فُرصتِ نگاہ

سفر نامۂ انگلستان - پروفیسر محمد اعظم خالدؔ

سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزارہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہے
خواجہ حیدر علی آتش

طلسمِ جمال کے نام

جو ہر دل کش چہرے، متناسب بدنوں، خوب صورت مناظر، بلند و بالا پہاڑوں کی چوٹیوں ہر ے بھرے سبزہ زاروں، گنگناتی ندیوں، نقرئی آبشاروں، موسیقی کے سروں، طائرانِ زمزمہ پرداز کے ارغنوں اور کتابِ حکمت کے پاروں کے ہر حرفِ شیریں، ہر بُنِ مو، ہر برگِ معصوم اور ہر قطرۂ حیات کے اندر سے فطرت کے ہونے کی گواہی دیتا اور مسافر کے ذوق کو مہمیز کرتا رہا۔

کھِلے ہوئے ہیں چمن زار حُسن و خوبی کے
مگر ملی نہ کہیں فرصتِ نگاہ ہمیں !!!
ارشد محمود ناشاد

’’فرصتِ نگاہ‘‘ لکھتے وقت ذہن میں کوئی ایسا خیال قطعی طور پر نہ تھا کہ نوبت بارِ دوم تک بھی جا پہنچے گی۔وجہِ تحریر تو اصرارِ دوستاں بالخصوص عزیز از جان ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد صاحب کی محبت بھری ضد تھی۔مسوّدہ مکمل کر چکنے کے بعد فون پر ڈاکٹر صاحب سے دیباچہ لکھنے کی گزارش کی تو فرمانے لگے : بجا کہ تم نے کچھ لکھا ہو گا مگر میں کسی کے کہنے پر کُچھ لکھنا ادبی دیانت کے تقاضوں کے یکسر خلاف سمجھتا ہوں ،ہاں البتہ مسوّدہ دیکھ کر بتاؤں گا۔اگر تحریر نے لکھنے پر مجبور کیا تو لکھنا فرض جانوں گا۔مسافر کے لیے یہ ایک اذیت ناک شرط تھی۔ناچار ڈرتے جھجھکتے مسوّدہ بھجوایا۔پھر وہ لمحہ میرے لیے زندگی کی متاع بن گیا جب ڈاکٹر صاحب نے خاور ؔ کو فون پر بتایا کہ وہ اس پر بسیط دیباچہ لکھیں گے۔اب مسافر کا کام ختم ہو چکا تھا۔ڈاکٹر صاحب نے بہ کمالِ محبت نہ صرف دیباچہ لکھا بلکہ ایک ادبی شہ پارہ تخلیق کیا جسے پڑھ کر خدا لگتی کہوں کہ مسافر کو اپنی تحریر یکسر ماند پڑتی نظر آئی۔ بے ساختہ منہ سے نکلا کہ حضور دیباچہ پر میرا نام لکھ دیں، کتاب آپ کی ہوئی۔دل میں خیال آیا کہ ادبی دیانت بجا مگر یقیناً ڈاکٹر صاحب نے حقِ دوستی کو فوقیت دی۔ ایک پرانا لطیفہ یاد آیا کہ پادری ایک میت کے سرہانے آنجہانی کی خوبیاں بیان کر رہا تھا کہ وہ بہت نیک تھے، پارسا تھے۔غریبوں کی مدد کیا کرتے تھے۔عمر بھر جوا، شراب سے گریزاں رہے۔۔۔۔۔ بیوہ نے اپنے بچے کی انگلی پکڑی اور یہ کہتے ہوئے اُٹھ کھڑی ہوئی:
Come on Sunny, we have come on a wrong funeral your father had no such virtues.
میری کیفیت بھی کُچھ ایسی ہی تھی کہ شاید ڈاکٹر صاحب نے مسوّدہ کوئی اور پڑھ لیا اور غلطی سے نام مسافر کا ڈال دیا۔ بہ ہر حال کتاب مارکیٹ میں آئی تو ہاتھوں ہاتھ نکل گئی۔خیر یہ بھی کوئی اتنا بڑا اعزاز نہ تھا۔اصل بات یہ ہے کہ جن صاحبانِ ذوق تک کتاب کی رسائی ہوئی انھوں نے وہ پذیرائی بخشی کہ میرے دامِ خیال میں بھی نہ تھی۔ان مبصرین میں سے بیش تر مہربان وہ تھے جن سے مسافر کی مطلق شناسائی نہ تھی۔بس یہی وی اعزاز ہے جسے مسافر سرمایۂ حیات سمجھتا ہے۔کُچھ تبصرے اور مضامین تو زیرِ نظر ایڈیشن میں شامل ہیں کُچھ تبصرے زبانی ہیں مثلاً: ایک بے تکلف دوست جو مسافر کی صلاحیتوں سے بخوبی آگاہ ہیں نہایت رازدارانہ انداز میں پوچھتے ہیں : ’’سچ کہو کس سے لکھوائی ہے، ہم تو تمھارے اپنے آدمی ہیں، اپنوں سے کیا پردہ! کسی کو بتانا تھوڑی ہے۔‘‘ کُچھ دوست حیرت سے پوچھتے ہیں :’’کیا واقعی تم نے خود لکھی ہے ؟‘‘ایک طالب علم کا تبصرہ چونکا دینے والا تھا، کہنے لگا: ’’جناب کتاب تو خوب ہے مگر اسے سفر نامہ نہیں کہہ سکتے۔‘‘ میں نے پوچھا پھر کیا کہو گے۔ کہنے لگا:’’ سفر در سفر کہہ سکتے ہیں۔ایسے اور اس طرح کے دیگر بہت سے جملے مسافر کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنے اور بارِ دوم کا بھی۔
برطانیہ کے اس سفر کا باعث تو ماضی کے دیگر اسفار کی طرح ایک اضطراب، ایک تلاش ہی تھا مگر در حقیقت اس سفر کی ایک بڑی وجہ اور بھی تھی اور وہ تھا د و تہذیبوں کے درمیان اور بین المذاہب تصوف کے تصور کی کھوج۔ اس سفر میں مسافر جوں جوں آگے بڑھتا گیا حیرتوں اور ندامتوں کے در وا ہوتے چلے گئے۔ اس طرح پورا سفر ملتِ اسلامیہ کے شاندار ماضی کا مرثیہ بن کر رہ گیا۔اگرچہ مسافر نے ممکنہ کوشش کی کہ سفر نامہ تہذیبوں کے درمیان تقابلی دستاویز نہ بن پائے مگر اس کا کیا کیا جائے کہ ایک غیور قوم کا فرزند ہونے کے ناتے مسافر نہ تو ملتِ اسلامیہ کے شاندار ماضی کو فراموش کر سکتا تھا اور نہ ہی موجودہ زمینی حقائق سے چشم پوشی، سو نہ چاہتے ہوئے بھی کتاب ایک تقابلی دستاویز بنتی چلی گئی۔یہاں وضاحت کرتا چلوں کہ مسافر نہ تو مبلغ ہے نہ اصلاح کاری کا مدعی۔بس جو دیکھا، محسوس کیا، کاغذ پر لکھ چھوڑا۔اب یہ قاری کی صوابدید ہے کہ وہ اسے عبرت جانے یا نظر انداز کر دے۔سچ بات تو یہ ہے اور دُکھ کی بات بھی یہی ہے کہ آج وطنِ عزیز کے سرمایہ داروں میں کوئی ایک بھی بوڑھے سکاٹ کاشت کار جیسا نہیں جو اربوں روپے کے اثاثے راہِ خدا میں وقف کر کے حکومتی خیراتی مکان میں جا بسے نہ ہی اپنے سیاست دانوں میں کوئی تونی بلئیر دِکھتا ہے جو سلطنتِ عظمیٰ کی وزارتِ عظمیٰ سے استعفیٰ دینے کے ایک منٹ بعد سرکاری گاڑی استعمال کرنا خیانت جانتا ہو اور ہی کوئی عام شہری اپنی سوسائیٹی میں ایسا دکھائی دیتا ہے جو بیس پاونڈ کی رقم تین مہینے تک جیب میں ڈالے پھرتا رہے کہ حق دار کو حق پہنچا سکے۔
متذکرہ بالا کردار علامتی یا خیالی کر دار نہیں بلکہ ایک خدا ترس اور دیانت دار سوسائیٹی کے حقیقی کر دار ہیں۔مسافر کو یقینِ واثق ہے کہ جس روز وطنِ عزیز کو یہ تین کر دار میسّر آ گئے وہ اس قوم کی نشاۃ ثانیہ کا مبارک دن ہو گا۔مسافر کی دُعا ہے اور خواب بھی کہ وہ دن جلد تر طلو ع ہو۔ آخر میں میں اُن تمام احباب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی مخلصانہ آرا نے اس مجموعے کو بارِ دگر طلو ع ہونے کا موقع عطا کیا۔

۱۵۔ دسمبر ۲۰۱۰ء محمد اعظم خالدؔ

پیش لفظ
[طبعِ اوّل]

باہر پختہ اور اندر کچی اینٹیں لگی ہوئیں۔ چوڑائی کے عین درمیان میں لکڑی کے دو ستون، جن کے اوپر دیو دار کے تین لمبے شہتیر شمالاً جنوباً رکھے تھے۔ جن پر لکڑی کے بالے اور ان کے اوپر سر کنڈوں سے ڈھکی چھت، چھت پر کچی مٹی کی دبیز تہہ، جو اتنی دبیز تھی کہ ان زمانوں کی ہفتوں پر محیط برساتوں کے پانی کو مجال کہ اندر آنے دیتی۔ کمرے کے عین درمیان میں چڑھتے سورج کی طرف منہ کیے اکلوتا دروازہ تھا۔ دروازہ کے دائیں طرف کمرے میں کھڑی چارپائیاں ہوتیں۔ جن پر شکاری باز بیٹھے ہوتے۔ ان بازوں کی آنکھوں پر چرمی ٹوپیاں چڑھی ہوتیں۔ بائیں جانب زمین پر خشک گھاس بچھی ہوتی۔ گھاس اور جائے نشست کی حد بندی بھی لکڑی کے ایک شہتیر سے کی ہوتی تھی۔ بیٹھنے والے شہتیر کے اس پار چپل اتار، گھاس پر آلتی پالتی مار بیٹھتے تھے۔ شہتیر سے ایک دو فٹ کے فاصلے پر عین بیچ کمرے کے دو فٹ قطر کا گڑھا، جس میں شام سمے آگ کا الاؤ روشن کر دیا جاتا۔ یہ ہمارے دیہاتوں کا حجرہ کہلاتا۔ تقریباً ہر گاؤں میں کم از کم ایک حجرہ ایسا ضرور ہوتا جہاں نماز مغرب کے بعد رات کا کھانا کھا چکنے کے بعد گاؤں کے لڑکے بالے اور بڑے بوڑھے اکٹھے ہوتے۔ تا دیر محفل جمتی۔ فصلوں کی نشوونما کے باب میں مشورے ہوتے۔ ارد گرد کے دیہات میں رونما ہونے والے واقعات پر تبصرے ہوتے۔ گئے گذرے زمانوں کی یادیں تازہ کی جاتیں۔ بچے، باپوں کی گود میں ان کی چادر کی بکّل میں بیٹھے کانگرو بچوں کی طرح منہ باہر نکالے جماہیاں لیتے۔ کبھی کبھار رباب اور ہارمونیم پر مقامی گویّے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے اور شرکا سے داد وصول کرتے۔ تواضع کا واحد آئیٹم مکی کے بھٹے دانوں کے ساتھ گڑ کی بھیلیں ہوتیں جو اکثر خانہ ساز ہوتیں۔سرما کی ان راتوں میں کہانی گووں کی بن آتی۔ اکثر کہانیاں کئی کئی راتوں پر محیط ہوتیں۔ ان میں اجنبی سرزمینوں، کوہ قاف کے دیووں، پریوں اور مافوق الفطرت طاقت کے حامل شہزادوں کی شجاعت، اپنے مقصد سے لگن اور انسانی قدروں پر ایمان کا ذکر ہوتا۔ ہر کہانی کے انجام پر انسان جیت جاتا اور دیووں کو شکست ہوتی۔ اخلاقی اقدار کی فتح اور استحصالی قوتوں کا خاتمہ ہوتا۔ مسافر کے بچپنے میں یہ سب کچھ یوں ہی تھا۔ پھر دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے برسوں بعد ان محفلوں میں ایک نئے کر دار کا اضافہ ہوتا ہے۔ یہ فضلو بابا تھا جو لام میں بھرتی ہو کر ہٹلر سے دو دو ہاتھ کرنے یورپ جا پہنچا۔ اس نے یورپ تک کا سفر سمندروں کے سینے پر کیا۔ اس کا کام تو محاذِ جنگ سے کوسوں پیچھے سپاہیوں کے لیے تنور پر روٹیاں پکانا تھا مگر اپنے جنگی کارنامے اور شجاعت کی داستانیں یوں سناتا گویا جنگِ عظیم میں مرنے والے کم از کم نصف نازیوں کی موت کا سبب وہی ہے۔ بقول اس کے ہٹلر کئی بار اس کی بندوق کی زد میں آیا مگر اس نے ہٹلر کو ایک مردِ شجیع جان کر بندوق کی نال نیچی کر لی۔ گویا یہ ایک بہادر سپاہی کا دوسرے بہادر سپاہی کو خراجِ تحسین تھا۔ بجا کہ یہ جملۂ معترضہ ہے مگر سچ بات یہ ہے کہ فضلو بابا کی کہانیاں ہی وہ قوتِ محرکہ تھیں۔ جنھوں نے ایک کم سن بچے کے من میں سفر کی جوت جگائی۔ وہ معصوم بچہ فضلو بابا کی ہر کہانی پر ان شاء اللہ کہہ کر بچپن گذرنے کا انتظار کرتا رہا۔ لڑکپن لڑکھڑا یا تو نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی لاشعور میں چھپے جذبۂ تحسین نے سر اُبھارا۔ اول جوانی میں شمالی پہاڑی علاقوں کا رخ کیا۔ مناظرِ فطرت سے آشنائی ہوئی۔ تسکین تو کیا ہونا تھی ذوق سفر مزید مہمیز ہوا۔ بچپن کی سنی کہانیوں میں بابوں کے ذکر نے طبیعت کو تصوف کی طرف بھی مائل کر رکھا تھا۔ سو اسّی کی دہائی میں سندھ سر زمین پر صوفیائے کرام کے مزاروں کی زیارت کی ٹھان بنا بتائے گھر سے نکلا۔ زیارتوں کا ارادہ تو رہا بیچ میں پاؤں کے چکر نے یورپ جا پھینکا۔ یورپ سے مسلسل دس روز تک سمندر کا سینہ چیرتا کینیڈا جا نکلا۔ دو ماہ سے زیادہ نوواسکو شیا کے برف ستانوں میں سفید لومڑیوں، برفانی ریچھوں، بلیو بیریز اور ننھے منے شہر سڈنی کی مہذب ہرنیوں سے واسطہ رہا۔ پھر یورپ آمد ہوئی۔ ایتھینا کے کھنڈرات خالکیدا کے ٹیلے، لو ورنو کی جھیلیں، نیدر لینڈ کی نہریں، پیرس کی شانزے لیزے، سینٹ مالو کی شہر پناہ، شہر پنا ہ کے باہر سمندر کا جوار بھاٹا، اندر صدیوں پہلے کا فرانسیسی ماحول دیکھا۔ بیسویں صدی گذر چکی۔ اکیسویں صدی کا آغاز ہوا تو خفتہ جذبوں نے بار دِگر انگڑائی لی۔ ایک مدت تک ہر سال موسمِ گرما انگلستان میں گذارنے کا ارادہ باندھتا مگر ہر بار کارِ جہاں آڑے آتا۔ خدا خدا کر کے 2007ء میں فرصت یک نفس ملی تو عازمِ انگلستان ہوا۔ خدا لگتی بات ہے کہ نہ تو سفر نامہ لکھنے کا ارادہ تھا نہ قلم پکڑنے کا سلیقہ۔ سفر تمام ہوا، واپس لوٹا تو گویا گنگا نہایا۔ مگر ڈاکٹر ارشد محمود ناشادؔ جیسے دوست نصیب ہوں تو چین کہاں، آرام کہاں۔ ہر وقت ایک ہی تکرار، ایک ہی ضد، ایک ہی حکم ’’لکھو، بابا لکھو۔ جو دیکھا دوسروں کو بھی اس میں شامل کرو۔‘‘ بات یہیں تک ہوتی تو شاید ٹل جاتی مگر اُنھوں نے تو عزیزم خاور چودھری کی ڈیوٹی لگا دی کہ اس رہ نورد کو چین نہ لینے دیجیو اور خاورؔ نے اس فریضے کو یوں نبھایا کہ جب ملتے تو چھوٹتے ہی پوچھتے :’’ کہو سفر نامہ کہاں تک پہنچا؟کتنے باب لکھ چکے ہو؟جلد مکمل کرو۔ ڈاکٹر صاحب روزانہ فون پر پوچھتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ‘‘ بس یوں جانیے کہ علم و ادب کے ایک کوہِ گراں اور خلوص و محبت کی وادی کے دو پاٹن کے بیچ ناتواں مسافر پِستا تھا،آخری سہارے کے طور مشتاق عاجزؔ سے گلو خلاصی کے لیے مدد چاہی۔اگرچہ وہ ہر وقت دوستوں کی مدد کے لیے کمر بستہ رہتے ہیں مگر اب کی بار اُنھیں بھی ’’صفِ دشمناں ‘‘ میں کھڑے پایا۔یعنی___ بروٹس! یُو ٹُو والی بات ہوئی، وہ تو پہلے ہی ’’فرصتِ نگاہ‘‘ کا نام بھی تجویز کیے بیٹھے تھے۔اب فقط ایک صورت بچتی تھی کہ حُکمِ دوستاں بجا لایا جائے سو حرف آغاز کیا۔مسوّدہ مکمل ہوا تو اُستادِ گرامی جناب ملک حق نواز خاں صاحب کو دکھایا۔اُنھوں نے بیشتر مقامات پر اصلاحی نوٹ تحریر فرمائے۔کُچھ پلّے باندھے، کُچھ سے دانستہ صرفِ نظر کیا۔مقصود صرف اتنا تھا کہ ناقدینِ ادب کی طبع آزمائی کا سامان بھی ہو جائے۔پندار کا صنم کدہ معتبر سہی، محترم سہی، مگر کوئے ملامت کا بھی مسافر کے قدموں پر حق بنتا ہے۔سو جو دیکھا ٹیڑھے میڑھے لفظوں میں لکھ دیا ہے۔ستائش کی تمنّا ہے نہ صلے کی پرواہ۔بس ! تعمیلِ حُکمِ دوستاں ہے۔

سفر وسیلۂ ظفر………. !!

[۱]

سفر وسیلۂ ظفر ہے۔ یہ کائنات اپنی تکمیل کی خواہش لیے ہوئے محوِ سفر ہے۔یہ سیّارگاں، یہ پانی، یہ ہوائیں، یہ موسم اور یہ منظر کسی نادیدہ حبیب کی جستجو میں ہمہ وقت پا بہ رکاب ہیں۔کامرانی کا نشّہ اور کامیابی کا لپکا اُنھیں ایک پل نہیں رُکنے دیتا۔یہ سب اسی دھُن میں خرام آمادہ رہتے ہیں۔تکلیفیں جھیلتے ہیں، سختیاں برداشت کرتے ہیں، بے مدار ہوتے ہیں، بے مقام ہوتے ہیں ____ تاہم یہ سب کُچھ بے اجر نہیں رہتا۔مآلِ کار آوارہ خرامی رنگ لاتی ہے۔سفر وسیلۂ ظفر بن جاتا ہے۔ کامرانیوں کا دروا ہو جاتا ہے۔کامیابی کی کلید ہاتھ آ جاتی ہے۔زندگی جاگ اُٹھتی ہے۔بھرم قائم ہو جاتا ہے۔ظن و تخمیں لباسِ یقیں اوڑھ لیتے ہیں۔متحرک چیزوں اور رواں دواں پیکروں سے دل و نگاہ کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ٹھہرے ہوئے پیکر اور رُکے ہوئے منظر دل و نگاہ پر حکمرانی نہیں کر سکتے۔انسان جو خاتمِ کائنات کا نگینہ ہے ___ ہمہ پہلو نگینہ___ جو پیکرِ موجود کا دل ہے ___ دھڑکتا ہوا دل___ زندگی کی حرارت سے مچلتا ہوا دل___ وہ کیوں کر ساکن وجامد رہ سکتا ہے۔جمود اور تعطل، سکون اور ٹھہراو، قیام اور گریز پائی تو اس کے لیے موت ہے اور اس کی موت گویا عالمِ موجود کی موت ہے ___ کائنات کی موت ہے ___ زندگی کی موت ہے !!
سفر اور انسان کا رشتہ ازل سے ہے۔یہ ابد الآباد تک باقی رہے گا کیوں کہ انسان کے خمیر میں سفر کا شوق گُندھا ہوا ہے۔ہبوطِ آدم انسانی سفر کا نقشِ اوّل ہے۔ آسمان سے زمین کی طرف ___ بُلندی سے پستی کی طرف__ حقیقت سے مجاز کی طرف۔حقیقت سے حقیقت کا سفر بے رنگ ہے۔پستی نہ ہو تو بلندی بے معنی ہو جائے۔مجاز حقیقت کو حُسن عطا کرتا ہے۔انسان حقیقت سے مجاز اور مجاز سے حقیقت کے منطقوں میں سفر کرتا ہے۔کبھی آسمان کو زمین پر اُتار لاتا ہے، کبھی زمین کو آسمان پر لے جاتا ہے ،غرضے کہ عالمِ موجود کمالِ بشریّت کی زد میں رہتا ہے۔
انسان نے جنگلوں اور غاروں سے اپنی زندگی آغاز کی۔جنگل اور غار گویا انسان کے اوّلین مسکن و مامن تھے۔ایک محدود سی دُنیا اس کے ارد گرد خیمہ زد تھی۔ خاموش اوربے خرام سی دُنیا___ ساکن و جامد سی دُنیا___ مگر تا بہ کَے ؟ قرب وجوارکے منظر نظر پر بار بننے لگے۔سر میں رکھا ہوا سفر کا شوق انگڑائیاں لینے لگا۔آنکھوں میں سجے نادیدہ دُنیاوںکے خواب یک لخت بیدار ہو گئے۔خاموش اور بے خرام سی دُنیا کا سحر ٹوٹ گیا۔زندگی اور زندگی کی طلب نے جمود و تعطل کی اس فضا کو خیر باد کہا۔ابنِ آدم جنگل اور غار کے چُنگل سے نکل آیا۔کھُلے منظروں، مچلتی، گُنگناتی ندیوں اور تیز خرام دریاؤں سے اُس کا رشتہ اُستوار ہوا۔آب و دانے کی تلاش میں وہ دریاؤں کا ہم سفر ہوا۔سفر اُس کے لیے وسیلۂ ظفر بنا۔نت نئے منظر اُس سے ہم کلام ہونے لگے۔نادیدہ دُنیائیں اُس کے قدموں سے لپٹنے لگیں مگر وہ رُکا نہیں، وہ کہیں ٹھہرا نہیں کیوں کہ اُسے یہ بات معلوم تھی کہ:

نظر پر بار بن جاتے ہیں منظر
جہاں رہیو وہاں اکثر نہ رہیو
جون ایلیا

خلیفۃالارض کی ہدایت کے لیے خالقِ ارض و سما نے صحیفے بھیجے۔ان میں سفر اور سفر کے متعلقات کا درس شامل تھا – ان میں سفر کے فضائل اور مسافروں کے لیے کامیابیوں کی بشارتیں درج تھیں۔ہدایت کے ان صحیفوں نے انسان کے سفرِ زیست کو مستنیر کیا، زندگی کا گھیرا وسعت آشنا ہوا،قدموں کی رفتار بڑھنے لگی،سر میں رکھا ہوا سفر کا شوق ہزار چند ہوا،اسپِ عمر کامرانی کی منزلوں کی طرف سر پٹ بھاگنے لگا۔
ابنِ آدم کی فلاح و صلاح کے لیے انبیا علیھم السلام مبعوث کیے گئے۔یہ کمالِ بشریت کے اعلا ترین نمونے تھے۔ان سے زندگی کو درسِ زندگی ملا۔سفر اور آدابِ سفر کے عنوان چمکے۔ان کی تاب ناک زندگیاں سیر و سفر کے مثالی نمونوں سے معمور رہیں۔نوح علیہ السلام کی کشی سیلابِ عظیم کی بلا خیز موجوں سے نبر د آزما رہی۔یہ طویل اور تھکا دینے والا بحری سفر بالآخر کامرانی سے بغل گیر ہوا۔ شوقِ سفر نے طوفانِ بلا خیز کی سر پٹکتی موجوں کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔زمین اور آثارِ زمین از سرِ نو انسانوں کی قدم بوسی کے لیے آگے بڑھے۔زندگی نئی دھج سے طلوع ہوئی۔سفر کا ایک نیا باب وا ہوا۔ابراہیم علیہ السلام نے مکّہ کا طویل سفر کیا____ ہاجرہ اور ننھے اسماعیل کے ساتھ____ رضائے معبود کے لیے اس مختصر سے قافلے نے کیا کیا صعوبتیں جھیلیں۔سفر کی تمام صعوبتیں بے اجر نہیں رہیں۔اس سفرِ مقدس کی برکت سے خلیل اللہ کے قدم جس زمین پر پڑے وہ ہمیشہ کے لیے مرجعِ خلائق بن گئی۔اس سفرِ مبارک کے فیض سے ننھے اسماعیل نے جہاں ایڑیاں رگڑیں وہاں وہ چشمۂ رحمت پھوٹا جو تشنگانِ صداقت کو سیراب کرنے لگا۔یوسف علیہ السلام برادرانِ حسد شعار کے ظلم کا نشانہ بنے _____ منتخبِ خلائق تھے سو ویران کنوئیں سے باہر نکلے تو کارواں میں شامل تھے _____ غلام کی حیثیت سے۔سفر کی اذیتیں جھیلیں ، بازاروں میں بکے ،شوقِ زلیخائی کے دامِ خوش رنگ میں محبوس ہوئے ، زندان خانہ کے درو دیوار سے ہم کلام رہے ، بالآخر سفر وسیلۂ ظفر بنا۔ماہِ کنعان کی ضیا پاشیوں سے عالم بقعۂ نور بن گیا۔اسی طرح داود و سلیمان اور موسیٰ و عیسیٰ علیھم السلام کے متعدد اسفار تہذیبِ انسانی کا بیش قیمت اثاثہ ہیں۔راہ روانِ شوق نے ان اسفار سے کسبِ فیض کیا اور آدابِ سفر کے رموز و اسرار سے آگاہ ہوئے۔
نبوت و رسالت کے خاتم اور وجہِ وجودِ کائنات حضور نبیِ اکرم ﷺ کی حیاتِ نور سفر اور شوقِ سفر کی وجد آفریں مثالوں سے معمور ہے۔بعثت سے قبل تجارت غایتِ سفر رہی،عرب کا چاند جن راستوں سے گزرا اور جن دیار و امصار میں رُکا وہاں صدق کی روشنی پھیلی، راست گفتاری کے رنگ اُترے اور قرب و جوار کی فضا اعتماد اور اعتبار کی خوش بو سے مہکنے لگی۔بعثت کے بعد کے اسفار کا مقصد تبلیغِ حق اور فروغِ خیر رہا۔ رسولِ رحمتؐ نے سفر کی صعوبتیں اُٹھائیں اور شقاوت شعاروں کے مظالم جھیلے ، سفر وسیلۂ ظفر بنا____ قرنوں سے جہل کی تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی آبادیاں پیشانیِ خاور کو شرمانے لگیں ____ انا ولا غیری کے خمار میں مدہوش عجز اور انکسار کے سانچے میں ڈھل گئے۔رسولِ کائنات ؐ کا مکّہ سے مدینہ کا سفر اسلام اور فروغِ اسلام کے لیے بنیادی توانائی کی حیثیت رکھتا ہے۔فرزندانِ حق نے گھٹن اور بے بسی کی حریم کو ڈھایا اور نورِ حق کو آفاق گیر کر دیا۔رسولِ کائناتؐ کا سفرِ معراج تاریخِ انسانی کا سب سے عظیم سفر ہے ____ یہ سفر الاسفار ہے ____ عبد کا معبود سے وصل___ مخلوق کا خالق سے قرب___ و قاب قوسین اؤ ادنیٰ____ انسان کی عظمت و شوکت اور رفعت و سرفرازی کے اس سفر نے فرشتوں کو دم بہ خود، زمان و مکاں کو مبہوت اور عالمِ موجودات کو انگشت بہ دنداں کر دیا:
شبِ معراج کے احوال سُن کر
خرد کو چوکڑی بھولی ہوئی ہے
[نذر صابری] [۲]

مسافر کا ہر قدم نئے جہانوں کی خبر لاتا ہے۔اُس کی آنکھیں نئے منظروں سے ہم کلام ہوتی ہیں۔مختلف اقوام اور افراد کی زبانیں، رسم و رواج، عادات و مشاغل، طرزِ زیست اور طرزِ فکر کا عیب و ہُنر اُس پر منکشف ہوتا ہے ، راستوں کی دشواریاں، پردیس کی صعوبتیں، تنہائی کا آزار، زادِ سفر کا فکر اور سلسلۂ سفر کو منقطع کر دینے والے عوامل کا خوف اس پر طرح طرح کے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس کا سینہ یادوں کا گنجینہ بن جاتا ہے۔اس کا حافظہ تجربے کی رعنائی اور مشاہدے کی توانائی سے چمک چمک اُٹھتا ہے۔یہ کیوں کر ممکن ہے کہ وہ اس سب کُچھ کے باوجود منقار زیرِ پر رہے ____ مُہر بہ لب رہے۔ تالاب کا ٹھہرا ہوا پانی بھی پتھر مارنے سے جاگ جاگ اُٹھتا ہے۔یہ تو انسان ہے !! ولقد کرمنا بنی آدم کے منصبِ جلیلہ پر فائز___ نطق کی دولت سے سرفراز اور مکالمے کے ذوق و شوق سے معمور!!!سفر کے احوال اور مسافر کی سرگذشت کو قلم بند کرنے کی روایت زیادہ قدیم نہ سہی، اس کو بیان کرنے کا رواج تو پُرانا ہے۔ سفر کی تاریخ جتنی قدیم ہے اس کی روداد خوانی کی تاریخ بھی اتنی ہی قدیم ہے۔ بھرے ہوئے سینے کے مندرجات سے اِرد گرد کے رہنے والے اور قرب و جوار میں بسنے والے مستفید اور مستنیر ہوتے رہے ہیں۔یہی نہیں بل کہ احوالِ سفر کا یہ رنگ مسافر کی مابعد کی زندگی میں بھی پورے طور پر جاری و ساری رہا ہے۔ اس کے خیالات، نظریات، احساسات اور جذبات کی تشکیل اور پیش کش میں بھی سفر کے مشاہدات و تجربات کی دانش اپنی جھلک دکھاتی رہی ہے۔اس کے خوابوں، تمناؤں اور آرزوؤں میں بھی سفر کی روشنی شامل رہی ہے۔ وہ داستان تراشتا ہے تو اس میں اپنے سفر کے حاصلات کو شامل کر دیتا ہے ، وہ قصّہ بُنتا ہے تو اس کے تار و پود میں بھی اپنے احوالِ سفر کے طلسماتی اور کرشماتی عناصر بُن دیتا ہے ، وہ کہانیاں اور شعر تخلیق کرتا ہے تو ان میں بھی اپنے سفری تجربات و مشاہدات کا ذائقہ گوندھ دیتا ہے۔ سو، اپنے محبوب شوہر’’ تموز‘‘ کو رہائی دلوانے کے لیے ’’دیوی عشتار‘‘ کا بحرِ ظلمات کا سفر ہو یا ’’گل گامش‘‘ کی داستان کے اسفار___ کیقباد بادشاہ کو سفید دیو کی گرفت سے چھُڑانے کے لیے رُستم کا طویل اور لرزا دینے والا سفر ہو یا سند باد جہازی کے سات مہم جویانہ سفر___ باغ و بہار کے درویشوں کے سفر ہوں یا شہزادہ سیف الملوک کا سفر____ اُڑن کھٹولوں کا ذکر ہو یا بجروں اور بیڑوں کا، یہ سب کے سب انسانی ذوقِ سفر کے پرتو سے روشن نظر آتے ہیں۔
’’سفر نامہ‘‘ نسبتاً جدید اصطلاح ہے۔عربی میں ’’رحلۃ‘‘ اور انگریزی میں Travelogue کی اصطلاحات اسی کا مترادف و بدل ہیں۔ سفر نامہ نثری ادب کی ایسی صنف ہے جو سفر کے حالات و واقعات، مشاہداتی کوائف اور تجرباتی کیفیات کا اظہاریہ ہے۔ یہ وہ بیانیہ ہے جو مسافر کے ذوقِ سفر اور احوالِ سفر کا غماز ہے۔یہ وہ آئینہ ہے جس میں مسافر کے عرصۂ سفر کے روز و شب جگمگاتے ہیں۔سفر کے احوال اور مسافر کی سرگذشت کو قلم بند کرنے کا رواج زیادہ پُرانا نہیں۔ دُنیا کے قدیم سفرناموں میں یونانی سیاحوں ہیروڈوٹس اور میگاستھینز کے سفر نامے شامل ہیں۔ ہیروڈوٹس (۴۲۴ ق م) نے یونان، مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، ایتھنز اور جنوبی اٹلی کی سیر و سیاحت کی۔وہ جہاں جہاں گیا وہاں کے رسم و رواج، طرزِ بود و باش، طرزِ عبادت اور قدیم تاریخ کا مطالعہ اور مشاہدہ کرتا رہا۔اُس کی کتابوں میں اس کے سفر کے حاصلات تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔میگاستھینز(۳۰۳ ق م) کا سفر نامہ ہند کے سفر ناموں میں اولیت کا حامل ہے۔اس نے چندر گپت موریہ کے عہد کے حالات و واقعات کو اپنے سفر نامے میں تفصیل اور عمدگی کے ساتھ رقم کیا ہے۔ راجا بکرماجیت کے عہد میں چینی سیاح فاہیان اور مہاراجا ہرش کے دور میں ہیون سانگ نے ہندوستان کا سفر کیا۔ان دونوں سیاحوں نے بھی سفر نامے قلم بند کیے ہیں جن میں احوال و مشکلاتِ سفر کے ساتھ ساتھ ہندوستانی تہذیب کے خال و خط اور تمدنی نقوش کی جھلکیاں موجود ہیں۔غیر مسلم سفر نامہ نگاروں میں مارکو پولو، واسکوڈے گاما، سر طامس رو، ہاکنس، برنیئر، مینوچی اور کولمبس کے سفر نامے بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ان سفر ناموں میں تاریخ اور جغرافیے کا جو لوازمہ موجود ہے وہ قدرو قیمت اور افادیت میں اپنی مثال آپ ہے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ مسلمانوں نے سفر اور ذوقِ سفر کو اوجِ کمال تک پہنچایا ہے۔انھوں نے سیر و سفر کے رجحان کو تحریک کی صورت بخشی ہے۔مسلم تہذیب چوں کہ آفاقیت اور تحرک کی سرشاری سے معمور ہے اس لیے مسلمانوں کا قدم ہمیشہ سفر میں رہا۔ قرآنِ حکیم کا حکم :
قل سیروا فی الارض فا انظر وکیف کان عاقبۃ المکذبین
مسلمانوں کے ذوقِ سفر کو مہمیز کرتا رہا اور رسولِ رحمت ﷺ کی یہ حدیث:
اُطْلُبُو الْعِلْمَ وَ لَوکَانَ بِالصِّیْنَ
ان کے شوقِ علم کو بڑھاتی اور اُنھیں آمادۂ سفر کرتی رہی، یوں پوری دُنیا گویا ان کے قدموں سے بندھی رہی۔ایشیا، یورپ اور افریقہ کی زمینیں، دریا، پہاڑ، وادیاں، سمندر اور صحرا ان کے خرام سے بیدار ہوئے۔سفر اور متعلقاتِ سفر پر جتنا لٹریچر مسلمانوں کے قلم سے نکلا دُنیا کی کسی اور قوم میں اس کا عشرِ عشیر بھی نہیں ملتا۔دُنیا کی دوسری تہذیبوں اور مذہبوں سے تعلق رکھنے والے بڑے سیاحوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے مگر مسلمان سیاحوں کی تعداد شمار کی حدوں سے بھی متجاوز ہے۔مسلمان حصولِ علم، دعوتِ حق، تبلیغِ خیر، سیاست، تجارت اور حرب و ضرب کے مقاصد کی تکمیل کے لیے ہمیشہ پا بہ رکاب رہے ہیں یہی وجہ ہے البیرونی، المسعودی، ابنِ بطوطہ، ابنِ حوقل بغدادی، ابنِ جبیر اندلسی، ابو حامد المازنی، یاقوت ابنِ عبداللہ، اصطخری فارسی، علامہ مقدسی، حکیم ناصر خسرو اصفہانی، شیخ سعدی شیرازی جیسے عالمی شہرت کے حامل سیاحوں نے اپنے سفر کے مشاہدات اور تجربات کو جس عمدگی کے ساتھ سپردِ قلم کیا ہے اس سے دانشِ انسانی کی ثروت و تنومندی میں اضافہ ہوا ہے۔
مسلم صوفیہ سفر بر تن کی منزلوں سے آگے نکل کر سفر بر دل کی مسافتوں پر خرام آمادہ ہوئے۔ سیرِ علوی اور سفرِ عروجی کے مٹے مٹے نقوش اور مدھم مدھم آثار قدیم مذاہب اور اقوام کے ہاں بھی ملتے ہیں مگر مسلم عرفا اور صوفیہ نے تواتر اور تسلسل کے ساتھ سیرِ باطن کے تمام زاویوں کو روشن کر کے سیرِ علوی کے دائرے کو وسعت آشنا کر دیا۔

[۳]

اُردو میں سفر نامہ نگاری کی روایت ڈیڑھ صدیوں سے زیادہ کا سفر طے کر چکی ہے۔مسافروں اور سیاحوں نے دُنیا کے مختلف ملکوں، جزیروں، بستیوں، شہروں اور علاقوں کو جس زاویۂ نگاہ سے دیکھا، اُس کا احوال صفحۂ قرطاس پر سجا دیا، سفر کے دوران میں وہ جن کیفیات اور احساسات سے لذت گیر ہوئے اس کی سرشاری کو حروف کے سانچے اور الفاظ کے پیکر میں ڈھال دیا۔یوں اس ڈیڑھ سو سال کے عرصے میں ڈیڑھ ہزار سے زائد سفر نامے لکھے گئے۔’’ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است‘‘ کے مصداق ہر سفر نامہ اپنا الگ ذائقہ رکھتا ہے۔ان سفر ناموں کے مندرجات نے پڑھنے والوں کو مختلف معاشروں، تہذیبوں، قوموں اور ملکوں کے طرزِ حیات، اندازِ فکر اور نقش و نگار سے آشنا کیا۔ قدیم اور وسطی عہد کے سفر ناموں میں تاریخ اور جغرافیے کا رنگ چوکھا ہے ، قارئین ان سفر ناموں کے توسّط سے مختلف علاقوں اور ملکوں کے تاریخی آثار، تمدنی تاریخ، جغرافیائی حالات اور معاشرت کے اسالیب سے آگاہ ہوئے۔اس آگاہی کے باعث تعصب اور غیریت کے بادل چھٹے ، اخذ و استفادہ کے دروازے کھُلے ، دل و نگاہ ہمہ گیریت کے رنگ سے گل رنگ ہوئے۔
یوسف خان کمبل پوش کا سفر نامہ عجائباتِ فرنگ اُردو کا پہلا سفر نامہ ہے۔یہ سفر نامہ اپنے مندرجات کی دل کشی اور اسلوب کی رعنائی کے باعث سفر نامہ نگاری کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ڈاکٹر تحسین فراقی اس سفر نامے اور اس کے مصنّف کے حوالے سے رقم طراز ہیں :
’’ کمبل پوش کی ’تاریخِ یوسفی‘ یا’ عجائباتِ فرنگ‘ اُردو کا پہلا سفر نامہ ہی نہیں، سفرنامے کا اہم ترین سنگِ میل بھی ہے۔ایک سیّاح میں جو خصائص ہونے چاہئیں کمبل پوش اُن کا جامع تھا۔عجائب و غرائب کو دیکھنے کی سچی تڑپ، تجسّس، تفحص، بے باکی، صاف گوئی، صداقت نگاری اور سلاستِ اظہار وہ خصائص ہیں جن میں بہت کم سفر نامہ نگار کمبل پوش کے حریف ہیں۔‘‘
[عجائباتِ فرنگ مرتبہ ڈاکٹر تحسین فراقی، ص ۴۷] عہدِ جدید کے اُردو سفر نامے اپنی تکنیکی و ہیئتی دل کشی اور اسلوب نگارش کی جاذبیت کے باعث ادب کا حصّہ قرار پائے۔سفر نامہ نگاری کو باقاعدہ ادبی صنف کا مقام و مرتبہ عطا ہوا۔اس صنف کے آداب و قواعد متعین ہوئے ، اربابِ تحقیق و تنقید نے اس صنف کو اپنی توجہات کا مرکز بنایا۔بلا شبہ دورِ جدید کا سفر نامہ اپنے اوصاف اور معیارات کے لحاظ مرکزِ نگاہ اور دامن کشِ دل ہے۔جدید سفر نامہ نگاری کی ثروت اور تنومندی میں اضافہ کرنے والوں میں بیگم اختر ریاض الدین، ابنِ انشا، اے حمید، جمیل الدین عالیؔ، مستنصر حسین تارڑ، حکیم محمد سعید، قمر علی عباسی، عطا الحق قاسمی، بلقیس ریاض، رفیق ڈوگر، محمد تقی عثمانی، علی سفیان آفاقی اور رضا علی عابدی کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔

