایڈوکیٹ ایسے ہی نام ہیں جس نے مجھے زندگی کے کٹھن ترین مرحلے سے نکالنے اور مشکل ترین فیصلہ کرنے پر مہمیز کیا۔ عنایت بظاہر گاؤں کا معمولی محنت کش انسان ہے لیکن اس نے مجھے گاؤں چھوڑ کر شہر منتقل ہونے پر پر راضی کیا ، شہزاد مسیح ایسا ہی نام ہے جس نے مجھے اپنی بساط سے باہر جا کر ہمت،مدد اور ساتھ کا عملی یقین دلایا۔ اسی طرح دسیوں ایسے نام ہیں جو آپ کے لیے دُنیا کی سب سے بڑی شخصیت ہیں خواہ انھیں آپ کے علاوہ کوئی جانتا ہو،یا نہ جانتا ہو۔
سوال: زندگی نے کیا دیا اور کیا چاہا؟
جواب:زندگی نے وہ سب کچھ دیا جس کی خواہش نہ تھی اور وہ سب کچھ لیا جس کے جانے کی بہت تکلیف ہے۔ انسان اپنے اندر کئی اضداد کا اجتماع کیے ہوتا ہے ۔ شاعر عام انسان ہوتا ہے وہ بھی عام انسانوں کی طرح زندگی جینا چاہتا ہے لیکن زمانہ اس کے مزاج سے موافقت نہیں رکھتا۔وہ مزاحمت کرتا ہے اور معاشرہ اسے کچل دیتا ہے ۔ اس کے جذبات سے کھیلنے والے اس کے احساسات کو مار ڈالتے ہیں لیکن وہ اپنے حق سے دستبردار ہونے کےباوجود میدان میں اکیلا کھڑا رہتا ہے اور تحریر کے ذریعے جہاد کرتا ہے اور شعور کی کمان کو سنبھالنے رکھتا ہے اور ادراک کے عَلم کو گِرنے نہیں دیتا۔
شاعر زندگی کا ہارا ہوا شخص ہوسکتا ہے جس کے پاس عالی شان گھر، نہ برانڈڈ گاڑی اور نہ بینک میں تسلی بخش منافع ہوتا ہے ،اس کے پاس کتابوں اور مسودوں کے ڈھیر ہوتے ہیں جس میں خشک و فرسودہ خیالات ہوتے ہیں جس کی دُنیا کو مطلق ضرورت نہیں ہوتی اس کےباوجود اس کا لکھا ہوا ایک دن مقبول ہوتا ہے اور اپنی شدت سے پوری دُنیا کو احساس دلاتا ہے کہ میں سچا تھا اور میرا لکھا ہوا حرف حرف مبنی بر حقیقت تھا۔
یوں سمجھ لیجیے زندگی سٹاک مارکیٹ کی طر ح ہے جہاں شاعر خود کو لانگ انوسٹمنٹ کے لیے فروخت کر دیتا ہے ،اس کی قیمت گھٹتی بڑھتی رہتی ہے لیکن مارکیٹ میں اس کی سپیس کم نہیں ہوتی ۔ایک دن ایسا آتا ہے کہ مارکیٹ اس کے آگے سرنگوں ہو جاتی ہے۔
سوال: ایک شاعر کے نزدیک زندگی کیا ہے؟
جواب:زندگی شاعر کے لیے ایک معمل یعنی تجربہ گا ہ ہے جہاں وہ اپنے جملہ احساسات کو ادھیڑ کر سرجری کے عمل سے گزارتا ہے ،اسے یہ یقین ہوتا ہے کہ میرے اس اقدام سے ایک نیا احساس جنم لے گا جو اپنے اندر ایٹم سے زیادہ طاقت رکھتا ہوگا جو مخالف کے زور کو گھٹا کر اپنی سطوت کو ثابت کر دے گا۔ شاعر اپنے آپ سے مایوس ہوسکتا ہے لیکن اپنے فن سے نہیں۔ فن ہمیشہ باقی رہتا ہے جبکہ انسان مٹ جاتا ہے۔
سوال:آپ کے پسندیدہ ادیب کون سے ہیں؟
