انسانوں کا چپ کر جانا ٹھیک نہیں

دانش عزیز کی ایک اردو غزل

انسانوں کا چپ کر جانا ٹھیک نہیں
تحریروں کا شور مچانا ٹھیک نہیں

تیرا یہ محتاط رویہ کہتا ہے
تو نے مجھ کو کچھ پہچانا ٹھیک نہیں

یہ ظالم کب تیرے آنسو پوچھیں گے
تصویروں سے دل بہلانا ٹھیک نہیں

رستے میں کچھ دوست نما سے دشمن ہیں
اس گھر تیرا آنا جانا ٹھیک نہیں

بادل پھر برسات سے توبہ کر لیں گے
پانی میں یوں آگ لگانا ٹھیک نہیں

جن باتوں نے پہلے بات بگاڑی تھی
ان باتوں کا پھر دہرانا ٹھیک نہیں

اس نے میرا نام لکھا ہے بازو پر
ہر اک کو یہ بات بتانا ٹھیک نہیں

موسم کلیاں پھول نظارے تاک میں ہیں
تیرا گھر سے باہر جانا ٹھیک نہیں

جب تک میری سانس سلامت ساتھ تو دو
زندہ شخص کو یوں کفنانا ٹھیک نہیں

کیوں تجھ کو یہ بات سمجھ نا آتی ہے
عشق محبت پیار کہا نا ٹھیک نہیں

کتنا تجھ کو سمجھایا تھا پیار نہ کر
تنہا ہو کر اب پچھتانا ٹھیک نہیں

اس کا نام کہیں بھی سن کر لوگوں سے
تیری آنکھوں کا بھر آنا ٹھیک نہیں

لوگ نہ جانے کیا کیا باتیں سوچیں گے
بیٹھے بیٹھے گم ہو جانا ٹھیک نہیں

ایسے تو سب لوگ کنارہ کر لیں گے
تیرا اتنا غصہ کھانا ٹھیک نہیں

دانشؔ چڑیاں کیسے آکر بیٹھیں گی
دیواروں پر کانچ لگانا ٹھیک نہیں

دانش عزیز

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