گلہ ہے وقت سے، اندازِ بے وفائی کا
یہ کیسا شیوہ ہے دنیا کی پارسائی کا
مرے قریب بھی رہ کر تو اجنبی ٹھہرا
عجب مزاج ہے تیرا یہ آشنائی کا
تری ہی یاد سے بے تاب دل بہلتا ہے
مزا عذاب میں پاؤں تری جدائی کا
نہ دل کو چین، نہ آنکھوں کو خواب ملتے ہیں
اثر یہ کیسے ہوا تیری خودنمائی کا
جو روشنی تھی، وہ رہزن بنی ہوئی ہے اب
یہی تو کرب ہے تقدیر کی لکھائی کا
نقوشِ ماضی مٹانے کی جستجو میں ہوں
کہ وقت ملتا نہیں، وقت کی کمائی کا
اے ثوبیہ یہ یقیں دل کو آچکا ہے اب
کہ لطف کچھ تو ہے اس رنجِ آشنائی کا
ثوبیہ راجپوت