جواب:میرے پسندیدہ ادیبوں میں کئ نام ہیں لیکن میں سعادت حسن منٹو، راجند ر سنگھ بیدی اور غلام عباس کو زیادہ پسند کرتا ہوں۔ انھوں نے ہمارے مشرقی سماج کو جس طرح ادھیڑا ہے اور کتر بیونت کی ہے وہ کسی اور سے نہ ہوسکی ہے۔ ممتاز مفتی اور اشفاق احمد اور اس قبیل کے ادیبوں نے بھی معاشرے کو درست سمت پر گامز ن کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ان کے ہاں خوشامدی و خود نمائی کا رویہ غالب نظر آتا ہے۔ کلاسیکی ادب میں مولوی نذیر احمد،پریم چند، مولانا محمد حسین آزاد، فرحت اللہ بیگ میرے پسندیدہ انشا پرداز ہیں جبکہ عبداللہ حسین، مرزا رُسوا،عصمت چغتائی اور انتظار حسین مجھے زبان و بیان کے اعتبار سے متاثر کرتے ہیں۔ کلاسیکی شعرا میں میر ،غالب، آتش،ناسخ اور دا غ ہمیشہ پسندیدہ رہیں گے جبکہ جدید شعرا میں اقبال ، فیض، جون اور کسی حد تک فراز اور پروین شاکر مہمیز کرتے ہیں۔
سوال:آپ کی پسندیدہ اور ناپسندیدہ خوراک کیا ہے؟
جواب:میری پسندیدہ خوراک وہی جو مل جائے لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔ میں کھانے پینے میں ذرا احتیاط برتتا ہوں یعنی کھانا عمدہ پکا ہو تو پیٹ بھر کر کھاتا ہوں اور مذاق کا نہ ہو تو ہاتھ بھی نہیں لگاتا ۔یہ عادت عجیب ہے، لیکن ہے، کیا کریں۔ بریانی، سادہ اُبلے چاول،دودھ والی سویاں، دال ماش، تازہ گوشت، تازہ سبزی پسندیدہ پکوان ہیں۔ پھلوں میں آم اور کیلا سرفہرست ہیں اور کینو تو سب کی طرح مجھے بھی بہت عزیز ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے کی اتنی نعمتیں پیدا کر رکھیں ہیں کہ ایک کو دیکھیں تو دوسری بھولے اور پھر اتنی نعمتوں کا آسان حصول بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کر دہ نعمتوں کا شکرانہ ہے۔ الحمد اللہ ۔زندگی کی قربیاً سبھی نعمتوں تک رسائل ملی ۔
سوال: اپنے رجحانات و میلانات اور لباس کے بارے میں کچھ بتایئے؟
جواب:میں بظاہر معصوم مگر شرارتی ذہن کا حامل انسان ہوں۔ میرے اندر کئی شخصیات رچی بسی ہوئیں ہیں۔ فنکار عام طو ر پر اس بات کو تسلیم نہیں کرتا مگر مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں اپنے اندر کئی حلیوں اور اوضاع کا اجتماع کیے ہو ئے ہوں۔ سادہ مشرقی لباس ہمیشہ سے پسندیدہ رہا تاہم انگریزی طرزِ لباس کا از حد شوق ہے۔ اللہ کا شکر کہ کپڑوں کی الماری بھری رہتی ہے یعنی پہننے کے معاملے میں سب کچھ میسر ہے ۔ شکل و صورت کے بارے میں آپ مجھ سے بہتر جانتی ہیں کہ میں کیا بتاؤں کہ میں کیسا دکھائی دیتا ہوں ۔البتہ میں یہ کہ سکتا ہوں کہ میں کسی کے لیے شیطان تو کسی کے لیے رحمان ہوں، کسی کا دوست تو کسی کا دشمن ہوں ،کسی کا حلیف تو کسی کا حریف ہوں، کسی کا مُحب تو کسی کا عدُو ہوں ۔ انسان اپنے اندر کئی اضدادلیے ہوتا ہے یہی اس زندگی کا حُسن ہے۔
