اک نفس نابود سے باہر ذرا رہتا ہوں میں

ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل

اک نفس نابود سے باہر ذرا رہتا ہوں میں

گمشدہ چیزوں کے اندر لاپتہ رہتا ہوں میں

جتنی باتیں یاد آتی ہیں وہ لکھ لیتا ہوں سب

اور پھر ایک ایک کر کے بھولتا رہتا ہوں میں

گرم جوشی نے مجھے جھلسا دیا تھا ایک دن

اندروں کے سرد خانے میں پڑا رہتا ہوں میں

خرچ کر دیتا ہوں سب موجود اپنے ہاتھ سے

اور ناموجود کی دھن میں لگا رہتا ہوں میں

جتنی گہرائی ہے عادلؔ اتنی ہی تنہائی ہے

بس کہ سطح زندگی پر تیرتا رہتا ہوں میں

ذوالفقار عادل

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