ہر یاد کے پہلو میں کوئی زخم چھپا ہے

ثوبیہ راجپوت کی ایک اردو غزل

ہر یاد کے پہلو میں کوئی زخم چھپا ہے
ہر خواب مجھے چاکِ گریباں سا لگا ہے

لرزاں ہے خموشی بھی شبِ ہجر کے اندر
اک درد ہے، جو چپ کے وسیلے سے کہا ہے

آنگن میں پرانے کسی موسم کی طرح سے
اک لمس بہت دیر تلک مجھ میں رہا ہے

تعبیر کی دہلیز پہ یوں خواب کا بجھنا
سایہ مجھے اپنے ہی مقدر کا لگا ہے

جلتے ہوۓ لمحوں کا جو خاموش سا دکھ ہے
تحریرِ الم میں بھی وہ کچھ کہہ نہ سکا ہے

کچھ لمحے تھے، جو وقت کے زنداں میں سلے تھے
ہر سانس مجھے زہرِ پیالہ سا لگا ہے

ثوبی یہ فسانے تو بہت کہہ لیے ہم نے
جو حرف ہے دل میں ابھی محرومِ نوا ہے

ثوبیہ راجپوت

ثوبیہ راجپوت

ثوبیہ راجپوت پاکستان کے شہر سیالکوٹ کینٹ، اُورا میں 7 اپریل کو پیدا ہوئیں۔ ثوبیہ راجپوت نے اپنے قلم کے ذریعے نہ صرف قارئین کے دلوں میں جگہ بنائی بلکہ بطور شاعرہ، نعت گو شاعرہ، افسانہ نگار، کالم نگار، تبصرہ نگار، تجزیہ نگار ،پنجابی اور اردو کی شاعری میں اپنی منفرد پہچان بناچکی ہیں۔ ان کی ادبی خدمات میں افسانوی مجموعہ "وجود شب" شامل ہے، جس میں انہوں نے مشاہدات و تجربات کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کا نعتیہ مجموعہ بھی جلد منظر عام پر آرہا ہے جبکہ متعدد انتھالوجیز شائع ہو چکی ہیں۔ معاون ایڈیٹر: برج میڈیا یو ایس اے