ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے
تم بھی آتے تو انہیں اور نکھارا کرتے
یہ طبیعت بھی عجب ہے، اک اذیت ٹھہری
تم نہ اس دل کو کبھی یوں بے سہارا کرتے
ہم محبت میں خسارے ہی اٹھاتے آئے
کاش تم عشق کو اک بار گوارا کرتے
قید پرندوں کو راس آ ہی گئی تھی آخر
تم رہائی کا نہ بے وقت اشارہ کرتے
تم نے اک بار بھی مڑ کر نہیں دیکھا ہم کو
ہم تمہیں دیکھ کے ہر بار پکارا کرتے
اے زمیں زاد! تم اگر مہتاب ہمارے ہوتے
ہم ستاروں سے ہمیشہ ہی کنارا کرتے
حسنؔ اس شہر میں یوں عمر نہ کٹتی تنہا
تم کبھی لوٹ کے آنے کا اشارہ کرتے
میر حسنؔ