تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی حالتِ زار

مصنف : نعمان علی بھٹی

بورے والا کے (ٹی ایچ کیو) تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی حالتِ زار اور فوری توجہ کی ضرورت

صحت کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے، مگر جب یہی بنیادی سہولت متاثر ہو جائے تو عوام کی مشکلات کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ حال ہی میں میرا ذاتی تجربہ بورے والا کے (ٹی ایچ کیو) تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ہوا، جس نے سرکاری ہسپتالوں کی حقیقت ایک بار پھر میرے سامنے عیاں کر دی۔
31 مارچ 2026 کی رات تقریباً 10:30 بجے مجھے شدید سر درد کی شکایت ہوئی، جس پر میں فوری طور پر قریبی سرکاری ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ پہنچا۔ مگر وہاں کا منظر نہایت مایوس کن تھا۔ ایمرجنسی جیسے حساس شعبے میں مریضوں کا بے حد رش تھا، مگر حیران کن طور پر صرف دو ڈاکٹرز موجود تھے جو تمام مریضوں کا معائنہ کر رہے تھے۔ ایک طرف مریض درد سے کراہ رہے تھے اور دوسری طرف محدود عملہ اپنی استطاعت سے بڑھ کر کام کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
یہ صورتحال نہ صرف مریضوں کے لیے تکلیف دہ ہے بلکہ خود ڈاکٹرز کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ہے۔ جب ایک ڈاکٹر کو بیک وقت درجنوں مریض دیکھنے پڑیں تو وہ نہ تو ہر مریض کو مناسب وقت دے سکتا ہے اور نہ ہی مکمل توجہ کے ساتھ تشخیص ممکن ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں غلطی کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے، جو کسی بھی مریض کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایمرجنسی وارڈ جیسے اہم شعبے میں عملے کی کمی کیوں ہے؟ کیا متعلقہ حکام اس مسئلے سے بے خبر ہیں یا پھر یہ محض غفلت کا نتیجہ ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ (ٹی ایچ کیو) تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال جیسے ادارے پورے علاقے کے عوام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، مگر جب یہی ادارے وسائل کی کمی کا شکار ہوں تو عوام کہاں جائیں؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری طور پر اس ہسپتال میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ خاص طور پر ایمرجنسی وارڈ کو مکمل طور پر فعال اور مضبوط بنایا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج فراہم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید طبی سہولیات اور ادویات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے ہسپتالوں کا باقاعدہ جائزہ لے اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کرے۔ صرف کاغذی منصوبے بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر ایک چھوٹے شہر کے ہسپتال میں یہ صورتحال ہے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دور دراز علاقوں میں حالات کس قدر سنگین ہوں گے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹرز اور طبی عملہ اپنی محدود سہولیات کے باوجود خدمات انجام دے رہے ہیں، جو قابلِ تحسین ہے۔ مگر نظام کی بہتری کے بغیر ان کی محنت بھی مکمل نتائج نہیں دے سکتی۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ بورے والا کے (ٹی ایچ کیو) تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال جیسے اداروں کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اگر آج اس طرف توجہ نہ دی گئی تو کل حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ عوام کی صحت کے ساتھ کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جا سکتی۔

خیر اندیش
نعمان علی بھٹی

نعمان علی بھٹی

السلام علیکم! میرا نام نعمان علی بھٹی ہے اور میرا تعلق پاکستان سے ہے۔ میں ایک لکھاری اور بلاگر ہوں، جو سماجی مسائل، قومی حالات، قانون کی اہمیت اور عوامی شعور جیسے اہم موضوعات پر کالم لکھتا ہوں۔ میری تحریروں کا بنیادی مقصد معاشرے میں مثبت سوچ، ذمہ داری کا احساس اور شعور کو فروغ دینا ہے۔ میرے کالم مختلف معروف آن لائن پلیٹ فارمز پر شائع ہو چکے ہیں جن میں Hum Sub Daily Urdu Columns, اور Info Devil شامل ہیں۔ اس کے علاوہ میں اپنی ذاتی ویب سائٹ PK24FutureUpdates پر باقاعدگی سے مضامین (Articles) اور جابز اپڈیٹس (Jobs Updates) بھی شائع کرتا ہوں، تاکہ قارئین کو معلومات اور مواقع دونوں فراہم کیے جا سکیں۔ میں سوشل میڈیا پر بھی متحرک ہوں، خاص طور پر اپنے Facebook Page کے ذریعے، جہاں میں موجودہ حالات، نئے کالمز، اور جابز اپڈیٹس سے متعلق معلومات مسلسل شیئر کرتا رہتا ہوں۔