گرے مکاں میں دبی کہکشاں

حارث بلال کی ایک اردو غزل

گرے مکاں میں دبی کہکشاں سمیٹتا ہے
وہ اک ہتھیلی میں سارا جہاں سمیٹتا ہے

یہ اختتام سفر ہے کہ اک نیا آغاز
وہ راستے میں کھڑا کارواں سمیٹتا ہے

کسی جگہ کوئی کردار رہنے دیتا نہیں
یہ وقت روز نئی داستاں سمیٹتا ہے

وہ طے تو کرتا ہے دو چار منزلیں مرے ساتھ
ٹھہر ٹھہر کے مگر جسم و جاں سمیٹتا ہے

گریز پائی کا مجھ سے گلہ نہ کر مرے دوست!
زمیں سمٹتی نہیں، آسماں سمیٹتا ہے

کوئی بگولا سا اٹھتا ہے میری لہروں سے
وہ درمیان کہیں کشتیاں سمیٹتا ہے

سحر میں ابر کی صورت برسنے لگتا ہے
تمام رات جو میرا دھواں سمیٹتا ہے

بکھرنے ہی میں زمانوں کا حسن ہے پنہاں
تو اس خرابے کو حارثؔ کہاں سمیٹتا ہے

حارث بلال

حارث بلال

حارث بلال 1993دسمبر میں سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 2014 میں شاعری کا آغاز کیا۔ ان کا شعری مجموعہ "ہم شجر" نومبر 2025 میں شائع ہو چکا ہے۔ تعلیمی حوالے سے ایم فل کی ڈگری لمز یونیورسٹی لاہور سے حاصل کر چکے ہیں اور گولڈ میڈل کے حامل ہیں۔ تا حال وہ نمل یونیورسٹی میانوالی میں اسسٹنٹ رجسٹرار کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