گردشِ حال پر کتاب لکھوں

بشریٰ سعید عاطف کی ایک اردو غزل

گردشِ حال پر کتاب لکھوں
مجھ پہ گزرے ہیں جو عذاب لکھوں

کیسے کاٹے ہیں روز و شب میں نے
ہجر میں دل کا اضطراب لکھوں

کچھ کہے بن سمجھ گئی تھی میں
بولتی آنکھ کے خطاب لکھوں

میری قسمت نے دی ہے مات مجھے
پھول کانٹے بنے جناب لکھوں

منزلوں سے سدا جو دور رکھے
راستے میں وہی سراب لکھوں

جس نے انتھک یہاں پہ کی محنت
اُس کو ہر لمحہ کامیاب لکھوں

چن نہیں پائی میں جنہیں بشریٰ
ریزہ ریزہ ہوئے جو خواب لکھوں

بشریٰ سعید عاطف

بشریٰ سعید عاطف

بشریٰ سعید عاطف ایک باصلاحیت اور ہمہ جہت پاکستانی شاعرہ ہیں جو اس وقت یورپ میں مقیم ہیں۔ وہ ادبی دنیا میں اپنی منفرد اور مؤثر آواز کے ذریعے ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ ان کی شاعری میں مشرقی احساسات اور مغربی تجربات کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے، جو نہ صرف ثقافتی ہم آہنگی بلکہ انسانی احساسات کی گہرائی کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ ان کے اشعار میں شناخت، ہجرت، ثقافتی تنوع، اور روحانیت جیسے موضوعات ایک خوبصورت شعری توازن کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ بشریٰ سعید عاطف کی تخلیقات میں پاکستان کی روایتی شعری فضا اور یورپ کے جدید فکری پسِ منظر کا امتزاج واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ وہ فطرت کی خوبصورتی، انسانی رشتوں کی نزاکت، اور یورپی شہروں کی دلکشی کو اپنے اشعار میں نہایت لطیف انداز میں پیش کرتی ہیں۔ ان کی شاعری دل سے نکلتی ہے اور سیدھی دل میں اتر جاتی ہے — چاہے وہ وطن کی یاد ہو، محبت کی لطافت، یا زندگی کے فلسفیانہ پہلو۔ بشریٰ سعید عاطف نے نہ صرف آزاد نظم اور غزل میں اپنی فکری و تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے بلکہ انہوں نے حمد، نعت، منقبت، سلام، مرثیہ، دوہے، ٹپے، اور کلاسیکی و جدید نظم کے میدان میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔ ہر صنف میں ان کی انفرادیت، زبان پر قدرت، اور جذبے کی شدّت نمایاں نظر آتی ہے۔ خاص طور پر ان کی نعتیہ شاعری میں عقیدت و محبت کا ایسا گہرا رنگ جھلکتا ہے جو قاری کے دل کو چھو لیتا ہے۔ ان کی شاعری صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ احساسات کا سفر ہے — ایک ایسا سفر جو قاری کو سرحدوں سے ماورا کر کے انسانیت، محبت، اور روحانیت کی وسعتوں میں لے جاتا ہے۔ اپنی شاعری کے ذریعے وہ مشرق و مغرب کے درمیان ایک ادبی پل تعمیر کر رہی ہیں جو تہذیبی فاصلوں کو مٹاتا اور دلوں کو قریب لاتا ہے۔