[۴]

فرصتِ نگاہ انگلستان کا تازہ ترین سفرنامہ ہے۔ مصنّف کا تعلق ضلع اٹک کے ایک زرخیز اور مردم خیز علاقے ’’چھچھ‘‘ سے ہے۔ دریائے سندھ کے قُرب نے یہاں کی زمینوں کو ہریالی اور شادابی عطا کی ہے اور یہاں کے باشندوں کو دریا دلی۔ مصنّف پیشے کے لحاظ سے معلم ہے اور طبع کے لحاظ سے سیلانی۔پاکستان کے خوش رنگ علاقوں کے نشیب و فراز اور حُسن و جمال سے اُس کی آنکھ کئی بار لذت گیر ہوئی ، اُس نے وجدانی حُسن میں ڈوبے ہوئے مناظر کو بار بار دیکھا ہے مگر اس کی نگاہ کی تشنگی مٹی نہیں ، اُس کا ذوقِ سفر کم نہ ہوا، اُس کے قدم کہیں رُکے نہیں۔ دُور دراز کے منظر اُس سے سرگوشیاں کرتے رہے ، نادیدہ دُنیائیں اُسے بُلاتی رہیں ،سو، اس نے کمرِ ہمت باندھی، شوقِ سفر کا اثاثہ لیے وہ گھر سے نکل کھڑا ہوا۔
فرصتِ نگاہ کے اسلوب کی سحر کاری میں متصوفانہ رنگ کا عمل دخل صاف اپنی جھلک دکھا جاتا ہے۔یہ عجب طرز کی پُراسراریت اور انوکھی سی ایمائیت جو کتاب کے ورق ورق پر دھمال ڈال رہی ہے، اسی متصوفانہ رنگ کا نتیجہ ہے۔ مسافر صوفی نہیں، صاحبِ مکاشفہ نہیں، اہلِ حال میں سے نہیں ___ مگر اُس نیم خوابیدہ اور نیم روشن حُجرے کی پُر اسراریت اس کی شخصیت میں رچی بسی ہے جہاں لوگوں کے جھرمٹ میں بیٹھا بابا فضلو دوسری عالم گیر جنگ کے دنوں کا ذکر کرتا تھا۔دیس بہ دیس کی کہانیاں، سمندری سفر کے قصّے، اپنے بہادری اور جواں مردی کے جھوٹے سچے واقعات اور اپنے سیر و سفر کے دل کش احوال بیان کرتا تھا____ کوئی انہماک سے سُنتا تھا ___ کوئی ان سُنی کر دیتا تھا___کوئی اس کے طرزِ بیان سے مرعوب ہو کر ان واقعات کی صحت پر آمنا و صدقنا کہہ اُٹھتا اور کوئی اس سب کُچھ کو فسانۂ تراشیدہ کہہ کر نظر انداز کر دیتا۔ مسافر نے اپنی کم سنی میں سیر و سفر کی ان حکایتوں کو سُنا تھا___سچ جانا تھا اور اسی سحر میں بچپن اور لڑکپن کی سرحدوں کو پھلانگتا ہوا جوانی کی دہلیز پر آ کھڑا ہوا تھا۔دور دیس کے دل کش اور نظر کشا مناظر اُسے اپنی طرف بُلا رہے تھے ، اس کے سر میں رکھا سفر کا شوق انگڑائی لے کر بیدار ہو گیا تھا اور پھر ____ وہ سفر پر نکل کھڑا ہوا___کلام کرتے ہوئے مناظر سے دوستی کی آرزو اُسے وفورِ شوق میں جا بہ جا اُڑاتی رہی۔حیران کر دینے والے مناظر اور دامنِ دل کو چھو لینے والے دیار اس نے دیکھ ڈالے ___ مسافر نے اُن مناظر کو دیکھا جن کو دوبارہ دیکھنے کی خواہش سینۂ شوق میں بار بار اُبھرتی ہے۔ مسافر خوش قدم ہے کہ اُسے دوبارہ ان منظروں سے ہم کلام ہونے اور ان کی کیف ناکی سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا۔فرصتِ نگاہ اسی مشاہدۂ دگر کا اظہاریہ ہے۔
فرصتِ نگاہ عجیب طرز اور انوکھی وضع کا سفر نامہ ہے ، عام سفر ناموں سے سراسر مختلف۔اس کے مندرجات میں داستانوں کا تحیّر، افسانوں کا رنگ، شعر کی غنائیت، نغمے کی سرشاری، تصوف کی چاشنی، سائنس کی کرشمہ کاری، فلسفے اور حکمت کا ذائقہ، تاریخ و جغرافیے کا رس، جذبے کی وارفتگی اور خوابوں کا سحر یوں گھُل مِل گیا ہے کہ ان کی الگ الگ شناخت ممکن نہیں رہی۔ایک ایسا وجود متشکل ہوا ہے جسے کوئی عنوان نہیں دیا جا سکتا۔مسافر نے اسے روز و شب کا اشاریہ اور حالات و واقعات کی کھتونی نہیں بنایا بل کہ کیفیات اور واردات کا نقشِ لازوال بنا دیا ہے۔ اس کی نگاہ منظر کے ظاہری رُخ کو ہی نہیں دیکھتی بل کہ اس کے باطن اور پس منظر میں جھانکنے کی سعی کرتی ہے۔اُس کی نگاہِ تیز بیں نے دلِ وجود کو چیر کر اُسے بے حجاب کر دیا ہے۔ مسافر نے اپنے تجربات اور مشاہداتِ سفر کو الگ الگ مضامین کی صورت میں پیش کیا ہے، یہ مضامین انفرادی شکل و صورت کے حامل ہیں مگر زنجیر کے حلقوں کی طرح ایک دوسرے میں پیوست ہیں۔ قصّہ در قصّہ کا حُسن اور سفر در سفر کا طلسم از اوّل تا آخر موجود ہے۔
فرصتِ نگاہ کا اسلوب شاعرانہ ہے بل کہ ساحرانہ___ لفظ لفظ نغمہ و آہنگ کے وجدانی کیف میں ڈوبا ہوا____ سطر سطر بادِ صبا کی طرح خوش رفتار۔کہیں رُکاوٹ نہیں ،کہیں گرانی نہیں۔متن کی سحر انگیزی قاری کی نظروں کو اِدھر اُدھر نہیں ہونے دیتی____ اپنے دام کا اسیر رکھتی ہے۔تراکیب اکثر و بیش تر خوب صورت اور عمدہ ہیں ___ حُسنِ صنعت کا نمونہ___ بے ساختگی کے جوہر سے متصف۔جملوں میں یوں جڑی ہوئی ہیں کہ مرصع کار دم بہ خود ہو جائے۔سفر نامے میں جملوں کی یہ کاری گری اور ہنر کاری چونکاتی نہیں بل کہ اندر اُتر جاتی ہے ___ بے ساختگی کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔کہیں کہیں وفورِ علم نے مخمل میں ٹاٹ کے پیوند بھی لگائے ہیں۔جن کی ثقالت ایک لمحے کے لیے چتون پر بَل ڈالتی ہے مگر واقعے کی بھید بھری لطافت اور اسلوب کی سحر کاری اس ناگواریت کے اثر کو زائل کر دیتی ہے ، قاری مسافر کے ہم رکاب ہو جاتا ہے ____ بھید بھرے سفر کے نشانات جاگ جاگ اُٹھتے ہیں ____ وجدانی کیف میں ڈوبے ہوئے مناظر دل و نگاہ کو سرشار کر دیتے ہیں ___ حرف کی تقدیر جاگ اُٹھتی ہے ___ لفظ لو دینے لگتے ہیں ___مسافر کامران ہو جاتا ہے ____ سفر وسیلۂ ظفر بن جاتا ہے۔
سیاحت کے ذوق سے معمور اور فرصتِ نگاہ کا طالب مسافر انگلستان کے جن دیار و امصار میں ٹھہرا اور جن گلی کوچوں سے گزرا وہاں کے نادر و کم یاب نقش و نگار، جاذبِ نظر عمارات، ایمان شکن مناظر اور دل چسپ حالات کو اس نے بہ نظرِ عمیق دیکھا۔ اُس کا مشاہدہ بے مثال اور اُس کا حافظہ لاجواب ہے، اُس کی نگاہ نے بعض ایسے منظر بھی مشاہدہ کیے ہیں جو عام سیّاحوں کی نگاہوں سے اوجھل رہتے ہیں۔وہ وہاں اشفاق احمد کی طرح ’’بابوں ‘‘ کی تلاش میں سرگرم رہا۔اُن کی خانقاہوں کو دیکھتا اور اُن کے نیازمند زائرین سے مکالمہ کرتا رہا۔اس نے اپنی مختلف کیفیات اور احساسات کا بے باکانہ اور بے ساختہ اظہار کر دیا ہے۔اُس نے تارکینِ وطن کے مسائل و مشکلات کو بھی محسوس کیا ہے اور دیارِ غیر میں اُن کی ہیرا پھیریوں کو بھی۔اُس نے وہاں نے بازاروں، مارکیٹوں، جوا خانوں، کلبوں، عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں، سیر گاہوں اور عجائب گھروں کو ایک سچے سیّاح کی نظر سے دیکھا ہے اور سفر نامے میں ان کے حوالے سے معلومات ہی جمع نہیں کیں بل کہ اُن احساسات کو بھی پیش کر دیا ہے جو مشاہدے کے دوران میں اس کے باطن میں مچلتے رہے ہیں۔
فرصتِ نگاہ اُردو سفر نامہ نگاری کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا منفرد سفر نامہ ہے۔ یہ محض سفر کی کتھا نہیں بل کہ احساسات و واردات کا ایک دل پذیر مرقع ہے۔ ورق ورق دل کش____ سطر سطر جاذبِ توجّہ___ مشاہدے کی صفائی کا سچا اظہاریہ____ تجربے کی رعنائی کا جگمگاتا ہوا آئینہ۔اس کے مندرجات کا جادو پڑھنے والوں کو اپنا بنا لیتا ہے۔اسے پڑھ کر دیکھیے میرے بیان کی صداقت آپ پر پوری طرح آشکار ہو جائے گی۔

آج محمد رفیع مر گیا ہے

ہر کاوش کا ایک مقصد ہوتا ہے اور سفر بھی ایک کاوش ہے۔ جو کثیر المقاصد ہے۔ مگر بڑے مقصد تو دو ہی ہیں حصولِ رزق یا تسکینِ ذوق: پیٹ کے پُجاری حصول رزق کی خاطِر دَر دَر کی ٹھوکریں سہتے ہیں اور کربِ روح کے اسیر تلاش حق کے لیے دَر بدری اوڑھتے ہیں۔ تلاشِ حق جس کا پہلا زینہ تلاشِ حسن ہے۔ حُسن جو اکائی میں مستور مگر علامتوں میں ظاہر ہے۔ علامتیں جو بدلتی رہتی ہیں۔ مگر حُسن کو ابدیّت ہے۔ چہرے مرجھا جاتے ہیں۔ مناظِر دھندلا جاتے ہیں مگر حُسن قائم رہتا ہے۔ یہ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے۔ ازل سے انسان کے لیے پُر کشش ہے اور ابد تک رہے گا۔ حُسن جو حضر ہی میں نہیں سفر میں بھی ہے۔ جو رُخ تابندہ ہی میں نہیں زلفِ گرہ گیر کی سیاہی میں بھی ہے۔ حُسن جو حرف و صَوت میں ہے نغمہ و آہنگ میں ہے۔ اور معجزہ فن میں ہے۔ اور اِنسان اُس کی تلاش میں ہے۔ پھر وہ جن کے من میں سچائیاں ہوتی ہیں۔ جن کے جذبے پوتر ہوتے ہیں اور جو تلاش حُسن میں کامیاب ٹھہرتے ہیں تو پھر وہ اپنے اپنے انداز میں بارگاہِ حُسن میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ کسی کو انسانی چہرے کے خال و خط نے مُسحور کیا تو تاج محل تعمیر ہوئے۔ کچے گھڑوں نے منہ زور طغیانیوں کو شکست دی، تیشہ و سنگ کے استعارے تخلیق ہوئے۔بارگاہِ حُسن میں خراج تحسین پیش کرنے کی خاطِر اُس سلطنت عظمیٰ کے تخت و تاج کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیا گیا۔ جس کی وسعتیں غروبِ آفتاب سے نا آشنا تھیں اور حضرت انسان شوق تمنا میں اتنا فیاض ٹھہرا کہ فقط خالِ رخ کے عوض سمر و قند و بخارا بخشنے پر آمادہ ہوا۔ انسان کو نظریات کے حسن نے متاثر کیا تو تحریکوں نے جنم لیا۔ رہِ وفا کی آبیاری لَہُو کی ندیوں سے کی گئی تو میدانِ کرب و بلا وجود میں آئے۔
اتحاد ایئر ویز کا طیّارہ بیالیس ہزار فُٹ کی بلندی پر اڑتا تھا۔ نیچے ا تھاہ تاریکی تھی اور جب باہرکی تاریکی بڑھ جاتی ہے تو اہلِ نظر کی اندر کی دنیا میں چراغ جَل اٹھتے ہیں۔ جب آنکھ باہر کی مصنوعی روشنیوں سے نفرت کرنے لگتی ہے۔ جب باہر کے مناظر چشم بینا پہ بار بن جاتے ہیں تو انسان مَن کی جوت جگانے تنہائیوں اور تاریکیوں میں پناہ لیتا ہے۔ کبھی نروان کی تلاش میں گپھاؤں کا سہارا لیتا ہے۔ کبھی تاریک جنگلوں میں کُٹیاؤں میں محبوس ہوتا ہے۔ مگر وہ جو بارگاہِ حسن میں قبولیت پاتے ہیں۔ ان کا سفر نشیب میں نہیں فراز کی طرف ہوتا ہے۔ کبھی سَرِ نیزہ پہ بریدہ سَر کلمۂ حق کہتا سنائی دیتا ہے۔ کبھی طور کی بلندیوں پر روشنی کھینچتی ہے۔ اور کبھی حرا کی تاریکیاں انسانی تاریخ رقم کرتی نظر آتی ہیں۔ اور پھر ان تاریکیوں سے جنم لینے والی روشنی سِدرۃُ المنتہیٰ کو چھوتی ہے تو تکمیلِ انسانیت کا مرحلۂ آخریں طے پاتا ہے۔
جہاز کی اندرونی روشنیاں بُجھ چکی تھیں۔ اور مسافر کی چشمِ تصور میں یادوں کے چراغ روشن ہو گئے تھے۔ ستائیس برس پہلے ایئر فرانس کا بہت بڑا جہاز کراچی ایئر پورٹ سے پرواز کرنے والا تھا، پاکستانی ایئر ہوسٹس چہرے پر پیشہ ورانہ مسکراہٹ سجائے جہاز کے اندر داخل ہونے والے مسافروں کو خوش آمدید کہتی اور بورڈنگ کارڈ لے کر اُنھیں فرانسیسی ایئر ہوسٹس کے حوالے کر دیتی۔ جس کا کام مسافروں کو اپنی نشستیں دکھانا تھا۔
مسافر ہنستی مسکراتی پاکستانی ائیر ہوسٹس کی جنبش لَب کے نظارے میں یوں
کھو جاتا ہے کہ بے ساختہ ایک بے معنی سا سوال کر بیٹھتا ہے۔’’ اور سنائیں کوئی نئی تازہ؟‘‘ ایئر ہوسٹس کی مسکراتی نگاہیں یک دم رنجیدہ ہو جاتی ہیں ’’آج محمد رفیع مَر گیا ہے ‘‘ دیر ہوئی جہاز زمین کو چھوڑ چکا تھا۔ سیٹ بیلٹس کب کی کھُل چکی تھیں۔ اشیائے خوردو نوش کی ٹرالیاں متحرک تھیں۔ لوگ ناؤ نوش میں مشغول تھے۔ مگر مسافر محمد رفیع کے طلسم میں کھویا ہوا تھا۔ محمد رفیع جو دونوں جہانوں کا امیر ترین آدمی تھا۔ آج اس فرصت یک دو نفس کے جہان سے جا چکا تھا۔ وہ عظیم انسان جس کی متاع اس دنیا میں درد میں ڈوبے گیت اور غم کا سسکتا ساز تھا جسے لٹانے میں اس نے کبھی بخل نہ کیا تھا۔ اور اس سے بڑھ کر اس جہانِ فانی میں کون سی دولت ہو سکتی ہے۔ اور اگلی دنیا میں اس کی متاع اسمِ محمد ؐ سے والہانہ لگاؤ تھا۔ ایک ایسی لافانی متاع جو چھن نہیں سکتی۔ جو جُبَّہ و دستار کی مکلّف نہیں۔ جو قبر میں ساتھ ہی نہیں نبھاتی نشان منزل بھی دکھاتی ہے۔
ہندوستان کے ایک اہم سیاسی رہ نما صدرِ محفل تھے، سر بہ زانو سُنتے تھے اور محمد رفیع کی آواز جادو جگاتی تھی۔ ’’اؤ دنیا کے رکھوالے ____ سُن درد بھرے میرے نالے ‘‘ اور پھر وہی لمحۂ قبولیت تھا۔ دُنیا کے رکھوالے نے اس کی سن لی۔ گیت ختم ہوتا ہے۔ صاحبِ صدر سر اٹھاتے ہیں با چشمِ نم رفیع کو بلاتے ہیں، سر پر ہاتھ رکھتے ہیں۔اشیر باد دیتے ہیں اور کہتے ہیں : ’’بیٹا! مانگو کیا چاہتے ہو۔ آج جو کہو گے، پاؤ گے ‘‘ رفیع زرد جواہر مانگتا تو اس کے لیے ہندوستان کے خزانوں کے منہ کھل جاتے۔ منصبِ حکومت مانگتا تو تا حیات کُرسی نشین ہوتا۔ مگر وہ قبول ہو چکا تھا، کہنے لگا ’’صاحب! صرف ایک درخواست ہے۔ حکومتِ ہند کو ہدایت فرمائیں کے مجھے ’’رفیع‘‘ نہیں ’’محمد رفیع‘‘ لکھا اور بولا جائے۔‘‘
صاحبِ صدر کی نم آلود آنکھیں ضبط کے سبھی بند توڑ دیتی ہیں۔ آنسوؤں کا سیلاب رواں ہو جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے ’’ بے شک میرے پُر کھوں کے لکھے پَرّانوں میں سچ کہا گیا تھا کہ وُہ مکّہ کی بستی میں اُترے گا۔ اہلِ بستی اسے جنم بھومی سے نکالیں گے۔ اور پھر وہ جو ایک بستی سے نکالا جائے گا۔ تمام جہانوں کے لیے تمام بستیوں کے لیے رحمت بن جائے گا۔ اور میرے پُرکھوں کے پرّان مسیح کی آمد سے پہلے لکھے گئے تھے۔ جاؤ بیٹا آج سے تم محمد رفیع ہو آج ایک بچہ جیت گیا ہے۔مگر یاد رکھنا جب تک تم اس نسبت سے یاد رکھے جاؤ گے۔ شاید کوئی انصاف پسند لکھاری اس عاصی کا نام بھی اس نسبت سے لیتا رہے گا۔ اُس آدمی کا نام جو گیتا کے ساتھ ساتھ انجیل مقدّس اور قرآن حکیم کا بھی درس دیتا ہے۔یوں دونوں کے درمیان ایک نسبت قائم ہوتی تھی۔ اور دونوں روتے تھے۔ یہ نسبتیں بھی عجیب ہوتی ہیں۔ مَن کی سچائیوں کو آشکار کر دیتی ہیں۔ صلیب و دار کی ہیبت نا کیوں میں وہ حسن پیدا کر دیتی ہیں کہ جھُولتی گردنیں اور کٹے سر قابلِ رشک ٹھہرتے ہیں۔ قومی لیڈر کی جنبشِ لب ہندوستان کا قانون بن جاتی ہے اور رفیع، محمد رفیع بن جاتا ہے۔ وُہ قبول ہو جاتا ہے۔ اور مقبول بھی۔ قبولیت جو ایک اعزاز ہے۔ قبولیت جس کے لیے ایک لمحہ مخصوص ہو تا ہے۔ جہاں پائے استقلال میں لغزش گوارا نہیں کی جاتی۔ قدم ذرا ڈگمگائے اور راہ گم کر بیٹھے :
یک لحظہ غافل می بُدن صد سالہ منزل دُور شُد
سوار مہمیز کرتا تھا مگر ہمیشہ کا فر ماں بردار گھوڑا جنبش سے قاصر تھا۔ حیرت زدہ سوار کی نگاہ اچانک پیچھے پلٹتی ہے۔ معصوم بچی گھوڑے کی پچھلی ٹانگوں کو ننھے منے ہاتھوں میں جکڑے گریہ کرتی ہے۔ ’’مت لے جاؤ میرے بابا کو اُس خوں چشیدہ میدانِ اَجل میں۔ جہاں سے کوئی واپس نہیں آیا۔ جس کے سامنے سال و سِن کی کوئی اہمیت نہیں جسے فقط لَہُو کی پیاس ہے۔ مَت لے جاؤ۔‘‘ لمحۂ قبولیت آ چکا تھا۔ سوارِ رعنا اسپ فرماں بردار کی معذوری پر احتجاج نہیں کرتا۔ ضبط کا بندھن ٹوٹنے نہیں دیتا۔ اُس کا عزمِ آ ہنی دو چند ہو جاتا ہے۔ معصوم بچی کی گریہ و زاری اس کے پائے استقلال میں لغزش پیدا نہیں کر پاتی کہ لمحۂ قبولیت آ چکا ہے۔ وہ سَر اُوپر اٹھاتا ہے۔ کہتا ہے ’’مالک! صَد شکر کہ تو نے میرے گریۂ شب کو قبول کیا۔ میں نے یہی تو چاہا تھا کہ جب تیرے حبیبؐ کے چمن کو لَہُو کی ضرورت پڑے تو میں پکارا جاؤں اور جب پکارا جاؤں تو میری متاعِ عزیز میری معصوم بچی کی چیخیں بھی میری زنجیر پانہ بن پائیں اور میں جاؤں۔ اے مالک کائنات تو نے مجھے اعزاز بخشا۔ ایک ایسا اعزاز کہ جو تا ابد میرے لیے ہے۔ اب گواہ رہیو کہ میری دعاؤں کی معراج کا لمحہ آ چکا ہے۔ تو میں جاتا ہوں۔‘‘ وہ سوار چلا جاتا ہے اور قبول ہو جاتا ہے۔
وہ جو گڈریئے کا لباس پہنے بھیڑوں کے لیے سر سبز چراگاہوں کی تلاش میں نکلتا ہے۔ شب کی تاریکی میں آگ کی طلب ہوتی ہے۔ اوپر پہاڑوں پر روشنی دیکھتا ہے حَرمِ محترم کو بھیڑوں کی رکھوالی سَونپ روشنی کی طرف لپکتا ہے۔ اور قبول ہو جاتا ہے۔ وہ میلوں ٹھیلوں سے نفور، بُت گروں کے چلن سے گریزاں اُس فن کار کی تلاش میں ہے۔ جس نے خود اسے مجسّم کیا ہے۔ اہلِ بستی میلہ میں مشغول ہیں۔ وہ سوچتا ہے۔ ان کے خدا تو اکیلے رہ گئے ذرا دیکھوں تو یہ جو دوسروں کے محافظ ہیں۔ خود اپنی حفاظت کس انداز سے کرتے ہیں۔ ایک لمحہ نہیں گزرتا کہ ماہرینِ فن کے شاہ کار ریزہ ریزہ ہو چکے ہیں۔ وہ نظر اوپر اٹھاتا ہے۔ اور قبول ہو جاتا ہے۔ قبولیت کے مختلف درجات ہوتے ہیں۔ ایک لمحہ پہلے کا گڈریا ایک جلیل القدر پیغمبر بن جاتا ہے۔بُت گر کے گھر میں جنم لینے والا آبا الانبیا کے درجے پر فائز ہو جاتا ہے۔ اور حرا کی تاریکیوں میں لمحۂ قبولیت آتا ہے۔ تو امام الانبیا اور ختم المر سلین کا اعزاز بخشا جاتا ہے۔ آج بھی ایک لمحۂ قبولیت ہے اور ایک گانے والا غلامانِ مصطفیٰ ؐ کی صف میں مقام پا گیا۔ نہ وارثِ محراب و منبر، نہ مالکِ جُبّہ و دستار۔
وہ بھی تو ایک لمحۂ قبولیت تھا۔ جب آغا نوشاد علی شیو کراتے تھے اور ایک نوجوان لڑکا خود کلامی کے انداز میں گنگنا تا تھا۔ گنگناہٹ سُن کر بَر صغیر کے نامور موسیقار چونک جاتے ہیں۔ متجسس آنکھ کو جوہرِ کامل کی تلاش تھی۔ پھر چند ہی روز بعد بمبئی کی سٹوڈیوز میں ہوا کے دوش پر محمد رفیع کی آواز گونجنے لگتی ہے۔ دنیائے گلو کاری کی ایسی آواز جس کے سامنے سب آوازیں ماند پڑ جاتی ہیں۔ وہ ایک کر دار تھا میرے بھائی سکندر بتاتے تھے کہ قیامِ انگلستان میں اُنھوں نے ایک ایسی رات دیکھی تھی۔ جب ساتھ والے کمرے میں سجدہ ریز محمد رفیع بچوں کی طرح روتا تھا اور جاگتے رب سے کچھ نہ مانگتا تھا اور کہتا تھا ’’اے مالک بے شک مجھ سے میرا فن چھین لے، بے شک میری آواز واپس لے لینا۔ مجھے کچھ نہیں چاہیے مگر اسمِ محمدﷺ میرے پاس رہنے دیجیو۔ یہی میرا سب سے بڑا سرمایہ ہے ‘‘ اور آج محمد رفیع مر گیا ہے۔ سفر تمام ہوتا ہے مسافر پیرس ایئر پورٹ پر اترتا ہے۔ یہ ستائیس برس پہلے کا سفر ہے، اور آج اتحاد ایئر ویز کا طیّارہ براستہ ابو ظہبی مانچسٹر کے لیے رواں دواں ہے۔

ہوا کے دوش پر

’’مینو پلیز‘‘ ایئر ہوسٹس کی آواز نے مسافر کو چونکا دیا۔ ساتھ والی سیٹ پر ایک بزرگ صورت باریش مردِ توانا تشریف رکھتے ہیں۔ گول مٹول نورانی چہرہ، جسمانی پھیلاؤ نا قابلِ یقین، توند مبارک جسم سے اِ س حد تک باہر نکلی ہوئی کہ آخری سِرے کو دستِ خویش سے چھونا امر محال، شانوں پر رکھا سر اقدس گردن کے تکلف سے بے نیاز، کَلے میں دبے پان نے لبِ لعلیں کی سُرخی دو چند کر رکھی ہے۔ عمر گزشتہ پینتالیس برسوں پر محیط مگر کثرت زہد و تقویٰ اور بارِ علم نے حسنِ کلام میں وہ بزرگی پیدا کر رکھی ہے کہ مسافر کو عزیزم اور برخوردار جیسے خطابات سے نوازتے ہیں حالانکہ مسافر کے گزرے سال و سِن ان سے دس بارہ زیادہ نکلتے ہیں۔ قربان جاؤں جناب کے حسنِ کلام کے کہ اُن کا عزیزم کہنا سماعتوں میں شیرینیاں گھول دیتا ہے۔ ایک عجیب طمانیّت کا احساس ہوتا ہے۔ ماضی کے کئی رنگین دریچے کھلتے نظر آتے ہیں۔ دل بے ساختہ پکار اُٹھتا ہے :
ع ابھی تو میں جوان ہوں
موصوف گجرات کے کسی دیہاتی مدرسے سے فارغ تھے۔ اب اپنا مدرسہ چلاتے تھے۔ اور خطیب مسجد کی دُہری ذمہ داری قبول کر رکھی تھی۔ آغاز کلام تو مینو کے لوازمات پر ہوا۔ اور جب مسافر نے انگریزی میں چھپے مینو کا ترجمہ پڑھ کر سُنانا شروع کیا تو ماکولات کی ایک ایک جنس پر حضرت نے جس انداز میں بات کی اور جو جو طبّی خواص بتائے مُسافر سن کر ان کے ذوقِ کام و دہن پر اَش اَش کر اُٹھا۔ مگر بات جب مشروبات تک پہنچی اور مسافر نے بار کے عنوان سنانا چا ہے تو موصوف نے لا حول پڑھ کر آگے چلنے کا حکم صادر فرمایا۔ یہاں مسافر موصوف کے زہد و تقویٰ کا بھی تہِ دل سے قائل ہوا۔ مسافر کی خواہش تو تھی کہ جو دو اڑھائی گھڑیوں کا سفر ہے۔ اُس میں آنکھ جھپک لے یا مَن کی دنیا میں جھانک کر گزری یادوں کی جوت جگا لے۔ مگر موصوف نے اظہارِ علم کی خاطر زورِ خطابت کے وہ جوہر دکھائے کہ مسافر کو اپنی علمی کم مائیگی کا شدّت سے احساس ہونے لگا۔ حضرت فرماتے تھے کہ ’’وہ گذشتہ چند برسوں میں اپنی بہت سی اخلاقی ذمّہ داریوں سے سبک دوش ہو چکے ہیں۔ اپنے سر سے بہت سا بوجھ اُتار چکے تھے۔ اور اب پورا وقت خدمتِ دین اور نجاتِ اُخروی کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ مسافر نے سبک دوش ہو جانے والی ذمّہ داریوں اور اُترے بوجھ سے متعلق استفسار کیا تو فرمانے لگے۔ دائم المریض والد جنت مکانی ہو چکے۔ مرحوم موصوف کے مستقبل کے بیشتر منصوبوں میں حارج رہتے تھے۔ دو بیٹوں کا بار تھا۔ اہلِ بستی سے کافی ردّ وقدح کے بعد بڑے بیٹے کو اپنا جانشین مقرر کرا لیا۔ وجہِ ردّ و قدح یہ تھی کہ اہلِ بستی کو برخوردار کے کر دار سے متعلق کچھ اشتباہ تھا۔ چھوٹے بیٹے کے لیے انگلینڈ سے رشتہ کی تلاش ہے۔ بل کہ ماشاء اللہ ! اللہ کریم کے فضل و کرم سے جلد بشارت متوقع ہے۔ موجودہ دورہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ مگر دیکھیے نا ! یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے نوازتا ہے۔ خیر یہ تو ثانوی کام ہے ہمارا اصل کام تو دَر دَر بھیک مانگنا ہے۔ اشاعتِ خیر کے لیے چندہ مانگنا۔ والدِ مرحوم درویش صفت تو تھے مگر عصری تقاضوں سے یک سر نا بلد۔ عمر بھر ٹوٹی پھوٹی مسجد میں درس و تدریس میں مشغول رہے۔ روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کر تے۔ اب ان کے اُٹھ جانے کے بعد میں نے اپنے ذہن رسا میں بنے منصوبوں پر عمل درآمد کی ٹھانی۔ دامن پھیلایا تو دیوانگان شوق نے حد سے بڑھ کر پذیرائی کی۔ ٹوٹی پھوٹی مسجد کہ جگہ بہت بڑا تدریسی بلاک بن چکا ہے۔ کبھی آؤ نا ہمارے ہاں۔ مگر تم تو دنیا دار آدمی ہو۔ دین سے دور اور اہلِ بصیرت سے نفور، اور ہاں دین سے یاد آیا یہ خاتون جو ہماری تمہاری خدمت پہ مامور بار بار چکر لگاتی ہے۔ کوئی انگریز لگتی ہے۔ دیکھا ہے اس کے جسم سے کیسی نا گوار بُو اُٹھتی ہے۔یہ ہے بے دینوں کی علامت۔ مسلمان سے قربت میں تو ایک عجیب سی خوشبو کا احساس ہوتا ہے۔‘‘ عرض کیا۔ حضور اوّل تو میں نے کسی نا گوار بُو کا احساس نہیں کیا۔ دوسرا مجھے خوشبوؤں میں تمیز کا کچھ سلیقہ بھی نہیں۔ تیسری بات یہ کہ بارِ خاطر نہ ہو تو عرض کر دوں کہ میں خوشبو یا بدبو کو مذہب سے منسلک کرنے کا کچھ اتنا قائل بھی نہیں۔ البتہ اتنا دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ خاتونِ محترم انگریز نہیں بلکہ مشرقِ بعید کے کسی ملک سے ہیں۔ کوریا، جاپان وغیرہ اسی اثنا میں جب خاتون کمبل لے کر ہماری نشستوں کی طرف تشریف لائیں تو مسافر نے بلا جواز قومیت سے متعلق استفسار کیا، کہنے لگیں۔ ’’ملائیشیا سے ہوں۔ باپ کورین تھا۔‘‘ تو گویا آپ بُدھسٹ ہیں۔‘‘جی نہیں ! الحمد للہ مسلمان ہوں۔ اور حاجن بھی ہوں۔‘‘ مسافر نے ترجمہ کر کے حضرت کو اصل بات بتائی تو یک دم ان کا چہرہ کھل اُٹھا۔ فرمانے لگے حاجن تو ہے اس سے پوچھو شادی شدہ ہے ؟ مگر چوں کہ خاتون اپنی دکان بڑھا چکی تھی اور سوال بھی از حد غیر ضروری تھا۔ اس لیے کئی سخن ہائے گفتنی نا گفتہ رہ گئے۔ چند لمحے پہلے بے دینی والی بُو کی بات آئی گئی ہوئی اور موصوف ایک بار پھر اصل موضوع پر آ گئے۔ فرمانے لگے۔’’عبادات اپنی جگہ، پابندی صوم و صلوٰۃ فریضۂ اوّل ہے۔ مگر نیکی کچھ اور چیز ہے۔ ہم جیسے درویشوں کی متاع ہی کیا ہے۔ جو راہِ خدا میں خرچ کریں۔ البتہ زبان تو پاس ہے۔ اور اہلِ خیر کا دَم غنیمت ہے۔ مگر اب اہلِ خیر بھی کچھ کچھ دینی اقدار سے بے گانگی اختیار کر رہے ہیں۔ میں گزشتہ کئی برس سے اسی کارِ خیر کے لیے بارِ سفر اُٹھا تا ہوں۔ شروع میں تو تارکینِ وطن جھولیاں بھر بھر مالی امداد فرماتے تھے۔ رفتہ رفتہ اُن کے خلوص و محبت میں کمی ہوتی گئی۔ اور اب کیفیت یہ ہے کہ حتی الوسع میل ملاقات سے بھی گریزاں ہیں۔ کوئی اچانک ہاتھ آ گیا تو خیر ورنہ گھر پر ہوتے ہوئے بھی عدم موجودگی کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ عجیب بے دینی کا دور آ گیا ہے۔ استغفراللہ۔ اور ہاں عزیزم!تم نے کیا بتایا تھا کس شہر میں جا رہے ہو۔ ’’حضور میں نے تو ابھی تک کسی شہر کا نہیں بتایا۔ اور نہ ہی کوئی خاص شہر میری منزل مقصود ہے۔ مسافر کا تو کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔ خانہ بدوش ہوتا ہے۔‘‘ماشاء اللہ۔ ماشاء اللہ۔ تو برخوردار تمہیں تو پیسے کی بھی ضرورت ہو گی۔ جب گھر بار نہیں تو شب باشی اور خوردو نوش کا بھی مسئلہ ہو گا۔ کیوں نہ میں تمہیں ایک نسخۂ کیمیا بتاؤں۔ایسا کرو میں تمہیں دو مطبوعہ کاپیاں دیتا ہوں ایک والدِ مرحوم کے مزارِ عالیہ کے لنگر شریف کی اور دوسری مدرسہ مفتاح العلوم کی۔ اپنے قریبی حلقوں کے دَرِ دولت پر دستک دو۔ چوں کہ تمہاری پہلی بار ہو گی۔ اہلِ خیر جوق در جوق تمھاری صدّا پر لبّیک کہیں گے۔ چھ آنے روپیّہ تم رکھ لینا۔ کرایہ وغیرہ نکل آئے گا۔ چار پیسے بچ بھی جائیں گے۔ دس آنے دربارِ عالیہ اور مدرسہ میں دینا یوں سمجھو کہ مفت جنت بھی ہاتھ آ گئی اور ہاں ایک بات یاد رکھنا۔ تارکینِ وطن میں بھی وطنِ عزیز کی طرح دو گروہ ہیں۔ ایک وہ جو مقابر کی تزئین و آرائش کے راستے جنت کے متلاشی ہیں اور دوسرے وہ جو مدارس کی پذیرائی میں فلاح دیکھتے ہیں۔ منزل دونوں گروہوں کی ایک راستے جدا ہیں۔ مگر ہم تو درویش لوگ ہیں سب کے سانجھے جو دے اس کا بھلا اور جو نہ دے اس سے خدا ہی سمجھے اور ہاں کسی بھی صاحب ثروّت کے عقیدے کی چھان پھٹک کیے بغیر چندے والی کاپی کی رونمائی نہ کرنا ،لاؤ ہاتھ ملاؤ کیسا آئیڈیا ہے ؟ آم کے آم گٹھلیوں کے دام۔‘‘’’حضور بجا فرمایا آپ نے مگر میں اس کام سے معذور ہوں۔‘‘ ارے معذوری کیسی تمہاری زبان تو ٹھیک چلتی ہے ابھی اس صالحہ سے فَر فَر انگریزی بول رہے تھے۔ اور اس کارِ خیر کے لیے فقط زبان ہی کافی ہوتی ہے، بشر طے کہ خلوصِ نیت سے دستِ سوال دراز کرو۔اچھا ایسے کرو ذرا جلدی سے اپنا فون نمبر لکھ دو۔ میں ابو ظہبی کا پانچ روزہ تبلیغی دورہ مکمل کر کے ولایت پہنچوں گا تو تم سے رابطہ کروں گا۔‘‘ ’’مگر جناب میرا پاکستانی نمبر تو اُدھر ہی رہ گیا ہے۔‘‘ پر ابھی تم نے بتایا تھا کہ تمہارے رشتہ دار وہاں ہوتے ہیں۔ آخر ان کے گھر کا نمبر تو تمہیں پتا ہو گا۔ وہی نوٹ کرا دو۔ جلدی کرو جہاز اُترنے والا ہے۔‘‘جناب معاف کیجئے میں نے کوئی ایسی بات آپ کے گوش گزار نہیں کی اور اگر بفرضِ محال خاکم بدہن کوئی ایسی بات میرے منہ سے نکلی بھی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ خاکسار کو فون نمبر بھی یاد ہو گا۔‘‘ برخوردار ایک تو تم اردو بڑی مشکل بولتے ہو خیر کوئی بات نہیں میں سمجھ گیا تم جیسے ماڈرن لوگ ثواب و عذاب اور جنت و دوزخ کے تصوّر ہی سے یک سر ناواقف ہوتے ہیں۔ میں نے تو تمہاری دین و دنیا سدھارنے والی بات کی تھی مگر خیر تمہارا مقدّر۔ لکم دینکم ولی دین میرے تو کئی برخوردار ہانگ کانگ، امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں اس خاکسار کا ہاتھ بٹا کر دین و دنیا کی بھلائی سمیٹ رہے ہیں۔‘‘
جہاز ابو ظہبی لینڈ کرتا ہے آج جب مسافر شوقِ آوارگی کے ماحصل میں حسابِ سود و زیاں کرتا ہے تو اس مردِ درویش کی بصیرت پر رشک آتا ہے۔ آخرت کا تو پتا نہیں کم از کم دنیا سنوارنے کا وہ سنہری موقع تھا۔ جو اپنی حماقت کی وجہ سے ضائع کر دیا۔ نپولین اپنی سوانح میں لکھتا ہے۔ ’’ہر معرکے میں ایک لمحۂ فیصل (Critical Point)ہوتا ہے۔ میں اُسی لمحۂ فیصل کا منتظر رہتا ہوں، درست فیصلہ کرتا ہوں اور جنگ جیت جاتا ہوں۔ دشمن وہ لمحۂ فیصل گنوا دیتا ہے اور ہار جاتا ہے۔‘‘ مسافر نے بھی وہ لمحۂ فیصل گنوا دیا۔

