گلہ ہے وقت سے، اندازِ بے وفائی کا

ثوبیہ راجپوت کی ایک اردو غزل

گلہ ہے وقت سے، اندازِ بے وفائی کا
یہ کیسا شیوہ ہے دنیا کی پارسائی کا

مرے قریب بھی رہ کر تو اجنبی ٹھہرا
عجب مزاج ہے تیرا یہ آشنائی کا

تری ہی یاد سے بے تاب دل بہلتا ہے
مزا عذاب میں پاؤں تری جدائی کا

نہ دل کو چین، نہ آنکھوں کو خواب ملتے ہیں
اثر یہ کیسے ہوا تیری خودنمائی کا

جو روشنی تھی، وہ رہزن بنی ہوئی ہے اب
یہی تو کرب ہے تقدیر کی لکھائی کا

نقوشِ ماضی مٹانے کی جستجو میں ہوں
کہ وقت ملتا نہیں، وقت کی کمائی کا

اے ثوبیہ یہ یقیں دل کو آچکا ہے اب
کہ لطف کچھ تو ہے اس رنجِ آشنائی کا

ثوبیہ راجپوت

ثوبیہ راجپوت

ثوبیہ راجپوت پاکستان کے شہر سیالکوٹ کینٹ، اُورا میں 7 اپریل کو پیدا ہوئیں۔ ثوبیہ راجپوت نے اپنے قلم کے ذریعے نہ صرف قارئین کے دلوں میں جگہ بنائی بلکہ بطور شاعرہ، نعت گو شاعرہ، افسانہ نگار، کالم نگار، تبصرہ نگار، تجزیہ نگار ،پنجابی اور اردو کی شاعری میں اپنی منفرد پہچان بناچکی ہیں۔ ان کی ادبی خدمات میں افسانوی مجموعہ "وجود شب" شامل ہے، جس میں انہوں نے مشاہدات و تجربات کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کا نعتیہ مجموعہ بھی جلد منظر عام پر آرہا ہے جبکہ متعدد انتھالوجیز شائع ہو چکی ہیں۔ معاون ایڈیٹر: برج میڈیا یو ایس اے