سوال:آپ کی پسندیدہ عادات و خصائل کون سی ہیں ؟
جواب: عادات و خصائل میں بہت کچھ ایسا ہے جو ہر کسی کو پسند نہیں تاہم انسان ہونے کےناطے بہت کچھ نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔ مطالعے کی عادت ہمیشہ سے رہی ہے لیکن آج کل پڑھنے سے زیادہ لکھنے کی خواہش رہتی ہے ۔ یوں لگتا ہے جیسے زندگی نے کان پکڑ کر وہ سب کچھ سکھا دیا ہے جس کی ابھی ضرورت بھی نہ تھی یعنی مجھے لگتا ہے کہ میں نے طبعی عمر پیشگی جی لی ہے اس لیے وہ سب لکھنا چاہتا ہوں جو میں نے گزشتہ برسوں جھیلا ہے۔
علاوہ ازیں کھانا کم کھاتا ہوں اور زیادہ سونے کی لت سے چھٹکارا نہیں پاسکا۔ نیند یا تو بہت آتی ہے یا پھر نہیں آتی۔ انسانوں سے بہت جلد بیزار ہو جاتا ہوں اور تادیر تعلق قائم بھی رکھتا ہوں یعنی عدم مستقل مزاج ہوں مگر وفا داری بشرطِ اُستواری کا قائل ہوں۔ اس کے علاوہ دوستوں عزیزوں سے ملنا اچھا لگتا ہے ۔دشمنوں سے مزاحمت میں مزہ آتا ہے اور جہاں قربان ہونا ہے وہاں خنجر بھی ا پنے گلے پر خود چلا لیتا ہوں کہ بھینٹ چڑھتے ہوئے کسی کو مجھ پر رحم نہ آجائے۔
سوال: زندگی کے اہم فیصلے کون سے تھے اور کیسے اور کیوں کرنے پڑے،چند ایک بتائیے؟
جواب: زندگی میں کئی اہم فیصلے کیے جن کے تفصیل ایک ضخیم ناول کا تقاضا کرتی ہے ۔ تاہم سب سے پہلا فیصلہ خود کو مذہبی انتہا پسندی سے الگ کرنے کا تھا جس نے بہت دیر تک بے قرار رکھا اور اب مطمئن ہوں۔ دوسرا سخت ترین فیصلہ گاؤں چھوڑنے کا تھا جس کے بعد ازاں نہایت مثبت نتایج بر آمد ہوئے۔ تیسرا فیصلہ اُستاد بننے کا تھا جس پر کبھی کبھی پچھتاوا ہوتا ہے لیکن اب لگتا ہے، میں یہی ہو سکتا تھا اس لیے مطمئن ہوں۔ چوتھا فیصلہ بغیر تحقیق کے شادی کا تھا جس پر ہمیشہ افسوس رہے گا یعنی پہلی شریک ِحیات کے انتخاب کا افسوس کہ جسے دل کی زمین کا تنہا مالک بنایا اور جو کچھ تھا اُسی کے سپرد کرنا چاہا مگر اُس نے میری قیمت پاکستانی روپوں میں وصول کی اور میرے جگر کا ایک ٹکرا اپنے ساتھ لے کر مجھے پاکستان کا بدنام ِ زمانہ شخص قرار دینے کے مذموم ہتھکنڈے استعمال کر کے عورت کی تحسین کو میری نگاہ میں تحقیر کا پیکر بنا دیا۔
اس سانحے کے بعد کئی ایسے فیصلے کیے جو بظاہر تباہ کُن تھے مگر مثبت اور تعمیری نتائج لے کر اُبھرے۔ اعلیٰ تعلیم کاخواب بھی ایک سخت فیصلہ تھا کہ پاکستانی سماج میں مزید پڑھنے اور علم حاصل کرنے کو آج بھی لوگ اپنے لیے دُشمن تصور کرتے ہیں۔ آپ کے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر لوگ سمجھتے ہیں کہ آپ کے ہاتھ میں کتاب نہیں ہے بلکہ پستول ہے یا ایٹم بم ہے جس سے آپ انھیں مار ڈالیں گے اور واقعی وہ اپنے شعور کے پستول سے مر جاتے ہیں۔