آج کا بریڈ فورڈ

قارئین کرام کی دل چسپی اور معلومات کے لیے گوش گزار کرنا ضروری ہے کہ انگلستان کے تقریباً تمام شہر ایک جیسے ہیں۔ مکانوں کی بناوٹ میں ایسی یکسانیت کہ ایک ہی ہاتھ کا کام دکھتا ہے۔ یکساں سہولتیں، ایک ہی قسم کا نظام وغیرہ، البتہ بریڈ فورڈ، مانچسٹر، شیفیلڈ اور برمنگھم میں چو ں کہ ایشین اور بالخصوص پاکستانیوں کی بہتات ہے۔ لہٰذا ان پر کچھ کچھ اپنائیت کا گمان ہوتا ہے۔ پاکستانیوں کی مکانیت دور ہی سے پہچانی جا سکتی ہے۔ گھروں کے باہر بے ربط گھاس، غلاظت کے تھیلے ڈسٹ بن کے گرد و نواح میں موجود اور ڈسٹ بن صاف ستھرے۔ بیرونی دروازوں کے گرد کاغذ کے ٹکڑے، سگریٹ کے ٹوٹے، اشیائے خوردو نوش کے استعمال شدہ پیکٹ وغیرہ، گویا پتہ دیتی ہے شوخی نقش پا کی۔بعینہٖ انگریزوں کے گھر بھی دور ہی سے پہچانے جا سکتے ہیں۔ بیرونی لان میں پھولوں کی بہار، اور پھولوں کی تو تمام یورپی اقوام جنون کی حد تک گرویدہ ہیں۔ ڈسٹ بن سلیقے سے ڈھکے ہوئے۔ مجال کہ کاغذ کا ٹکڑا تک سڑک پر یا گھر کے سامنے نظر آئے۔ شہر بھر میں عُمر رسیدہ انگریز ایک ہاتھ میں تھیلا اور دوسرے میں چمٹی پکڑے گھومتے نظر آتے ہیں۔ چمٹی سے سڑک پر گرا ہوا کاغذ وغیرہ اٹھایا۔ تھیلے میں ڈالا اور نزدیکی ڈسٹ بن میں الٹ دیا۔ ایشیائی غلاظت پھیلانے میں کسر نہیں چھوڑتے اور انگریز صفائی کرنے میں سُستی نہیں برتتے۔ یہ ان پاکستانیوں سے سنا ہے جو سال ہا سال سے ادھر مقیم ہیں۔ آج کا بریڈ فورڈ ایک وسیع و عریض بستی ہے۔ جہاں خال خال انگریز اور اِکا دُکا کالے بھی مقیم ہیں۔ جنھیں ایشین جمیکے کہتے ہیں۔ خواہ وہ کسی بھی افریقی ملک سے تعلق رکھتے ہوں۔ ستائیس برس اُدھر جب اس بستی سے مسافر کا گزر ہوا تھا تو یہ ترتیب یک سر الٹ تھی۔ تب یہ انگریزوں کی بستی تھی۔ جہاں خال خال پاکستانی مِل جُل کر رہتے تھے۔ دھاگہ فیکٹریوں اور سٹیل ملوں میں دن رات کی شفٹ میں کام کرتے تھے۔بستی کے شمال میں اگر کسی ہم وطن کو چھینک بھی آتی تو انتہائی جنو ب کے باسی پُرسشِ احوال کو جانا عبادت سمجھتے۔ آج اُن ہی لوگوں کی نسلیں ایک دوسرے کے قریب سے گزر جاتی ہیں اور سلام دعا کے مکلف بھی نہیں ہوتے۔ وہ ملیں اور فیکٹریاں جو پاکستانی نوجوان کے خون پسینہ سے اپنا ایندھن کشید کرتی تھیں، یادِ ماضی بن چکی ہیں۔ ان کی فلک بوس چمنیاں آج بھی موجود ہیں مگر دھواں اُگلنے سے قاصر۔ کل تک جن عمارتوں میں دھاگہ بنا جاتا اور سٹیل پگھلایا جاتا تھا۔ آج وہ رہائشی فلیٹوں کا کام دیتی ہیں۔ پرانے باسی قریب سے گزرتے ہیں تو نو واردوں کو بتاتے ہیں کہ اس مِل میں اتنے برس کام کیا۔ اتنے پونڈ مزدوری بنتی تھی اور اتنے پاکستانی روپے میں ایک پونڈ آتا تھا۔ اُجرت کم تھی، پونڈ کا ریٹ انتہائی کم تھا۔ مگر خوش حالی تھی۔ پاکستان میں بھی ہانڈی چو کہ ان ہی پونڈوں سے چلتا تھا۔ اب پاؤنڈ کی فراوانی ہے۔ شرحِ مبادلہ قابلِ رشک مگر برکت نہیں۔
بریڈ فورڈ کا پورا شہر پیالہ نما ہے، جس کی تہہ میں مین ٹاون ہے، میوزیم ہے۔ پبلک لائبریری ہے۔ ریلوے سٹیشن ہے۔ لاری اڈہ ہے جسے یہ انٹر چیج کہتے ہیں اور پولیس سٹیشن ہے۔ مین ٹاون کے اردگرد بڑی بڑی مارکٹیں ہیں۔ اوپر نگاہ اٹھائیں تو چاروں اور مَدوّر صورت میں مکانیت ہے۔ پاکستانی، بنگالی، انڈین، جمیکے اور آج کل مشرقی یورپ سے تلاشِ معاش میں جوق در جوق آنے والوں کی بستیاں، گورے یہ علاقہ خالی کر کے ڈاون ٹاون میں پناہ گزیں ہو چکے ہیں۔ بیشتر پَب کلب جو گوروں کے دَم سے مراکزِ ہاؤ ہو تھے، اب مسلمانوں کے تصّرف میں ہیں۔ بلکہ اکثر تو مساجد میں بدل چکے ہیں۔ جہاں سے اللہ اکبر کی روح پرور صدائیں بلند ہوتی ہیں۔ مرکز سے جس طرف کا بھی رُخ کریں چڑھائی درپیش ہے۔ اور اوپر سے جدھر بھی نگاہ دوڑائیں ایک دائرہ نظر آتا ہے جو اوپر سے نیچے کی طرف جاتا ہے۔ کسی سمت بھی کھڑے ہوں بہ یک نظر پورا بریڈ فورڈ دیکھ سکتے ہیں۔مکانوں کی ترتیب میں یکسانیت حیران کُن ہے۔ سبھی مکانوں کا بیرونی منظر ایک جیسا۔ جس کی تبدیلی میں کونسل کمیٹی حارج ہے۔ البتہ اندرونِ خانہ مکین اپنی مرضی سے بہ مطابق ضرورت تبدیلی کے مجاز ہیں۔ مکانوں کی نمبر شماری کی ترتیب یوں ہے کہ جفت نمبر ایک طرف اور طاق دوسری طرف ہیں۔ اگر آپ کو مکان کی تلاش ہے تو سڑک کا نام اور مکان نمبر یاد رکھیں۔ سڑک کے ایک طرف ہی نگاہ رکھنا پڑتی ہے۔ فوراً منزلِ مقصود مل جائے گی۔ یہ بہ ظاہر چھوٹی بات ہے، مگر ہے تو سلیقے کی۔ اپنے ہاں کی گلیوں کا تصور نہیں۔ ہر گلی ایک کشادہ سڑک ہے۔ ہر مکین کی گاڑی گھر کے سامنے فٹ پاتھ سے لگی کھڑی ہے۔ تنگیِ زمین کی وجہ سے گیراج کا تصور کم کم ہے۔ ملوں فیکٹریوں کی بندش کی وجہ سے فراہمیِ روز گار کا مسئلہ گھمبیر صورت اختیار کر چکا ہے۔ اب ایشین کے لیے محض چند گنے چُنے کام رہ گئے ہیں۔ ٹیکسی چلانا، گلی گلی پھر کر آئس کریم، سبزی بیچنا، یا پھر ٹیک اوے ریسٹورنٹ پر برتن دھونا، پیزا بنانا وغیرہ۔ البتہ جو لوگ برسوں پہلے کاروبار میں چلے گئے آج خوش حال ہیں۔ اور اس صَف میں آزاد کشمیر والوں کی اکثریت ہے۔ یا پھر لاہوری ہیں۔ بہر حال روز گار کا مسئلہ جوانوں کا اور بالخصوص ان جوانوں کا ہے جو یہاں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔ کچھ وزٹ ویزے پر داخل ہوئے اور میعادِ مقررہ گزرنے پر ادھر ہی غائب ہو گئے۔ ان کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ ہمہ وقت پکڑے جانے کا خوف دامن گیر رہتا ہے۔ اگر مقدر نے یاوری کی، کسی موقع پر ست آجر کے ہاتھ لگ گئے اور کام مل گیا تو آجر مقررہ اُجرت کا تیسرا حصّہ دے گا۔ احسان بھی جتائے گا اوردھمکی تو بہر حال موجود ہے۔ اس طرح دونوں کی بَن آتی ہے۔ چھپے چور کو نانِ شبینہ اور چالاک آجر کو روپے کے کام میں دس آنے کی بچت اور بقائے باہمی کے اِس اصول پر زندگی کی گاڑی چلتی ہے۔ گھر والے دھن ورشا کے منتظر ہیں صاحبزادے کو سر چھپانے کے لالے پڑے ہیں اور وہ قرض خواہ جن سے لاکھوں روپیہ قرض لے کر ویزہ لگوایا تھا۔ ہر دو فریقین کی درازیِ عمر کے لیے دعا گو۔
دوسری قسم ان تارکین کی ہے جو سٹوڈنٹ ویزہ پر آئے ہیں۔ ان میں بھی اکثریت صرف برطانیہ میں داخلے کے چکر میں ہوتی ہے پڑھنا پڑھانا تو محض داخلہ کا بہانہ ہوتا ہے۔ تعلیم کا معاملہ کچھ یوں ہے کہ عام تعلیم پر بھی تقریباً لاکھ روپیہ ماہانہ اٹھتا ہے۔فالتو وقت میں مزدوری اوّل تو ملتی نہیں۔ اگر مل بھی جائے تو حاصل اتنا نہیں کہ فیسیں دے سکیں۔ پیٹ کی آگ بجھا سکیں اور مکانیت برداشت کر سکیں اور ادھر مکانیت ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہا ں اگر کوئی عزیز اتنا بڑا دل رکھتا ہو کہ قیام و طعام کا ذمّہ لے سکے تو کچھ بات بن سکتی ہے۔ وگرنہ مبیّنہ طلبہ کی اکثریت حصولِ علم کے بکھیڑوں سے پہلو تہی کر کے ہمہ وقتی کام یا تلاشِ کار میں جُت جاتے ہیں۔ تارکینِ وطن کی تیسری قسم وہ جو HSMPسکیم کے توسط سے انٹر ی حاصل کرتے ہیں۔ حکومتِ برطانیہ کی High Skilled Man Powerسکیم یہ ہے کہ وہ ایشین جو بیس پچیس لاکھ روپیہ رکھتے ہوں۔ اور اپنے ملک میں تقریباً ایک لاکھ روپیہ ماہانہ آمدنی کے حامل ہوں۔ حکومت کی اجازت سے مملکتِ برطانیہ میں مخصوص دورانیے کا جو چند برس کا ہے انٹری ویزہ لے سکتے ہیں۔ ایسے سرمایہ کاروں کے لیے بقول حکومت، یہاں کاروبار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ اس سکیم میں اگرچہ حکومت کی نیت نیک ہے اور لبیک کہنے والوں کے لیے مواقع بھی وافر ہیں مگر اس کا کیا کیجیے کہ خواہش مند طبقہ وہ ہے جنھوں نے بیس پچیس لاکھ روپے کا منہ تک نہیں دیکھا ہوتا اور ایک لاکھ ماہانہ آمدنی کا تصوّر تک نہیں کر سکتے۔ اگر یہ سب کچھ موجود ہے تو کون پاگل دربدری کا سوچے گا۔ چنانچہ ہوتا کیا ہے کہ یار لوگ ادھر ادھر سے ادھار مانگ کر بینک بیلنس کی دستاویز بنا لیں گے جو بہر حال اصلی ہوتی ہے۔ کیوں کہ نقل اب چلنے کی امید نہیں۔ البتہ ماہانہ آمدنی کے جعلی سرٹیفیکیٹ مہیا کریں گے جن کا حصول وطنِ عزیز میں کوئی اتنا مشکل کام نہیں۔ اس طرح چند برس کا انٹری ویزہ لے لیں گے۔ اب ادھر کیا ہو گا وہ اثاثے اور ذرائع آمدن جو محض کاغذی ہیر پھیر تھے، پاکستان میں رہ گئے۔ کہاں کا سرمایہ اور کیسا کاروبار ٹیکسی چلا نہیں سکتے کہ ٹیکسی لائسنس کا حصول جوئے شیر لانا ہے۔ جس کے لیے ایک مدت درکار ہے۔ بس پھر کسی پاکستانی ٹیک اوے ریسٹورنٹ پر برتن دھونا جھاڑو لگانا، مالک کی جھاڑیں کھانا۔ یا کسی سکھ کی دکان پر ہفتے میں پانچ دن کام کرنا۔ تنگ و تاریک رہائش گاہ میں اپنے جیسے دیگر تارکینِ وطن کے ساتھ بستر بانٹنا مشترکہ باتھ روم کی صف میں کھڑے ہو نا مشترکہ کچن میں اپنی باری کا انتظار کرنا۔ ان کا مقدّر ہوتا ہے اور مکان بھی کیسے جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ زندہ لوگوں کی قبریں ہیں۔ اندر ہی پیدا ہوئے پلے بڑھے اور اندر ہی انا للہ۔ تارکینِ وطن کی چوتھی قسم ان بوڑھوں کی ہے۔ جو برسوں پہلے عالم جوانی میں انگلستان پہنچے۔ آج ان کی دوسری نسل جوان ہے۔ اور محنت مزدوری میں جتی ہے۔ یہ نوجوان دن بھر مزدوری کرتے ہیں اور رات کو وطنِ عزیز سے ٹیلی فون پر پلاٹوں کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور زمینوں کی خریدو فروخت سے متعلق اپنی معلومات میں اضافہ کرتے ہیں۔ کچھ رات کو کام کرتے ہیں۔ اور دن میں سوتے ہیں سہ پہر کو جاگ کر ناشتہ کرتے ہیں اور سرِ شام پتا نہیں کون سے وقت کا کھانا کھا کر تلاشِ رزق میں جُت جاتے ہیں۔ ہر دو فریقین فارغ اوقات میں بیویوں سے چخ چخ کرتے اور بچوں کا احترام کرتے ہیں۔ کیوں کہ قوانین ملکی کے مطابق بچے آمدنی میں اضافہ کا سبب ہیں۔ بچے جتنے زیادہ گھرانہ اتنا ہی خوش حال گویا بچے مقدس گائے کا درجہ رکھتے ہیں۔ دوسری مقدس گائے بوڑھے ہیں۔ جو عمر عزیز کے ساٹھ برس پورے کر چکے ہیں۔ صحت جیسی بھی ہو حکومت کاغذ دیکھتی ہے اور پیسہ دیتی ہے۔ نا صرف پیسہ بل کہ مکان اور نرسنگ کی خدمات بھی مفت ہیں۔ ان کے اندرونِ شہر بس کا سفر مفت اور بیرونِ شہر کرایہ آدھا۔ کام وام کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس پر بھی دھن مایا کے رسیا چوری چھپے کام کا ٹانکہ لگا کر کچھ بالائی آمدنی کے اسباب پیدا کر لیتے ہیں۔ جس کے طفیل وطنِ عزیز کے پراپرٹی ڈیلروں کا چولہا چوکا چلتا ہے۔ طبیعت شانت رہتی ہے۔ ہر آن تحفظ کا احساس ملتا ہے۔ مستقبل کے خواب دیکھنے کا جواز ہاتھ آتا ہے۔ مگر پھر ایک دن اچانک ناقوس بج جاتا ہے۔ سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاتا ہے اور پچھلوں کی بن آتی ہے۔ جو اِسی شُبّھ گھڑی کے منتظر ہوتے ہیں کہ اللہ کریم بیمار کو آسانی دے۔ سہولت دے۔ صحت کی تو نہیں بنتی اور اس طرح دونوں فریق مطمئن۔ پچھلے اس لیے کہ بنا تنکا توڑے مفت زر و جواہر ہاتھ آئے۔ گِلا صرف اتنا ہے کہ تھوڑا چھوڑا ہے۔ چھوڑ جانے والا مطمئن کہ پچھلوں کے لیے بہت کچھ بنا لیا۔ آگے کے لیے بنانے کی کیا ضرورت اللہ تو ویسے بھی رحمان و رحیم ہے۔
لُعاب شیریں کا قطرہ اس کے حلق میں ٹپکا تھا اور وہ قبول ہو گیا۔ لُعابِ شیریں کا وہ قطرۂ انمول جس کے لیے ملائکہ مضطرب تھے۔ جس کی خواہش میں کروڑوں مسلمانوں کے دِلوں کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے۔ وہ گوہر نایاب و بے مثل اس کے دہن کا مقدر تھا۔ اس قطرۂ شیریں نے اُس کی زبانِ مقدس کو مَس کیا اور اس کے نطق سے فصاحت و بلاغت کے چشمے ابل پڑے۔ اور وہ باب العلم کہلایا۔ آج وہ سوال کرتا تھا اور کون جرات کر سکتا تھا کہ باب العلم کے لبوں سے پھوٹنے والے سوال کے جواب میں لب کشائی کرے۔ عجمی تو گونگے تھے ہی آج عربوں کی فصاحت و بلاغت بھی جو اب دے چکی تھی۔ مجمع پر سناٹا طاری تھا۔ کہ عُقدہ کشا خود سوال کرتا تھا۔ یہی سناٹا خراجِ تحسین تھا یہی اقرارِ صالح تھا اس کے باب العلم ہونے کا اور وہ باب العلم تھا اور سوال کرتا تھا۔ اور پھر خود اسی نے جوا ب دیا اور جواب بھی اسی نے دینا تھا کہ جواب تو وہی دے سکتا تھا جس کے نُطقِ فصیح نے لُعابِ شیریں چکھا تھا۔ اور کہتا تھا ’’سب سے اعلیٰ موت وہ ہے کہ مرنے والا خوش ہو، مسکراتا ہو جانتا ہو کہ ختم ہوئے ہجر کے دن آ بھی گئی وصل کی رات اور ایک زمانہ روتا ہو کہ ایک رجلِ رشید جاتا ہے جو پھر کبھی لوٹ کر نہ آئے گا۔ اور بد ترین ہے وہ موت کہ مرنے والا آہ و بقا کرتا ہو اور ایک زمانہ جلد گلو خلاصی کی خوش خبری سننے کا متمنی ہو۔‘‘ وہ یہ بھی تو کہتا تھا۔
رضینا قسمت الجبّار فینا
لنا علمٌ بوللجہال مالہٗ
و انَّ المالُ ینفیٰ عن قریبٍ
واِنَّ العِلْمُ یبقیٰ لم یزالہٗ
’’میں اپنے رب کی تقسیم پر راضی ہوں جس نے مجھے علم دیا اور جہلا کو مال دیا بے شک مال جلد ختم ہو جانے والا ہے اور علم ہمیشہ رہنے والا ہے۔‘‘
تیسری مقدس گائے وہ لوگ ہیں جو کسی بھی عمر میں کسی بھی قسم کی معذوری کا شکار ہو گئے ہوں۔ حکومت اُن کی خدمت کو سب سے اوّل عبادت سمجھتی ہے۔ ان کے والدین اور اقربا کے لیے خصوصی مراعات ہیں۔ مکان مفت، ہر نوع کے معذوروں کے لیے ان کی جسمانی معذوری کے مطابق مفت گاڑیاں، اقربا محنت مزدوری کے بوجھ سے آزاد۔ وغیرہ وغیرہ۔ معذور بچوں کے سکول الگ ہیں۔ ان کے لیے خصوصی گاڑیاں اور ڈرائیور ہیں۔ والدین کا واحد فریضہ معذور بچوں کی دیکھ بھال کرنا ہے۔ باقی نان نفقہ اور رہائش وغیرہ سب حکومت برداشت کرتی ہے۔ جو بچے معذور نہیں بالکل ٹھیک ہیں وہ بھی کسی بڑے کے سہارے بغیر سکول آ جا نہیں سکتے۔ بچے کو اکیلے سکول بھجوانا قانوناً جرم ہے۔ گزشتہ سطور میں پاکستانی بوڑھوں کا ذکر ہوا ہے تو انگریز بوڑھوں کی بھی سنتے چلیے۔ بوڑھوں کے لیے ہر شہر میں اولڈ پیپلز ہوم کے خصوصی بلاک ہیں۔یہ گھر ایسی جائے امان ہیں، جن کی تعصب یا لا علمی کی بنا پر وطنِ عزیز کے میڈیا میں انتہائی مکروہ تصویر پیش کی جاتی ہے۔ مسافر کا مشاہدہ ان گھروں کو نعمت قرار دیتا ہے۔ بے شک قارئین کرام مسافر کی رائے سے اختلاف کریں مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ وطنِ عزیز میں بوڑھوں سے زیادہ مظلوم مخلوق کوئی نہیں۔ انسان ایک سوشل جانور ہے۔ اسے اپنے ہم جنسوں کی صحبت چاہیے ہوتی ہے۔ جب کہ ہماری سوسائٹی میں کوئی شخص بھی بوڑھے آدمی کے پاس بیٹھنا گوارا نہیں کرتا۔ اس طرح اللہ کی یہ مخلوق تنہائی کا شکار ہو کر چڑ چڑ ے پن میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ اس چڑ چڑے پن کی ذمہ دار تو سوسائٹی ہو تی ہے۔ مگر الزام بوڑھے کے سَر جاتا ہے۔ بوڑھوں کو کوئی ایسی جائے فراغ میسر نہیں جہاں چند ہم عُمر بوڑھے بیٹھ کر یادِ ماضی تازہ کر سکیں۔ گھر میں اگر بیوی بیٹی کا سہارا ہے تو دِن بُرے بھلے گزرتے رہتے ہیں۔ اگر بیٹے ہیں تو وہ باہر کی مخلوق ہیں۔ ایسے حالات میں بوڑھی بوڑھا بہووں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ جن کے ساتھ ان کا کوئی خونی رشتہ تو ہوتا نہیں۔ اگر کوئی رشتہ ہے بھی تو غیر شعوری رقیبانہ۔ بس تو پھر بوڑھی بوڑھے کو سَر کا بوجھ سمجھ کر جلد سبک دوشی کی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ من چاہا تو اُنھیں کھانا پینا، دوا دارو دیا، چڑچڑے پن کو برداشت کیا۔ وگرنہ کسی کال کوٹھڑی میں رکھ دیا۔ ان کی ہر جائز نا جائز بات کو غلط رنگ دے کر مبالغہ آمیزی کے ساتھ شام ڈھلے کام سے گھر آنے والے شوہروں کے گوش گزار کرنا وغیرہ۔ ہمارے چھچھ کے علاقہ میں صاحبِ حیثیت لوگوں کے حجرے ڈیرے ہیں۔ جو صرف مردانہ ہوتے ہیں۔ خود ہمارے اپنے حجرے میں کئی ایسے بوڑھوں نے آخری ہچکی لی جن کے بہو بیٹے اُنھیں گھر رکھنے کے روادار نہ تھے۔ جو اولادیں ایسے از خود رفتہ بوڑھوں کو گھروں میں رکھنے کے مکلّف ہوتے ہیں۔ ان کی حالت بھی ابتر ہوتی ہے۔ سو کوئی ایسی سبیل ہونا چاہیے کہ ایسے لوگوں کو کچھ نہ کچھ احساس تحفظ مل سکے۔ ہم عمروں کی صحبت میسر ہو۔ اور وقت گزاری کے لیے تفریح کے ذرائع ہاتھ آ سکیں۔ کیوں کہ یہ مخلوق بھی توجہ کی طالب ہے۔ ان کے بھی کچھ فطری تقاضے ہیں۔ سو اولڈ پیپلز ہوم کا آئیڈیا برا نہیں۔ اگر چہ میری پیش کردہ تصویر سوفی صد اس طرح نہیں ، بجا کہ وطنِ عزیز میں بہت سے لوگ بزرگوں کو واقعی باعث برکت جانتے ہیں۔ ان کا دَم غنیمت جانتے ہیں مگر تا وقتیکہ وہ معذور ہو کر چارپائی کے سوار نہیں بن جاتے۔ اور دَریں صورت عزیزانِ گرامی دکھاوے کے لیے بہ امر مجبوری جہاں داری کے تقاضے تو نبھاتے ہیں۔ مگر خلوت میں چپکے چپکے نجات کی دعائیں بھی مانگتے ہیں۔ سچی اور خدا لگتی بات یہ ہے کہ ایک معذور چارپائی سوار چڑ چڑا بوڑھا کب تک بہ دل و جان برداشت کیا جا سکتا ہے۔
انگلستان کے معاشرے کے متعلق منفی پروپیگنڈا یہ کیا جاتا ہے کہ اولادیں نافرمان ہیں۔ والدین کو گھر پر برداشت نہیں کر پاتے اور اولڈ ہومز میں جمع کرا دیتے ہیں وغیرہ۔ حالاں کہ سب کچھ یوں نہیں بل کہ اصل صورتِ حال یہ ہے کہ وہاں چھوٹے چھوٹے مکان ہیں۔ساٹھ سال سے اوپر بوڑھوں کو حکومت مفت مکان فراہم کرتی ہے۔ اگر میاں بیوی حیات ہیں تو ٹھیک، اگر دونوں میں سے ایک رہ گیا ہو تو ظاہر ہے کہ وہ تنہائی کا شکار ہو تا ہے۔ لہٰذا اُسے تنہائی اور مشقت سے نجات کے لیے کونسل کمیٹی نرسنگ کی سہولتیں مہیا کرتی ہے چوں کہ یہ نرسیں مخصوص اوقات میں اکیلے بوڑھوں کے گھر آتی ہیں۔ صبح سویرے یا پھر خوراک کے اوقات میں۔ باقی ماندہ وقت اورپوری رات اکیلے میں گزارنا پڑتی ہے۔ چناں چہ یہ لوگ اولڈ پیپلز ہوم میں اُٹھ آتے ہیں۔ جہاں ہمہ وقتی نرسنگ کا انتظام ہے۔ اپنے ہم عمروں کی صحبت ہے۔ پینے پلانے، کھانے کھلانے، یادِ ماضی کے دریچوں میں جھانکنے اور گپ شپ لگانے کے تمام مواقع موجود ہیں۔ روزانہ نہیں تو دوسرے، چوتھے روز بہو بیٹے ملنے آتے ہیں مٹھائیاں، کیک، تحفے تحائف، تاش کی نئی گڈی اور پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں لاتے ہیں۔ بوڑھوں کو لمبی ڈرائیو پر لے جاتے ہیں۔ اور یوں ایک سلسلہ بنتا ہے۔ ایک ایکٹویٹی چلتی ہے۔ کار پردزانِ حکومت اور الیکشن میں ووٹ لینے کے امیدوار وقتاً فوقتاً ان بوڑھوں کی تفریح کے لیے ہومز میں رنگا رنگ پروگرام کرتے رہتے ہیں۔ اس سب کچھ کے باوجود بھی بیشتر انگریز ہمارے روایت پرست گھرانوں کی طرح بزرگوں کو اپنے سے جدا کرنا مناسب نہیں جانتے۔ بل کہ ایسا احترام دیتے ہیں کہ ہم کیا دیں گے۔ پاکستان کے لیے روانگی سے ایک دِن قبل مجھے بوڑھوں کی ایک ایسی ہی رنگا رنگ تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ جس کے منتظم اور میزبان جناب چوہدری الطاف صاحب تھے۔ چوہدری صاحب بریڈ فورڈ کونسل کے ممبر رہ چکے ہیں۔ آج کل ان کے بیٹے عزیزم عمران بار ایٹ لا چیمبر ہیں۔ تقریب میں درجنوں انگریز بوڑھے بوڑھیاں بہ کمال نفاست سجائے گئے شامیانوں تلے باربی کیو بناتے تھے۔ چیزیں بیچتے تھے۔ چیریٹی اکٹھا کرتے تھے۔ گاتے بجاتے، ہنستے مسکراتے، پیتے پلاتے تھے۔ تصویریں بناتے تو ان کی آنکھوں سے بچوں جیسی معصومیت اور خوشی پھوٹتی صاف نظر آتی۔ کوئی دل پر ہاتھ رکھ کر گواہی دے۔ اپنے ہاں کبھی بوڑھے بزرگوں کو ایسی اجتماعی خوشی مہیا کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔۔۔۔ نہیں کیا گیا نا! اور ہم کریں گے بھی نہیں، کیوں کہ ہمیں دوسروں پر تنقید سے فرصت ملے تو جب نا۔
انگلستان کے مستقل باسی جب وطن جاتے ہیں۔ تو اہلِ وطن کے ان کے ساتھ رویہ کچھ اتنا قابلِ تعریف نہیں ہوتا۔
مِل تو لیتے ہیں مگر کچھ ایسے
محفلِ غیر میں گا ہے، سرِ را ہے گا ہے
پر یہاں آ کر مسافر نے محسوس کیا ہے کہ یہ لوگ انتہائی محبتیں کرنے والے ہیں۔ وجہ اس کی ان کا شدید احساسِ محرومی، وطن سے دوری، اپنوں سے جدائی، دوست احباب کی فرقت، دیارِ غیر کی اجنبیت اور پھر ایک کرب مسلسل، وطن جائیں تو واپسی بنا چارہ نہیں یہاں رہیں تو تابہ کے ؟ دو نسلیں تو اسی کرب اور گو مگو میں گزر جاتی ہیں۔شاید کہ تیسری نسل جدائی کے اس کڑوے گھونٹ کو ہضم کر پائے۔ یہی احساسِ محرومی ہے۔ جس نے ان غریب الدّیار مظلوموں کے دلوں میں گداز پیدا کر دیا ہے، جس کا مظاہرہ یوں دیکھنے میں آتا ہے کہ جب بھی کوئی مسافر وطنِ عزیز سے یہاں وارد ہوتا ہے تو یہ لوگ ملنے کو یوں لپکتے ہیں۔ جیسے پیاسا کنوئیں کی جانب دوڑتا ہے۔ پاکستان سے کسی بھی شخص کی آمد کی خبر جنگل کی آگ کی طرح آناً فاناً پھیل جاتی ہے۔ پھر جہاں کہیں مسافر کا ٹھکانہ ہو ملنے والوں کا تانتا بندھ جاتا ہے۔ دوچار آ رہے ہیں، دو چار جا رہے ہیں۔ وطن کے حالات پوچھے جاتے ہیں۔ موسموں، فصلوں پر تبصرہ ہوتا ہے۔ برسوں پرانی یادیں تازہ کی جاتی ہیں۔ گویا ایک عجیب سے تشنگی ہوتی ہے۔ اور یک گونہ لذّت ملتی ہے، پوچھنے والوں کو۔ اور ایک بے نام سا اطمینان ہوتا ہے، مسافروں کو بتانے میں۔ ابتدائی ملاقاتوں کا ایجنڈا تو بس یہیں تک ہوتا ہے۔ پھر جب مسافر ہفتہ عشرہ میں تھکاوٹ دور کر چکتا ہے۔ نزدیکی گلیوں، بازاروں سے آگاہی حاصل کر چکتا ہے۔ تو ملاقاتوں کا دوسرا دور شروع ہو تا ہے۔ جو لوگ پہلے ملنے آئے تھے اب دعوتِ طعام دینے آتے ہیں۔ ہر آدمی کی خواہش ہو تی ہے کہ مسافر کے سامنے اچھے سے اچھا کھانا چنا جائے۔ اور زیادہ سے زیادہ ہم وطنوں کی شرکت یقینی بنائی جائے۔ اس طرح ایک طرف تو مسافر کے لیے محبتوں کے سامان پیدا کیے جاتے ہیں دوسرا ہم وطنوں کی صحبت کے بہانے وطنِ عزیز کا ماحول پیدا کیا جاتا ہے اور یہی وہ چند گھڑیاں ہوتی ہیں جن میں تارکینِ وطن اپنے روز مرہ کے لگے بندھے معمول کی گھٹن سے نجات پاتے ہیں۔ بھلے وقتوں میں روایتوں کے امین کچھ لوگوں نے مسافروں کو نقد رقم دینے کی طرح ڈالی تھی۔ جو بظاہر تو ایک اچھی روایت اور محبتوں کی علامت جانی جاتی تھی، مگر تُف ہے غیرت سے عاری ان مسافروں پر جنھوں نے اس معصوم روایت کو کمائی کا ذریعہ جانا۔ اور برس ہا برس سے بغرض وصولی دورۂ انگلینڈ کو معمول بنا لیا ہے۔ اگر کسی ہم وطن نے از راہِ مروّت دعوت طعام دے دی تو یوں گویا ہوں گے۔ ’’اجی کھانے پر سو پونڈ کا ہے کو خرچ کرتے ہو۔ پچاس نقد دے دیں۔‘‘حد ہے بے شرمی کی۔ اس ضمن میں ایک تارکِ وطن نے خوب بات سنائی کہ ایک بہت بڑے قومی سطح کے سیاسی رہنما تشریف لائے۔ راوی نے از راہِ مروّت پوچھا کہ ’’حضور کے پاؤں کا ناپ کیا ہے۔ آپ کے لیے جوتا خریدنا ہے۔ یہاں اچھے، دیرپا اور نرم و ملائم جوتے دستیاب ہیں۔‘‘ فرمانے لگے۔’’ پاؤں کا ناپ چھوڑو، جیب کے ناپ کی بات کرو۔‘‘ ستم بالائے ستم یہ موصوف دینی رہنما بھی ہیں اور نفاذِ اسلام کے لیے ان کی کاوشیں بھی از حد ہیں۔ ایک اور صاحب راوی ہیں کہ جتنے بڑے لوگ آتے ہیں۔ اتنے ہی بڑے ارادے اور جیبیں ساتھ لاتے ہیں۔ بہر کیف وہاں جانے والے تو گنے چنے لوگ ہوتے ہیں۔ جن کا بوجھ معصوم تارکینِ وطن جوں توں کر کے برداشت کر ہی لیتے ہیں۔ بڑا مسئلہ اس وقت دَر پیش ہوتا ہے۔ جب کوئی بد قسمت پردیسی وطن یاترا کا ارادہ باندھتا ہے۔ یک دم وطن سے فونوں کا تانتا بندھ جاتا ہے۔ پردیسیوں کی محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اچانک تمام بند توڑ دیتا ہے۔ دیر سے یاد آوری کی معذرتیں کی جاتی ہیں۔ جواز بتائے جاتے ہیں جو با لعموم عذرِ لنگ اور تجدیدِ مراسم کا بہانہ ہوتے ہیں۔ تارکینِ وطن کی جلد اور بخیریت وطن واپسی کی دعائیں بآواز بلند بذریعہ فون سنائی جاتی ہیں۔ اور آخر میں مطالبات اور فرمائشوں کی فہرست پیش کی جاتی ہے۔
کسی زمانے میں ٹیٹرون کی قمیضیں ولایتی جرسی، جراب، اوور کوٹ اور سگرٹ اس فہرست میں شامل ہوتے تھے۔ پھر ٹیٹرون کی جگہ بوسکی، جرسی کی جگہ رے بین عینک اوور کوٹ جراب کی جگہ یاشیکا کیمرہ نے لے لی۔ مگر آج یہ سب اشیا متروک ہو چلی ہیں۔آج مخصوص نمبر کے جدید ترین موبائل فونز اور سپانسر کا زمانہ ہے۔ پاونڈ کی فراوانی کے ساتھ فرمائشوں میں جدّت آ گئی ہے۔ اب وطن کی محبت کا مارا مسافر سر پٹیتا ہے۔ اگر سبھوں کی فرمائشیں پوری کرنے میں جُت گیا تو سال بھر کی کمائی ہوا ہوئی۔ اگر پورا نہیں کرتا تو اقربا کی سرد مہری اور خشمگیں نگاہوں کا سامنا ہے۔ گویا اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے۔ اور اب خرید کی اشیا کی بھی سنیے۔ میرے انتہائی باریک بینی سے کیے گئے مشاہدے کا نچوڑ یہ ہے کہ انگلستان میں پیسہ کمانا انتہائی مشکل ہے۔ دال روٹی کا تو کوئی مسئلہ نہیں۔ایک عام مزدور کی میز پر بھی وہی کھانا چنا جاتا ہے۔ جو ہمارے ہاں اعلیٰ طبقہ کا معیار ہے۔ بل کہ اس سے بھی بڑھ کر۔ انگریز بہت سیا نا ہے۔ کھانے پینے جیسی بنیادی ضرورتوں میں ڈنڈی نہیں مارتا۔ مسئلہ ہے پیسہ بچانے کا خود انگریز کو تو بچتوں کی ضرورت نہیں۔ اس نے بیٹیوں کے ہاتھ پیلے نہیں کرنا ہوتے کہ اس معاشرہ میں اس فرسودگی کی ضرورت نہیں۔ لڑکیاں اپنا بر خود تلاش کرتی ہیں۔ اور سفید ہاتھوں ہی والدین کو لال جھنڈی دکھا کر پیا سنگ چلی جاتی ہیں۔ والدین بھی خوش کہ ہزار بکھیڑوں سے نجات ہوئی۔ لڑکوں کی تعلیم، روز گار کا معاملہ حکومت کے ہاتھ میں ہے۔ بیماری، معذوری، بڑھاپا ہسپتال کونسل کی سر دَردی ہے۔ سَو بچتوں کا جواز ہی نہیں۔ مگر پاکستانی بے چارے نہ اِدھر کے نہ اُدھر کے۔ اُدھر رچ بس نہیں سکتے، اِدھر مستقل قیام نا ممکن۔ایک آس ہوتی ہے کہ بچے بالے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں تو بوڑھا، بوڑھی وطن سدھاریں۔ سُکھ کی چند گھڑیاں گزاریں۔ جب وطن میں عُمرِ آخریں گزارنے کی ٹھہری ہے توکچھ چولھے چوکے کا سبب ہونا چاہیے۔ بس اسی ادھیڑ بُن میں عمرِ عزیز بیت جاتی ہے۔ بچتوں کی غرض سے سولہ سے اٹھارہ گھنٹے تک کام کرنا پڑتا ہے۔ بارہ گھنٹے تو ہر کس ونا کس کو کام کرنا پڑتا ہے۔ مسافر نے نہایت دیانت داری سے یہ جانا کہ ان لوگوں کی کمائی انتہائی حق حلال کی ہے۔ پیسہ پیسہ دانتوں سے پکڑتے ہیں اور سوچ سمجھ کر خرچ کرتے ہیں۔ اور ہونا بھی یہی چاہیے۔
میرے وہاں ہوتے ایک عزیز کو وطن سے فون موصول ہوا کہ فلاں نمبر کا موبائل فون بھجوائیں۔ مسافر دوسرے روز ایک بڑی مارکیٹ میں ونڈو شاپنگ کر رہا تھا۔ نا گاہ مذکورہ موبائل فون پر نظر پڑی۔ جس پر قیمت چار سو پونڈ درج تھی۔ حساب کیا تو پتہ چلا کہ یہ رقم پاکستان آنے جانے کا دو طرفہ کرایہ ہے۔ یعنی مبلغ پچاس ہزار روپیہ پاکستانی۔سائل کی عقل اور مسئول کی حالتِ زار پر رونا آیا۔ ایک طُرفہ تماشا اور ہے۔ اہلِ وطن با لعموم مختلف دوست احباب سے موبائل فون منگواتے ہیں چند روز اِدھر اُدھر دوستوں کو دکھاتے ہیں اور پھر بیس ہزار کا سیٹ پانچ ہزار میں بیچ کر نقد پیسے کھرے کر لیتے ہیں۔ بیس ہزار روپیہ تارکینِ وطن کی مہینہ دو مہینہ کی کمائی ہے جس میں ان کی راتوں کے رَت جگے اور خون پسینہ شامل ہے۔ مگر مانگنے والے کا تو پانچ ہزار روپیہ کھرا ہو گیا۔ ہینگ لگی نہ پھٹکری، حقیقت یہ ہے کہ بیشتر یار لوگوں نے یہ مستقل دھندا بنا رکھا ہے۔ سوا ہلِ وطن سے نہایت ادب سے گزارش ہے کہ اِن غریب الوطن لوگوں کے حال پر رحم کریں اور اُنھیں ایسی آزمائش میں نہ ڈالیں جو ان کی اذیّت کا باعث بنے اور ان کے اپنے بال بچوں کی حق تلفی ہو۔ اور تارکینِ وطن سے بھی درد مندانہ اپیل ہے کہ اپنے خون پسینے کی حلال کمائی اس وضع داری میں نہ گنوائیں۔ جو آئے روز سائلین کی تعداد میں اضافہ کا مُو جب بنتی ہو۔ ہاں البتہ اگر کوئی ایمر جنسی کی صورت ہو، نایاب دوا کی ضرورت ہو، یا پچھلوں پر خدا نخواستہ کوئی انہونی مصیبت آپڑے تو بے شک کھُل کر ان کی امداد کریں۔ یہاں مانگنے والوں کی دو مزید اقسام کا ذکر بھی ضروری ہے۔ یہ طبقہ تو ایک ہی ہے۔ مگر روپ الگ الگ دھار رکھے ہیں۔ اوّل قسم تو ان مشائخ عُظّام کی ہے۔ جنھیں بالعموم موسمِ گرما میں سالانہ تبلیغی دورہ پڑتا ہے۔ یہ لوگ تزئینِ قبور اور آرائشِ مزار کے نام پر جھولی پھیلاتے ہیں اور خون پسینہ ایک کرنے والے محنت کشوں کی حلال کمائی بہ کمال خوبی اپنی شیریں زبانی کے طفیل ہتھیا نے کے لیے کوشاں ہوتے ہیں۔ بلکہ ہتھیا لیتے ہیں۔ دوسرا طبقہ وطنِ عزیز میں زیرِ تعمیر (مُبیّنہ) مساجد اور (مُبیّنہ) جاری مدارس کے نام پر دستِ سوال دراز کرتا ہے۔ یہ دوسرا طبقہ بھی اپنے دوروں کا تعین کرتے وقت یورپ کے مثالی معتدل موسم کو مَدِّ نظر رکھتا ہے۔ بھلے وقتوں میں تو ان خادمانِ دین کی خاصی بَن آتی تھی۔ مگر آج کل ان کی مارکیٹ خاص مندی ہے۔ ہمارے علاقے میں ایک بزرگ ہو تے تھے۔ جنھوں نے ایک مقامی دینی مدرسہ میں ساٹھ برس تک بلا ناغہ درسِ قرآن دیا۔ ہزاروں کی تعداد میں حفاظ تیار کیے۔ جس گاؤں میں درس دیتے تھے وہاں کا پانی پینا بھی معیوب جانتے تھے کہ کہیں معاوضۂ کلامِ الٰہی نہ درج ہو جائے۔ عُمر بھر ملکی سیاست اور حکومتی گرانٹ سے دامن آلودہ نہ کیا۔ہر کہ و مہ ان کا دلی احترام کرتا تھا۔ خود ان کے اپنے محلہ کی مسجد کچی تھی جہاں وہ امامت کا فریضہ ادا کرتے تھے۔ بارہا عقیدت مندوں نے باصرار لاکھوں روپیہ دینا چاہا۔ اہل محلہ نے منتیں کی کہ حضور باہر کے لوگ خود مائل بہ کرم ہیں مسجد پختہ ہو جائے گی۔ کیا مضائقہ ہے لینے میں۔ فرماتے ہر گز نہیں مسجد کا اہلِ محلہ پر حق ہے۔ باہر کے چندہ پر نہیں۔ اہلِ محلہ غریب ہیں۔ جب خوش حالی میسر آئے گی تو خود احساسِ فرض پر لبیک کہیں گے۔ خدا جانے ان مرحوم کا نکتۂ نظر درست تھا یا پھر یہ حضرات ٹھیک ہیں جو موسمِ گرما میں یورپ سدھارتے ہیں۔ ان محنت چرانے والوں کا ایک تیسرا طبقہ بھی ہے۔ جو ادھر آتے تو کچھ اور حیلوں بہانوں سے ہیں۔ مگر ادھر پہنچ کر گنڈے تعویذ جھاڑ پھونک اور جن پر ی نکالنے کے فن کا مظاہرہ کرنے میں جت جاتے ہیں۔ اس طبقہ کی سب سے زیادہ چاندی ہے۔ اوّل الذکر کا تو پیچھے کچھ نہ کچھ حساب کتاب ہوتا ہو گا۔ چار آنے روپیہ خرچ کرنا پڑتا ہو گا۔ کچھ روپیہ حصہ داریوں میں جاتا ہو گا۔ جب کہ یہ طبقہ ایسے کسی بھی معاہدے یا چونچلے کا مکلف نہیں۔ نہ حساب کتاب نہ حصہ داری نہ آڈٹ نہ پولیس پرچہ۔ جو ملا اللہ کا شکر۔ جو نہ ملا اس کے لیے مزید کوشش۔ اس طبقہ کی نظرِ کرم تعلیم سے محروم لوگوں اور بالخصوص ان خواتینِ خانہ پر ہوتی ہے جن کے ساس سسر خدا نخواستہ بقیدِ حیات ہوں اور وہ عموماً ہوتے ہیں۔ یا پھر جنھیں شوہروں کے ساتھ گلہ گزاری ہو اور چخ چخ چلتی ہو اور وہ عموماً چلتی ہے۔ ایک دانا کا قول ہے کہ ’’عقل مندوں کی روزی بے وقوفوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ آگے ان کی ہمّت و دانش ہے کہ ان سے کیسے وصولتے ہیں۔‘‘ ادھر پاکستانی کمیونٹی کی اکثریت دینی رجحان کی حامل ہے۔ بزرگوں میں 99%پکے نمازی ہیں جن کے دم سے مساجد آباد ہیں اور آئے روز ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جہاں جہاں پاکستانی آبادیاں بڑھتی ر ہیں گورے وہ علاقے خالی کرتے گئے۔ جب گورے گئے تو شراب خانوں کا دھندہ بھی ختم ہوا۔ اور ان کی عمارتوں کو مسلمانوں نے خرید کر مساجد میں بدل لیا۔ کل جہان لہو و لعب اور عزت و عصمت کی نیلامی کی روش عام تھی۔ آج اللہ اکبر اور قرآن کریم کی تلاوت کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ نوجوانوں کی اکثریت حصولِ رزق کی خاطر عام دھندوں میں مصروف ہوتی ہے۔ البتہ جمعہ کوہر کہ و مہ کی مساجد میں حاضری لازمی ہے۔ اگرچہ نوجوان طبقہ میں کچھ تاریک راہوں کے مسافر بھی ہیں۔ جنھیں اصطلاحاً ڈرگی کہا جاتا ہے۔ خواہ وہ منشیات استعمال کرنے والے ہوں یا بیچنے والے۔ مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ مشاہدہ کی بات یہ ہے کہ کم سِن نوجوانوں کو والدین کی توجہ کی اشد ضرورت ہے۔ تارکین کی تیسری نسل کے جن بچوں کا مسجد سے واسطہ ہے ان کے پاس تاریک راہوں پر جا نکلنے کا وقت ہی نہیں۔ وہ سکول سے گھر پھر مسجد اور پھر گھر میں۔ جہاں تفریح و تدریس کی خاطر کمپیوٹر کی سہولتیں موجود ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ والدین مذکورہ ٹائم ٹیبل کی پابندی کروائیں اور خود بچوں کو وقت دیں۔ جو والدین اس امر میں سستی کرتے ہیں ان کے بچوں کے غلط راستوں پر چل نکلنے کے امکان بڑھ جاتے ہیں۔ خود مشاہدہ کیا ہے کہ ایسے بچے قوانین ملکی کی خلاف ورزی اور بے معنی ہنگامی آرائی بطور شغل کرتے ہیں۔ بل کہ یہاں تک کہ رات کی تاریکی میں گھروں کے باہر موجود گاڑیوں کے ونڈ سکرین توڑ دینا، ٹائروں سے ہوا نکال دینا، معمول کے مشغلے ہیں۔ جن کے نتیجے میں با لآخر جیل یا ترا لازم ہوتی ہے اور ادھر جیلوں کے حالت بھی کم و بیش اپنے ملک جیسی ہی ہے کہ بجائے اصلاح کے مجرمانہ تربیت کے مراکز ہیں۔ مساجد کا ذکر ہوا ہے۔ بجا کہ مساجد کی افزونی باعثِ مسرت ہے مگر اس ضمن میں تشویش ناک امر یہ ہے کہ پیرانِ کلیسا نے یہاں بھی خالق و مخلوق کے درمیان پردے حائل کر نے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا ہے۔ یہاں بھی ان لوگوں نے فرقہ بندی اور نفرت بین المذاہب کا بیج نہ صرف بویا بل کہ بہ کمال خشوع و خضوع اس کی آبیاری میں بھی ہر آن کوشاں ہیں۔ اور اس مخلوق کی ان ہی ــــــــــ’’مخلصانہ‘‘ کوششوں کے طفیل کئی مساجد تالہ بندی کا شکار ہیں۔ اللہ اللہ مساجد کی تالہ بندی اور دین رسول عربی ؐ کی جگ ہنسائی اور یہ کارِ عظیم عام مسلمانوں کے بس کا نہیں وارثانِ منبر و محراب ہی کا اعجاز ہے۔ کئی مساجد کے نام کے ساتھ بریکٹ میں فرقہ کی نشان دہی بہ کمال اہتمام کی گئی ہے۔ نمازِ جمعہ کے خاتمے پر تقریباً ہر مسجد کے دروازے پر پاکستانی سبزی فروشوں کی گاڑیاں آ موجود ہوتی ہیں۔ جن سے نمازی سبزی خریدتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر پاکستانی اپنی ثقافت کا بھر پور مظاہر ہ کرتے ہیں۔ وہی باجے گاجے، ڈھول ڈھمکے، گولے پٹاخے وہی بارات کی سج دھج وغیرہ۔ کچھ عرصہ پہلے دلہن لانے کے لیے لیمو زین گاڑیاں کرایہ پر حاصل کی جاتی تھیں۔ آج کل اس کارِ خیر کے لیے فری ملتی ہیں۔ تفصیل اس امر کی یوں ہے کہ کمپنی نے مشہوری کے لیے ایک پیکیج دیا ہے کہ جو آدمی لیمو زین خریدنا چاہے۔ بے شک بغیر پیسے لے جائے۔ دس روز تک استعمال کرے۔ پسند آئے تو پیسے دے ورنہ گاڑی واپس کر دے۔ یاد رہے کہ لیمو زین کی قیمت پاکستانی کرنسی میں کروڑوں روپے بنتی ہے۔ چنانچہ ہوتا یوں ہے کہ یار لوگوں کو شادی کے دنوں میں قیمتی لیمو زین خریدنے کا شوق اٹھتا ہے۔ گاڑی لے آتے ہیں۔ شادی بھگتاتے ہیں۔ دلہن کو آراستہ لیمو زین میں گھر لاتے ہیں۔ فوٹو گرافی کرتے ہیں۔ جس میں دلہن کو نہیں بل کہ لیمو زین کو فوکس کیا جاتا ہے۔ پھر اسے اتفاق ہی جانیے کہ مذکورہ گاڑی پسند نہیں آئی سو بارات کے دوسرے روز کمپنی کو واپس کر دیتے ہیں۔ یہ اگرچہ اتفاق ہی ہوتا ہے۔ مگر یہ بھی اتفاق دیکھیے کہ سو فی صد یوں ہی تو ہوتا ہے۔
آج کل ٹیلی فون عام ہے۔ برسوں پہلے جب مسافر نے انگلستان یاترا کی تھی تو فون کم کم تھے۔ چوکوں میں اِکا دُکا فون بوتھ موجود تھے۔ جن میں سکہ ڈالیں تو دروازہ کھلتا تھا۔ بات کرنے والا باہر نکلا تو دروازہ کھٹ سے بند ہو جاتا۔ جسے کھولنے کے لیے پھر سے سکہ ڈالنا پڑتا۔ اس جھنجھٹ سے بچنے کا یہ حل نکالا کہ ایک آدمی دروازہ پکڑے رکھتا اور باقی دسیوں ہم وطن ایک ہی سکے میں اپنی کالیں بھگتا لیتے۔ آج کل فون کا مسئلہ تو ختم ہوا البتہ بوٹ پالش میں یہی چال کار گر ہے۔ طریقہ کچھ یوں ہے کہ دایاں بوٹ مشین میں ڈالیں پالش ہو جائے گا۔ مگر با یاں اس وقت تک مشین قبول نہ کرے گی جب تک سکہ بطور معاوضہ نہ ڈالیں گے۔ اس کا حل ماہرینِ فن نے یہ نکالا کہ دایاں بوٹ پالش کرایا اور اگلی مشین پر چلے گئے۔ وہاں دوسرا پاؤں ڈالا سو وہ بھی پالش ہو گیا۔ اب پہلے والی مشین بے چاری بائیں پاؤں کی منتظر اور دوسری دائیں کے لیے چشم براہ اور فن کار اپنی راہ۔
چند ہفتے اُدھر کی بات ہے اٹک شہر میں رات سمے آتش زدگی کا واقعہ پیش آیا۔ کامرہ چھاونی سے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں پہنچیں۔ پانی پھینکا آگ فتنہ افزا تھی نہ بجھ پائی۔ ٹینکیاں خالی ہوئیں۔ دوبارہ بھرنے کی ضرورت پیش آئی۔ اب پانی کہاں سے آئے۔ شہر کے موجود سیانوں نے صلا ح دی۔ کمیٹی میں ٹیوب ویل لگا ہے۔ وہاں سے بھر لائیں۔ گاڑیاں وہاں پہنچیں ، مشین کا کمرہ مقفل تھا۔ آپریٹر کی ڈھنڈیا پڑی۔ واقفِ حال نے گھر کا پتا بتایا۔ سوتے میں جگایا اور پکڑ کر لایا گیا۔ تالہ کھلوایا تو مشین خراب ملی۔ الیکٹریشن بلوایا گیا۔ ٹھونک بجا کر مشین کو چالو کیا گیا۔ تو لوڈ شیڈنگ کا وقت ہو چکا تھا اور آگ اپنا کام کر چکی تھی۔ یہ سب کچھ مسافر کو جب یاد آیا۔ جب چھوٹے چھوٹے شہروں کی بڑی بڑی عمارتوں اور محلّے کی گلیوں میں جا بجا سڑک کناروں پر چند انچ اُبھری سرخ رنگ سے F-Hکا نشان لیے سٹیل کی تختیاں نظر آئیں۔ یہ فاونٹین ہیڈ ہیں۔ جن کے نیچے پانی کی ریزرو لائنیں ہیں۔ بصور تِ آتش زدگی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں ان پوائنٹس سے موقع پر پانی لے لیتی ہیں۔ ان کی عمل کاری کا نظام بھی خود فائر بریگیڈ کے عملے کی تحویل میں ہے۔ جس کی گا ہے گا ہے جانچ پڑتال اور ریہرسل ہوتی رہتی ہے۔ یہ سب انگریز کی منصوبہ بندی کی کرشمہ سازیاں ہیں۔
جس جس شہر سے مسافر کا گزر ہوا ایسی کئی چھوٹی چھوٹی چیزیں مشاہدہ میں آئیں۔ مثلاً پورے ملک میں سڑک کنارے فٹ پاتھوں کی تعمیر میں یکسانیت پائی۔ کسی بھی فٹ پاتھ کی اونچائی دو انچ سے زائد نہ ہے۔ مقصد ا س کا یہ بتایا گیا کہ کبھی کوئی ایمر جنسی ہو جائے، کسی گاڑی کو نا گہانی صورت میں فٹ پاتھ استعمال کر نا پڑ جائے مثلاً گاڑی موڑنے کے لیے یا ٹریفک جام توڑنے کی غرض سے تو گاڑی کا پہیہ بآسانی فٹ پاتھ پر چڑھ جائے۔ ہمارے ہاں فٹ پاتھوں کی ترتیب کیسی ہے ؟ ہے بھی یا نہیں ؟ قارئین خود دیکھ سکتے ہیں۔
امراضِ جدید مثلاً ذیابیطس، عارضۂ قلب وغیرہ کے مریضوں کو اطبّا واک کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ سُنّتِ نبوی ﷺ بھی ہے۔ مرد حضرات تو جوں توں کر کے طوعاً و کرہاً معالج کی منشا پوری کر دیتے ہیں۔مسئلہ خواتین خانہ کے لیے ہوتا ہے۔ بالخصوص دیہی علاقوں میں یہ مسئلہ گھمبیر ہے۔ اگر چہ بڑے شہروں میں پارکوں کی سہولت موجود ہے۔ مگر وہ بھی اتنے دور کہ بنا گاڑی کے پہنچا نہ جائے اور گاڑی پا لینا ہر کس و ناکس کے بس کا نہیں۔ برطانیہ کے ہر شہر کی ہر آبادی کے نزدیک تر پارکوں کی سہولت موجود ہے کہ ہر شہری کی قدمی پہنچ میں ہے اور پارک بھی ایسے کہ جسے دیکھو:
کرشمہ دامنِ دل می کشد کہ جا ایں جاست
مسافر درجنوں پارک بہ نظرِ غائر دیکھ چکا ہے۔ جن میں لندن کا ہائیڈ پارک بھی شامل ہے۔ مگر بریڈ فورڈ کے لسٹر پارک نے بے مثل تاثر چھوڑا۔ یہی بات جب مسافر نے ہم سفر میزبان کے سامنے بیان کی تو انکشاف ہوا کہ گزشتہ برس ایک غیر سرکاری تنظیم نے ملک بھر میں موجود پارکوں کی تزئین و آرائش اور ماحولیاتی افادیت سے متعلق سروے کرایا تو لسٹر پارک کو اوّل قرار دیا گیا اور انعام سے نوازا گیا۔ تاریخ اس پارک کی یوں ہے کہ مسٹر لسٹربریڈ فورڈ کے بہت بڑے صنعت کار تھے۔ اور لسٹر مل شہر کی سب سے بڑی مل۔ زمانہ ہوا یہ مل بند ہو چکی ہے۔ عمارت آج بھی پرانی وضع قطع لیے بیچ شہر میں کھڑی ہے۔اس کی سر بفلک خاموش چمنی آج بھی باہر سے آنے والوں کے لیے ایک نشانِ منزل کی حیثیت رکھتی ہے۔ آج بھی گم کردہ راہ مسافر اس مل کے وجود سے سُراغِ منزل پاتے ہیں۔ یہ سیانوں نے کہی اور مسافر نے خود تجربہ کیا اس بڑی مل کے قریب آنجہانی مسٹر لسٹر کی کئی ایکڑ پر محیط رہائش گاہ ہے۔ رہائشی احاطہ تو مختصر ہے۔ دیگر رقبہ پھولوں، درختوں، روشوں مصنوعی آبشاروں اور مصفّا پانی کی نہر سے مزین ہے۔ بوڑھوں کی وقت گزاری کے لیے ایک وسیع گنبد کورٹ اور بچوں کے لیے ایک وسیع پلے لینڈ ہے۔ بیرونی دروازے سے داخل ہوں تو مسٹر لسٹر کا کانسی کا بنا مجسمہ ہے۔ واکنگ اور جاگنگ ٹریک ہیں۔ اہلِ دل کے لیے کنج ہائے خلوت اور نجانے کیا کیا کچھ ہے اور یہ سب کچھ آنجہانی دمِ رخصت عوام الناس کے لیے وقف کر گئے ہیں۔ مسٹر لسٹر کے بچے لسٹر مل کے فلیٹوں سے ماہانہ کرایہ وصولتے ہیں۔ ہمہ وقتی ٹیکسی چلاتے ہیں۔ جو کماتے ہیں ویک اینڈ پر خرچ کر کے ٹھنڈے پیٹوں سوتے ہیں۔ مسٹر لسٹر خود غرض تھا جیتے جی اپنے لیے سوچتا اور دولت سمیٹتا رہا۔ مرتے وقت بھی باز نہ آیا۔ اپنا ہی سوچا۔ آخرت میں آسودگی کا بندوبست کر گیا۔ ہماری طرح اوروں کے لیے درد رکھنے والا نہ تھا۔ کہ عُمر بھر دوسروں کی فکر میں گھلتا رہتا۔ کون کیا کرتا ہے ؟ کیا کھاتا ہے ؟ کیا پہنتا ہے ؟کہاں سے لاتا ہے ؟ وغیرہ۔
مسافر نے وطنِ عزیز میں دردِ دل رکھنے والے ایسے صاحبانِ بصیرت کو بھی دیکھا ہے جو دمِ نزع اقربا کو نصیحت کر تے تھے کہ فلاں زمین قیمتی ہے۔ فلاں پلاٹ بے مثل ہے۔ میں آج ہوں، کل نہ ہوں گا۔ کبھی نہ چھوڑنا۔ جس بھاؤ ملے خرید لو۔ زندگی کا کچھ پتہ نہیں۔ میں تو جا رہا ہوں۔ میری فکر نہ کرو اللہ رحیم و کریم ہے اور ہاں یہ محلے دار یتیم بچے ہیں۔ کچھ دے دلا کر ان کا مکان لکھو الو۔ بے چارے لا وارث ہیں۔ سستے داموں دیں گے اور دعائیں بھی۔ اس نیکی کے بدلے اللہ کریم تمھارے گھر کو وسعت دے گا۔ غریب کی مدد بھی ہو جائے گی۔ پڑھو کلمۂ شہادت۔۔۔۔۔

