ہم خاک بسر آہ بلب سوختہ جاں سے

منزہ انور گوئندی کی ایک اردو غزل

ہم خاک بسر آہ بلب سوختہ جاں سے
گزرے ہیں ہر اک مرحلہ سود و زیاں سے

کل تک تھے وہی لوگ چراغ راہ منزل
حائل ہیں میری راہ میں جو سنگ گراں سے

گر جانتے بے مہری ارباب گلستاں
تزئین چمن کرتے نہ خون رگ جاں سے

مل جائیں گے دیوار و در و بام شبستاں
جاگا کوئی سرگشتہ اگر خواب گراں سے

دامن میں لیے وہ خس و خاشاک چلے تھے
رستے میں الجھ بیٹھے ہیں جو برق تپاں سے

تم محو تماشائے سر بام رہے اور
جل اُٹھا چمن نالہ آتش نفساں سے

ہیں آج بھی ہم خاک بسر راہ طلب میں
آ بیٹھے منزہ وہیں اُٹھے تھے جہاں سے

منزہ انور گوئیُندی

منزہ انور گوئیندی

تعارف منزہ انور گوئیندی کا تعلق ادبی گھرانے سے ہے ان کے والد انور گوئیندی کا شمار مشاہیر ادب میں ھوتا ھے اور وہ اردو ادب کے بانیوں میں سے ھیں ۔ سرگودھا میں کامران مشاعرے اور کامران رسالے کے ذریعے انہوں نے ادب کی آبیاری کی ان کی وفات کے بعد یہ مسند ان کی اکلوتی بیٹی منزہ انور گوئیُندی نے سنبھالی جو ایک نامور افسانہ نگار ، کالم نگار اور شاعرہ ھونے کے ساتھ ساتھ کامران ادبی رسالہ کی مدیرہ بھی ہیں ۔ منزہ انور گوئیندی عالمی شہرت یافتہ قلمکار اور صدا کار ہیں ۔ گزشتہ بیس سال سے ریڈیو پاکستان سے منسلک ھیں اور علمی و ادبی پروگرام پیش کر رہی ھیں ۔ منزہ انور گوئیُندی کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کئی ایوارڈز اور اعزازات اور میڈلز دیے جا چکے گئے ھیں ۔ حال ھی میں دورہ برطانیہ کے دوران انہیں سفیر ادب کا خطاب بھی عطا کیا گیا ۔ اور ان کے اعزاز میں سکاٹ لینڈ بین الاقوامی مشاعرے کا انعقاد بھی کیا گیا منزہ گوئیندی کے خاندان کا شمار کارکنان تحریک پاکستان میں ھوتا ھے اور اس ضمن میں انہیں سابق صدر پاکستان عارف علوی کی جانب سے گولڈ میڈل بھی دیا گیا