میٹرک سے پی ایچ ڈی تک کا صبر آزما سفر زندگی کا سب سے مشکل اور سخت فیصلہ تھا جو بحر حال کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ انسان ہر روز کوئی نہ کوئی فیصلہ کرتا ہے جس پر ثابت قدم رہنا آسان نہیں ہوتا۔ کچھ ایسے ہوتے ہیں جو ہم کر کے پچھاتے ہیں ا ور کچھ ایسے ہیں کہ نہ کر کے پچھتاتے ہیں،دونوں صورتوں میں ایک کسک ہے جو رہ جاتی ہے اور ٹیس بن کر خنجر کی طر ح روح کو زخماتی رہتی ہے اور خون آلود نظموں میں ریزہ ریزہ آشکارا ہوتی ہے۔
سوال: آپ کی پسندیدہ نظمیں کون سی ہیں؟
جواب: میری پسندیدہ نظموں کی فہرست طویل ہے تاہم چند نظموں کےنام گنوا دیتا ہوں جو مجھے زیادہ پسند ہیں ،ان میں "رقیب سے(فیض)،دستور(جالب)،ایک آرزو(اقبال)،آوارہ(مجاز)،آدمی نامہ(نظیر)،وصال کی خواہش(مینر نیازی)،صباویراں(راشد)،کون دیکھے گا(مجید امجد)،چاند کاقرض(سارا شگفتہ)، بدن کا فیصلہ(محمد علوی) ہیں۔
سوال: آپ کے پسندیدہ اشعار کون سے ہیں جو آپ بار بار ذہن میں دُہراتے ہیں؟
جواب:پسندیدہ اشعار کی تعداد بھی سیکڑوں میں ہیں تاہم جو شعر مجھے مشکل وقت میں اور آسائش کے دنوں میں زیادہ یاد آتے ہیں وہ کچھ یوں ہیں:
دل نا اُمید تو نہیں ناکام ہی تو ہے/لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے(فیض)
زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں/پاؤں پھیلاؤں تو دیوار کو سر لگتا ہے(بشیر بدر)
رنجش ہی سہی دل ہی دُکھانے کے لیے آ/آپھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ(احمد فراز)
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا/اٗسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے(غالب)
جہاں رہے گا وہی روشنی لٹائے گا/کسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا(وسیم بریلوی)
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے/روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے(جون ایلیا)
سوال: میں نے جتنے شاعروں کو پڑھا ہے سبھی کے ہاں اُداسی ،مایوسی،تنہائی اور اکتاہٹ کا عنصر یکساں نظر آتا ہے،اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب: اس کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ہماری اُردو شاعری کی روایت ہی اسی اینٹ پتھر اور گارے سے بنی ہے،یعنی اُردو شاعری کا دورِزریں سیاسی و سماجی اور تہذیبی و معاشرتی تنزل کے عروج کا زمانہ تھا۔ سادہ الفاظ میں یوں سمجھیے کہ جب کوئی ٹین ایج لڑکا یا لڑکی شاعر بننے کی خواہش کرتی/کرتا ہے تو وہ میر،غالب، آتش، داغ،فیض، ناصراور جون کو پڑھتا/پڑھتی ہے۔اب آپ خود بتائیں ان اساتذہ کو پڑھنے کے بعد آپ کیا توقع کریں گی کہ یہ شاعر بن کر لطیفے لکھیں گےاور پھبتاں کسیں گے اور نشاطیہ آہنگ میں فنی نظمیں یا شعر کہیں گے۔ بس یہی ہے اس کا سیدھا سا جواب کہ ہمارا معاشرے اور سماج کا بیانیہ آج بھی دو سو سال پرانا ہے ،کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا،ہم اور ہمارا سماج ویسا ہے ہی جسیا دو،سو برس پہلے یا چار سو برس پہلے تھا۔ کچھ بھی نہیں بدلا کیوں عوام اور حکمران دونوں بدلنا ہی نہیں چاہتے تو ادب اور اس کی روایت کیوں بدلے گی۔”شیشہ پینے آں تے جینے آں دُنیا تو کی لیناں والی بات ہے۔”
سوال: ڈاکٹر صاحب،آپ کے خیال میں نظم آج کے دور کو زیادہ بہتر اندازمیں بیان کر رہی ہے یا غزل؟
جواب:دونوں اصناف ہر دور میں ترجمانی کا بہترین فریضہ انجام دیتی آئی ہیں۔ نظم اور غزل میں کسی ایک کو معتبر قرار نہیں دیا جاسکتا،دونوں کا پیرایہ اُسلوب اظہارِجذبات ہے ۔ میں ذاتی طور پر غزل کی صنف کو پسند کرتا ہوں کہ اس میں کہنے کی اپیل زیادہ ہونٹ کرتی ہے جبکہ نظم میں پوری نظم پڑھنے کے بعد ہی قاری پر تاثر واضح ہوتا ہے یا اثر زائل ہوتا ہے ۔ غزل کی ایک اپنی پہچان ہے اور نظم کی ایک جدا شناخت ہے، دونوں کو ایک میزان پر تولا جاسکتا ہے لیکن تقابل میں کم یا زیادہ کی درجہ بندی نہیں کی جاسکتی۔
سوال: ڈاکٹر صاحب اواخر میں اپنی پسندیدہ نظموں کے نام بتا دیجیے جو آپ سمجھتے ہیں کہ یہ واقعی نظم کے معیار پر پورا ُترتی ہیں ؟
جواب: شاعر جو بھی نظم لکھتا ہے وہ اُس کی اپنی واردات ہوتی ہے جوخیال اور تجربہ سے گزر کر صفحہ قرطاس پر آتی ہے البتہ کچھ نظمیں ایسی ہوتی ہیں جو آپ لکھ لیتے ہیں لیکن آپ اسے اپنے نام سے معنون نہیں کرتے یعنی اس کا کریدٹ کسی اور کو دیتے ہیں یعنی آپ سمجھتے ہیں کہ یہ نظمیں میرے تخیل اور تجربے سے اخذ نہیں ہویں بلکہ عطا ہوئیں ہیں ۔ایسی نظموں کو واقعی نظم کامعیار قرار دیا جاسکتا ہے۔ اپنی نظموں کو پسندیدہ قرار دینا خود ستائی کے زُمرے میں آتا ہے تاہم ” شناخت کا جنون، وجود کا مقدمہ، چکی کے پاٹ، میں غلام نہیں ہوں، میزانِ عدل” کو میں اپنی پسندیدہ نظمیں قرار دیتا ہوں۔
بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب ،آپ نے سبھی سوالات کے عمدہ جوابات دییے۔
آپ کا بھی بہت شکریہ۔
پیش کار حوالہ
1۔محسن خالد محسن،ڈاکٹر،مصاحبہ(انٹر ویو)،مصباح کرن، ایم فل ،سکالر ،اُردو، امپریل کالج آف بزنس سٹڈیز، مقام،چوہنگ،ملتان روڑ،لاہور،مورخہ،03۔اپریل2026 بوقت شام 6 بجے