ایک مشاہدہ

کسی بھی ایئر پورٹ کے ٹرانزٹ لاونج میں دو چار گھڑیاں گذارنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ بالخصوص ایسے حالات میں جب گذرا سفر نہایت خوش گوار رہا ہو۔ اور آیندہ آٹھ گھنٹے کا مزید سفر در پیش ہو اورٹرانزٹ میں قدم رکھتے ہی بے رونق چہروں، کرخت لہجوں اور زبان ناآشنائی سے سامنا ہو۔ یہ ابو ظہبی ایئر پورٹ ہے۔ زمین سے کافی بلندی پر بہت بڑے گلوب کے اندر گونا گوں اشیا سے بھری ڈیوٹی فری دکانیں، ریسٹورنٹ ایئر کمپنیوں کے دفاتر، تبدیلیِ کرنسی کے کاونٹر، ہوٹلوں کے ایجنٹ اور ہر ملک، رنگ اور نسل کے مرد و خواتین اور مسافر تنہا، سوچتا ہے۔ کاش ٹرانزٹ ٹائم اتنا طویل ہوتا کہ ایک نظر باہر کی دنیا جھانک سکتا۔ اگرچہ یہ خواہش اس وقت تو پوری نہ ہوئی البتہ واپسی کے سفر میں ایک ایسی رات ضرور نصیب ہوئی۔ جس میں پرندے کی آنکھ مافک ابو ظہبی دیکھنے کا موقع ملا۔ ایک ایسی رات جو انگلستان کی کئی راتوں پر بھاری تھی۔ مسافر کے ساتھ شروع سے یہ تماشا رہا ہے۔ کہ دعائیں تو تقریباً سبھی قبول ہو جاتی ہیں مگر دیر بعد اور یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ خدا خدا کر کے دو گھنٹے کا دورانیہ ختم ہوا۔ قفس سے نجات ملی۔ اتحاد ائیر ویز کی ایئر بس نے زمین چھوڑی۔ جہاز کی نوک سیدھی ہوئی۔ایک بار پھر ماکولات و مشروبات کا دور شروع ہوا۔ پیٹ پجاریوں کے لیے ہوائی سفر میں یہ واحد خوش کن تفریح ہوتی ہے۔ جس میں دل چسپی کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ بشر طے کہ آنکھ دیکھنے والی ہو۔ اسلام آباد سے ابو ظہبی تک کے گذشتہ سفر میں جب ہم راہیِ گرامی قدر نجیب سلطان مد ظلہ ٗ نے وقت طعام اپنی پسندیدہ ماکولات کا اظہار فرضِ عین سمجھ کر مسافر کے گوش گذار کرنا شروع کیا۔ تو بار بار مکئی کی روٹی کا ذکر فرماتے تھے اور ایئر کمپنی سے اس بات پر شاکی تھے کہ مینو میں مکئی کی روٹی کیوں نہ شامل کی۔ اگر ایسا کرتے تو ایک ایسی جدّت کا پہلو نکلتا جس سے قدامت کو بھی تقویت ملتی اور جب کھانے میں میٹھے میں کھیر مہیّا کی گئی اور مسافر نے بوجوہ ہاتھ کھینچ لیا تو حضرت نے کھیر کی ننھی منی پیالی مسافر کی ٹرے سے اپنی طرف کھینچتے ہوئے مسافر کے پرہیز سے متعلق استفسار فرمایا۔ مسافر نے بہانہ بنایا کہ بس ویسے ہی کھیر اپنی طبیعت سے لگّا نہیں کھاتی۔ بہ کمال شفقت نہایت سادگی سے فرمانے لگے۔ ’’ہاں ایک آدھ اور جانور کو بھی یہ چیز راس نہیں ‘‘ مسافر نے طنزِ ملیح جانتے ہوئے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ ’’بجا فرما یا حضور۔ اکثر انسانوں کے میلانات بعض جانوروں سے ملتے جلتے ہیں۔ ابھی کچھ دیر پہلے آپ مکئی کے متعلق اظہار پسندیدگی فرما رہے تھے۔ امریکی یہ خوراک گوشت کی غرض سے پالے جانے والے مخصوص جانوروں کے لیے کاشت کرتے ہیں۔ ‘‘پوچھنے لگے کون سے جانور۔ عرض کیا ’’حضور نام نہیں لے سکتا۔ کچھ امورِ شرعی مانع ہیں۔‘‘’’اوہ!اچھا چوٹ کر رہے ہو مگر کوئی اور استعمال بھی تو ہو گا مکئی کا۔‘‘
جی ہاں، کبھی کبھار بصورتِ قحط ایشیائی ممالک کو بطورِ امریکن ایڈ بھی بھیج دیتے ہیں۔ ایک آدھ بار ہم بھی اس نعمتِ کبریٰ سے مستفید ہو چکے ہیں۔ جس کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں۔ اور شاید تا دیر بھگتتے رہیں۔‘‘
’’تو کیا امریکن گندم پیدا نہیں کرتے۔‘‘
’’جی، کرتے ہیں۔ بل کہ بہت زیادہ پیدا کرتے ہیں۔ کچھ کھاتے ہیں۔ اچھا گاہک ملے تو برآمد کرتے ہیں۔ ورنہ سمندر میں پھینک دیتے ہیں۔‘‘
ایئر بس کی نشستوں کی پشت گاہ پر موجود سکرینوں پر مختلف چینلز دیکھنے کی سہولت ہے۔ جہاز کا مکمل روٹ متحرک دیکھنے کی سہولت بھی ہے۔ مسافر یہی منظر دیکھتا ہے۔ روٹ پر بیت اللہ شریف کو مرکز دکھایا گیا ہے۔ آغاز سفر میں بیت اللہ شریف بائیں ہاتھ پڑتا ہے۔ جوں جوں جہاز آگے بڑھتا ہے۔ کعبہ کی نشان دہی کرنے والی سوئی گھومتی ہے۔ ایک بار بالکل سیدھ میں آتی ہے اور فاصلہ کم از کم رہ جاتا ہے۔ مسافر کے منہ سے بے ساختہ نکل جاتا ہے۔ ان شاء اللہ۔ پھر جہاز آگے نکلتا ہے۔ فاصلہ بڑھنے لگتا ہے۔ یورپ قریب آ رہا ہے۔ اور کعبہ دُور ہوتا جا رہا ہے۔ اوہ کہیں یہ کوئی علامت تو نہیں کہ یورپ کا قرب مسلمان کو کعبہ سے دُور کر رہا ہے۔ اب صبحِ صادق کی فرحت بخش روشنی پھیل رہی ہے۔ نیچے بہت دورپچاس ہزا ر فٹ کے نشیب میں یورپ کے چھوٹے چھوٹے ملکوں کے مناظر دھندلکوں میں ڈوبے نظر آتے ہیں۔ مگر بیشتر وقت بادل زمین کو مستور رکھتے ہیں۔ دھرتی کے منظر سے محرومی نے ایک بار پھر چشمِ تصور کے دَر وا کر دیے ہیں۔ ستائیس برس پہلے یہی وقت ہے جب ائیر فرانس کے دیو پیکر طیّارے نے پیرس کی فضا میں پہنچتے ہی بلندی کم کرنا شروع کی تو ایک نہایت دل کش منظر سامنے تھا۔ سفید بادلوں کے ٹکڑے فضا میں اٹھکھلیاں کرتے جیسے سبز پانیوں کی جھیل میں راج ہنس تیرتے ہوں۔ مسافر اوائلِ شباب میں ایسا ہی ایک منظر جھیل سیف الملوک کی بلندیوں سے دیکھ چکا تھا۔ وہ بھی جون کا مہینہ تھا۔ ہنوز گلوبل وارمنگ کا الارم نہیں بجا تھا۔ وسط جون میں بھی جھیل کی بلندیوں پر ملکۂ پربت کے ارد گرد برف کے جھالے پڑ جایا کرتے تھے۔ لوگ باگ کم کم ادھر جاتے اور جھیل سے متعلق بہت سی پُر اسرار کہانیاں سنی سنائی جاتی تھیں۔ ناران بازار سے اکا دکا جیپیں راستے میں موجود گلیشیر تک جاتیں اور اس سے آگے کی بلندیوں کو پیدل ناپنا پڑتا۔ مسافر جو ں ہی دو مرحوم ہم سفروں کے ساتھ آخری چوٹی پر پہنچتا ہے۔ تو عین نیچے قدموں تلے سبز جھیل نظر آتی ہے۔ جس میں بڑے بڑے راج ہنس تیر رہے ہیں۔ مگر جب تین کی ٹولی نیچے پہنچتی ہے تو کھلتا ہے کہ راج ہنس نہیں بل کہ ملکۂ پربت کے آنسو برف کے سفید گالوں کا رُوپ پہنے، جھیل کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے نیچے وادی میں کنہار کے یخ پانیوں میں گم ہو تے ہیں۔ پانی بن جاتے ہیں۔ پہلے بھی پانی تھے ایک لمحہ کو برف کا روپ اوڑھا، پھر پانی بنے۔ اوپر بھی پانی تھے۔ نیچے پہنچ کر بھی پانی ہوئے۔ اور بیچ میں ایک لمحہ، فقط ایک لمحہ یہ پانی بھی عجیب روپ لیے ہے۔ رودِ دجلہ بھی پانی، بے فیض فرات بھی پانی، اباسین کی روانی بھی پانی، گنگا کا پوتر بھی پانی، شبِ فراق عاشق کے دامن کو تر کر ے تو علامتِ کرب، روزِ وصل آنکھ جز یروں میں جھلملائے تو اظہارِ تشکّر و سر خوشی، رات کی تاریکیوں میں گنہ گار کی آنکھ سے ٹپکے تو شانِ کریمی کے لیے بے بدل مَوتی، شیرِ مادر کے روپ میں نویدِ حیات، دَہن مار میں نقیبِ اجل، صدف کے بطن میں بسیرا ہو تو گوہر آبدار اور راہِ وفا کے مسافروں کے بریدہ بدنوں سے صورتِ لہو گرے تو چراغِ راہ بن جائے۔ جس کی روشنی میں آنے والی نسلیں نشانِ منزل پائیں۔ ایک قطرہ سَو رُوپ سمندر بھی پانی، قطرہ بھی پانی۔ بے شک زندگانی پانی ہی سے ہے۔ یہ حکیم رب کا فرمان ہے۔ مشرقی تصوّف کی اساس ہی اسی پر ہے کہ انسان قطرہ کی حیثیت سے حقیقت کے سمندر سے جدا ہوتا ہے۔ ایک لمحہ کی زندگی میں مختلف روپ بھرتا ہے۔ پھر سفر زیست پورا کرتے ہوئے حقیقت کے سمندر سے ہم آغوش ہو جاتا ہے۔ کوئی کیچوا، کوئی مگر مچھ، کوئی راج ہنس، راج ہنس جو دل کو موہ لیتا ہے۔ جو حُسن کی علامت ہے۔ جسے دیکھ کر ایک پاکیزگی کا احساس جنم لیتا ہے۔ انسان خود کو فطرت کے قریب محسوس کرتا ہے۔ اور مسافر یہ سب کچھ دیکھتا ہے۔ پیرس کے گردو نواح میں ایسی ہریالی تھی۔ کہ لفظ بیان سے قاصر ہیں۔ اور اوپر فضا میں بادلوں کے سفید ٹکڑے تیرتے تھے۔ جیسے سبز پانیوں کی جھیل میں راج ہنس۔
اتحاد ائیر ویز کی ایئر بس فرانس کے آخری سرے پر پہنچ کر بلندی کم کرنا شروع کر تی ہے۔ یہ سامنے رود بارِ انگلستان ہے جس کے اُدھر منزلِ مقصود ہے اور ہوائی سفاری جس کی رفتار پونے چھ سو میل فی گھنٹہ رہی ہے ،کے سامنے بیس پچاس میل کی اہمیت ہی کیا ہے۔ مانچسٹر ایئر پورٹ پر دھوپ چمک رہی ہے۔ دھُوپ، ایک ایسی عظیم نعمت جس کے لیے کے اہلِ یورپ ہمیشہ دست بہ دعا رہتے ہیں اور آج دھوپ ہے۔ جہاز نہایت آرام سے ائیر پورٹ پر اتر جاتا ہے۔ مسافر خوف زدہ ہے۔ وطنِ عزیز کے میڈیا نے یورپی ایئر پورٹس پر کلیئرنس کے مرحلے کے متعلق ایسا ایسا پروپیگنڈا پھیلا رکھا ہے کہ الامان! مسافروں بالخصوص پاکستانیوں کے کپڑے اتروائے جاتے ہیں۔ مسافروں اور سامان کو کتوں کے حوالے کیا جاتا ہے۔ اور نہ جانے کیا کیا کچھ کیا جاتا ہے۔ چوں کہ مسافر نے میڈیا پروپیگنڈے سے متاثر ہونے کی ادا پائی ہے۔ سَو خوف و خدشہ کا دامن گیر ہونا فطری تھا۔ مسافر لرزاں و ترساں کلیئرنس قطار میں پہنچا، تو لمبی قطار کے آخر میں جگہ پائی۔ تقریباً سبھی مسافر یورپی اقوام سے متعلق تھے۔ ٹھکا ٹھک کلیئرنس کی مہریں لگائی جا رہی تھیں کہ اچا نک اس وقت دِل اُچھل کر حلق میں آ گیا۔ جب ایک پاکستانی کو قطار سے نکال بینچ پر بٹھا دیا گیا۔ پاکستانی میڈیا کی دکھائی تصویر کے سبھی زاویے آنکھوں کے سامنے روشن ہو گئے اور اسی اثنا میں مسافر کا نمبر آ گیا۔ قطار میں مسافر کے پیچھے صرف دو افراد مزید تھے۔ کاونٹر پر بیٹھی انگریز خاتون نے پاسپورٹ پر مہر لگائی ہیلو ہائے ہوئی۔ دِنوں بعد نکلنے والی دھوپ، موسم کی مبارک باد ہوئی اور نہایت لجاجت سے پوچھنے لگی۔ ’’جناب ! کیا آپ ہمیں چند منٹ بغیر معاوضہ کے دے سکتے ہیں ! ’’جی ہاں، میرا خیال ہے میرے پاس کافی وقت ہے۔‘‘ تو پھر سامنے تشریف رکھیے۔ ‘‘ شکریہ‘‘ مسافر بیٹھ جاتا ہے۔ پہلے کا اسیر پاکستانی سامنے بیٹھا ہے۔ خاتونِ محترم آخری مسافر کو بھگتا کر تیر کی طرح سیدھی مسافر کے پاس آتی ہے اور کہتی ہے۔’’جناب! بات دراصل یہ ہے کہ وہ جو سامنے پاکستانی بیٹھا ہے۔ اس سے چند باتیں پوچھنا ہیں اور اسے انگریزی نہیں آتی۔ از راہِ کرم آپ ہماری مدد کریں مگر یاد رہے معاوضہ نہ ملے گا، آگے آپ کی مرضی۔‘‘ مسافر چوں کہ زبان کے استعمال میں ہمیشہ سے فیّاض رہا ہے اور بالخصوص ایک کی بات سن کر ا ور مرچ مصالحہ لگا کر دوسرے کو بتانا، مسافر کا اجتماعی فیشن ہے۔ سو ایک انجانی خوشی محسوس کرتے ہوئے رضا مندی کا اظہار کرتا ہے۔ خیال تھا کہ اس پاکستانی کے کندھوں پر لٹکتے بھاری بھر کم بیگ کی مشمولات کی صحت سے متعلق استفسار ہوں گے۔ شخصِ مذکورہ پر تخریب کاری یا دہشت گردی وغیرہ کا شبہ کیا جائے گا اور اس ضمن میں مسافر ترجمہ کرتے ہوئے کچھ اپنے نظریات کے پر چار کا ٹانکا بھی جڑ دے گا اور کچھ کچھ اسلامی تعلیمات کی تبلیغ کا موقعہ بھی ہاتھ آ جائے گا۔ کیا عجب کہ انگریز خاتون مسافر کی چرب زبانی سے متاثر ہو کر چند لمحوں میں دائرہ اسلام میں داخلے کی درخواست دے دے اور مسافر کے لیے بیٹھے بٹھائے جنت کے دروازے کھل جائیں۔ سفر آخر وسیلۂ ظفر یوں ہی تو نہیں کہا جاتا۔ ویسے بھی یہ کام تو بلا معاوضہ ہی کرنا ہے اور اگر حسبِ سابق رند کے رند بھی رہیں اور مفت میں جنت بھی ہاتھ آ جائے تو اس سے بڑھ کر کیا معاوضہ ہو سکتا ہے۔ مگر یوں نہ تھا، میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے۔ خاتونِ محترم کو صرف یہ پریشانی تھی کہ مسافر مذکور نے بلفاسٹ جانا تھا جو کہ آئر لینڈ میں ہے۔ دور ہے اور تقریباً دوسرا ملک بنتا ہے۔ مسافر مذکور انگریزی سے بھی نا بلد ہے۔ کہیں راہ نہ گم کر بیٹھے۔ کیسے جائے گا۔ کیا اسباب ہوں گے تلاشِ منزل کے۔ کہیں انگریز کی مہمان نوازی کا شاکی نہ ہو اور جب مسافر نے بتایا کہ باہر اس کے عزیز آئے ہوئے ہیں اسے لینے کو تو خاتونِ شفیق کا چہرہ کھل اٹھا۔ ہم دونوں کا درجنوں بار شکریہ ادا کرنے کے بعد جانے کی اجازت دی۔ ہم نے اپنے اپنے سامان ٹرالی پر رکھے اور ٹرالی دھکیلتے باہر آ گئے۔ کسی مرد دانا یا خاتون نے یہ پوچھنے کی زحمت نہ کی کہ میاں کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ کیا لائے ہو؟ قبل ازیں اسلام آباد ایئر پورٹ پر تلاشی مشین پر مامور ایک مرد نے ہمارے بیگ میں موجود مشکوک سامان کو بھانپ کر ردّ و قدّح شروع کی تھی کہ ایک مہربان کسٹم افسر نے بروقت پہنچ کر معاملہ رفع دفع کرایا۔ دیگر لا وارث مسافروں کی کیا دُر گت بن رہی ہو گی۔ یہ ایک لمبی کہانی ہے، اور ہمارے سامان میں مشکوک چیز کیا تھی۔ ہمارے اپنے کوٹہ کے سگریٹ اور بچوں کے لیے کارٹون سی ڈیز، اگر مذکورہ مہربان افسر نہ پہنچتے تو ہم اس فوجداری جرم میں دھرے گئے تھے۔ اپنوں اور بیگانوں کے رویّوں اور کر داروں کا تقابل کیا تو وطنِ عزیز کے میڈیا پروپیگنڈہ کا بت یک لخت چور ہو گیا۔
ہم ٹر مینل نمبر ۱ کے گیٹ سے باہر تھے۔ اور چاروں طرف ایک خوش گوار دھوپ پھیلی تھی۔ بریڈ فورڈ سے برادرِ بزرگ ملک سکندر اور عزیزانِ گرامی طارق اور آصف نے مسافر کو ایئر پورٹ پر ریسیو کرنا تھا۔ چوں کہ طیارہ معیّنہ وقت سے پون گھنٹہ پہلے اُتر چکا تھا۔ لہٰذا استقبالی جلوس کا دور دور تک نشان نہ تھا۔ یہاں باہر سے آنے والے مسافروں کے لیے اشد ضروری ہے کہ وہ استقبال کے لیے آنے والوں کو ٹرمینل نمبر سے ضرور آگاہ کریں۔ کیوں کہ درجن بھر ٹرمینلز کے درمیان میلوں فاصلہ ہے۔ اور پھر کار پارکنگ کے مسائل الگ ہیں۔ خیر استقبالی پون گھنٹہ لیٹ مگر معیّنہ وقت کے عین مطابق پہنچ گئے اور یہ درمیانی وقفہ مسافرنے چہرے پڑھتے اور بھانت بھانت کی بولیوں سے محظوظ ہوتے گذارا۔ بریڈ فورڈ کا کار کا سفر نہایت خوش گوار رہا۔ دور دور تک ہر یالی یا پھر سڑکوں کا جال گرد و غبار کا کہیں نشان تک نہیں اور سچ جانیے تو چھ ہفتہ کے قیام میں ایک دفعہ بھی بوٹ پالش کرانے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ راستے میں اِکا دُکا آبادیاں بھیڑوں کے فارم اور سبزہ۔ کچھ پتہ نہیں چلتا۔ کب مانچسٹر کی حدود ختم ہوئیں اور کب بریڈ فورڈ شروع ہوا۔ستائیس برس پہلے بھی مسافر کا گذر بریڈ فورڈ سے ہوا تھا۔ مگر اب کے ایک انجانی بستی سامنے تھی۔ آبادی اور مکانیت کے پھیلاؤ نے پرانے تمام نقش دھند لادیے تھے۔ آج بریڈ فورڈ کی وہ ننھی سے بستی غائب تھی، جس کے آسمانوں کو بے شمار فیکٹریوں کی چمنیوں سے اٹھنے والے دھوئیں کے بل کھاتے سانپوں نے ڈھانپ رکھا تھا۔ یا پھر پرانے وکٹورین طرز کے دو منزلہ مکان جن کو اس زمانے میں کوئلے سے جلتے آتش دانوں سے گرم کیا جاتا تھا۔ اور جہاں مجرّد پاکستانی چار چار، چھ چھ کی ٹولیوں میں رہتے تھے۔ محبتیں، کرایہ اور ہانڈی چوکا کا کام آپس میں بانٹتے تھے۔ (اس دور میں اس موضوع پر پاکستان میں دوستی، نام سے ایک فلم بنی تھی، جس میں غریب الدیار لوگوں کے طرزِ تمدن کی سچی عکاسی کی گئی تھی) مہینہ دو مہینہ بعد کسی پردیسی کا پاکستان سے خط آ جاتا تو کئی کئی روز مل بیٹھ کر پڑھتے اور سنتے سناتے تھے۔ پاکستان میں موجود سب ہانڈی وال دوست ایک دوسرے کی برادریوں کو اپنی برادری جانتے تھے۔ گویا محبتوں کا ایک زمزم تھا۔ جو ہمہ وقتی بہتا رہتا۔ مسجدیں نہ تھیں تو اجتماعی نماز کا تصور بھی نہ تھا۔ رمضان کا مہینہ آتا اگر وطنِ عزیز سے خبر مل جاتی تو خیر وگرنہ ماہِ مقدس گزر جاتا اور کانوں کان خبر نہ ہوتی۔ اب بھی ساکنانِ قدیم مذاقاً بتاتے ہیں کہ بارہا جمعہ کی نماز اتوار کو پڑھی جاتی تھی۔ اگر کوئی پردیسی وطنِ عزیز جاتا یا واپس آتا تو ارد گرد کے شہروں سے لوگ ملنے آتے اور مشترکہ گھر میں کئی کئی روز ہما ہمی رہتی۔ مگر یہ سب تو گذرے زمانوں کی باتیں ہیں۔ آج مساجد کی فراوانی ہے۔ رمضان المبارک اور جمعہ کو مساجد کی رونقیں پاکستان کو شرماتی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ جب مجرّد لوگ ازدواجی بندھنوں میں بندھے۔ بال بچے داری ہوئی۔ ضروریاتِ زندگی میں اضافہ ہوا تو نفسا نفسی کی فضا نے جنم لیا۔ ہر آدمی اپنے معاشی دائرے میں محبوس ہو کر رہ گیا۔پڑوسی پر کیا گزرتی ہے۔ کوئی نہ جانے۔ برنارڈشا نے سچ ہی کہا تھا ’’جوں جوں آبادی میں اضافہ ہوتا ہے۔ انسان کی تنہائی بڑھتی جاتی ہے۔‘‘باپ بیٹوں سے شاکی ہے۔ مساجد کی فراوانی نے فرقہ پرستوں کے وارے نیارے کر دیے ہیں۔ تہذیب جدید نے ازدواجی بندھنوں میں نقب لگا رکھی ہے۔ با لخصوص کچھ برس سے غریب الدیار نوجوانوں کا ایک ایسا مظلوم طبقہ وجود میں آیا ہے۔ جسے منگیتر گروپ اور بعض اوقات تضحیک سے انجمن گروپ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو ادھر کی نیشنلٹی ہولڈر بیویوں کے توسط سے آتے ہیں۔ اور پھر چار روزہ عمرِ عزیز کے دو یوم طعن و تشنیع اور دو گلے شکووں میں گزار دیتے ہیں۔ جن کی زد فریقین کے والدین پر بھی پڑتی ہے۔ سَرد جنگ تو تقریباً ہر گھر میں ہمہ وقتی جاری رہتی ہے۔ البتہ خدا نخواستہ کبھی کبھار طبائع جنوں خیز ہو جائیں تو نوبت کونسل، کچہری تک جا پہنچتی ہے، اور ایسے مواقع پر جیت ہمیشہ صنفِ نازک کی ہوتی ہے۔ کیوں کہ ملکۂ عالیہ کے قانون کی نظر میں عورت بہت لاڈلی ہے۔ عورت جو ہر جگہ مردانہ شاونزم کا شکار ہے، کم از کم اس دھرتی پر نہیں۔ انگلستان میں جنم لینے اور پلنے والی بچیوں کے والدین کے لیے یہ ایک مستقل مسئلہ ہے اور مسئلہ کا حل بھی خود ان ہی کے پاس ہے۔ با شعور والدین بچیوں پر اپنی مرضی نہیں ٹھونستے۔ مسئلہ با لعموم اس وقت پیدا ہوتا ہے۔ جب بچی کی مرضی کے بغیر یا اسے بتائے بنا پاکستان میں مو جود کسی بھتیجے بھانجے سے بیاہ دیتے ہیں۔ خصوصاً جب لڑکپن ہی میں موصوف کو برٹش لڑکی سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔ تو صاحبزادے تعلیمی مشقت سے بھی ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔ کہ کون سا کلرکی کرنا ہے۔ آخر انگلینڈ ہی تو جانا ہے۔ نہ لڑکی کی پسند نا پسند کاخیال، نہ برخوردار کی تعلیم و تربیت کا بکھیڑا، بس ایک انا کی تسکین کو کر گذرے جو من چاہا۔ گویا تمام تر غیر فطری عمل ہے جس کے نتائج غیر فطری ہی ہونا چاہئیں۔ اس عمل میں اگر کم از کم اللہ اور رسولؐ کے فرامین ہی کو دیکھ لیا جائے تو بہتری کی بہتیری صورتیں نکل سکتی ہیں۔ مگر اس کا کیا کیا جائے کہ ابھی تک پرانا ہندو انہ کلچر اپنی تمام تر سفاکیوں کے ساتھ ہم نے اپنے اوپر مسلط کر رکھا ہے۔ جب کہ دورِ جدید میں ہندو بھی جاہلانہ رسوم ترک کر چکے ہیں۔

