ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں جاتا

سردار حماد منیر کی ایک اردو غزل

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں جاتا
لکھا ہر شعر محفل میں سنایا بھی نہیں جاتا

محبت گر نہیں مجھ سے خدارا چھوڑ دو لیکن
محبت میں یوں نظروں سے گرایا بھی نہیں جاتا

مرے چہرے کی ویرانی کو پڑھنے کا ہُنر سیکھو
کہ مجھ سے بار ہا اب دل دِکھایا بھی نہیں جاتا

مرا اس حال میں بھی روٹھ کر جانا بہت مشکل
مجھے معلوم ہے تم سے منایا بھی نہیں جاتا

گزاری ہے جوانی تیرے در کی پہرِداری میں
نبھایا ہر وہ وعدہ جو نبھایا بھی نہیں جاتا

گنوا ڈالا شباب اپنا تری خاطر مرے حامیؔ
مگر اب جانا بہتر گرچہ جایا بھی نہیں جاتا

یہ دل کی چاہ کے سودے ہیں حماد ان کا تقدس کر
کسی کے دل میں گھر جبراً بنایا بھی نہیں جاتا

سردار حمادؔ منیر

سردار حماد منیر

سردار حمادؔ منیر کی پیدائش پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے مشہور شہر ایبٹ آباد کے ایک علاقے نتھیاگلی ملاچھ میں ہوئی جو کہ اپنی دلکشی اور خوبصورتی کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے پیکنک پوائنٹ کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ انہوں نے اپنی میٹرک تک کی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول نتھیاگلی سے حاصل کی اور 2022 میں میٹرک کا امتحان پاس کر کے تعلیم کے سلسلے میں اپنے جڑواں بھائی سردار مریض منیر کے ہمراہ ایبٹ آباد شہر کا رخ کیا اور وہاں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج نمبر ون ایبٹ آباد میں داخلہ لیا اور وہیں سے 2024 میں آیف ایس سی کا امتحان پاس کیا اور ابھی وہ( ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکناجی ) سے اپنی گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے میں مصروفِ عمل ہیں ۔اور شاعری کا شوق انہیں اپنے ہائی اسکول کی ابتدا ہی سے ہوا اور پھر اچھا اساتذہ کی رہنمائی سے فارسی عربی اور انگریزی جیسی زبانوں کے اصول کا شوق پڑا اور اسی سے ان کا رخ اُردو شاعری کی طرف مائل ہوا اور نتیجتاً ان وہ کالج کے دونوں میں خود بھی شاعری لکھنے لگے