ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں جاتا
لکھا ہر شعر محفل میں سنایا بھی نہیں جاتا
محبت گر نہیں مجھ سے خدارا چھوڑ دو لیکن
محبت میں یوں نظروں سے گرایا بھی نہیں جاتا
مرے چہرے کی ویرانی کو پڑھنے کا ہُنر سیکھو
کہ مجھ سے بار ہا اب دل دِکھایا بھی نہیں جاتا
مرا اس حال میں بھی روٹھ کر جانا بہت مشکل
مجھے معلوم ہے تم سے منایا بھی نہیں جاتا
گزاری ہے جوانی تیرے در کی پہرِداری میں
نبھایا ہر وہ وعدہ جو نبھایا بھی نہیں جاتا
گنوا ڈالا شباب اپنا تری خاطر مرے حامیؔ
مگر اب جانا بہتر گرچہ جایا بھی نہیں جاتا
یہ دل کی چاہ کے سودے ہیں حماد ان کا تقدس کر
کسی کے دل میں گھر جبراً بنایا بھی نہیں جاتا
سردار حمادؔ منیر