انشورنس کے کرشمے

انگلستان میں انشورنس کا دھندہ نہایت وسیع ہے۔ اور اس کی کرشمہ سازیاں بھی نا قابلِ یقین ہیں۔ انشورنس کا جن یہاں کی معیشت اور کاروبارِ زندگی میں بالکل اسی طرح دخیل ہے۔ جیسے انسانی رگوں میں لہو کی گردش۔ بل کہ یہ ایک ایسا ہُما ہے جو اکثر لوگوں کے سَر پر بیٹھتا ہے۔ اور پلک جھپکنے میں ان کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔ لائف انشورنس، گاڑی انشورنس، مکان انشورنس تو ہر کس و ناکس کے لیے لازم ہیں۔ جن سے مفر نا ممکن ہے۔ علاوہ ازیں دیگر چھوٹی چھوٹی ضروریاتِ زندگی پر بھی انشورنس کی پابندیاں لازم ہیں۔ بظاہر تو یہ انفرادی معیشت پر بوجھ لگتی ہے۔ لیکن اگر کوئی صاحبِ مال اس سے استفادہ کرنے کا سلیقہ جانتا ہو تو اس کے لیے اَلَہ دین کا چراغ ہے۔ بھلے وقتوں میں جب ایشیائی باشندوں کا اس سر زمین پر وَرُودِ مسعود جو ق در جوق ہوا تو گوروں کے اندر علاقائی تعصب کا پیدا ہونا فطری اَمر تھا۔ نوجوان گوروں کے گروہ رات کی تاریکی میں کسی اکیلے دکیلے ایشین کو دیکھتے تو براہِ راست اس کی ناک کو نشانہ بناتے۔ ناک کا بانسہ ٹوٹ جاتا۔ گورے تو نو دو گیارہ ہو جاتے۔ مضروب اور وکیل کی بن آتی۔ فوری طور پر مضروب کے ہاں وکیلوں کا تانتا بندھ جاتا۔ کورٹ کچہری میں کیس دائر ہوتا۔ مضروب کو پَلّے سے کچھ نہ دینا پڑتا۔ وکیل سے سودا یوں طے پاتا کہ بصورتِ جیت مقدمہ تینتیس فی صد وکیل کا کمیشن ہوتا اور چھیاسٹھ روپے مضروب کے ملتے۔ مقدمہ ہارنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ حکومت کو پَلّے سے کچھ نہیں دینا پڑتا۔ معاوضے کی ادائیگی کی مکلف انشورنس کمپنیاں ہوتیں۔ بعض وکلا رات کی تاریکی میں یا انتہائی تخلیہ میں مضروب سے پچیس فی صد پر بھی مک مکا کر لیتے۔ شرط فقط یہ ہوتی کہ مضروب سرِ عام وکیل کی فیس تینتیس فی صد ہی بتائے گا۔ ورنہ وکلا تنظیموں سے احتجاج کا خدشہ ہو گا۔ مسافر کو ان زمانوں کے ایک کیس کے کاغذات میں جھانکنے کا موقع ملا کیس ناک کا بانسہ ٹوٹنے کا تھا۔ وکیل کے دلائل پڑھ کر مسافر کو پہلی بار انسانی جسم میں ناک کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ دلائل کچھ اس قسم کے تھے۔ ’’می لارڈ !میرے موکل کی ناک اپنی اصلی ہیئت کھو بیٹھی ہے۔ یہ کوئی تیز دھار آلے کا زخم نہیں کہ دنوں میں بھر جائے۔ یہ تو ایک دائمی ناسور ہے۔ جو تاحیات مضروب کو احساسِ ذلّت میں مبتلا کیے رکھے گا۔ میرا موکل ایشیاکی اس قوم سے تعلق رکھتا ہے۔ جہاں سروں کا کٹ جانا کوئی معنی نہیں رکھتا ہے۔ ناک کٹنا دائمی ذلت ورسوائی اور موت سے بھیانک ہے۔جناب والا! یہ تو روایات و اقدار کی پاسداری کی بات ہے۔اور روایات و اقدار کی پاس داری کی قدر و قیمت ہر رائل میجسٹی کی سلطنتِ عظمیٰ کے کار پر داران سے بڑھ کر کون جان سکتا ہے۔ میں اس ضمن میں مزید دلائل دے کر عدالتِ عظمیٰ کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ صرف یہ کہنا چاہوں گا کہ انسانی جسم میں ناک وہ واحد عضوِ رئیس ہے جسے آفاقیت کا اعزاز حاصل ہے۔ آج بھی افریقہ کے برِّ اعظم میں وچ ڈاکٹر ناک کے ذریعے ہی بیشتر امراض کا علاج کرتے ہیں۔ مرض کوئی بھی ہو وچ ڈاکٹر اسے شیطان کی کارستانی جانتے ہیں۔ جو مریض کے جسم میں دخول کر چکا ہوتا ہے۔ سو وہ مریض کی ناک میں مخصوص پرندو ں کے پَروں سے خارش کرتے ہیں۔ مریض پر چھینکوں کا دورہ پڑتا ہے۔ ناک کے راستے رطوبتیں خارج ہوتی ہیں۔ گویا شیطان باہر نکل جاتا ہے اور مریض شفا پاتا ہے۔ جناب والا! میرے موکل کے مذہب میں حکم دیا گیا ہے کہ جب چھینک آئے تو اللہ کریم کا شکر ادا کیا جائے کہ نہ جانے کتنی غلاظتیں اور کثافتیں رحمتِ خداوندی کے طفیل ناک کے راستے خارج ہو گئی ہیں۔ گویا ناک ایک گیٹ وے ہے امراض خبیثہ کو باہر کی راہ دکھانے کا۔ مگر آج میرا موکل اپنی ناک کی بیشتر صلاحیتیں کھو بیٹھا ہے، اور اب اس کی جانِ عزیز ہر لمحہ خطرے میں ہے۔جنابِ والا!ملاحظہ فرمائیے میرا موکل نظر کی عینک ہاتھ میں پکڑے ہے۔ اس کی نظر کافی حد تک کم زور ہے۔ عینک ہی اس کا وہ واحد سہارا ہے جس کے ذریعے سے وہ دنیا کی رنگا رنگی دیکھ سکتا ہے۔ مگر آج اس کی پھُولی ناک عینک کا بوجھ سہارنے سے قاصر ہے۔اور۔۔۔۔‘‘ جج وکیل کی بات کاٹتے ہوئے انشورنس کمپنی کو پچاس ہزار پاونڈ مضروب کو ادا کرنے کا حکم سناتا ہے۔ پھر ایک زمانہ تک عزیز از جاں ہم وطن رات کی تاریکیوں میں تنِ تنہا ناک ہتھیلی پر رکھے ویران سڑکوں اور تنگ و تاریک گلیوں میں گھومتے تھے کہ شاید تعصب کا مارا گوروں کا کوئی گروہ ان کا مقدر جگا دے۔ اور اس طرح کئی پردیسیوں کے مقدر جاگے بھی۔
نئی گاڑی، نئے مکان، تازہ خریدی دکان کی آتش زدگی کو ہم کسی بد نیتی کا نہیں بل کہ اتفاق ہی کا شاخسانہ سمجھیں گے۔ مگر حیرت اس وقت ہوتی ہے جب گھر جل رہا ہوتا ہے۔ گاڑی سے شعلے اُٹھ رہے ہوتے ہیں۔ اور مالک مبارک بادی وصول کر رہا ہوتا ہے۔ آنے والوں کا مُنہ میٹھا کرا رہا ہوتا ہے۔
مسافر جوا خانہ میں تماشائے اہلِ کرم دیکھتا تھا۔ دیواروں پر نصب سکرینوں پر گھوڑے دوڑتے تھے۔ کتے دوڑتے تھے، لمبی سینگوں والے بیل دوڑتے تھے اور مختلف نسلوں کے لوگ داؤ لگاتے تھے۔ عزیزم جُوّاد کو پیاس محسوس ہوئی، ڈرنک خریدنے کاونٹر پر چلا گیا۔ تو اس کی خالی کردہ بوتھ پر ایک لمبے تڑنگے کالے نے قبضہ جمایا۔ اب کرنا خدا کا کیا ہوا کہ وکٹورین طرز کی بوسیدہ چھت سے لکڑی کی ایک بھاری سلیب اکھڑی اور کالے کے کندھے کو چھیلتی ایک دھماکے کے ساتھ زمین پر گری۔ ایک ہا ہا کار مچی لوگ باگ اِدھر اُدھر دوڑے اور کالے کا گھیراؤ کر لیا۔ قریبی دوست احباب اپنے اپنے ناخنوں، پنسلوں اور پتا نہیں کن کن چیزوں سے کالے کے چہرے اور گردن پر گل کاریاں کرنے لگے۔ سب ہنستے تھے، قہقہے لگاتے تھے۔ جن میں کالے کے قہقہے سب سے بلند تھے اور دور کونے میں عزیزم جوّاد اکیلا دھاڑیں مار روتا تھا اور گریہ کرتا تھا کہ ’’اے خدا بزرگ و برتر یہ شُبھ گھڑی مجھ پر کیوں نہ آئی۔ کیا میں اتنا ہی گنہ گار اور نا پسندیدہ ہوں ؟ آخر کالے نے زندگی میں ایسی کون سی عظیم الشان نیکی کی ہے ؟ کیا مجھے اسی لمحے اس مقام سے ہٹنا تھا، جہاں سلیب گرنے والی تھی۔ ‘‘مسافر کو احساس ہوا کہ سیانوں نے واقعی درست کہا ہے کہ روتے وقت انسان اکیلا روتا ہے اور ہنستے وقت ایک زمانہ ساتھ ہوتا ہے اور یہاں یہی ہو رہا تھا۔ اب کالے کے دوست گھیرا ختم کریں گے تو وکلا گھیراؤ کریں گے۔ قسما قسم کی پٹیاں پڑھائیں گے۔ کچہری سجے گی۔ انشورنس کمپنیاں تحقیقی ٹیمیں بھجیں گی۔ کالے کو لاکھوں پاونڈ ملیں گے۔ وہ کسی افریقی ملک چلا جائے گا۔ وہاں کسی بڑے شہر میں اپنا جوا خانہ کھولے گا۔ دیہات میں ایک فارم بنائے گا۔ کسی چی گویرا قسم کی انقلابی تنظیم کا رکن بنے گا۔ تنظیم کے پردے میں کولمبیا کنٹیکٹ پیدا کرے گا اور کوئی بعید نہیں کہ کچھ مدت بعد ایک عظیم انقلابی لیڈر کی حیثیت سے انگلستان کے دورے پر آئے اور سٹیٹ گیسٹ کا درجہ پائے گا۔ مسافر دیکھتا تھا سوچتا تھا اور عزیزم جوّاد کو تسلی دیتا تھا۔ ‘‘ برخودار اللہ کی رحمت سے مایوسی کفر ہے۔ مستقل مزاج بنو۔ آتے رہو۔ ابھی بہت سی بوسیدہ سلیبیں چھت پر اڑی کھڑی ہیں۔ کبھی تو بھاگ جاگیں گے۔ ‘‘
یہ مانچسٹر ہے۔ ٹیکسی ڈرائیور اکیلا جا رہا ہے۔ سڑک زیرِ مرمت ہے۔ اچانک ٹیکسی کا پہیہ ایک کھڈے میں پڑتا ہے۔ ایکسل ٹوٹ جاتا ہے۔ ڈرائیور ٹیکسی چھوڑ کر سیدھا انشورنس وکیل کے دفتر پہنچتا ہے۔ داستانِ درد سناتا ہے۔ وکیل اِدھر اُدھر فون کرتا ہے۔ چند لمحوں میں تین ہم وطن آ جاتے ہیں۔ یہ بد قسمت ٹیکسی کی سواریاں ہیں۔ جو حادثہ کے وقت گھروں میں سَو رہے تھے۔ اب کاغذوں کی خانہ پُری ہوتی ہے۔ دو مسافروں کی ریڑھ کی ہڈی مجروح ہو ئی ہے اور اس انداز سے کہ زخم کا نشان نہ ہے۔ بس ایک درد اور نادیدہ اذیت ہے۔ اسے طبی اصطلاح میں Whip Lash کہتے ہیں۔ ڈرائیور کو سَر پر نادیدہ چوٹ آئی ہے۔ جس کے درد کو وہ خود ہی محسوس کر سکتا ہے۔ تیسری سواری دل کا مریض ہے۔ جس کی نبض یوں بے ربط ہو گئی ہے کہ کوئی پتا نہیں کب داغِ مفارقت دے جائے۔ قصہ مختصر یہ کہ انشورنس کا ایک جامع کیس تیار ہے۔ ڈرائیور کو نئی ٹیکسی کی قیمت ملے گی۔ سَر درد کا معاوضہ ملے گا۔ تینوں سواریوں کو سترہ سو پونڈ فی کس ملے گا۔ جس میں سے آدھے کا مستحق انشورنس وکیل ہو گا۔ انشورنس وکیل ایک اچھا انسان ہے جو کاروبار کے علاوہ ایک درد مند دل کا بھی مالک ہے اور دوست احباب کو بھی اس چشمۂ رواں سے سیراب کر نے کا سلیقہ رکھتا ہے۔ مسافر کو بھی ایک ایسی ٹیکسی کی سواری کا اعزاز بخشنے کی پیش کش ہوئی۔ مگر ایک معمولی سی ٹیکنیکل خامی کی بنا پر مسافر اس پیش کش سے استفادہ نہ کر سکا۔ یعنی اللہ کو حاضر ناظر جان کر بیان دینا تھا اور یہی کام مسافر کے بس کا نہ تھا۔ ایک تو یہ انگریز ہر کام میں اللہ کو بیچ میں لے آتے ہیں۔ حاضر ناظر تو ذاتِ پاک ہے ہی۔ اسے ان چھوٹے موٹے کاموں میں لانے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے۔ اگر وہ سیدھا سیدھا سوال کرتے کہ کیا مسافر ٹیکسی میں موجود تھا۔ تو شاید مسافر حسبِ منشا وکیل انشورنس کے سامنے اثباتی اشارہ کر دیتا۔ مگر اللہ میاں کو حاضر ناظر جان کر کہنا ذرا مشکل پڑ گیا۔ خیر کوئی بات نہیں۔ تُو نہیں اور سہی۔ کچھ مدت پہلے ایک اور چلن عام تھا۔ ہوٹلوں سے کھانا کھا کر نکلے۔ آگے دیسی ڈاکٹر چشم براہ ہوتے تھے۔ فوڈ پوائزننگ کا سرٹیفیکیٹ لیا۔ ہوٹل والوں کو عدالتی کیس کی دھمکی دی ماورائے عدالت سودا بازی ہوئی اور پھر اسی شام اسی ڈاکٹر کے اعزاز میں اسی ہوٹل میں ڈنر کا اہتمام۔ مگر اب بیشتر ہوٹل چوں کہ اپنے ہی لوگوں کے ہیں۔ سَو نہلے پر دہلا کا خدشہ رہتا ہے۔ آہ! کتنا دکھ ہوتا ہے یہ جان کر کہ ایسی ایسی کہنہ روایات ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ مگر خیر ایسی بھی مایوسی نہیں۔ نئے دور میں نئی روایات ایجاد ہو رہی ہیں۔ جو پہلے سے بڑھ کر محفوظ اور مہذّب ہیں۔

بوڑھا سکاٹ کا شت کار

بس بریڈ فورڈ سے برمنگھم کے لیے نکلنے والی تھی مسافر نے جب سے سرزمین انگلیسیہ میں قدم رکھا ہے مستقلاً روزنامہ ایکسپریس کا خریدار رہا ہے، اور روزانہ یہی پرچہ خریدتا ہے۔ مگر آج ڈیلی ایکسپریس ہاتھ میں اُٹھائے ہونے کے باوجود مسافر نے ڈیلی مرر خرید لیا ہے۔ سبب اس خرید کا یوں ہے کہ ڈیلی مرر(Mirror) کے صفحہ اوّل پر ایک عام آدمی کی تصویر ہے، جو نہ وارثِ تاج و تخت، نہ حکومتی ایوانوں کا سر براہ، نہ پردۂ سیمیں کا ستارہ، محض ایک عام سا کھردرا کاشت کار چہرہ، جس کی جھرّیاں ماضی کی مشقتوں کا بوجھ اٹھائے ہیں۔ بالکل ایسے جیسے اپنے ہاں کاشت کار بوڑھے ہوتے ہیں۔ آخر کیوں ایک ایسے معتبر روزنامے کے صفحۂ اوّل پر جلوہ افروز ہے کہ جہاں تصویر چھپوانے کی حسرت بڑے بڑوں کو تا حیات رہتی ہے اور پوری نہیں ہو پاتی۔ بالخصوص ہماری تیسری دنیا کے رہنما لاکھوں پاونڈ خرچ کرتے ہیں۔ رشوتیں دیتے ہیں، لابنگ کے نام پر، تاکہ تصویر چھپ سکے۔ مگر نہیں چھپتی۔ تو پھر یہ کیوں ہے۔ تجسس سے مجبور مسافر اسّی پنس خرچ کرتا ہے۔ اور ایک انوکھی داستان پڑھنے میں محو ہو جاتا ہے۔ کوئی عام سا سکاٹ کا شت کار۔ زندگی بھر کماتا رہا اور راہِ خدا میں دونوں ہاتھوں سے لٹاتا رہا۔ اسی کھیل میں بوڑھا ہو گیا اور اب زندگی کی آخری سرمایہ کاری کرتا ہے۔ ایک کروڑ پاونڈ سکہ رائج الوقت۔ مسافر شرحِ مبادلہ کا حساب کرتا ہے۔ ایک ارب چوبیس کروڑ روپیہ پاکستانی بنتا ہے۔ یہ کُل پونجی ہے بوڑھے کی تین بیٹوں کے علاوہ۔ بوڑھا تمام اثاثے بیچ، کل پونجی جمع کرتا ہے۔ فی سبیل اللہ چیریٹی میں دیتا ہے اور خالی ہاتھ کونسل کے مکان میں اٹھ جاتا ہے۔ جہاں چھت اور دو وقت کی روٹی مہیا کرنا حکومتی ذمہ داری ہے۔ اخبار نویس بوڑھے سے ایک بے معنی سوال کرتے ہیں۔ اس سودے کا کیا فائدہ تمام عمر کی کمائی ایک لمحے میں گنوا دی۔ بوڑھا کہتا ہے۔ ’’توشۂ آخرت پاس ہے نہیں۔ وقت کم ہے۔ کون جانے کب بلاوا آ جائے۔ جتنا جلد سامان آگے بھجوا دوں سفر آسان رہے گا۔ ہر دو جہانوں کا ‘‘ صحافیوں کا دوسرا سوال پہلے سے بھی زیادہ بے معنی ہے۔ ’’بچوں کا کیا بنے گا؟‘‘ بوڑھا ایسا با معنی جواب دیتا ہے کہ سوچ کے ہزار در کھل جاتے ہیں۔’’اللہ زندہ و قائم ہے۔ بچوں کے ہاتھ پاؤں سلامت ہیں۔ ہلاتے رہیں گے تو مالک بخل نہیں کرے گا، رزق دینے میں۔‘‘ مسافر چونک اٹھتا ہے۔ یہ جواب توہ وہ کہیں پہلے بھی سن چکا ہے۔ مگر کہاں یاد نہیں کر پاتا اور باہر کے مناظر سے چشم پوشی کر کے تاریخ کی ورق گردانی کرنے لگتا ہے۔ مسافر اپنے خیالوں میں گم ہے۔ ساتھ کی نشست میں بیٹھی انگریز خاتون جو آغازِ سفر ہی میں کوئی معما Puzzleحل کرنے میں مصروف ہے۔ مسافر کو متوجہ کر تی ہے۔ حل بارے مدد کی خواہاں ہے۔ اوپر سے نیچے کے خانے مکمل کر چکی ہے۔ بائیں سے دائیں خالی جگہ پر کرنےکو لفظ ہاتھ نہیں آ رہا۔ جُملہ کچھ یوں ہے۔ انسان لباس سے نہیں بل کہ اعمال سے تکریم پاتا ہے۔ خاتون کے زیرِ غور اعمال کے جو چند ترجمے تھے وہ متعلقہ خانے میں درست نہ جمتے تھے۔ مسافر جملے کو بار دِگر پڑھتا ہے۔ تو لفظ اعمال کا ترجمہ بھی ہاتھ آ جاتا ہے۔ اور تاریخ کا گم شدہ صفحہ بھی۔ جلدی سے خاتون کوDeedsبتاتا ہے۔ جو بالکل درست بیٹھتا ہے متعلقہ خانے میں۔مسافر تاریخ کے اوراق ترتیب دینے میں منہمک ہو جاتا۔
دربار سجا ہے۔ ایک ایسا انوکھا دربار کہ چشم فلک نے نہ پہلے کبھی دیکھا ہو نہ پھر دیکھ پائے گی۔ شہنشاہ کونین جلوہ افروز ہیں۔ تختِ شاہی فقط ایک بوریا، اور تاج کیسا؟ جبینِ پُر انوار پر نشانِ سجدہ۔ سماعتیں کلام شیریں کی لذتیں سمیٹنے گوش بر آواز ہیں۔ کہ لب کھلتے ہیں۔’’اے خدائے واحد کے پیغام برو! اے شمعِ رسالت کے پروانو! سنو کہ ایک بار پھر معرکۂ خیر و شر در پیش ہے۔ جانتا ہوں کہ تم سر بکف ہو، مانتا ہوں کہ تمنائے شہادت میں مضطرب ہو۔ گواہ ہوں کہ تم نے راہِ حق میں نقدِ جاں لٹانے میں کبھی تساہل نہیں کیا۔ مگر سامانِ حرب کا انتظام حکم الٰہی ہے۔ جاؤ اور اپنے اپنے گھروں سے متاع فاضل اٹھا لاؤ کہ اسبابِ دنیوی کا اتمام حجّت ہو۔ اتمام حجّت ہو اس امر کا کہ تم جانوں کے ساتھ ساتھ مال کی قربانی میں بھی بے مثل ہو۔ کوئی متاعِ عزیز لاتا ہے۔ کوئی نصف لاتا ہے۔ہر کوئی دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا خواہاں ہے۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آتے ہیں تو سوال ہوتا ہے۔ ’’سب کچھ لے آئے ہویا کچھ اہل و عیال کے لیے بھی چھوڑا ہے۔‘‘ جواب دیتے ہیں ’’حضور یہ تو متاعِ فاضل ہے جو لایا ہوں۔ زرِ اصل تو گھر والوں کے لیے چھوڑ آیا ہوں۔’’ اور وہ زرِ اصل کیا ہے ؟‘‘ ’’حضورؐ اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی۔‘‘ بادشاہت کا دور ہے۔ شہزادوں کی چہل پہل ہے وہ بھی ایک شہزادہ ہے۔ مگر ہر معاملے میں دیگر شہزادوں سے مختلف۔ حُسن و جوانی میں ایسا یکتا ہے کہ گلیوں سے گزرتا ہے تو اس کی آواز پاپر کئی دریچے کھل جاتے ہیں۔ کنواریوں کی جھکی غزالی آنکھیں جو کبھی نہ اٹھتیں مگر آسمان دیکھنے کو۔ اس آواز پا پر ایسی اٹھتیں کہ پھر جھکنا بھول جاتیں۔ کتنے ہی دلوں کی دھڑکنیں بڑھ جاتیں۔ کتنی ہی نگاہوں میں امید و حسرت کے چراغ جل اٹھتے مگر وہ ایک شانِ بے نیازی سے گزر جاتا۔ وہ گزر جاتا اور کلیاں تا دیر اس کے لباس اور بدن سے اٹھنے والی خوش بوؤں سے مہکتی رہتیں۔ باہر کے ممالک سے آنے والے سمورو کتاں کے سوداگر اس وقت تک اپنے مال کی گانٹھیں نہ کھولتے جب تک کہ یہ انوکھا، لاڈلا شہزادہ ایک نظر ڈال کر سامانِ بے مثل انتخاب نہ کر لیتا۔ آدابِ جوانی کی ہر ہر ادا سے آگاہ ہونے کے باوجود اس نے دیگر شہزادوں کے بر عکس دنیاوی آلائشوں اور فسق و فجور کی روش سے اپنے آپ کو الگ رکھا۔ پھر ایک روز اسے مسندِ شاہی پر بٹھا دیا گیا۔ تو چشمِ تماشا نے ایک انوکھا منظر دیکھا۔ اس نے مسندِ شاہی کو خرقۂ خلافت پہنا دیا۔ بنی امیّہ کے گزرے بادشاہوں کے دور میں عوام الناس سے چھین کر شہزادگان میں بانٹی گئی جا گیروں کی واپسی کی ٹھانی۔ حکمِ الٰہی سمجھ کر مشاورت کا اہتمام کیا، اتمامِ حجت کے لیے۔ مکحول آئے۔ میمون آئے، ابن قلابہ آئے۔ مشورہ طلب کیا۔ مکحول اور میمون کی زبانیں رکتی تھیں کہ مزاجِ شاہی کی برہمی کے خوف ناک مناظر ابھی ان کی نگاہوں میں تازہ تھے۔ ابنِ قلابہ زیرک تھے۔ بیٹے سے مشاورت کی راہ سجھائی۔ سو عبدا لمالک کو بلایا گیا رائے طلب کی گئی۔ بیٹے نے دو گھڑی بچار کی مہلت مانگی۔ دوبارہ حاضر ہوا۔ خلیفہ کی استراحت کا وقت تھا۔ بیٹے نے خلوت میں داخل ہو کر بآوازِ بلند رائے دی کہ ’’حضور ! جاگیریں حق داروں کو لوٹا دیں ورنہ آپ بھی اُنھی ظالموں اور غاصبوں میں شمار ہوں گے۔‘‘ ’’جانِ پدر! درست کہا تم نے ابھی وقت آرام ہے۔ بعد از نمازِ ظہر منادی کرائی جائے گی۔‘‘ بیٹا ’’حضور! بجا فرمایا مگر کون ضامن ہے کہ نمازِ ظہر تک آپ کے جسم و روح کا رشتہ بر قرار رہے گا۔‘‘ باپ لرز اٹھتا ہے۔ بستر چھوڑ تا ہے اور مسجد میں جا تمام شہزادوں اور عزیز و اقربا کے نام جاگیروں کے خریطے اور وثیقے ایک ایک کر کے قینچی سے کاٹتا ہے اور پھینکتا جاتا ہے۔ ایک بار پھر خلافتِ راشدہ کے دور کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔
ذاتی ملازم مزاحم سوال کرتا ہے ’’آ پ کے بچوں کا کیا ہو گا؟‘‘ جواب ملتا ہے :’’ ان کا مالک زندہ و قائم ہے۔ ہاتھ پاؤں سلامت ہیں ہلاتے رہیں گے تو مالک بخل نہیں کرے گا۔‘‘ مسافر کانپ جاتا ہے۔ کہاں وہ ستارے جن کے دم قدم سے آسمان والے کا پیغام اہلِ زمین تک پہنچا۔ اور کہاں یہ بوڑھا سکاٹ کاشت کار، کہاں ایک ادنیٰ غیر مسلم اور کہاں کائنات بسیط کی اعلیٰ ترین ہستیاں۔ نعوذ با للہ۔ مقصد تقابل نہیں۔ اظہارِ ندامت ہے۔ گاڑی کب کی برمنگھم پہنچ چکی ہے۔ سواریاں اتر رہی ہیں۔ مسافر دو بارہ ڈیلی مرر اٹھا تا ہے۔ مگر ہر بار بوڑھے سکاٹ کی چُبھتی نگاہوں کا سامنا ہے۔ جو سوال کرتی ہیں۔ ’’مسافر! تمہارے ملک میں تمہاری ملت میں کوئی ایک بھی مجھ جیسا با حوصلہ اور اللہ پر ایمان کا مل رکھنے والا ہے۔ نہیں ہے نا تمہارا چہرہ بتا رہا ہے کہ تمہاری قوم میں کوئی ایک بھی بوڑھا سکاٹ کاشت کار نہیں۔مسافر نہایت فاتحانہ انداز میں بوڑھے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیتا ہے۔ ’’اور یہ ابھی جو دو مثالیں دی ہیں۔‘‘ بوڑھے کی آنکھوں میں چھپا استہزا دو چند ہو جاتا ہے۔ نگاہیں کہتی ہیں۔’’بجا کہ تھے تو آبا ہی تمہارے وہ مگر تم کیا ہو۔‘‘ مسافر لا جواب ہو جاتا ہے، اور اپنے ترکش کا آخری تیر استعمال کرتا ہے۔ بوڑھے کاشت کار کو زیر لب ایک گندی سی گالی دیتا ہے۔ ’’کافِر، دوزخی ‘‘اور ڈیلی مرر کو سیٹ پر پھینک، سر جھٹک، گاڑی سے اتر آتا ہے۔
لاری اڈ ے سے باہر نکل کر بلیک کیب پکڑ، پچھلی سیٹ پر دراز ہو جاتا ہے۔ بوڑھے سکاٹ کی چُبھتی نگاہیں ہنوز دامن گیر ہیں۔ مسافر ان نگاہوں سے پیچھا چھڑانے کے لیے حیلہ کرتا ہے۔ اونہہ بڑا آیا چیریٹی دینے والا ایسے ہزاروں لاکھوں برطانوی شہری روزانہ چیریٹی میں حصہ ڈالتے ہیں۔ ہر دکان پر چیریٹی وصول کرنے کا ڈبہ دھرا ہے۔ سودا لیا، پیسے دیے اور بچی کھچی ریز گاری ڈبے میں ڈال دی۔ ہر محلے میں چیریٹی بِن موجود ہیں۔ استعمال شدہ ڈھیروں کپڑے اور دیگر اشیا جو قابلِ فروخت ہیں ان ڈبو ں میں ڈال دی جاتی ہیں۔ غیر سرکاری تنظیمیں ہمہ وقت متحرک رہتی ہیں اور وقتاً فوقتاً ان ڈبو ں کو خالی کرتی رہتی ہیں۔کپڑا، فرنیچر اور دیگر سینکڑوں ضروریاتِ زندگی لائی جاتی ہیں۔ ان کی چھانٹی ہو تی ہے۔ پھر مخصوص دکانوں پر پہنچائی جاتی ہیں۔ جہاں اہلِ حاجت کے ہاتھوں مناسب داموں بکتی ہیں۔ پیسہ جمع ہو تا ہے۔ جو دنیا بھر میں آفاتِ ارضی و سماوی کا شکار ہونے والے انسانوں پر خرچ ہوتا ہے۔ مگر کوتاہ اندیشوں، بونوں اور سکڑے دماغوں نے یہاں بھی تنقید کا پہلو تلاش لیا ہے۔ ایک سنجیدہ بزرگ فرماتے تھے۔ چیریٹی میں پیسہ نہیں دینا چاہیے۔ یہ گرجوں کی سرگرمیوں پر خرچ ہوتا ہے۔ جس سے اسلام خطرے میں پڑ جانے کا اندیشہ ہے۔ لا حول ولا قوۃ۔ سچ تو یہ ہے کہ انگلستان میں گرجے تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ مذہب پسپا ہو رہا ہے۔ مگر خدا کا تصور اور انسانیت کی بھلائی کا جذبہ فروغ پا رہا ہے۔ کارِ خیر کے ناقدین زبانیں دراز کر تے ہیں اور اہلِ خیر دستِ جود وسخا۔ خود پاکستانیوں نے اپنی دکانوں پر چیریٹی وصولی کے ڈبے رکھے ہیں۔ کیا وہ اتنے ہی احمق ہیں کہ گرجا کی نشو و نما کے اسباب کریں گے۔ بلیک کیب____ کیمپنگ میں داخل ہوتی ہے۔ اور بوڑھے سکاٹ کی چُبھتی آنکھوں سے جان چھوٹتی ہے۔

