گل سے گلزار ہو بھی سکتی تھی
زندگی پیار ہو بھی سکتی تھی
کیا عجب میں تری کہانی کا
کوئی کردار ہو بھی سکتی تھی
بیچتا گر تو اپنے غم سارے
میں خریدار ہو بھی سکتی تھی
تیری سنگت میں کٹ گئی ورنہ
راہ دشوار ہو بھی سکتی تھی
میرے دکھ درد بانٹنے کے لیے
کوئی دیوار ہو بھی سکتی تھی
دیکھ لیتا اگر وہ چاہت سے
روح سرشار ہو بھی سکتی تھی
تیری چاہت سے کھل اٹھی ورنہ
یہ کلی خار ہو بھی سکتی تھی
میری تصویر گر بناتا وہ
فن کا شہکار ہو بھی سکتی تھی
ہم جو عنبر لگاتے کاجل تو
آنکھ تلوار ہو بھی سکتی تھی
فرحانہ عنبر