سکاٹ لینڈ

سکاٹ کنجوس ہیں۔ آئرش بے وقوف ہوتے ہیں۔ ویلش اچھے اور حکومتیں کرنے کو جنم لیتے ہیں۔ Born to Govern اور برٹش بہادر اور مہم جو ہوتے ہیں۔ یہ وہ جملہ ہے جو اکثر برٹش کہتے ہیں۔ اور ان کی کتابوں میں درج ہے۔ مگر ہم اس سے متفق نہیں۔ہمارا مشاہدہ ہے کہ اقتدار پر قابض افراد یا اقوام سے اپنے وطن کے لوگ حقوق اور شہری آزادیوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تو اُنھیں ایسی ہی کہاوتیں سننا پڑتی ہیں۔ اپنے ہاں پٹھانوں اور سکھوں کی تضحیک یوں ہی تو نہیں کی جاتی۔
15جون جمعۃ المبارک کو صبح سویرے سکاٹ لینڈ روانگی کا ارادہ مصمم تھا۔ مگر صبح صبح سرفراز خان نے فون پر بتایا کہ پاکستان میں رفاقت کے والد فوت ہو گئے ہیں۔ رفاقت کی پاکستان روانگی کا بندوبست کر نا ہے اور اب بعد دوپہر روانگی ہو گی۔ ایک ارادہ ٹوٹ گیا ، ایک مزید بندھ گیا۔باب العلم نے فرمایا تھا کہ ’’میں نے اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے اپنے رب کو پہچانا ہے۔‘‘بے شک انسان ارادے باندھتا ہے پر قدرت کو کچھ اور منظور ہوتا ہے اور ہوتا وہی ہے جو قدرت کو منظور ہو۔ وہ زندگی کی چہل پہل سے بھر پور ایک ہنستی مسکراتی بستی تھی۔ جہاں مسافر سرِ شام اُترا۔ مقامی دوستوں کے ساتھ بے فکری کی شبِ نشاط طے تھی۔ رات گذری، صبح دم واپسی کا ارادہ باندھا۔ دوستوں کا اصرار تھا کہ فقط ایک رات اور قیام کرو۔ نشاط اور بے فکری کی چند گھڑیاں مزید اکٹھے گزاریں گے۔ دن بھر اصرار و انکار کی ضد رہی۔ انکار جیتا اور اصرارِ وعدۂ فردا پر شاکر ہوا۔ سہ پہر مسافر کی روانگی ہوئی۔ رات گئے گھر پہنچا۔ آرام کی نیند سویا۔ اُدھر وقت قضا آ پہنچا تھا۔ رات بھر کی موسلا دھار بارش کے پانیوں نے ڈاڈر بستی کے اوپر کھڑے پہاڑ کو توڑا۔ ٹنوں وزنی پتھروں نے بستی کا رخ کیا۔ سورج نے آنکھ کھولی تو نہ بستی تھی نہ بستی والے۔ فوج پہنچی۔ مشینیں لائی گئیں۔ کچھ تنِ مردہ نکالے گئے۔باقی کو مہیب پتھروں نے راہ دینے سے انکار کیا۔ زمانہ گزر گیا۔ آج بھی بستی کے کھنڈرات فاعتبروا یا اولی الابصار کی صدائیں بلند کرتے سنائی دیتے ہیں۔
اب بھی موسمِ بہار انگڑائی لیتا ہے تو مسافر کی چشمِ تخیل ان پہاڑی دروں تک جا پہنچتی ہے۔ جنھیں قدرت نے حسن کی فراوانی عطا کی ہے۔ ان ہی موسموں میں چوٹیوں پر جمے گلیشیرز آنکھ کھولتے ہیں۔ تو برساتی پہاڑی نالوں میں سبز پانیوں کے سانپ سر سرا نے لگتے ہیں اور مسافر سامانِ سفر باندھ، چل کھڑا ہوتا ہے۔ ایسے میں جب کبھی شاہراہِ ریشم کا سفر درپیش ہو تو ڈاڈر کے مقام سے گزرتے ہوئے ہاتھ بے ساختہ ان دوستوں کی مغفرت کے لیے اٹھ جاتے ہیں۔ جو ایک رات تھے۔ بزم سجاتے تھے اور دوسری رات۔۔۔۔اور آج ان کھنڈرات میں نیچے کہیں بے گور و کفن پڑے ہیں۔ بے شک انسان ارادے باندھتا ہے اور قضا مسکراتی ہے۔
دن بھر بارش ہوتی رہی۔ رات آٹھ بجے سرفراز خان، شیراز خان، خالد خان اور چوہدری نذیر ایک بڑی گاڑی میں بریڈ فورڈ پہنچے۔ وہ لوگ رفاقت کو جہاز میں بٹھا کر سیدھے ادھر آئے تھے۔مسافر کو لیا اور بھیگے سرد موسم میں سکاٹ لینڈ کی راہ لی۔ یہ نگری مسافر کے خوابوں کی سر زمین ہے۔ جہاں برسوں پہلے مسافر کا گزر ہوا تھا۔ ایک ایسی سر سبز و شاداب زمین جسے ایک بار دیکھیں تو دوسری بار دیکھنے کی ہوس ہوتی ہے۔ اس سفر میں یہ پہلی لمبی ڈرائیو تھی۔ اگرچہ رات تاریک تھی، مگر موٹر وے پر برقی روشنیوں کی وہ چکا چوند کہ گاڑی کی ہیڈ لائیٹس بے معنی ہو کر رہ جاتیں۔ بریڈ فورڈ سے کہگلی تک تو آبادیوں سے گزر ہوتا ہے۔ پھر ویرانوں کا سفر۔ ہماری ابتدائی منزل گلاسگو ہے جو سکاٹ لینڈ کا صدر مقام ہے۔ مسافر ایک زمانہ پہلے گلاسگوتا بریڈ فورڈ اور واپسی کا سفر بذریعہ ٹرین کر چکا تھا۔ وہ دن کا سفر تھا۔ ریلوے ٹریک کے دونوں جانب سَر سبز چراگاہیں اور بھیڑوں، گھوڑوں اور گایوں کے فارم تھے۔ اس سفر میں ایک ہندو لڑکا ہم سفر تھا۔ اور گلاسگو سے ٹرین کمپارٹمنٹ میں ایک انگریز خاتون شریک سفر بنی۔ جو ایک چھوٹے سے برطانوی گاؤں میں دکان داری کرتی تھی چھوٹی سی دکان جہاں فروخت کے لیے وہ سودا سلف گلاسگو سے لاتی۔ آج بھی اس کے پاس سامان سے بھرے دسیوں تھیلے تھے۔ موجودہ سفر میں بھی مسافر کو ریل گاڑی پر سفر کا موقع ملا ہے۔ مگراس زما نے کی ریل گاڑیوں اور آج کی گاڑی میں بڑا فرق ہے۔ تب پوری ریل میں چھ چھ نشستوں والے کُوپے ہوتے تھے۔ تین تین نشستیں آمنے سامنے اور بیچ میں ٹیبل۔آج کی ٹرین میں یہ کُوپے نہیں بل کہ بڑے ہال ہیں۔ جیسے اپنے ہاں کی ٹرینوں میں ہوتے ہیں۔ گلاسگو سے نکلنے والی گاڑی گردو نواح کے منظروں کو سمیٹی پوری رفتار سے رواں دواں تھی۔ انگریز خاتون ہر دو مسافروں کی خود ساختہ گائیڈ بنی۔ مختلف گزرنے والے مناظر کی تفصیل بتاتے بتاتے پٹڑی سے اتر جاتی اور سکاٹ لینڈ والوں کی جدو جہد پر حریفانہ تبصرہ شروع کر دیتی۔ اب اس خاتوں کی منزل قریب تھی۔ اس کے گاؤں سے ادھر ریلوے لائن سے قریب مسافر کو ایک زرعی فارم نظر آیا۔ جہاں کچھ عجیب سے چوکور بنڈل بارش میں بھیگتے تھے۔ خواہش پیدا ہوئی کہ دیکھا جائے۔ اگلے چھوٹے سے دیہاتی سٹیشن پر ٹرین رکی۔ انگریز خاتون نے یہاں اترنا تھا کہ یہی اس کی منزلِ مقصود تھی۔ مسافر نے از راہِ ہمدردی تھیلے اُتارنے میں اس کی مدد کی اور خاتون نے از راہِ مروّت چائے کی دعوت دی۔ ساتھ ہی یہ نوید بھی سنائی کہ اسی ٹکٹ میں دوسری گاڑی منزل تک پہنچا دے گی۔ مَن کی مراد بَر آئی۔ مسافر نے اس شرط پر دعوت قبول کر لی کہ زرعی فارم دکھانا ہو گا۔ چنانچہ خاتون کے گھر پہنچے۔ گرما گرم چائے کا کپ معہ سنیکس پیا۔ خاتون نے دونوں ساتھیوں کو ایک ایک چھتری پکڑائی۔ایک خود لی اور زرعی فارم دیکھنے چلے۔ یہ ایک بڑی سی بلڈنگ تھی جس میں فقط ایک ٹریکٹر سے تمام کام لیے جاتے تھے۔ وہاں پہنچ کر کھلا کہ وہ جو چوکور بکس نظر آتے تھے وہ پریس کیے بھوسے کی بیلیں تھیں۔ جو مدّت دراز تک بارش میں بھیگنے کے با وجود خراب نہیں ہوتیں۔ وطنِ عزیز میں ان زمانوں میں اس کا تصوّر تک نہیں تھا۔ اور تصوّر تو ان شاپنگ بیگز کا بھی نہیں تھا جو آج ملک کے کونے کونے میں آلودگی پھیلانے میں بہترین معاون کا کر دار ادا کر رہے ہیں۔ مگر وہ وہاں تھے۔ موجودہ سفر میں مشاہدہ کیا ہے کہ بھوسے کی ان چوکور بیلوں نے ترقی کرتے کرتے گول شکل اختیار کر لی ہے۔ آج کھیتوں میں گول بیلیں نظر آتی ہیں۔ جن پر پلاسٹک چڑھی ہے۔ اس زمانے میں سکاٹ لینڈ والوں کی انگلینڈ سے کشمکش جاری تھی۔ سکاٹ لینڈ کو انگلینڈ سے جدا کرنے والا ایک چھوٹا سا برساتی نالا تھا جس کے اُدھر اُنھوں نے ایک لکڑی پر ننھا منا جھنڈا گاڑ رکھا تھا جو ان کی آزادی کی علامت تھا۔ جھنڈے کے بالمقابل سکاچ وہسکی کا مشہور زمانہ کار خانہ جس کی بیرونی میل بھر لمبی دیوار پر جانی واکر والا چھڑی بردار بابا لمبا ڈگ بھرتا، پینٹ کیا ہوا تھا۔ وہ دن کا اور ریل کا سفر تھا۔ آج رات تھی اور موٹر وے کا سفر، اُس سفر میں ہمارا رہنما قیاس تھا اور آج ٹوم ٹم۔ یہ نیوی گیشن سسٹم کی حامل دو مربع انچ کی مشین ہے منزلِ مقصود اس میں فیڈ کر دیں پھر آپ کا کام گاڑی ڈرائیو کرنا اور اس کی ہدایات کے بموجب موڑ مڑنا ہے۔ مسافر خود بخود منزل پر پہنچ جائے گا۔ اس میں بصری سہولت بھی ہے اور سمعی بھی وجہِ تسمیہ اس کی یہ ہے کہ پہلے جس کمپنی نے متعارف کرائی اس کا نام ’’ٹوم ٹم‘‘ ہے۔ اب متعدد کمپنیاں بنا رہی ہیں۔ مختلف نام ہیں پر زبانِ زدِ عام ٹوم ٹم ہی ہے۔ سکرین پر تیر کا نشان رہنمائی کرتا ہے اور جہاں موڑ مڑنا ہو۔ نسوانی آواز قبل از وقت آگاہ کر دیتی ہے۔ مردانہ آوازیں بھی بھری جاتی ہیں مگر خریدار کم کم ہیں۔ اگر کوئی قسمت کا مارا مردانہ آواز والی مشین خرید لے تو دوستوں کی طعن و تشنیع کا شکاربن کر فی الفور بدلوا لیتا ہے۔ اگر چہ موجد مرد ہے مگر آفرین اس کی جبلت کو کہ معمول ہمیشہ عورت کو بنائے گا۔ کہانی کار خود ہو گا۔ کر دار عورت کو چنے گا۔ رقص کے بھاؤ خود طے کرے گا۔ رقص عورت سے کرائے گا۔ پسِ پردہ ہدایت کاری خود کرے گا۔ پیش منظر میں عورت کو سجائے گا۔ غالباً مشرقی تصوّف میں سچ ہی کہا گیا ہے کہ انسان بنیادی طور پر ایک نسوانی کر دار ہے اور اللہ جمیل مردانہ و جاہت کا حامل۔ کہانی کار وہ خود ہے اور کر دار ادا کرنے کو انسان کو تخلیق کیا۔ ہدایت کارپردے میں ہے اور اداکار ظاہر رات کا ڈیڑھ بجتا تھا جب قافلہ منزلِ مقصود پر پہنچا۔ میزبان ملک ندیم گھر کے سامنے سڑک کنارے راہ تکتے تھے۔ گرما گرم کھانا کھلایا اور جائے قیام تک رہنمائی کی یہ ان کا ذاتی فلیٹ تھا۔ شب بسری کے سبھی سامان موجود تھے۔ رات کے تھکے ماندے صبح دیر سے اٹھے، ناشتہ خود تیار کیا۔ اسی دوران میزبان دن کا کھانا گھر سے تیار کر لائے اور قافلہ عازمِ سفر ہوا۔ مسافر کی خواہش تھی کہ ساحلی شہر گرینگز ماوتھ کو چھوا جائے جس کے ساتھ چوتھائی صدی پہلے کی کچھ خوب صورت یادیں وابستہ تھیں۔ سو اُدھر کا رُخ کیا۔ مگر یہ تو اجنبی راستے تھے۔ ہر چند شناسائی کھوجنے کی کوشش کی ناکام رہے۔ وہ پہلے والی تنگ سڑک، پہاڑیوں کی چوٹی پر یوں لیٹی تھی۔کہ چلتی گاڑی کا ایک طرف والا پہیہ کناروں کو چھوتا اور ہرآن خدشہ رہتا کہ بس اب گری کہ جب گری اور نیچے ا تھاہ گہرائیاں جنھیں دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا تھا۔ بالکل اپنی مری کی پُرانی سڑک جیسی مگر آج وہ وہاں نہ تھی اور ہم وہاں تھے، اور ایک دو رویہ موٹر وے پر رواں دواں تھے۔ بچی کھچی پہاڑیاں موٹر وے سے دور ہٹ چکی تھیں۔ دو گھنٹے کا سفر پونے گھنٹے میں طے ہوا خوابوں کی بستی کو چھوا اور ڈونون کی راہ لی۔ ڈونون کے ایک سِرے سے دوسرے سِرے تک فیری سروس چلتی ہے۔ ایک مدت بعد فیری کا سفر کیا اور سمندری سفر کی لذت بارِدگر حاصل کی۔ یہ سمندروں کا سفر بھی ایک انوکھا تجربہ ہوتا ہے۔ ربِ عظیم کے جلال و جمال کا منظر بیک نظر دیکھا جا سکتا ہے۔ سمندر ساکن ہے تو جمال ہی جمال سَر خوشی اور سَر مستی کی ایک کیفیت کہ وہی جانے جس نے یہ لذت پائی ہو۔ لفظ بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ یہی سمندر بپھر جائے تو الامان!! چیختی چلاتی اپنے دامن میں غیظ و غضب لیے ہیبت ناک لہریں لاکھوں ٹن وزنی جہازوں کو غسل دیتی، ہر آن تنکوں کی طرح اچھالتی، دستِ قدرت کے سامنے انسان کی بے بسی کا نوحہ گاتی، قدرت کے جبروت وعظمت کی تصویر کشی کرتی ہیں۔ مسافر نے بارہا ان مناظر کا سامنا کیا اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔ مگر آج نیلا سمندر ساکن تھا۔ فیری کی رفتا ر میں سکون و یکسانیت تھی۔ بار کھلا تھا بیشتر لوگ ناؤ نوش میں مصروف تھے اور مسافر گردو نواح کے ساحلی منظروں کو کیمرے کی آنکھ میں بند کر تا تھا۔ دوسرے کنارے نئے مناظر تھے۔ وان گوگ نے ایک بار کہا تھا کہ’’مصور صرف فطرت ہے، میں محض نقال ہوں فطرت نے جو کچھ وسیع زمین پر بکھیر ا ہے۔ میں اسے کینوس کی محدودیّت میں نقل کرتا ہوں۔‘‘ شاید وہ فردِ بے نیاز ٹھیک ہی کہتا ہو مگر اس نے بارہا فطرت کی وہ مکمل نقالی کی کہ شاید خود فطرت بھی دھوکہ کھا گئی ہو۔ دوسرے کنارے پر فطرت کی وہی بو قلمونی تھی جس میں انسان کے ذوقِ نفیس نے رنگ آمیزی کی تھی۔ اگر یہ سچ ہے کہ فن کار فطرت کے روکھے پن کو رنگ و نور کے زاویے دے کر ان میں حسن پیدا کرتا ہے۔ خواہ وہ کاغذ کینوس پہ فن کا مظاہر کرے یا زمین پر۔ انسان اور فطرت کی مشترکہ کاوشیں پھولوں اور رنگوں کی زبان سے اپنی موجودگی کا ثبوت دیتی تھیں۔رنگ برنگے پھول فطرت کی تخلیق تھی اور دل کش چمن بندی انسانی کاوش، سبزہ اگلتی زمین فطرت کی عطا تھی تو کیاریوں کی تراش خراش انسانی کوشش کا نتیجہ۔ اشیاے خورد و نوش قدرت کی دین اور اُن میں لذتِ کام و دہن کی فن کاری انسانی جہدِ مسلسل اور ہم وہاں تھے اور مناظر پر الوداعی نظر ڈالتے تھے۔ اگلی منزل ڈونون کا دیہی علاقہ تھا۔ جہاں بھیڑوں، گھوڑوں اور گایوں کے فارم تھے۔ اور سکاٹ لینڈ کا اصلی طرزِ تمدن تھا۔ راستے میں ایک حیران کن تماشا دیکھنے کو ملا۔ تقریباً چوتھائی میل(انگلستان میں میل رائج ہیں کلو میٹر کا تصور نہیں ) ڈھلان ہے۔ یہاں سڑک پر فٹ بال رکھیں یا پانی گرائیں اوپر کی طرف لڑھکتے ہیں۔ ہماری گاڑی ایک بڑی وین ہے، جسے روک کر نیوٹرل میں ڈالا تو چڑھائی کی طرف لڑھکنے لگی۔ یہ ایک نا قابلِ یقین منظرتھا۔ جس کے متعلق سُنا تو تھا مگر اوّل اوّل راوی کی حسِ مزاح کو داد دی پھر اسے انتہائی سنجیدہ پا کر اس کی دماغی حالت سے متعلق شبہ ہوا۔ پرآج راوی بھی موجو د ہے اور منظر بھی۔ اس مقام کے عین مرکز میں ایک تختی نصب ہے جس پر اس راز کی تعریف یوں رقم ہے کہ بہت عرصہ یہ سمجھا جاتارہا کہ اوپر انتہائی بلندی پر کوئی برقی مقناطیسی قوت ہے جو کششِ ثقل سے کہیں زیادہ طاقت ور ہے اور اشیا کو بلندی کی طرف کھینچتی ہے۔ مگر اب کچھ عرصہ سے یہ نظریہ رَدّ ہو چکا ہے۔ اب سائنس دان اسے فریبِ نظر Illusionکہتے ہیں۔ اگر یوں ہے تو عجیب ہے کہ ہرکس و نا کس اس فریبِ نظر کا شکار ہے۔ بہر حال یہ بھی فطرت کا ایک سر بستہ راز ہے۔ جو عقلِ انسانی سے ماورا ہے۔ آخر برمودا ٹرائینگل بھی تو ہنوز ایک سَر بستہ راز ہی ہے۔ایک ایساراز جو ہر آن انسان کی بے بسی پر قہقہہ زن ہے کہ ستاروں پر کمندیں ڈالنے کا مُدّعی انسان اپنی ناک کے عین نیچے ایک راز کی تہہ تک نہ پہنچ پائے۔ واقعی فطرت عظیم ہے۔ مسافر کو ایک بار برمودا ٹرائینگل کے قریب سے بھی گزرنے کا اتفاق ہوا ہے اور قربت بھی بس اتنی کہ مرکز سے تقریباً 3سو میل کا فاصلہ تھا۔ البتہ خطرے کے گلوب نما تیرتے نشان چند قدم کے فاصلے پر تھے۔ اور سورج اسی سمت غروب ہوتا تھا۔ جدھر اس سربستہ رازکا مرکز تھا۔ اور وہ ایک بڑا سا لال رنگ کا گولہ پانیوں پر دھرا اتنا نزدیک دکھتا تھا کہ دوڑے اور چھولیا اور پھر وہ آہستہ آہستہ بر مودا کے پانیوں میں اترتا تھا اور آج مسافر فطرت کے ایک اور سر بستہ راز کے سامنے کھڑا تھا۔ وقت کم تھا اور کوسوں مسافت سامنے تھی۔
گاڑی پوری رفتار سے بھاگتی تھی، جب رہنمانے اچانک بریک لگائی اور فوراً نیچے آنے کو کہا۔ عصر کا وقت تھا۔ بیس پچیس گائیں نہایت سلیقے سے ایک قطار میں آگے پیچھے جاتی تھیں۔ دور سامنے ان کا باڑا ہے۔ سو یہ بنا کسی کی پکار کے خود جاتی ہیں مگر مجال کی ایک جانور بھی قطار سے باہر ہو۔ خدا جانے یہ ان جانوروں کی جبلّت ہے یا انگریز کی تربیت کا نتیجہ کہ جانوروں کو بھی نظم و ضبط کا عادی بنا دیا ہے۔ ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ۔
دھوپ بادلوں سے آنکھ مچولی کرتی ہے۔ ہم اپنے آج کی آخری منزل کے سامنے ہیں۔ یہ ایک شکستہ قلعہ کے کھنڈرات ہیں۔ قلعہ عین ساحلِ سمندر پر کھڑا اپنی عمرِ گزشتہ کی تین صدیوں پر نوحہ کناں مسافروں کو دَعوتِ نظارہ اور دِرسِ عبرت دیتا ہے۔ قلعہ کی ایک دیوار کی بنیاد سمندر کے پانیوں میں اٹھائی گئی ہے۔ اور اس قلعہ کی تاریخی اہمیت داخلی دروازے پر رقم ہے۔ مذہبی پیشوا کسی نظریاتی اختلاف کی بنا پر ایک شہزادے کے سلطانِ وقت بننے میں اختلاف رائے رکھتا تھا۔ وقت کا پہیہ گردش میں تھا۔ شہزادہ تخت و تاج جیت گیا اور پادری زندگی کی بازی یوں ہار ا کہ سَر قلم ہوا۔ جسم مچھلیوں کی خوراک بنا۔ بریدہ سَر اوّل اوّل تو چوری چھپے مدفون ہوا۔ پھر یوں عزت و احترام ملا کہ صدیوں سے مرجعِ خلائق ہے۔ شہزادہ جو بادشاہ بنا تھا۔ چند برس خمارِ شاہی میں گزرتے تھے کہ عم زاد نے تختہ الٹا۔ سَر قلم ہوا جسم مچھلیوں کی خوراک اور بریدہ سر رزقِ خاک ہوا۔ جس کا آج نام و نشان تک نہ ہے۔ یہ کٹے سروں اور صاحبانِ تخت و تاج کی داستانیں بھی عجب ہیں۔ مسافر کی آنکھ قلعہ کے سامنے اذیّت سے آراستہ تنگ و تاریک محبس خانوں کو دیکھتی تھی اور ذہن تاریخ کے اوراقِ میں گم تھا۔ جہاں تک چشمِ تصور کا جانا ہوا داستان ایک ہی نظر آئی۔ بریدہ سروں کی ایک لا متناہی قطار، ہر کٹے سر کے ساتھ عقیدت و محبت کی ہزار داستانیں وابستہ، دوسری طرف مسندِ شاہی جیتنے والے شہنشاہوں کا قہر و جلال جو فقط چند روزہ حشر سامانیاں دکھانے کے بعد تاریخ کے دھندلکوں میں یوں گم ہوا کہ نشانِ قبر تک نا پید۔
پادری اور بادشاہ کی داستان ذہن سے نکل چکی ہے۔ اور اپنی تاریخ نگاہوں کے سامنے ہے۔ یہ کعبۃ اللہ ہے۔ جسے خود خالق کائنات نے دارالامان قرار دیا ہے۔ اور فرمانِ الہی کا پاس دور جہالت میں بھی کیا جاتا رہا۔ آج اسی دار الامان کے دروازے پر ایک ایسے مردِ جرّی کی لاش لٹکتی ہے۔ جسے خود صاحبِ لولاکؐ نے اس کی زندگی میں بہت بڑی بشارت دی تھی۔ کعبۂ مشرفہ پر حُزن و یاس طاری ہے۔ بستی والوں پر خوف مسلّط ہے۔ ان کے چہرے رنجیدہ ہیں۔ وہ اپنی آنکھوں میں دَر آنے والی نمی کو چھپانے میں کوشاں ہیں کہ قہرِشاہی کا شکار نہ ہو جائیں۔ وہ اپنے تمام آنسو مرثیہ خوانی کے لیے بچا رکھنا چاہتے ہیں۔ جو اس وقت کی جائے گی جب قہر و جلال شاہی کاآفتاب اپنی تمازتیں کھو دے گا۔ خوف کے اس منظر میں سے ایک چہرہ طلوع ہوتا ہے۔ یہ ایک بوڑھی عورت ہے جس کے چہرے پر نہ تو کعبۃ اللہ کی طرح حزن و یاس ہے اور نہ ہی اہلِ بستی کی طرح خوف زدہ ہے۔اس کی آنکھوں میں چمک ہے۔ چہر ے پر فتح و کامرانی کی روشنی ہے۔ وہ عزم و ہمت کا پہاڑ ہے۔ جو لٹکتی لاش کے سامنے کھڑا ہے۔ منظر دیکھنے والی نگاہیں منتظر ہیں کہ ابھی گریہ کرے گی۔ نوحہ کناں ہو گی۔ ضبط کے بندھن ٹوٹ جائیں گے۔ آخر ماں ہے کب تک بیٹے کی لاش دیکھ سکے گی۔ پھر اس کے لب کھلتے ہیں تو فقط ایک جملہ ادا کرنے کو’’کیا خوب شہ سوار ہے۔ تین دن ہو چکے سواری سے اترنے پر آمادہ نہیں۔ کیا کسی آنکھ نے ایسا شہ سوار دیکھا؟ کیا کسی ماں نے ایسے سوا ر کو جنم دیا؟‘‘ مصلحت اندیش، گریہ و شیون دیکھنے کی منتظر آنکھوں میں مایوسی چھا جاتی ہے۔ سہل پسند اور مصلحت پرست منہ پھیر لیتے ہیں کہ بوڑھی کے لبوں سے ادا ہونے والا جملہ محض ایک جملہ نہیں۔ ایک فلسفہ ہے۔ ایک نظریۂ حیات ہے۔ ایک آفاقی سچّائی ہے۔ اہلِ حشم کے منہ پر زنّاٹے دار تھپڑ ہے اور اہلِ بستی کی بزد لانہ روش پر ایک قہقہہ ہے۔ ماں چلی جاتی ہے۔ لاش صلیب سے اتر کر اَمَر ہو جاتی ہے اور قاتلوں کے نام تاریخ کے صفحات میں گم ہو جاتے ہیں۔ فطرت مہربان تھی تو ایسی مائیں ایسے ہی بیٹوں کو جنم دیتی تھیں۔ اعمالِ صالحہ لَد گئے انصاف کی جگہ ظلم کا دور دورہ ہوا۔ علم کے ایوانوں میں جہالت نے راہ پائی، اہلِ حکم نے امانت کی جگہ خیانت کو اصولِ حکمرانی بنایا تو قدرت نے ایسی ماؤں کو بانجھ کر دیا۔ قدرت کا انتقام بھی انوکھا ہوتا ہے۔ انسان معتوب بھی ہوتا ہے اور سمجھ بھی نہیں سکتا۔ فطرت عام افراد کی بد اعمالیوں سے صرفِ نظر کر لیتی ہے۔ مگر والا جاہوں کی لغزشیں قوموں کو غرق کر دیتی ہے۔ قصّہ پادری اور بادشاہ کا نہیں۔ کہانی دو کر داروں کی ہے۔ دو کر دار جوہر دور میں موجود اور ستیزہ کار رہے۔ ملّتِ مَسلمہ کی داستان دراز ہے۔یہ نہ تو عبدا للہ بن زبیر کی لٹکتی لاش سے شروع ہوئی اور نہ اس پہ تمام ہوئی۔ کر دار ہر دور میں موجود رہے نام بدلتے رہے۔
پیغامِ رسول عربی ﷺ کرّہِ ارض کے تین براعظموں تک پہنچ چکا ہے۔ ایک ہی وقت میں ایک ہی قوم میں عما دالدین، محمد بن قاسم، مغیرہ بن شعبہ، قتیبہ بن مسلم اور موسیٰ بن نضیر جیسے سپہ سالاروں کی مثال تاریخ انسانی میں نظر نہیں آتی۔ عساکر اسلامی کے یہ وہ جلیل القدر جرنیل تھے کہ جن کی تیغِ ہیبت ناک سے بڑے بڑوں پر لرزہ طاری ہو جاتا تھا۔ برِّ صغیر ہندوستان کے سینکڑوں راجوں، مہا راجوں کا قہر و جلال ایک عرب نو جوان کے پاؤں کے تلوے چاٹ رہا تھا۔ وسطِ ایشیا کی سر سبز و شاداب چراگاہیں عربی گھوڑوں نے روند ڈالی تھیں۔ صدیوں سے جہالت کی تاریکیوں میں گم افغانستان کے کوہسار اللہ اکبر کی صداؤں سے گونج رہے تھے۔ ہسپانیہ کے ساحل جلتی کشتیوں کا منظر دیکھ کر سرِ نیاز خم کر چکے تھے۔ صحرا نشینوں کے لشکر یورپ کے دروازوں پر دستک دے رہے تھے اور گلشنِ مصطفیٰ ﷺپر عالمِ شباب تھا جب مزاج شاہی رکھنے والے بنی اُمیّہ کے ایک شہزدے کو عَالَم پناہی کا شوق چرایا۔ مِلّت کے لیے در دِ دل رکھنے والوں نے اختلاف رائے کیا۔ جانتے تھے کہ شہزادے کے عروج میں ملت کا زوال ہے۔ مگر وقت نے شہزادے کا ساتھ دیا۔ آنِ واحد میں کٹے سروں اور بریدہ جسموں کے انبار لگ گئے اور چشم فلک نے وہ منظر دیکھا کہ باوقار قوموں کے دامنِ خیال میں بھی نہ ہو۔ یہ بادشاہی مسجد کا صحن ہے۔ ایک کٹا سر لڑھکتا ہے۔ شہزادے کی آنکھیں نکالی جاتی ہیں۔ کہ ایک اور شہزادے کے شوقِ شاہی میں مزاحم نہ ہو۔ قیدِ تنہائی باپ کا مقدر بنتی ہے کہ ظلِ الٰہی کا تخت و تاج خطرہ سے بے نیاز ہو۔ محل کی بیبیاں انصاف کی التجا کرتی ہیں۔ خونی رشتوں کا واسطہ دیتی ہیں تو کیا خوب جواب ملتا ہے۔’’بادشاہ کا کوئی باپ نہیں ہوتا، کوئی بھائی نہیں ہوتا، کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔ وہ بس بادشاہ ہوتا ہے اور باقی سب رعایا۔‘‘مسافر کی چشمِ تصور میدانِ کرب و بلا تک جا پہنچتی ہے۔ پر لوٹ آتی ہے کہ نہ تو تابِ نظّارہ ہے نہ لفظوں میں بیان کرنے کا یارا۔ قدم قدم پر وہی داستانِ غم وہی کر دار مگر نام الگ الگ۔ وطنِ عزیز میں بھی ایک بدن صلیب پر جھولتا ہے اور اَمَر ہو جاتا ہے۔جُرم اس کا بھی وہی ہے کہ صدیوں کے پسے، کچلے ہوئے، بے دست و پا لوگوں کو سَر اٹھا کر چلنے کی ترغیب دیتا ہے۔ بین الاقوامی شاطروں، یہودی ایجنٹوں، سرمایہ داروں کے خوانِ نعمت پر پلنے والے مذہبی دہشت گردوں، عوام الناس کے خون پسینے پر عشرت کدے تعمیر کرنے والے اوباشوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے۔ جس کے وجود سے ظلِ الٰہی کے راج سنگھا سن کو ہر آن خطرہ ہے۔ لاش سولی سے اُتاری جاتی ہے ، ظلِّ الٰہی خود اپنی نگرانی میں قبر تعمیر کراتے ہیں اور تدفین کراتے ہیں۔ قبر نشانِ منزل بن جاتی ہے۔ عوام ا لناس کی حسرتوں، آرزوؤں اور امید کا مرکز۔ شاہراہِ جمہور کے رہ نوردوں کے لیے سنگِ میل، ایسا سنگ میل جس کو خود ظِلِ الٰہی نے نصب کیا اور ظلِ الٰہی سے معتبر گواہی بھلا کس کی ہو سکتی ہے۔ مگر خود ظلِّ الٰہی کا جسم فانی کہاں گیا۔ انسانوں کے سمندر میں کوئی ایک بھی تو نہیں جو دل پہ ہاتھ رکھ کے گواہی دے سکے کہ اسے زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔ کر دار وہی، نام الگ الگ۔ گاڑی کا ہارن چیخ اٹھتا ہے۔ رہنما کو وقت گزرنے کا احساس کھائے جا رہا ہے۔ مسافر تاریخ کے صفحات سے نکل کر گاڑی میں بیٹھ جاتا ہے۔ سورج کا گولہ پانیوں میں اتر رہا ہے۔ پورے سمندر پر زمرّد کی بہار ہے۔ مسافر منظر کو بارِ دگر دیکھنا چاہتا ہے۔ مگر رہنما کا فرمان ہے ڈوبتے سورجوں کو دیکھنا لا حاصل ہے۔ چڑھتے سورج کو دیکھو بھلا ہی بھلا۔ خیر ہی خیر، مسافر سوچتا ہے ان خیر اندیشوں کا کر دار بھی کیا خوب ہے۔ اپنی فرصت یک دو نفس کی خیر اندیشی میں بارہا مِلّتوں کو ذلّت کی ا تھاہ گہرائیوں میں پھینک دیا۔
گاڑی سکاٹ لینڈ کے صدر مقام گلاسگو میں داخل ہوتی ہے۔ اور یہ ایک اینڈ نائیٹ ہے۔ مسافر گلاسگو کی ایک ویک اینڈ نائٹ برسوں پہلے عالمِ شباب میں دیکھ چکا تھا۔برت چُکا تھا، مگر وہ اس وقت ناظر نہیں خود نظارہ تھا۔ اب جب کہ جذبات پہ پینتیس برسوں کے گزرنے والے شب و روز کی گرد جم چکی تھی لہو کی حرارتیں اور بدن کی تمازتیں وقت کی ہر آن گرنے والی برف نے چھین لی تھیں تو وہ ایک بار پھر گلاسگو میں ہے اور آج ویک اینڈ نائٹ ان گلاسگو ہے۔ جوان جسموں کا ایک طوفانِ رنگا رنگ، زمین پر اترے ستاروں کی بارات یا اندر سبھا کی پریاں۔ غالباً ایسا ہی کچھ سُن کر اکبر الہ آبادی نے اس سر زمینِ انگلیسیہ کو خدا کی شان کہا تھا۔ طنزاً سہی پر کہا تو تھا۔ رہنما بتاتا ہے کہ جوں جوں رات بھیگتی ہے۔ خمارِ شیشہ جوان بدنوں میں ارتعاش پیدا کرتا ہے۔ لہو کی حدّتیں مہمیز ہوتی ہیں۔ عالمِ من و تو مٹنے لگتا ہے۔ آخر شب جلوتیں سنسان اور خلوتیں آباد ہونے لگتی ہیں۔ وہ جو از خود رفتہ اور بیگانہ حواس ہوتے ہیں۔ اُنھیں گھروں تک پہنچانا پولیس کی ذمّہ داری ہوتی ہے۔ بشر طے کہ ان کے حواس گھر کا پتا جاننے کی صلاحیت ہنوز رکھتے ہوں اور پھر رات بھر مسافر رہنما کی سچائیوں کی داد دیتا رہا۔ رہنما پولیس کی تعریف میں رطب اللسان ہے کہ مدہوش جوانیاں وردی پوشوں کو گالیاں دیتی ہیں۔ تھپڑ مارتی ہیں مگر احساسِ فرض سے مغلوب ملازم مغلظات کو پرِکاہ جتنی اہمیت نہیں دیتے (جو آئے، آئے، کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں )۔ بس ادائیگی فرض کے جنون میں مبتلا ہیں۔ کہ معذوروں کو گھر تک پہنچائیں۔ اگر کوئی گھر کی نشان دہی کرنے سے قاصر ہے تو پولیس سٹیشن بہترین مہمان خانہ ہے۔ جہاں شب بسری کے سبھی لوازمات چشم براہ ہیں۔ یہاں مسافر کا نکتہ نظر یہ ہے کہ ہماری پولیس ان سے زیادہ مستعد ہے۔یہ لوگ تو از خود رفتگی اور بیگانگی حواس کے منتظر رہتے ہیں۔ جب کہ ہماری پولیس ان بکھیڑوں کا انتظار نہیں کرتی کسی دل جلے نے دو گھونٹ اندر کیے اور تاک میں بیٹھے فرض شناس ملازم اسے اچک یہ جا وہ جا۔ پھر گھر بھی نہیں لے جاتے کہ شماتتِ ہمسایہ اور اہل خانہ ہو گی۔ رات بھر اپنے ہاں مہمان رکھا۔ صبح دم ضلع کچہری۔ یہ لوگ عملاً غل غپاڑہ کرتے ہیں۔ جب کہ ہمارے ہاں پس دیوار سے اچک لیے جاتے ہیں۔ اور سرِ بازار غل غپاڑہ کا الزام پاتے ہیں۔ بھلے وقتوں میں ایک خدا ترس خلیفہ تھے۔ سرِ شام ایک مے نوش کے گھر کی چار دیواری پھلانگ کر مجرم کو جا پکڑا۔ حدودِ شرعی کے نفاذ کی دھمکی دی۔ شہری آزادیاں تھیں۔ عدل کا دور دورہ تھا۔ منصف خوف و تحریص سے بالا۔ خلیفہ خوفِ خدا سے ہمہ وقت لرزاں و ترساں۔صبح پھوٹی تو مجرم نے زنجیرِ عدل ہلائی۔ چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی دہائی دی۔ قاضی نے خلیفہ کو طلب کیا۔ فردِ جرم سنائی۔ شخصی آزادیوں میں مداخلت پر جواب طلب کیا۔ بڑے لوگ تھے۔ خلیفہ نے غلطی کا اعتراف کیا اور نجات پائی۔
شام سمے تُجّار کا قافلہ بستی سے باہر رکتا ہے۔ گھوڑوں کو تو بڑے چڑھائے جاتے ہیں۔ اونٹوں کے گھٹنے باندھے جاتے ہیں۔ آگ کے الاؤ روشن ہوتے ہیں۔ اور پہرہ دار ادائیگیِ فرض کے لیے مستعد ہو جاتے ہیں۔ نا گاہ ایک کشیدہ قامت جوانِ رعنا شمشیر برہنہ ہاتھ میں لیے نمودار ہوتا ہے اور بآواز بلند سالارِ قافلہ کو مخاطب کرتا ہے۔ ’’ہٹا دو قافلے کے محافظوں کو، سو جاؤ میٹھی نیند کہ تم ایک ایسی امن کی بستی پر اُترے ہو۔ جہاں تمہاری جان و مال کی ذمّہ داری اس شخص پر ہے۔ جو جابر ترین ہے ظالموں کے لیے جب تک کہ ان کا ہاتھ روک نہ دے اور جو کم زور ترین ہے مظلوموں کے سامنے جب تک کہ وہ اُنھیں ان کا حق دلا نہ دے۔ سو جاؤ کہ وہ جاگتا ہے۔ جس کی موجودگی میں کوئی تمہارے مال و جان کی طرف آنکھ اٹھانے کی جرات نہیں کر سکتا۔ اور اگر کسی اجل گرفتہ نے جُرأت کی تو یہ شمشیر برہنہ سروں کو تن سے جدا کر نے میں ایک لحظہ تغافل نہیں کرتی۔‘‘ اہلِ قافلہ سوتے ہیں۔ رات ڈھلتی ہے۔ اچانک ایک کونے سے کسی شیر خوار بچے کے رونے کی آواز بلند ہوتی ہے۔ ماں پچکارتی ہے۔ بہلاوا دیتی ہے۔ محافظ لمحہ بھر میں پہنچتا ہے۔ ماجرا دریافت کرتا ہے۔ ماں کہتی ہے۔’’عسرت و افلاس کی ماری ہوں۔ بچے کا دودھ قبل از وقت چھڑانے میں کوشاں ہوں تاکہ بہ مطابقِ حکمِ خلیفہ وظیفہ کا مستحق ہو۔ نانِ شبینہ میسر آ سکے۔ ‘‘جوان رعنا کی چیخ نکل جاتی ہے۔ شمشیر برہنہ ہاتھ سے گر جاتی ہے۔ بے ساختہ روتا ہے اور کہتا ہے۔ ’’عمر ہلاک ہو گیا۔آج عمر ہلا ک ہو گیا۔ اس کے نا دانستگی میں جاری کیے گئے ایک فرمان سے کتنے بچے قبل از وقت موت کا شکار ہو گئے۔‘‘
نمازی حیران ہیں۔ آج امام کو کیا ہو گیا۔ کائناتِ بسیط کی وہ واحدِ زبان کہ جس کو پیغمبرِ اسلام ﷺ کے سامنے بھی بہ کمالِ شفقت بے باکیوں کی اجازت ہے۔ وہ نُطقِ فصیح کہ جس کو رُکتے یا اٹکتے کسی مائی کے لال نے نہ سنا۔ آج نغمۂ الوہی کی تلاوت میں بار بار رکتی ہے۔ اٹک اٹک جاتی ہے۔ گلا رُندھ جاتا ہے۔ ہچکی بندھ جاتی ہے۔ آخر ماجرا کیا ہے۔ پر نمازی کیا جانیں کہ وہ مردِ آہن جس کی فقط ایک ضرب تازیانہ سے زلزلے رک جاتے ہیں۔ گردشِ زمین تھم جاتی ہے۔ جس کی چشم بے باک کی ایک نظر پہاڑوں پر لرزہ طاری کر دیتی اور جس کے ایک نعرۂ مستانہ سے درندوں کے غول جنگلوں کو خالی کر جاتے ہیں۔ آج دنیا کا کم زور ترین انسان ہے۔ آج ایک غریب الدیّار، نحیف و نزار، عسرت و افلاس کی ماری ماں اس سے اپنا حق طلب کرتی ہے۔ تو احساسِ جواب دہی نے اس مردِ آہن کو لرذاکر رکھ دیا ہے۔ نماز ختم ہوتی ہے۔ نمازیوں کی نظریں امامِ وقت کے چہرے پر جا رکتی ہیں۔ وہ چہرۂ پُر جلال کہ جس پر فقط ایک نگاہ پڑتی دوسری کا یارانہ ہوتا۔ آج ریزہ ریزہ ہے۔ وہ نگۂ برق پاش جس کی تاب بڑے بڑوں کو نہ ہوتی۔ آج سراسیمہ ہے۔ آج ان نگاہوں میں ایک بچے جیسی خوف زدگی ہے۔ آج وہ گردن خم ہے جس کو جھکانے کی تمنا دل میں لیے تاج دارانِ قیصر و کسریٰ اپنے تمام تر جاہ و جلال کے ساتھ بے نشان ہو چکے ہیں۔ لبوں کو جنبش ہوتی ہے اور ایک نحیف آواز ابھرتی ہے۔ ’’آج سے اور ابھی سے ان تمام ماؤں کے لیے بیت المال کے منہ کھول دیے جائیں وہ جو ابھی مائیں نہیں بنیں، مگر ان کے پیٹ بھاری اور چھاتیاں بوجھل ہوتی ہیں کہ اُنھوں نے مائیں بننا ہے۔ ‘‘حکم صادر ہوتے ہی نقیبانِ فرض شناس حرفِ حق لے اڑتے ہیں اور آنِ واحد میں کرّۂ ارضی کے ساڑھے تین لاکھ مربع میل رقبے پر عمل درآمد شروع ہو جاتا ہے۔ خزانوں کے منہ کھل جاتے ہیں۔ عوام ششدر رہ جاتے ہیں اور فطرت مسکراتی ہے۔ یقیناً خالق کائنات فرشتوں سے مخاطب ہوں گے کہ ’’یہ ہے وہ رجلِ رشید جس کا خاکہ ہم نے بنا تھا اور جس کی تخلیق میں تم مانع تھے۔ بے شک تم نہ جانتے تھے اور ہم جانتے تھے۔‘‘ اور پھر اس رجلِ رشید کو غیروں نے نہیں خود ہم نے مار ڈالا۔ اس کے اعمال صالحہ کو طاقِ نسیان پر رکھ دیا۔ اس کے مزار کے متولی بنے۔ اس کے کر دار کو کہانیوں کی کتابوں میں محدود کیا۔ مگر غیروں نے اس کے اعمال و کر دار پر اپنے امور سلطنت کی بنیاد رکھی۔ اس کے فرامین صالحہ کو اصولِ جہان داری کی اساس بنایا۔ وہ کامیاب و کامران ٹھہرے اور متولّی ناکام و رُسوا۔
قوانینِ سلطنتِ انگلیسیہ میں آج طے ہے کہ جوں ہی ڈاکٹر کسی عورت کے پیٹ میں بچے کی تصدیق کرے گا۔ اس کا وظیفہ بندھ جائے گا۔ ماں باپ کفالت سے بے نیاز ہو جائیں گے۔ اے کاش ربِّ کائنات ملّتِ مرحومہ میں ایک عُمر پیدا کر دے۔ فقط ایک عُمر اور پھر ہم بہت سی دعاؤں سے بے نیاز ہو جائیں گے۔ مگر اے کاش، ملّتِ مرحومہ کی مائیں آج جتنے بچے جنتی ہیں۔ تاریخ اسلام اس کی مثال سے قاصر ہے تو دوسری طرف قحط الرجال بھی بے مثل ہے :
دی شیخ با چراغ ہمی گشت گردِ شہر
کز دیو و دد ملولم و انسانم آرزوست
گفتم کہ یافت می نشود جستہ ایم ما
گفت آنکہ یافت می نشود آنم آرزوست
بجا کہ رودادِ سفر کو تقابلی دستاویز نہ بننا چاہیے۔ مگر کیا کیجیے قلبِ حساس کا کہ قدم قدم پر وہی کہانیاں، وہی کر دار، فقط نام اور رویے بدلے ہوئے۔ وہ سامنے والی عمارت میں بھی ایک کہانی پوشیدہ ہے۔ ہر رہ نورد یا تماش بین کو اندر جانے کی اجازت نہیں۔ یہاں سکاٹ لینڈ والوں کی وہ متاعِ عزیز پڑی ہے کہ ان کے عقیدے کے مطابق اس پر جس نے ایک نظر ڈالی اس کے مقدر پھر گئے۔ یہ STONE OF DESTINYہے۔
محض پتھر کا ایک ٹکڑا۔ جو دوسروں کی تقدیریں تو خیر کیا بدلے گا۔ خود بے حس ہے۔ مگر ایک قوم کے عقیدے کا نشان ہے۔ غیرت ہے، غرور ہے، اور زندہ قومیں اپنی غیرت کی حفاظت کرنا جانتی ہیں۔ STONE OF DESTINYایک ایسا پتھر جس کے متعلق سکاٹ کا ایمان ہے۔ کہ جب تک وہ ان کے پاس موجود ہے۔ ان کی بستیاں ہر بلا سے محفوظ ہیں۔ پھر یوں ہوتا ہے کہ مُدّتوں پہلے برطانیہ کا کوئی مہم جو سکاٹ لینڈ پر چڑھ دوڑتا ہے۔ کھیتیاں جلا دیتا ہے۔ بستیاں تاراج کر دیتا ہے۔ اور وہ پتھر اٹھا لیتا ہے۔ پتھر موجود تھا۔ تو غارت گری کا نشانہ بنے۔ پتھر چھن گیا تو ان کی زمینیں بانجھ نہ ہوئیں۔ ان کے جانوروں کے تھن نہ سُوکھے، ان کی مائیں غیور و جسور بچے جنتی رہیں۔ وہ کم زور تھے۔ سلطنتِ برطانیہ سے پنجہ آزمائی کی سکت نہ رکھتے تھے۔ مگر اس پتھر کی ملکیت اور واپسی کے دعویٰ سے دست بردار نہ ہوئے۔ کیوں کہ وہ صرف ایک عقیدہ نہیں۔ ان کی غیرتوں کی علامت تھا۔ زمانے گزر گئے۔ کئی دنیائیں مٹ چکیں، کئی نئی دنیائیں وجود میں آئیں۔ با ر ہا کرّہ ارضی کے نقشے تبدیل ہوئے۔ سکاٹ لینڈ میں ان گنت نسلوں نے جنم لیا اور اور رزقِ خاک ہوئیں۔ مگر وہ اس پتھر کے مطالبہ سے دست بردار نہ ہوئے۔ جب بھی اہل برطانیہ اور سکاٹ لینڈ کے اکابرین، شہری حقوق اور قومی آزادیوں کے ایجنڈے لے کر مذاکرات کی میز پر بیٹھتے۔ سب سے اوّل مطالبہ STONE OF DESTINYکی واپسی کا ہوتا۔ دونوں خطوں کے درمیان طویل سرد جنگ کا بڑا سبب یہی پتھر تھا با لآخر بیسویں صدی کے اواخر میں حکومتِ برطانیہ کو سکاٹ لینڈ والوں کے مطالبہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ پتھر واپس ہوا۔ مگر کس شان سے کہ دسیوں ہیلی کاپٹر فضا میں اڑتے ہیں۔ بیسیوں گاڑیوں کے کارواں زمین پر رواں ہیں۔ سکاٹ لینڈ میں قومی تعطیل کا اعلان ہے۔ بستیوں کی بستیاں ان راہوں پہ امڈ آتی ہیں جہاں سے اس پتھر کے ٹکڑے کا گزر ہونا ہے۔ گویا ایک ایسے جشن کاسماں ہے کہ اس سے پہلے سکاٹ لینڈ والوں نے نہ دیکھا نہ سنا۔ اور آج مسافر اس حقیر اور بے حیثیت پتھر سے چند فٹ کے فاصلہ پر کھڑا ہے۔ مسافر کی نظر میں سٹون آف ڈیسٹنی نہیں۔ جو کہ مقدر کی یاوری کی علامت ہے۔ بل کہ وہ تو ایک اور پتھر کو سوچتا ہے۔ جو آج تک سلطنت برطانیہ کی تحویل میں ہے۔ مگر اربابِ وطن مطالبہ تک کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ بجا کہ وہ مقدر کا نہیں نحوست کی علامت ہو۔ بجا کہ آ ج کے دور میں وہ بھی اتنا ہی بے توقیر و بے مایہ ہو جتنا کہ STONE OF DESTINYمگر ہے تو اپنے آباء کی امانت۔ سوال پتھر کا نہیں سوال تو حمیّتِ قومی کا ہے۔ یہ بھی مان لیا کہ ہمارے دست و بازو میں وہ طاقت نہیں کہ اپنا حق چھین سکیں۔ مگر ہنوز قوت گویائی تو ہے۔ حیدر آباد، جونا گڑھ، گور داس پور، کشمیر اور مشرقی پاکستان کتنے عظیم المئے گزر گئے۔ کوئی آنکھ اشک بار نہ ہوئی۔۔۔ ایک اک کر کے مادرِ وطن کے دست و بازو کٹتے رہے اور کسی گھر سے ماتم کی صدا بلند نہ ہوئی۔ تو محض ایک پتھر کی بازیابی کے لیے ماتم چہ معنی دارد، ہمارے پاس تو اس جسدِ خاکی کے لیے بھی دو گز زمین نہ ہے کہ جس نے لفظِ پاکستان ہمارے حصہ میں ڈالا۔ پتھروں کو ہم کہاں رکھتے پھریں گے۔ ہم کوئی سکاٹ تو نہیں۔ تنگ نظر کنجوس، ہم تو کشادہ دل ہیں۔ چوروں کے لیے بھی ہمارے دروازے کھلے ہیں۔ خواہ وہ جغرافیائی چور ہوں یا نظریاتی۔ اونہہ، مسافر سَر جھٹک کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ کیوں کہ رہنما تنگیِ وقت سے پریشان ہے۔ ابھی اس نے Oldest House in Glasgowدکھانا ہے۔ واقعی رہنماؤں کے پاس وقت ہمیشہ تھوڑا ہوتا ہے۔ اور حریصانہ ارادے زیادہ۔ وہ تھوڑے وقت میں بہت کچھ بنانا چاہتے ہیں اور بناتے ہیں مگر قوم اتنی ہی تیزی سے زبوں حالی اور پسماندگی کا شکار ہو جاتی ہے۔ اور پھر رہنما OLDEST HOUSESاور OLDEST PEOPLESکی کہانیاں سنا سنا کر قوم کو خوش کرتے ہیں۔ خواہ وہ حکومتی ایوانوں میں بیٹھے رہنما ہوں یا منبر و محراب کے سائے میں۔

کیا خوب سودا نقد ہے

پورے انگلستان میں خریداری مارکٹس کی اپنی ایک خاص اہمیت ہے۔ یہ بازارِ ضرورت بھی ہے اور جائے تماشا بھی۔ بیشتر یہودیوں کی ملکیت ہیں۔ ایک ایک مارکیٹ کئی ایکڑوں پر محیط ہے۔ زیادہ مشہور مارکٹس Asda, Marks & Spencer, Green Wood, Moorison, Argus, Next اورTesco وغیرہ کے سلسلے ہیں جو ملک بھر میں پھیلے ہیں۔ یہ مارکٹس کئی منزلہ عمارات پر مشتمل ہیں۔ جن کی اوپر کی تین چار منزلیں کارپارکنگ کے لیے مختص ہیں۔ بعض جگہ کار پارکنگ زیرِ زمین ہے۔ ہمہ وقتی دَرجنوں نہیں سینکڑوں گاڑیاں کھڑی ہیں۔ جن سے گاہکوں کی تعداد کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اوپر نیچے آنے جانے کے لیے لفٹوں کے ساتھ ساتھ برقی زینے ہیں۔ جن پر کھڑے خواتین و حضرات کی وہ بھیڑ کہ کھوے سے کھوا چھلتا ہے۔ ہر منزل پر بڑے بڑے ہال جن میں شعبہ جاتی سٹور ہیں۔ سبزی، سوئی سے موٹر کار تک ہر چیز ایک چھت تلے خریدی جا سکتی ہے۔ کسی بھی چیز کی قیمت پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ ہر چیز پر قیمت درج ہے۔ مال اٹھائیں، ہتھ ریڑھی میں رکھیں اور بیرونی دروازوں کے قریب کاونٹر پر بیٹھے سیلز میں ( بالعموم سلیز گرل) کو دکھائیں، کمپیوٹر مشین خود ہی تمام اشیا کا بل بنا دے گی۔ نقد رقم دیں یا کریڈٹ کارڈ پنچ کرائیں اور یہ جا وہ جا۔ نہ بھاؤ تاؤ کا بکھیڑا۔ نہ چھُوٹ چھڑاؤ کی جھک جھک، ہتھ ریڑھیاں مارکٹ کے باہر برقی نظام سے بندھی کھڑی ہیں۔ پاونڈ کا سکہ ڈالیں، ریڑھی خود بخود واگذار ہو جائے گی۔ فارغ ہو کر ریڑھی اس کی مخصوص جگہ پر کھڑا کریں۔ پاونڈ سکہ خود بخود کلک کر کے باہر آ جائے گا۔ گویا ایک پاونڈ زر ضمانت ہے۔ ریڑھی کو مناسب جگہ پر کھڑا کر نے کے لیے۔ پہلے یہ ریڑھیاں کھلی ہوتی تھیں یار لوگ اپنا کام نکال کر ادھر ادھر چھوڑ دیتے تھے۔ جو کار پارکنگ میں رکاوٹ بنتی تھیں اور پھر سینکڑوں ریڑھیوں کو یک جا کرنا کارے دارد تھا۔ واہ رے انگریز ہر مسئلہ کا حَل موجود ہے۔
مارکٹس کی ہر منزل پر ریسٹو رنٹس موجود ہیں۔ پھر ادھر اُدھر بینچ نصب کیے گئے ہیں۔ کہ خریدار تھک جائیں تو سستا لیں۔ مگر دیکھا یہ ہے کہ ان بینچوں پر خریدار کم اور وہ بوڑھے زیادہ بیٹھتے ہیں جن کے پاس کرنے کو کوئی کام نہیں۔ بس کا سفر مفت ہے۔ سو گھروں سے نکلے، بس پر بیٹھے اور سیدھے مارکٹ میں۔ دِن بھر آیا گیا دیکھتے ہیں۔ گھر سے لائے برگر کھاتے ہیں اور ڈرنکس پیتے ہیں۔ اکثر بوڑھے نظر بازی اور بوڑھیاں سویٹر سازی کرتی ہیں۔ ہر مارکیٹ کے داخلی دروازے پر ٹیلی فون ڈائریکٹری سائز کے کتابچے دھرے ہیں۔ جن میں ان تمام چیزوں کے نام اور قیمتیں درج ہیں جو مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ داخلہ خارجہ کے دروازے خود کار ہیں۔ دِن بھر میں ہزاروں بار بست و کشاد کے عمل سے گزرتے ہیں اور کبھی خراب ہوتے نہیں دیکھا۔ چھتوں، دیواروں پر جا بجا ظاہری اور خفیہ کیمرے لگے ہیں جو خریدار کی ہر حَرکت پر نظر رکھتے ہیں۔ چوں کہ انگلستان ایک فلاحی ریاست ہے۔ اس لیے اس نظریئے کے تحت استعمال کی اشیا دو اقسام میں تقسیم کی گئی ہیں۔ ایک اشیائے ضروریہ اور دوسرا سامانِ تعیّش۔ اول الذکر کا نرخ ایسے رکھا جاتا ہے کہ ہر کس و ناکس کی پہنچ میں ہے۔ ان میں کھانے پینے کی اشیا، سبزی، پھل، ڈرائی فروٹ، شرابیں اور موٹر گاڑیاں ہیں۔ ثانی الذکر اشیا غیر ضروری، سامانِ تعیّش یا مخصوص طبقوں کی ضرورت سمجھی جاتی ہیں اور عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہیں۔ ان میں موٹر سائیکل، کاسمیٹکس اور سگریٹ وغیرہ ہیں۔ پاکستان میں سگریٹ کا جو پیکٹ بیس روپے میں آتا ہے۔ وہاں اس کی قیمت ساڑھے چھ سو روپیہ پاکستانی ہے۔
اشیائے فروختنی پر منافع کا حساب یوں لگایا جا سکتا ہے کہ ایک چیز سَو روپے میں بکتی ہے۔ دوسرے روز SALEکا نام پر وہی چیز پچاس روپے میں بیچی جاتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب سوکی چیز پچاس میں اٹھے گی تو کیا سرمایہ دار خسارہ برداشت کر ے گا؟ قطعاً نہیں بل کہ اُس میں بھی دَس بیس بچائے گا۔ تو پھر اندازہ کیجئے کہ کل تک جب وہ سو پر بیچتا تھا تو کتنے بچاتا ہو گا۔یہ ہے محنت اور سرمائے کا کھیل جس میں حیلہ گر سرمایہ دار ہمیشہ سادہ لوح مزدور کو مات دیتا ہے۔ حساب دان جب دلائل سے ثابت کر تے ہیں کہ سو روپے میں بکنے والی چیز پر کل خرچ بیس روپے آتا ہے تو اُنھیں کیمونسٹ ہونے کا طعنہ ملتا ہے۔ مگر سچ بات یہی ہے کہ بیس روپے میں خام مال، حکومتی ٹیکس، مشین بجلی کے اخراجات اور خون پسینہ ایک کرنے والے مزدور کی اجرت سب شامل ہوتا ہے۔ اور باقی کے روپے منافع کے نام پر سرمایہ کار کی جیب میں چلے جاتے ہیں۔ وطنِ عزیز میں گذشتہ برس سیمنٹ کے تھیلے کی قیمت ایک دَم سے ساڑھے تین سو روپے ہو گئی۔ حکومت کے موجود وزیر جو اکنامکس کونسل کے ممبر بھی ہیں۔ بھرے مجمع میں بتاتے تھے کہ کونسل اجلاس میں کار پردازانِ حکومت نے اعداد و شمار سے واضح کیا ہے کہ ایک بیگ پر کل خرچ صرف پچپن روپے آتا ہے۔ باقی جتنا کچھ عوام الناس سے لیا جاتا ہے۔ سب سرمایہ کار کی جیب میں بطور منافع جاتا ہے۔ تو گویا سرمایہ کار یہودی ہو یا مسلمان یورپی ہو یا ایشیائی ایک استحصالی طبقہ ہے۔
ان مارکٹس میں جہاں دنیا بھر کی سہولتیں موجود ہیں۔ وہیں معذوروں کی گونا گوں موٹروں کے راستے اور بچوں کے لیے جائے تفریح PLAY LANDبھی ہیں۔ ان بڑی مارکیٹوں کے علاوہ کچھ دیگر مخصوص چیزوں اور مخصوص کمپنیوں کی الگ دکانیں ہیں۔ اپنے باٹا اور سروس کی طرح جوتے بنانے کی ایک کمپنی کلارک نام کی ہے۔ جس کے اپنے شاپنگ سٹور تقریباً ہر شہر میں موجود ہیں۔ یہ سٹور ہر سائز اور ہر قسم کے جوتوں سے بھرے پڑے ہیں۔ قیمتیں ہر ایک پر درج ہیں۔ بھاؤ تاؤ کا کوئی تردُّد نہیں۔ اور یہی جوتا ایک ایسی چیز ہے جو بیشتر معقول لوگ وہاں سے خرید لاتے ہیں۔ وگرنہ کون سی ایسی چیز ہے جو اُدھر ملتی ہے اور وطنِ عزیز میں نہ ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں ذرا سستی مل جاتی ہے۔ اور ادھر رائج سکہ کی شرحِ مبادلہ پیش نظر ہو تو اچھی خاصی مہنگی پڑتی ہے۔ بلاشبہ مذکورہ کمپنی کا جوتا آرام دہ اور خالص چمڑے کا ہوتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ جتنا چاہو چلا لو جُراب سے پاؤں پسینے کی مخصوص بُو نہیں پھوٹتی۔ شاید کسی کیمیکل کا کرشمہ ہے۔ وطنِ عزیز میں مختلف پیشے مخصوص لوگوں سے متعلق ہیں۔ اور انسانوں کا سماجی رتبہ ان کے پیشے کے پیش نظر طے کیا جاتا ہے۔ اس طرح ذات پات وغیرہ کے پردے میں انسانیت کی تضحیک کے سامان کیے جاتے ہیں۔ مگر واہ رے انگریز، اُنھوں نے یہ جھگڑا ہی طے کر دیا۔ ہر آدمی اپنے گھر گرہستی کے کام خود کر لیتا ہے۔ آج ترکھان ہے کل اہلِ خانہ کے بال کاٹتے نظر آئے گا۔ پر سوں الیکٹریشن ہے تو اگلے روز گھر کے گٹر میں سَر دیے مرمت میں مصروف ہو گا۔ اسی سماجی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے تقریباً تمام شہروں میں DIYکے نام سے بڑی بڑی دکانیں موجود ہیں یعنی DO IT YOURSELF اپنے کام خود کریں سامان ہم مہیا کریں گے۔ اس طرح پیشوں کی تضحیک کا سامان بھی ختم ہوا۔ پیشہ وروں کی اجارہ داری اور ناز نخروں سے نجات ملی۔ مہارتوں میں تاک ہوئے مفت کا پیداواری مشغلہ ہاتھ آیا اور دام کی بچت تو ہے ہی کسی بھی پیشہ ورانہ کام کے لیے اوزاروں کی عدم دستیابی ہی سب سے بڑا مسئلہ ہوتی ہے۔ ورنہ اپنا مشاہدہ ہے کہ ہر آدمی ہر کام خود کر سکتا ہے۔ اور کرنا چاہیے۔ ہمارے اسلاف کی روایات بھی تو ہیں۔ اپنے ہاتھ سے جوتا گانٹھنا گھر کے امور انجام دینا گھر مسجد کی تعمیر میں پتھر ڈھونا، گارا مٹی سَر پر اُٹھانا وغیرہ امامِ اعظم ؒ کپڑے کی تجارت کے ساتھ بُنائی بھی کرتے تھے۔ حسین بن منصور روئی دھنتے تھے۔ دین قیّم اصل روح کے ساتھ موجود تھا تو جولاہا، موچی، پینجا وغیرہ کا تصّور تک نہ تھا۔ فضیلتوں کے معیار الگ تھے کہ سرکارؐ نے خالق کے منشا سے طے کیے تھے۔ پھر وہی دین رسول عربی ﷺ ارضِ ہند پر اترا تو ہندو ثقافت کے طفیل مسلمانوں نے بھی فضیلت و احترام کے وہ معیار طے کیے۔ انسانی تضحیک کے وہ پہلو تخلیق ہوئے کہ روحِ اسلام کو شرمندہ کر دیا۔ کتابِ ھُدیٰ کے سبق غیروں نے ازبر کیے اور کتاب ہم نے، عقل اُنھوں نے چھینی اور عقیدت ہمارے حصّے میں آئی۔ اپنے ماضی کی شاندار روایات کی کہانیاں ہم نے لیں اور ہماری روایات کہنہ پر عمل درآمد کر کے فیوض و برکات غیروں نے سمیٹیں۔ تہذیب حجازی کی اقدار کو کتابوں میں دفن کر کے متولّی ہم بنے اور عمل غیروں نے کیا۔
’’رولے اب دل کھول کر اے دیدۂ خوں نابہ بار‘‘ مسافر کو قدم قدم پر یہ گمان ہوتا تھا۔ کہ یہ سب چلن تو ہمارے اسلاف کے تھے۔ ہم نے چھوڑے غیروں نے اپنائے اور آج کیفیت یہ ہے کہ ہمارا ان سے کوئی تقابل نہیں۔
مسافر کو ایک بار کھلی سبزی منڈی میں جانے کا اتفاق ہوا جو اپنے جمعہ بازاروں کی طرح تھی البتہ زمین پر کوئی دکان نہ سجی تھی۔ تا حدِ نظر ریڑھیوں کی قطاریں تھیں۔ گونا گوں سبزیاں اور رنگ برنگے پھل، انگریز خواتین و حضرات آوازیں لگا لگا کر گاہکوں کو متوجّہ کر تے اور اشیا کے بھاؤ بتاتے ایسا شور کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے۔ اتوار تھا لوگ باگ چھٹی پر تھے۔ یک روزہ تماشہ تھا سَو مسافر بھی رُک گیا۔ گاہک کا کام صرف آرڈر اور پیسے دینا ہے۔ سودے کے سُچے پن کی ذمّہ داری دکان دار پر ہے۔ بچشم خود دیکھا کہ دکان دار سودا ترازو میں ڈالنے سے پہلے خود اس کی صحت جانچتا ہے۔ ذرا گڑ بڑ ہو تو نیچے دھری ٹوکری میں۔ گاہک کو پتا نہیں چلتا کیا نقص ہے۔ دکان دار جانتا ہے اور اللہ کو حاضر ناظر مانتا ہے سَو دھوکہ نہیں کر سکتا۔ مسافر کا مشاہدہ یہ بھی ہے کہ اس معاشرے میں مذہب کا تصوّر تیزی سے مٹ رہا ہے بل کہ بہت حد تک مٹ چکا ہے۔ گرجوں کی جگہ فلیٹ، مارکیٹیں اور مساجد بنائی جا رہی ہیں۔ مگر اللہ کا تصوّر انتہائی مضبوط ہے۔ گزشتہ سطور میں جن مارکیٹوں کا تذکرہ ہوا۔ سنتے چلیے کے انکا ایک ضابطۂ اخلاق ہے۔ آپ چیز خریدتے ہیں۔دام ادا کر کے رسید لیتے ہیں۔ گھر جاتے ہیں چیز پسند نہیں آئی آپ کو یا گھر والوں کو تو چودہ یوم کے اندر چیز واپس دے کر اپنے دام لے لیجیے۔ خواہ آپ چودہ یوم مسلسل استعمال کر تے رہے ہوں۔ مسافر نے جب ایک سو بیس پاونڈ میں سوٹ معہ نک ٹائی NEXTوالوں سے خرید ا اور پسند نہ آیا تو اگلے روز واپس کیا اور GREEN WOODسے اسی معیار کا سڑسٹھ پاونڈ میں خرید لیا۔ شرٹ مستزاد تھی۔ ایک مقامی دوست کو قصّہ سنایا تو وہ مسافر کی عقل پر ماتم کرنے لگا۔ ’’کیا ضرورت تھی پیسے بھرنے کی ایک دُکان سے لاتے چند روز استعمال کر کے پیسے واپس لیتے اور دوسری سے لے آتے پھر تیسری سے اور اس طرح تمہارے دو ماہ آسانی سے بنا مال خرچ کیے بھگت جاتے ورائٹی بھی ہاتھ آتی تم نے کون سا پاکستان میں استعمال کرنے تھے اب بھی وقت ہے۔ ایسے ہی کرو۔ ہم تو ایسے ہی کرتے ہیں۔ واہ رے عقل انسانی اور آفرین میرے پیارے ہم وطنوں پر۔
جس طرح اپنے ہاں مخصوص ریڑھیوں پر ہر مال دَس روپے میں ملتا ہے۔ اُدھر بڑی بڑی پاونڈ شاپس ہیں۔ گھر گرہستی کی بیشتر چیزیں فقط ایک پاونڈ میں مل جاتی ہیں۔کار بوٹ سیل کے نام سے ایک منفرد نوعیت کا بازار تقریباً سبھی شہروں میں ہر اتوار کو سجتا ہے۔ بشرطیکہ بارش نہ ہو رہی ہو۔ یہ بازار شہر سے باہر کھلی جگہ سبزہ زاروں پر بھیڑوں کے فارموں پر یا کھلے میدانوں میں لگتا ہے۔ کونسل کے کارندے صبح منہ اندھیرے آ کر ایک کونے پر ریڈی میڈ ٹائلٹس دھر جاتے ہیں۔ کار پارکنگ کے لیے ڈوریاں باندھ جاتے ہیں۔ اور گَتوں پر لکھے داخلی خارجی راستوں کی نشان دہی کر جا تے ہیں۔ فوراً بعد اشیائے خورد و نوش کے دکان دار آ کر اپنی دکانیں سجاتے ہیں۔ پَو پھٹتے ہی کاروں کی آمد شروع ہو تی ہے۔ گاہک آتے ہیں۔ بیچنے والے آتے ہیں جو دکان دار نہیں ہوتے۔ ہم آپ جیسے عام شہری ہوتے ہیں۔ بکنے والی اشیا روز مرہ استعمال کی استعمال شدہ ہوتی ہیں اور بعض اوقات بالکل نئی بھی۔ انگریز کی عادت ہے کہ فالتو فضول چیز گھر میں رکھنے کا روادار نہیں۔ اور یہ ان کی مجبوری بھی ہے کہ گھر ہوتے ہی کتنے بڑے ہیں۔ ایک چیز خریدی، چند روز استعمال کی یا پسند نہ آئی تو کاربوٹ سیل میں گاڑی بھر لائے۔ میز لائے۔ میز پوش لائے اور اچھی خاصی دکان سج گئی۔ چیز پھینکنے سے تو بھلی ہے کہ کچھ نہ کچھ دام وصولے جائیں۔ استعمال شدہ صوفے، کرسیاں، کراکری، سلیپنگ بیگ، کیمرے، تصویریں، موبائل فون، استریاں اور دنیا جہان کی ہر چیزیہاں سے سستے داموں ملتی ہے۔ اور تو اور چھوٹے بچے والدین کے ساتھ اپنے کھلونے بھی اٹھا لاتے ہیں اور اپنی الگ دکان سجاتے ہیں۔ پہلے پہل ضرورت مند کی ڈھیر ساری ضرورتیں یہ بازار پوری کرتے تھے۔ پھر یار لوگوں نے اسے بزنس بنا لیا۔ اب وطنِ عزیز کے بیشتر موقع پرست منہ اندھیرے پہنچ جاتے ہیں۔ جوں ہی کوئی گاڑی آتی ہے، مال کھلتا ہے۔ چیلوں کی طرح جھپٹتے ہیں۔ اور ضرورت مندوں کے پہنچنے سے پہلے پہل کام کی چیزیں ہتھیا لیتے ہیں۔ اور شہر جا کر ضرورت مندوں پر مہنگے داموں بیچتے ہیں۔ یا پاکستان بھیج دیتے ہیں۔ آج کل موبائل فونز اور دیجیٹل کیمروں کے متلاشی زیادہ نظر آتے ہیں۔ کچھ غریب الدیار پاکستان میں تقسیم کیے جانے والے تحائف کے لیے ان ہی مارکیٹوں کا طواف کرتے ہیں۔

٭٭٭

ٹیکسی نظام اور بلیک کیب

دھوپ والا دن انگلستان کے باسیوں کو کم کم ہی نصیب ہوتا ہے۔ اور اگر کبھی کبھار نصیب ہو جائے تو بہت سے بھولے کام یاد آ جاتے ہیں۔ معمول کی زندگی سے ایسا دن چرا کر دیگر سرگرمیوں میں گزارا جاتا ہے۔ آج بھی ایک ایسا دن تھا۔ گزشتہ شب ویک اینڈ نائیٹ تھی۔ جو ڈنکا سٹر میں گزری۔ رات گئے بلکہ سحر دم ہنگامہ ہائے شب سے فراغ ہوا تو ایسی نیند پڑی کہ صبح تا دیر سوتے رہے۔ جاگے تو ایک خوب صورت چمکدار دن سامنے اور میزبان عزیزم ذوالفقار اپنے بچے یعنی مزید عزیزم شہباز خان کے ساتھ مع ناشتہ پہنچا تھا۔ ذوالفقار اُدھر ٹیکسی چلاتا ہے۔ بچوں کو کھلاتا اور پاکستان میں ابا جی سے فون پر بات کرتا ہے۔ یہ اس کی مستقل جاب ہے۔ مہمانوں کو وقت دینا اور آدابِ جوانی کے تقاضے نبھانا اس کی فارغ وقتی ذمہ داریاں ہیں۔ عزیزم شہباز کو ساتھ لانے کا مقصد اس کے بال ترشوانا تھا۔ سو ناشتے سے فارغ ہو کر باربر کی دکان کا رخ کیا۔ شہباز خان اب باربر کی ذمہ داری تھی۔ اور مسافر زلفی کے ساتھ باہر فٹ پاتھ پر کھڑا دھوپ موسم سے لطف اندوز ہوتا تھا کہ اسی اثنا میں ایک انگریز کا گزر ہوا۔ جس نے نہایت توجہ سے زلفی کو گھورا اور آگے نکل گیا۔ مسافر نے نوٹ کر لیا۔ مگر زلفی نے توجہ نہ دی۔ پوچھنے پر کہنے لگا خدا جانے کون ہے کیا ماجرا ہے۔ شاید کسی اور کا شبہ کرتا ہو۔ انگریز چند قدم آگے نکل گیا۔ پھر پلٹا دور سے زلفی کی ٹیکسی کار کو بغور دیکھا۔ تو اس کی آنکھوں میں بچے کی معصومیت اور خوشی در آئی۔ جھٹ سے جیب سے بیس پاونڈ کا نوٹ نکالا اور زلفی کی ہتھیلی پر رکھا۔ اس نے شکریہ کہا گورے نے کوئی بات نہیں کی اور لمبے ڈگ بھرتا چل دیا۔ مسافر کو حیرت ہوئی انگریز کی ذہنی حالت پر شبہ اور زلفی کی خوش قسمتی پر رشک ہوا، بھاگا بھاگا انگریز کو جا پکڑا۔ ماجرا پوچھا تو گویا ہوا’’ تین ماہ قبل ویک اینڈ نائیٹ پر ایک شراب خانے میں چہرہ فروغ مَے سے گلستاں کرتا تھا۔ وہ تو ہو گیا۔ مگر جیب زر نقد سے خالی ہو چکی تھی۔ اب گھر جانا تھا کہ اگلے شروع ہونے والے ہفتہ کے لیے توانائیاں مجتمع کر سکوں۔ گھر دور اور جیب خالی تھی یہ ایشین نظر آیا۔ اسے صورت حال اصل بتائی۔ چوں کہ اچھا لڑکا تھا۔ کسی اچھے خاندان کا فرزند ہو گا۔ جبھی کہنے لگا پیسے کی فکر نہیں۔ یوں ٹیکسی میں بٹھایا اور گھر کے دروازے پر جا اتارا۔ اتنی دیر بھی نہ رکا کہ میں شکریہ ادا کر سکتا۔ آج تین ماہ بعد نظر پڑا۔ تو ادھار اور ضمیر کا بوجھ اتارا۔ پہلی نظر میں پہچان نہ پایا آگے نکل آیا۔ پھر خیال آیا گاڑی تو ہو گی کہیں قریب ہی۔ بس پھر واپس ہوا گاڑی پر نظر پڑی تو پہچان پختہ ہوئی۔ اور ادائیگی قرض سے سبک دوش ہوا۔‘‘’’ مگر بات تو پرانی ہو چکی تھی۔ وہ تو بھول بھلا چکا تھا۔ کیا ضرورت پڑی تھی۔ تجھے اے مردِ ناداں ! اے دشمن زر و مال، اے مردِ کافر۔‘‘ مسافر نے حیرت سے پوچھا تو کہنے لگا۔’’میرا اللہ تو دیکھتا تھا۔ جب شب کی تاریکی تھی اور دیکھتا ہے اب بھی جب دن کا اجالا ہے۔ اور وہ کبھی سوتا نہیں۔ اور دیکھتا ہے اور جزا و سزا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ سزا اس کی شدید اور جزا بے بدل ہے۔‘‘
مسافر نے مزید حیرت سے استفسار کیا: کیا وہ مردِ درویش مسلمان ہے۔ کہنے لگا وہ کیا ہوتا ہے ؟ مسافر ’’اجی میرا مقصد تھا آپ کا مذہب کیا ہے ؟ ‘‘’’اوہ اچھا، میں نہیں جانتا مذہب کیا ہے۔ بس اتنا پتا ہے کہ اللہ زندہ اور دیکھتا ہے۔مخلوق اس کا کنبہ ہے، اور اگر کوئی اس کے کنبے کو دھوکہ دے تو وہ سزا دے گا۔ جو شدید ہو گی انسان کے تصور سے باہر اور کوئی اس کے کنبے سے محبت کرے گا تو وہ جزا دے گا۔ اور جزا اس کی بے بدل اور ابدی ہو گی۔‘‘ ٹیکسی کار انگلستان میں ایک نظام کی پابند ہے۔ اور اس پیشہ سے روزی کمانے والوں کے وارے نیارے ہیں۔ایک تو وقت کی پابندی کا بکھیڑا نہیں۔ اپنی نیند سوئے، اپنی جاگے، دو گھنٹہ کام کیا، دہاڑی بن گئی۔ تو گھر واپس آئے۔ امورِ خانہ کو توجہ دی یا لمبی تان سوئے، آرام کیا۔ دوسرا پیسہ بھی اس کام میں دیگر کسی بھی قسم کی مزدوری سے زائد ہے۔ اوپر جو واقعہ بیان کیا ہے۔ ایسے واقعات اکثر ٹیکسی ڈرائیوروں کو پیش آتے ہیں۔ اور بالعموم ویک اینڈ نائٹس میں۔ رات گئے میکدوں سے برآمد ہونے والے گورے، گوریوں کی جیبیں عموماً خالی ہوتی ہیں۔ اور وہ ٹیکسی میں بیٹھ جاتے ہیں۔ جب منزل مقصود کے نزدیک پہنچ جاتے ہیں تو گاڑی روک بھاگ نکلتے ہیں۔ ڈرائیور بے چارہ چند روپوں کو جان کا صدقہ سمجھ کر رو دھو چپ ہو رہتا ہے۔ ان کے پیچھے بھاگے تو خطرۂ جان بھی اور اگر معاوضہ لینے پر بضد ہی ہو تو خطرہ ایمان بھی۔
یہاں دو قسم کی ٹیکسی سروس ہے۔ ایک تو فری لانسرہے۔ ان کا رنگ الگ ہوتا ہے۔ یہ اپنی سواری خود اٹھاتے ہیں۔ سرِ راہ کسی نے ہاتھ دے کر روکا۔ پب کلب کے سامنے رات سمے کھڑے ہو گئے۔ جو آیا بنا پوچھے بیٹھ گیا۔ ڈرائیور کا من چاہا تو سواری اٹھائی وگرنہ معذرت کر لی۔ دوسری با ضابطہ سروس ہے۔ ان کا رنگ دوسرا ہے۔یہ کسی نہ کسی اڈے سے منسلک ہوتی ہیں۔ اڈہ مالکان بھی زیادہ تر پاکستانی ہیں۔ یہاں کی اصلاح میں ٹیکسی اڈہ کو BASEکہا جاتا ہے۔ اڈہ کا مالک بلڈنگ مہیا کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ جہاں پر ٹیلی فون، کمپیوٹر وغیرہ کی تمام سہولیات میسر ہوتی ہیں۔ ٹیکسی کی باڈی پر ٹیلی فون نمبر درج ہوتے ہیں۔ جو پڑھنے اور یاد رکھنے میں انتہائی آسان ہوتے ہیں۔ مثلاً ریڈچ میں عزیزم سرفراز خان کی BASEکا نمبر60,000ہے۔ ٹیکسی ڈرائیور خود ہی ٹیکسی کے مالک بھی ہوتے ہیں۔ وہ کسی نہ کسی اڈے سے منسلک ہو جاتے ہیں۔ مالکان اڈہ زیادہ سے زیادہ ٹیکسیاں اپنے اڈے سے منسلک کرانے میں کوشاں رہتے ہیں۔اس ضمن میں لابنگ۔۔۔۔کرتے ہیں۔ اپنے تعلقات، اخلاق، علاقائی نسبتوں کے حوالے دیتے ہیں۔ اچھی خاصی مالیاتی پیکجز کا اہتمام کرتے ہیں۔ اور جب کوئی ٹیکسی اڈے سے منسلک ہو جاتی ہے۔ تو اسے سواری مہیا کرنا مالک اڈہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ BASEپر کمپیوٹر آپریٹر کے پاس تمام گاڑیوں کاہمہ وقتی ریکارڈ اور لمحہ بہ لمحہ رپورٹ ہوتی ہے۔ اس وقت کون سی گاڑی کس علاقے میں ہے۔ سفر میں ہے یا حضر میں۔ کتنی دیر میں موجود سواری سے فارغ ہو جائے گی۔ وغیرہ۔ جوں ہی کسی سواری کا فون آتا ہے۔ کمپیوٹر آپریٹر سواری کی جائے قیام سے نزدیک ترین موجود گاڑی کو ہدایت جاری کرتا ہے کہ فلاں جگہ سے سواری اٹھاؤ۔ اور ان تمام خدمات کے عوض ٹیکسی مالکان BASEمالک کو ہفتہ واری مخصوص معاوضہ دیتے ہیں۔ جس کی شرح مختلف شہروں میں الگ الگ ہے۔ بل کہ مختلف اڈوں کی شرح میں بھی فرق ہے۔ با لعموم ایک BASEکے ساتھ ساٹھ ستّر ٹیکسیاں منسلک ہوتی ہیں۔ کچھ ذمہ دار اڈہ مالکان نے اپنی گاڑیوں کی مرمت خاطر اپنی ذاتی ورکشاپس بھی بنا رکھی ہیں۔ جہاں ڈرائیوروںکو مرمت کی سہولتیں ارزاں نرخوں پر ملتی ہیں۔ عزیزم سرفراز خان نے اپنی BASEکے سامنے ایسی ہی ورکشاپ قائم کر رکھی ہے۔ جس کے اوپر فلیٹ میں مسافر کو کئی روز رہنے کا اتفاق ہوا۔ سرفراز کی اس ورک شاپ کے روحِ رواں چوہدری نذیر ہیں۔ جو کہ ایک زندہ دل اور محبتیں کرنے والا کر دار ہے۔ ہمہ وقتی لبوں پر مسکراہٹ، خوش لباس ایسا کہ کام کے دوران پہنے جانے کپڑوں پر بھی شکن گوارا نہیں۔ حسّاس اتنا کہ یار دوستوں سے بات بے بات پر رُوٹھ جانا۔ اور پھر دوسرے لمحے راضی ہو جانا۔ المختصر ایک عظیم انسان ہے۔ کسی بھی BASEسے منسلک گاڑیاں راہ چلتی سواری اٹھانے کی مجاز نہیں ہوتیں۔ ہاں ہوشیار ڈرائیور آنکھ بچا کر داؤ لگاتے ہیں۔ البتہ دیک اینڈ پر یہ ان قانونی بکھیڑوں سے آزاد ہوتی ہیں۔کیوں کہ ان تاریک شبوں میں سواری زیادہ ہوتی ہے۔ اور گاڑیاں کم پڑ جاتی ہیں۔ انگلستان میں ٹیکسی کی تیسری قسم بلیک کیب بنے۔ بھلے وقتوں میں تو ان کا رنگ سیاہ ہی ہوتا تھا۔ مگر اب کچھ عرصہ سے دوسرے رنگ بھی بازار میں آ چکے ہیں۔ پر کہلاتی وہ بھی بلیک کیب ہی ہیں۔ یہ مخصوص وکٹورین طرز کی انگریز روایت پرستی کی شان کی حامل گاڑی ہے۔ جس کا کرایہ عام ٹیکسی کی نسبت تقریباً دو چند ہے۔ اگلی سیٹ پر صرف ڈرائیور کے لیے نشست ہے۔ ساتھ فرنٹ پر دوسری سواری کے لیے سیٹ ہی نہیں ہوتی۔ لہٰذا سواری کا فرنٹ پر بیٹھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پیچھے دو سیٹیں آمنے سامنے ہوتی ہیں۔ یعنی بالمشافہ بیٹھنا پڑتا ہے۔ روایت اس کی یوں ہے کہ آٹو موبائل کی ایجاد سے قبل سلطنتِ عظمیٰ بلکہ یورپ بھر میں گھوڑا گاڑیوں کا چلن عام تھا۔ سامنے کو چوان بیٹھتا جو اپنے بائیں ہاتھ والی سیٹ پر گھوڑے کی گھاس کا گٹھا رکھتا تھا۔ سواریاں پیچھے کیبن میں بیٹھتی تھیں۔ اس طرح کو چوان اور سواریوں کے درمیان ایک تخلیہ کا اہتمام بھی مقصود تھا۔ پھر گھوڑا گاڑیوں کی جگہ موٹر آئی تو روایت پرست انگریزوں نے ٹیکسی میں بھی وہی معیار رکھا۔ یعنی آگے ڈرائیور ساتھ والی سیٹ پر گھاس کے گٹھے کی بجائے اوزاروں کا ڈبہ پڑاہو گا۔ اور پیچھے کیبن نما گاڑی میں آمنے سامنے نشستیں اور ڈرائیور اور سواری کے درمیان تخلیہ۔ بلیک کیب ٹیکسی کی اپنی ایک شان ہے۔ سَو اس کے لائسنس کا حصول بھی قدرے مشکل کام ہے۔ اس کے لیے اڈے سے منسلک ہونے وغیرہ کی شرائط بھی نہیں۔ اڈے سے منسلک ہونے کے باوجود کہیں سے بھی سواری اٹھا سکتی ہیں۔ چوں کہ ان کا سفر مہنگا ہے۔ اور مخصوص کلاس کے لوگ ہی یہ گاڑی استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے دوسری ٹیکسیوں کی نسبت ان کی تعداد کم ہے۔ البتہ مرکزی شہر لندن میں اتنی وافر ہیں کہ دیگر ٹیکسیاں اکا دکا ہی نظر آتی ہیں۔ مسافر کو قیامِ لندن کے دوران بلیک کیب میں سفر کرنے کا خوب خوب موقع ملا۔

معصوم چور

مسافر وک فیلڈ کے بس سٹاپ پر اتر ا، سفری تھیلا اٹھائے چھوٹے سے بازار میں داخل ہوتا ہے۔ یہاں اصل برطانوی کم اور مشرقی یورپ کے باشندے زیادہ ہیں۔ جب سے گورباچوف نے گلاس ناسٹ کا نعرہ دیا۔ اشتراکیت زوال پذیر ہوئی۔ مشرقی یورپ والوں کو آ ہنی پردے سے نجات ملی تو اُنھوں نے مغرب کا رخ کیا۔ مغرب کے دیگر ملکوں نے تو اُنھیں قبول کیا یا نہیں۔ سلطنت عظمیٰ نے اپنے بازو کھول دیے۔ یہ درویش صفت مخلوق ہے۔ پولش، چیک، یوگو وغیرہ انتہائی جفا کش اور محنتی لوگ ایک ایک کمرے کے مکان میں دسیوں افراد قیام پذیر۔ کرایہ بانٹتے ہیں۔ ایشین جو مزدوری 10پونڈ میں کرتے ہیں۔ یہ3 پاونڈ میں کرتے ہیں۔بالکل وہی رویہ جو پاکستان میں افغان مہاجرین اپناتے ہیں۔ اب ان کے آنے سے ایشیین کو ہانڈی چولھے کے لالے پڑے تو اُنھوں نے ایک اور راہ نکالی۔ کام کا ٹھیکہ لے لیں گے۔ ان نو واردوں سے کام کرائیں گے۔ 500پاونڈ ان کے ہاتھ پر دھریں گے۔ دو ہزار جیب میں ڈالیں گے۔ ہینگ لگی نہ پھٹکڑی اور یہ جا وہ جا۔ مسافر بازار سے خوراک، سگریٹ موبائل کارڈ خرید کر منزل مقصود کے متعلق پوچھتا ہے۔ شہر سے کوئی دو میل دور ایک بلند پہاڑی ٹیلے پر پہنچتا ہے۔ یہ گئے گذرے زمانوں میں اچھائی اور سچائی کی تعلیم دینے والے کسی سینٹ کی جائے عبادت ہے۔ چھوٹی سے حویلی کے عین بیچ میں مخروطی چھت والی کوٹھڑی کھڑی ہے۔ ارد گرد احاطے میں پھولوں کے تختے ہیں۔ حویلی سے ذرا ہٹ کر جدید سہولتوں سے آراستہ واش روم ہیں۔ دو ٹاؤل لٹکے ہیں۔ ٹشو پیپرز موجود ہیں۔ واش بیسن کے ساتھ ہاتھ خشک کرنے کی مشین ہے۔ واش
بیسن کی ایک ٹونٹی کھولیں تو مائع صابن کی کریم نکلتی ہے۔ دوسری میں گرم پانی ہے۔ عبادت گاہ کی کوٹھڑی معطر ہے۔ بالکل جیسے اپنے ہاں مرحوم بابوں کی بیٹھکیں ہوتیں ہیں۔ یہاں اگر کچھ موجود نہیں تو زائرین ہیں۔ البتہ ان زائرین کی حاضری کے آثار وافر ہیں۔ جو مسافر سے پہلے آ چکے ہیں۔ عقیدہ یہ ہے کہ زائرین ادھر آ کر کوٹھڑی میں کھڑے ہو زیرِ لب اپنے سابقہ گناہوں کا اقرار کریں۔ آیندہ سے خلوصِ نیت سے تائب ہوں۔ تو بیشتر دعائیں قبول ہو ں گی۔ مسافر چبوترے کے نزدیک کھڑے ہو کر سابقہ گناہوں کے اقرار کا ارادہ باندھتا ہے۔ مگر کہاں سے شروع کرے، داستان دراز ہے۔ شمار نا ممکن ہے۔ آیندہ سے تائب ہونے کا ارادہ متزلزل ہوا جاتا ہے۔ مانا کہ زندگی کا بھروسہ نہیں۔ مگر سفر طویل ہے۔ بہت سی زمینوں کو ابھی اس کے پاؤں چھو نہیں پائے۔ بہت سی لذتوں سے اس کے لب تشنہ ہیں، محروم ہیں۔ ابھی اس کے لہو میں حرارتیں موجود ہیں۔ اس کے سینے میں بے شمار نا آسودہ حسرتیں کروٹ لیتی ہیں۔ سو کیسی دعا اور کیا قبولیت وہ آگے بڑھ جاتا ہے۔آگے دیو دار قسم کے درختوں کا جنگل ہے۔ جنگل کے اس پار کوئی عجیب سے نام والی بستی ہے۔ اسی مقام پر جہاں پہاڑی راستہ نیچے سڑک چھوتا ہے۔ کیسر ین نے آنا ہے۔ کیسرین جو سکاٹ لینڈ کی طالبہ ہے۔ فلسفہ اس کا مضمون ہے۔ ویگاس کلب میں جز وقتی ملازمت کرتی ہے۔ اپنے تعلیمی اور ماما کے نان نفقہ کے اخراجات پورے کرتی ہے۔ ماما سے جنون کی حد تک محبت کرتی ہے۔ باپ کو اولڈ مین کہتی ہے۔ غیرت کے تقاضے کے پیش نظر باپ پر بوجھ بننا گوارا نہیں کرتی۔ اس نے پانچ بجے آنا ہے۔ اور پانچ بجنے میں ابھی تین گھنٹے باقی ہیں۔ درختوں کے اس طرف نرم، ملائم، سبز گھاس کا وسیع میدان ہے۔ مسافر وہاں بیٹھ کر ڈائری مکمل کرتا ہے۔ بادلوں نے دھوپ سے آنکھ مچولی شروع کر دی ہوئی ہے۔ وِ ک فیلڈ کی نشیبی گھاٹیوں سے اٹھنے والے اودے بادلوں کے ٹکڑے تیزی سے ہڈرڈز فیلڈ کے میدانوں کی طرف جاتے ہیں۔ ڈائری مکمل کر چکنے کے بعد مسافر دو گھڑی سستانے لیٹتا ہے۔ تو نیند کی دیوی آغوش میں لے لیتی ہے۔ چار بجتے تھے۔ جب بارش کی پہلی بوند نے پیشانی پر دستک دی۔ وہ ہڑ بڑا کر اٹھتا ہے۔ آنکھ دریچے کھولتا ہے۔ آسمان پر بادل پرا باندھے کھڑے ہیں۔ دائیں طرف دیکھتا ہے۔ سگریٹ، لائٹر، موبائل فون موجود مگر خوراک کاڈبہ غائب۔ چور۔ جی ہاں، کوئی چور اٹھا لے گیا۔ مگر یہ کیسا چور ہے۔ یہاں تو چور سگریٹ کا پیکٹ دیکھ کر گاڑی کا شیشہ توڑ اٹھا لیتے ہیں۔ موبائل فون ہاتھ سے اچک لے جاتے ہیں۔ یہ کون بے نیاز تھا۔ جو سب کچھ چھوڑ کر صرف خوراک لے بھاگا۔ ایک مُعما۔ ایک راز، خیر کوئی بات نہیں۔ رزق تو مقدر میں ہوتا ہے۔ جس کا نصیب اس نے کھانا تھا۔ نیچے کیسرین آنے والی ہو گی۔ اس کے ساتھ کسی سروس سٹیشن پر پیٹ بھر لیں گے۔ مسافر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ راستہ جنگل سے نکلتا ہے۔ جنگل کے عین بیچ میں خوراک کا چور پکڑا جاتا ہے۔ خوراک کا پیکٹ پھٹا ہے۔ ٹھنڈے گوشت کے قتلے بکھرے ہیں۔ گھاس پر مکھن جا بجا چمکتا ہے۔ اور ہرن کے دو بچے پھٹے پیکٹ سے کھیلتے ہیں۔ پاس تین ہرن کھڑے ہیں۔ جو مسافر کو دیکھ کر آہستہ رو اس کے قریب آتے ہیں۔ نتھنوں کو تیزی سے اوپر نیچے چڑھاتے ہیں۔ خدا جانے یہ اظہار تشکّر ہے یا ہَل مِن مزید کا مطالبہ۔ مگر مسافر تو اب تہی دست ہے۔ وہ ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتا ہے۔ رزق کی باقیات سمیٹ چل دیتا ہے۔ وہ اُنھیں کسی ڈسٹ بن میں ڈال دے گا۔
چلتے چلتے اچانک ایک مقام پر ٹیلے کی بلندی رک جاتی ہے۔ عین نیچے سبز،
سرخ چھتوں والی چھوٹی سی بستی ہے۔ اور قدموں کے نیچے نشیب میں سڑک کنارے بغیر چھت کے سرخ سپورٹس فراری کھڑی ہے۔ فراری سے ٹیک لگائے۔ بڑے بڑے گوگلز پہنے منہ سے مشروب کی بوتل لگائے وہ منتظر ہے۔ مسافر نے پہلی نظر میں تو نہ پہچانا مگر بار دگر دیکھا تو ہلکی ہوا کے جھونکوں سے اڑتی شہد رنگ کی پونی اس کی خبر دیتی تھی۔پانچ بجنے میں بیس منٹ باقی تھے۔ مسافر چونک جاتا ہے۔ یہ بار دگر دیکھنا بھی تو ایک قیامت ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے سیانوں نے منع کیا ہے۔ وہ جانتے تھے کہ دوسری نظر سے کئی کہانیاں جنم لے سکتی ہیں۔ کئی المیے وجود میں آ سکتے ہیں۔ کہانی جنم لے چکی تھی۔ سرخ سپورٹس فراری کسی کہانی ہی کی خبر دیتی تھی۔ فلسفے کی طالبہ، محنت کش، اپنے زور بازو سے روزی کمانے والی سکاٹ لڑکی اور یہ مہنگی ترین عیاشی کی نشانی سپورٹس فراری یہ ویگاس میں ان تھک محنت کرنے والی کیسرین نہیں ہو سکتی۔ مگر نیچے سے مسافر کو دیکھ کر سکارف ویو کر نے والی کوئی اور کیسے ہو سکتی ہے۔ مسافر کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ نیچے پہنچتا ہے۔
’’ہیلو ایزام! کیسا رہا بابے کی جائے عبادت کا سفر۔ سچ کہو کون سی دعا مانگ کر آئے ہو۔ اور موسم بگڑ رہا ہے۔ جلدی سے گاڑی میں بیٹھو۔ شاید راستے میں بارش آلے۔ ہم موٹر وے سے نہیں جائیں گے، چھوٹی سڑک لیں گے۔ موٹر وے پر سپورٹس فراری ناراض ہوتی ہے۔ ٹریفک جام میں گھبراتی ہے۔‘‘ مسافر بات کاٹ کر ’’سپورٹس فراری نہ ہوئی۔ کسیرین ہوئی۔ ‘‘وہ خود سیٹ بیلٹ باندھتی ہے۔ مسافر کو باندھتی ہے۔ اور فراری گولی کی رفتار سے آگے بڑھتی ہے۔ کیسرین۔’’ایزام ’’اب کہو روداد سفر کیا دعامانگی تھی؟‘‘
مسافر ’’کیسرین! کوئی دعا نہ مانگ سکا۔ دعا کے لیے شرط تھی کہ سابقہ گناہوں کا اعتراف کیا جائے، وہ حساب شمار سے باہر تھا۔ آئندہ تائب ہونے کا یارا نہیں رکھتا تھا۔ اور سچ بات تو یہ ہے کہ اینٹ کے چبوتروں سنگ گھڑے ہو دعائیں مانگنے کا کچھ اتنا قائل بھی نہیں۔ بس ایک منظر تھا سو دیکھ لیا۔ البتہ کچھ معصوم چوروں سے واسطہ پڑ گیا تھا۔ نتیجتاً بھوکا ہوں۔ معصوم چوروں کی کہانی سنتے ہی وہ زور سے بریک لگاتی ہے۔ ’’ایزام‘‘ چلو واپس چلتے ہیں۔ وہ بے چارے بھوکے ہوں گے۔ بستی سے خوراک خریدتے ہیں۔ اُنھیں کھلائیں گے۔ ‘‘
مسافر ’’مگر وہاں تو بورڈ پر لکھا تھا کہ جانوروں کو خوراک نہ ڈالیں۔ یہ حکومتی کارندوں کی ذمہ داری ہے۔ البتہ جانوروں کے لیے یہ ہدایت نہیں درج تھی کہ وہ مسافروں کا رزق چوری نہ کریں۔‘‘کیسرین ’’بھولے مسافر! وہ تو جانور ہیں۔ انسانوں کی طرح مہذب تو نہیں جو پڑھ لکھ سکیں۔ ‘‘‘ مسافر ’’بجا فرمایا خاتون محترم! وہ بہر حال جانور ہیں۔انسانوں کی طرح بہت سے کام نہیں کر سکتے۔ وہ بم دھماکے نہیں کر سکتے۔ بارود نہیں بنا سکتے۔ دوسروں کی چراگاہوں پر للچائی نظر نہیں رکھتے۔ اپنے ہم جنسوں کی رنگ و نسل کے حوالے سے تضحیک نہیں کر سکتے۔ وہ۔۔۔۔۔۔‘‘
’’بس۔بس مسافر سیاست نہیں چلنے کی۔‘‘
فراری سو میل فی گھنٹہ کی رفتار کی حد کو عبور کرتی تھی۔ بارش کے چھنٹے کھلی چھت والی سپورٹس میں مسافر کے چہرے کو چھیدتے تھے۔ دل اچھل کر حلق میں آتا تھا۔ مسافر کے بار بار کے احتجاج کے باوجود گاڑی کی رفتار مسلسل بڑھتی تھی۔ بالآخر مسافر کو جھوٹ موٹ عارضۂ قلب کا سہارا لینا پڑا۔ تو محترمہ کا دل پسیجا اب اس نے کسی سکاٹ مغنیہ کی آواز والا کیسٹ لگا دیا تھا۔ کوئی پرانا گیت۔ جب گانے والی کا محبوب برطانیہ کی سرحدوں پر ارضِ وطن کے دفاع کی جنگ لڑتا تھا۔ گیت کے بول کچھ یوں تھے۔’’ارض وطن کے رکھوالے شکست کا داغ پیشانی پر لیے مت لوٹنا۔ اس گھڑی سے پہلے میں تمہارا لہو میں نہایا متبرک جسم دیکھنا زیادہ پسند کروں گی۔‘‘گاڑی لندن کی روشن سڑکوں پر پھسلتی تھی۔ مسافر کے کپڑے مکمل بھیگ چکے تھے۔ سردی بڑھ چکی تھی۔ جب ایک گلی کے نکڑ پراس نے اچانک گاڑی روکی۔’’مسافر اب فوراً اترجاؤ۔پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا۔ اس کی بات سن کر مسافر کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔ ’’کیا مطلب ہے تمہارا کیسرین۔‘‘
بس جو کہا وہی کرو۔ اتر و فوراً مسافر ’’مگر کیا یہ سکاٹ اخلاق ہے۔ یا پھر کوئی سنجیدہ مذاق، کیسرین ’’مذاق نہیں۔ بل کہ یہ سکاٹ بے تکلفی ہے۔ تمہارے کپڑے بھیگے ہیں۔ اس سے پہلے کہ سردی تمہاری رگ رگ میں گھس جائے۔ تمہیں گرم کپڑوں تیز مشروب اور گرم ماحول کی ضرورت ہے۔ ما ما گھر پر تمہاری منتظر ہیں۔ مجھے ابھی اولڈ مین کی مطلوبہ اشیا کار گو سروس کے حوالے کرنا ہیں۔ تم نے سیدھے سامنے جانا ہے۔ تیسری گلی گارلنگٹن سٹریٹ ہے۔ وہیں پر 135پر پہنچنا ہے۔ دروازہ کھلا ہو گا۔ سیدھے اندر چلے جانا۔ بند ملا تو فقط ایک بار بیل دینا۔ جن سکاٹس کے گھروں پر مسافروں اور دوستوں کی دوسری بیل بجتی ہے۔ اہل محلہ ان سکاٹس کو آدابِ میزبانی سے بے گانہ سمجھ کر ان کا سوشل بائیکاٹ کر دیتے ہیں۔ وہ اگلے مہمان کی آمد تک نجس تصور کیے جاتے ہیں۔ بالکل ان یہودیوں کی طرح جنھیں کسی غیر یہودی کا پھینکا پتھر چھو جائے۔اب جاو۔
گارلنگٹن سٹریٹ (نام کی ایک گلی بریڈ فورڈ میں بھی ہے ) بارش میں بھیگتی تھی۔ دو رویہ مکانوں کے سامنے برقی بلب پیلی روشنیوں سے تاریکی کا مقابلہ کرتے تھے۔ گلی سنسان تھی۔ اکیلا مسافر تیز قدموں چلتا مکانوں کے نمبر پڑھتا جاتا تھا۔ اچانک 133پر پہنچ کر گلی ختم ہو تی تھی۔ ساتھ میں ایک چھوٹا سا پارک تھا۔ مسافر کی پریشانی قابلِ دید تھی۔ تیز بارش، بھیگے کپڑے، سردی سے ٹھٹھرتا بدن۔ وہ اپنی رفتار تیز کر دیتا ہے۔ آخر پارک کے دوسرے کونے پر بھی تو ایک بڑا مکان نظر آتا ہے۔ جی ہاں وہی مسافر کی منزل ہے۔ مکان کے سامنے ایک کھلا لان ہے۔ مکان بنگلہ نما ہے۔ مسافر کو حیرت کے ایک اور جھٹکے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سکاٹ محنت کش طالبہ، ویگاس کے جُوا خانہ میں محنت شاقہ سے چند پاونڈ کمانے والی لڑکی۔ سواری کے لیے فراری اور لندن میں بنگلہ نما مکان، تضاد، یکسر ایک تضاد۔
مکان کی بیرونی دیواریں بیلوں سے اس طرح ڈھکی تھیں کہ فقط دروازے اور کھڑکیاں نظر آتیں۔ باقی پورا مکان سبزے میں چھپا تھا۔ بیرونی منحنی سے جالی دار کھلے دروازے سے اندرونی گیٹ تک پختہ روش۔۔۔۔۔کے دونوں اطراف پھولوں سے ڈھکی باڑ تھی۔ بیرونی دروازے کے دائیں ہاتھ مخروطی چھت والی کوٹھڑی ایستادہ تھی۔ جیسی اپنے ہاں کی کوٹھیوں میں چوکیدار کے لیے بنائی جاتی ہے۔ مگر یہاں چوکیدار پالنے کا تصور نہ ہے۔ یہ کوئلہ کی کوٹھڑی ہے۔ جو مکان کی قدامت کا ثبوت ہے۔ بھلے وقتوں میں مکانوں اور مکینوں کی حرارت کے لیے کوئلہ استعمال ہوتا تھا تو یہ کوٹھڑیاں سٹور کا کام دیتی تھیں۔ آج گیس ہیٹنگ سسٹم نے ان کی وہ افادیت تو ختم کر دی ہے، البتہ یہ کاٹھ کباڑ رکھنے یا پھر روایات کہنہ کی یاد تازہ رکھنے کے لیے قائم و دائم ہیں۔ بائیں طرف بڑا پارکنگ گیراج ہے۔ جس میں ایک ہیبت ناک قسم کی بڑی فورڈ کھڑی ہے۔ بیرونی منحنی دروازے کے ستون پر زیرو واٹ کے بلب کے نیچے پیتل کے چمکتے ون تھری فائیو نے مسافر کا تمام اضطراب ختم کر دیا۔ سب وسوسے ہوا ہو گئے۔ وہ تیز قدموں پختہ روش پر چلتا اندرونی دروازے کے سامنے پہنچتا ہے۔
دروازے کو چھو نے سے پہلے پانچ سیڑھیاں چڑھنا تھیں۔ پھر گھنٹی بجانا تھی فقط ایک بار کہ سکاٹس کے گھروں پر دوسری بار گھنٹی نہیں بجائی جاتی۔ یہ ان کے لیے ذلت ہے۔ آداب میزبانی اور مسافر نوازی سے رو گردانی سمجھی جاتی ہے۔ مسافر کے قدم پہلی سیڑھی کو چھوتے ہیں تو ذہن یک لخت قلابازی کھاتا ہے۔
یہ ان زمانوں کا قصہ تھا جب مسافر بچپن سے نکل کر لڑکپن کی دہلیز پر کھڑا تھا۔ موسم سرما کے آغاز پر افغانستان کے پہاڑوں سے افغان پاوندے اپنی بکریوں گدھوں کو لیے تلاشِ رزق میں نیچے اترتے۔ مسافر کا علاقہ ان کے قدموں کے عین نیچے واقع تھا۔ یہی ان کا پڑاؤ ہوتا۔ وہ مہاجرین کہلاتے۔ ابھی مجاہدین کا غلغلہ بلند نہ ہوا تھا۔ ان کے ہاتھوں میں بندوقیں نہ ہوتیں۔ خشک پھل ہوتے، پھول ہوتے، دانت صفائی کے لیے اخروٹ کے چھلکے، ہاتھ سے بنے پراندے، اور اس قسم کی دیگر چیزیں وہ بیلچے، کدال، کلہاڑی اور گدھوں کے توسط سے رزق حلال کماتے۔ مہاجرین تھے مشقتوں کے عادی تھے۔ مجاہدین نہ تھے۔ جو بندوق کی نالی کے زور پر مذہب کے مقدس نام پر چندے اکٹھے کرتے۔ جن سے افغان وار لارڈز کے عشرت کدوں کو سامانِ نشاط مہیا ہوتا۔ صاحبانِ جبّہ و دستار کی نئی گاڑیاں آتیں ان کے محافظ دستوں میں اضافہ ہوتا۔ اور سرمایہ دارانہ نظام کے یہودی منصوبہ ساز ہزاروں میل دوربیٹھے مسلم کی سادہ لوحی پر قہقہے لگاتے یک قطبی دنیا کے خواب کی تعبیر کے جام تجویز کرتے۔مسافر اس وقت تک سفر کی لذتوں سے ناآشنا محض ایک طالب علم تھا۔ نویں جماعت کا طالب علم۔ دسمبر کا مہینہ تھا۔ وہ گھوڑے پر سوار مالٹوں کی بوری آگے رکھے گھر آتا تھا کہ راستے میں شام سمے تیز بارش نے آ لیا۔ قریب ہی تمباکو کی بھٹیاں تھیں۔ جو ایک مدت سے بند پڑی تھیں۔ وہاں افغان پاوندوں کا ایک کنبہ تازہ تازہ اترا تھا۔ مسافر پناہ کا متلاشی اور وہ لوگ کسی مقامی کے دستِ تعاون کے طلب گار تھے۔ کچھ فطرتاً مہمان نواز بھی تھے۔ سَو بارش میں بھیگتے مسافر اور اس کے جانور کو دو گھڑی پناہ مل گئی۔ شام کے کھانے میں مکئی کے سوکھے ٹکڑے اور ساگ کے نام پر جانوروں کی خوراک ابلی ہوئی شفتل تھی۔اس سادہ خوراک کے بعد وہ کٹورے میں خشک میوے اور مٹی کے گلاس میں قہوہ لے آئی۔ اس کا نام گلنار تھا۔ مسافر سے قدرے کم عمر، مشقتوں میں پلی معصوم بچی، تا دیر وہ اپنے وطن کی باتیں کرتی اپنی ہم جولیوں، سکھیوں، سہیلیوں کو یاد کرتی۔ مسافر سے معصومانہ سوال پوچھتی تھی۔ اس طرح مسافر کو پہلی بار صنف مخالف کی دوستی کی لذت آشنائی نصیب ہوئی۔ ایسی مقدس دوستی جو پوتر جذبوں کی امین تھی۔ جس میں جنسی ملاوٹ کی غلاظت کا شائبہ تک نہ تھا۔ ان زمانوں میں ویسے بھی معصومیت تا دیر قائم رہتی اور بلوغت دیر سے آیا کرتی تھی۔ اس طرح مسافر کے سفر کا ابتدائی قدم آغاز ہو چکا تھا۔ ایک شاعر کی پہلی غزل کا مصر عِ اولیٰ ترتیب پاچکا تھا۔
دوسری صبح ابھی دودھ کو مدھانیوں نے نہیں چھوا تھا کہ گلنار اپنی ماں کے ساتھ مسافر کے گھر آ پہنچی۔ پھر یہ ماں بیٹی کا معمول بن گیا۔ مسافر کی ماں نے اسے بیٹی جانا اور وہ اُنھیں ہمیشہ ماں جی کہتی۔ وہ ماں بیٹی روزانہ آتیں۔ دودھ دوہتیں، اُپلے تھاپ دیتیں۔ گھر میں جھاڑو پوچا لگاتیں۔ گلنار مسافر کی بہنوں کی، ان کی سہیلیوں کی چوٹیاں گوندھتی۔ ماں جی کے سر میں تیل ڈالتی اور ماں بیٹی مکئی کی چار روٹیاں اور لسی کا ڈولا لے جاتیں۔ روپے پیسے کا رواج کم کم تھا۔ کم و بیش بارٹر سسٹم چلتا تھا۔
مارچ کا مہینہ ختم ہوتا تھا۔ کہرے میں دبی زمین بھرپور سانسیں لیتی تھی۔ یہ پاوندوں کا واپسی کا موسم تھا۔ سو وہ چلی گئی۔ اگلے برس آئی تو ماں جی کے لیے اخروٹ کے چھلکے۔ خشک میوے، بہنوں کے لیے ہاتھ سے بنے پراندے اور ڈھیروں دوسری چیزیں لے آئی۔ پھر یہ سلسلہ کئی برس تک یوں ہی چلتا رہا۔ پکے انار نے پتوں کا رنگ چھوڑا، اس کی سرخی کو عرفان ذات ہوا اور دعوت نظارہ بنی تو گھر میں پتھر آنا شروع ہوئے۔ مال اچھا تھا۔ بے نقص تھا۔ گاہک پنجوں بل تھے اور دکاندار آٹھوں گانٹھ کمید سوشیرا اجارہ دار بن بیٹھا۔ برادری بیٹھی، صلاح مشورہ ہوا۔ تو شیرے نے آخری فیصلہ سنا دیا کہ تول کے باٹ فیصلہ کریں گے۔ برادری ہی کے ایک پاوندے نے بہ دل و جان سودا قبول کیا۔ گوشت تولا گیا۔ اڑتیس سیر وزن نکلا۔ ان زمانوں میں سیر چلتے تھے ابھی کلو کے باٹ نے جگہ نہ پائی تھی۔ دو ہزار افغانی فی سیر جو چند سو روپے پاکستانی بنتے تھے گلنار کی قیمت ٹھہری۔ اس طرح سماجی قدروں کی قیمت چکا کر وہ ڈولی میں بیٹھ گئی۔
مسافر کے قدموں نے دوسری سیڑھی کو چھوا تو کتابِ زیست کا ایک اور ورق کھل گیا۔ وہ لڑکپن کی دہلیز عبور کر چکا تھا۔ نئی نئی جوانی کا خمار، طالب علمی کا زمانہ، ایک اضطراب، ایک تجسس، فلسفہ کی پیچیدگی سرگرانی میں اضافہ کرتی ہے۔ من کی دنیا آواز دیتی ہے تو اسرارِ وحدت کے پردوں کی نقاب کشائی کا جنون اسے کوچۂ تصوف میں لے جاتا ہے۔ کوچۂ تصوف جہاں رہبر کامل کے بغیر قدم رکھنا محال ہے۔ سو یہی تلاش اسے فقیروں کے ڈیروں، تکیوں اور مزاروں پر لیے لیے پھرتی ہے۔ بُلّھے شاہ، داتا صاحب، میاں میر، گھوڑے شاہ۔ پاک دامن بیبیوں مادھو لال حسین کے مزاروں پر وہ جا چکا ہے۔ سید قاسم شاہ کا مزار اس بازار میں واقع ہے۔ کہ جس کا نام لکھتے قلم کانپ کانپ جاتا ہے۔ وہ بازار جو اہل عشرت کے لیے رنگ و نور و نکہت کی طلسماتی دنیا ہے۔ جو اہلِ قلب و نظر کے لیے عبرت سرائے ہے۔ جو صالحین کے نزدیک فحاشی و غلاظت کا ڈھیر ہے۔ جہاں عورت کی عزت و عصمت ایک قہقہہ ہے۔ طنز ہے، ٹھٹھا ہے۔ مگر مسافر کے لیے صرف ایک نظارہ ہے۔ ایک منظر ہے۔ سوسائٹی کی اخلاق باختگی کا آئینہ ہے۔ مسافر مشہدی بابا کے مزار پر فاتحہ پڑھ کر کتبہ کی تصویر اتار واپس آتا تھا کہ عین بیچ بازار پیچھے سے تیز قدموں آنے والے ایک شخص نے روک لیا۔’’بابو جی! آپ کو بی بی یاد فرماتی ہیں۔‘‘ ’’مگر میں نہ تو بابو ہوں اور نہ ہی کسی بی بی کو جانتا ہوں۔‘‘ حضور بجا فرمایا آپ نے مگر کرم ہو گا ہم پر ایک نظر پیچھے دیکھ لیجیے۔ وہ اوپر بالا خانے پر خود ہی جانے سے انکار کر دیجیے گا۔ میری خلاصی ہو جائے گی۔ وگرنہ بی بی مجھ پر ناراض ہوں گی۔‘‘ مسافر دیکھتا ہے۔ نہایت با وقار خاتون کھڑی ہاتھ ہلاتی ہے۔ اس اثنا میں سجان مسافر کی سائیکل تھام لیتا ہے۔ اور مسافر با دلِ ناخواستہ اس کے ساتھ چل پڑتا ہے۔ وہ شمشاد قامت نہ تھی۔ فقط نام رکھتی تھی۔
مسافر کے سفر کا دوسرا قدم آغاز ہوتا ہے۔ آنا جان معمول بن جاتا ہے۔ اسے رقص و موسیقی کی دنیا سے آگہی ملتی ہے۔ آدابِ محفل کا شعور میسر آتا ہے۔ وہ پڑھی لکھی نہایت مہذب خاتون تھی۔ اس کے گلے کا نور تو کوئی خاص امتیاز نہ رکھتا تھا۔ مگر رقص کی دنیا کے اسرار و رموز پر یوں حاوی تھی کہ بے مثل۔ وہ طبلے کی گھمک پر اعضائے بدن کے ایسے زاویے بنتی کہ شائقین فن کی روح وجد کر اٹھتی۔ گھنگھرو اس کی لغزش پا سے لہجے بدل دیتے۔اس کے جامہ رقص کا گھیرا کھلنے لگتا۔ وہ تماش بینوں کو اپنے حصار میں لیتا، پھر پھیلتا چلا جاتا۔شائقین کی نبضیں رک جاتیں وہ پھیلتا چلا جاتا۔ اجسام کے پیکرِ خاکی دور کہیں زمین پر رہ جاتے۔ وجد میں سرشار روحیں جامۂ رقص کے گھیرے میں آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوتیں۔ کیفیت بے خودی عالمِ امکان کی حدوں کو پیچھے چھوڑ جاتی۔ بدنی تقاضے عنقا ہو جاتے۔ بس ایک کیفیت اپنے ہونے کی یا پھر نہ ہونے کی۔ایک گھیرا، ایک گول چکر، جامۂ رقص کا گھیرا، آسمانوں کا گھیرا، زمین کا گھیرا۔ایک گولائی، ایک دائرہ، جس کا نہ کوئی مقامِ آغاز نہ نکتہ اختتام۔ اٹھتی کلائیاں فضائے بسیط کو اپنے دامن میں سمیٹتیں، اور مخروطی انگلیاں اٹھتی چلی جاتیں۔ آسمانوں میں چھید کرتی محسوس ہوتیں۔ وہ بڑھتی۔اس کے پاؤں کی حرکت وقت کی رفتار کو پیچھے چھوڑ جاتی۔ زمانوں کی گردش رک جاتی۔ گھنگرو ٹوٹ جاتے، موتیے کے پھول بکھر جاتے۔ اس کے پاؤں کرنسی نوٹوں پر ہوتے، دماغ آسمانوں کو چھوتا۔ نظرو ں کے زاویئے شائقین کے دلوں میں امیدوں کی جوت جگاتے۔ مگر اس کا دل مسافر کی مٹھی میں ہوتا۔ رقص اپنے کلائمکس کو چھوتا، تو واپسی کا سفر شروع ہوتا۔ آہستہ رو پریاں آسمانوں سے نیچے اترنے لگتیں۔ ستار نواز کی انگلیاں سست پڑتیں۔ طبلے کی گھمک پر غنودگی طاری ہونے لگتی۔گھگھرووں کی آواز دبنے لگتی۔ آغاز میں وہ ایک شعلہ تھا جس نے آکاش کی بلندیوں کو چھوا۔ اب وہ ایک شبنم ہے جو آسمانوں کے پیغام زمین تک لاتی ہے۔ رقص ختم ہوتا ہے۔ پسینے سے نہایا بدن زمین پر بکھر جاتا ہے۔ جیسے وہ زمین سے اپنے کمال فن کا خراج لیتی ہو۔ دم بخود تماش بین آسودہ ہو جاتے ہیں۔ رات ڈھل چکی ہوتی ہے، کہانی مکمل ہو چکی ہوتی۔ مسافر کی نظم رقاصہ اور مطربہ ان ہی شب ہائے نشاط کا ماحصل ہے۔ ( دونوں نظمیں بطور ضمیمہ شامل کتاب ہیں۔)اس کی رقص کہانی میں کائنات کے ارتقا کا بیان ہوتا۔ انسانی دورِ حیات کی بے ثباتی کا ذکر ہوتا۔ ایک رات کی تمثیل ایک حیات کی کہانی بن جاتی۔
مسافر نے ایسی ہی ایک رقص کہانی تر کی کے ایک دور افتادہ قصبہ ایڈریانا میں بھی دیکھی تھی۔ جب رقاص مرد تھے۔ وحدت سے کثرت خارج ہوتی۔ وحدت مرکز کو تھامے رکھتی۔ کثرت اس کے اشاروں پر رقص کرتی۔ مگر دائرہ کبھی نہ ٹوٹتا۔ وحدت مرکز نہ چھوڑتی۔ اور کثرت دائرے سے تجاوز نہ کر سکتی۔ کلائمکس کو چھو چکنے کے بعد واپسی سفر شروع ہوتا۔ کثرت مٹنے لگتی۔ بالآخر وحدت اپنے مرکز میں اکیلی رہ جاتی۔ مگر وہ اکیلی تابہ کے رہ پائے گی۔ شاید دوسرا ایکٹ شروع ہونا طَے ہوا ہو۔ مگر کون جانتا ہے کہ کب رقص کلائمکس کو چھو پائے گا۔ کب کثرت کا واپسی سفر شروع ہو گا۔ کب دوسرا ایکٹ آغاز ہو گا۔
مسافر کے مسلسل تین برس اس کوچے میں گذر جاتے ہیں۔ وہ روح کے سفر میں بدن کی شراکت کا کبھی قائل نہ رہا۔ فریقِ ثانی بھی اس عقیدے کا شدت سے قائل تھا۔ مسافر نے ابھی ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تھا اور وہ اس منزل کی آخری سیڑھی پر پہنچتی تھی۔ اسے ایک بے لوث دوست کی ضرورت تھی۔ ایسا دوست جو اس کے بدن دریچوں میں جھانکنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔ جس کی دوستی مادی آلائشوں اور مالی منفعتوں سے پاک ہو۔ اور مسافر تکمیلِ ذات کے جنون میں ان دیکھی راہوں پر چلتا تھا۔ ان تین برسوں میں مسافر نے اس بازار میں ان گنت کہانیوں کو جنم لیتے اور انجام تک پہنچتے دیکھا۔ کئی داستانیں کانوں سنیں۔ جن کے بیان کو ایک دفتر چاہیے۔ سفر مکمل ہوا۔ مسافر اس دعوے پر گھر لوٹا کہ آتا جاتا رہے گا۔ شمشاد کے کوٹھے کے دروازے ہمیشہ اس کے منتظر رہیں گے۔ پھر دو مہینے ہی گذر ے تھے کہ مسافر نے اخبار کے اندر کے صفحہ پر ایک مختصر سرخی پڑھی۔ ’’رقص کا ایک دور ختم ہو گیا۔ شمشاد مر گئی۔‘‘ خبر میں لکھا
تھا۔ اس نے آخری رقص کے کلائمکس کو چھوا۔ واپسی سفر شروع ہوا۔ طبلے کی گھمک مدھم ہوئی۔ گھنگھروؤں کی آواز بیٹھنے لگی۔ اس کے بدن سے پسینے پھوٹتے تھے۔ جب وہ غیر فطری انداز میں گر گئی۔ واپسی کے سفر میں دل کا دورہ جان لیوا ثابت ہوا۔ اور زمین پر پہنچنے سے پہلے، زمین سے اپنا خراج فن وصول کرنے سے پہلے قدرت نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔ اس کا سفرِ زندگی تمام ہوا۔ مسافر کی آنکھوں کے سامنے دورِ گذشتہ کے تمام مناظر واضح ہوتے چلے گئے۔ اس سے ابتدائی تعارف اس کے فن سے شناسائی۔ دورانِ رقص اس کا آسمانوں کا سفر، واپسی سفر، اس کے بدن کا آہستہ سے زمین پہ بکھر جانا۔ جیسے کوئی راج ہنس پھیلے پروں کو سمیٹتا سبز جھیل پر اترتا ہو۔ رات ڈھل چکی ہوتی۔ شائقین فن جا چکے ہوتے۔ وہ ربِ کائنات کے خزانوں سے اپنا رزق وصول کر چکی ہوتی۔ پھر وہ مسافر کو اپنی حیات گذشتہ کی کہانیاں سنانے بیٹھ جاتی۔ اپنے ماضی کی کہانیاں۔ ہوس و حرص کے اسیر انسانوں کے مکر و فریب کی کہانیاں۔ چام کی کہانیاں، دام کی کہانیاں رات بیت جاتی۔ شمع حرم جلی نہ ہوتی کہ وہ آسمانوں کے سفر سے تھکے ماندے پسینے سے شرابور بدن کو پانیوں سے آسودہ و مصفا کر کے مصلیٰ پر کھڑی ہو جاتی۔ مسافر نے بارہا اس کے گریہ شب کو دیکھا۔ رب کریم کے حضور جس انداز میں اسے روتے گڑ گڑاتے دیکھا وہ کچھ اسی کا مقدر تھا۔ نمازِ سحر کے بعد وہ سو جاتی۔ مسافر اپنی راہ لیتا۔ اب اسے ظہر کی اذان جگائے گی۔ مگر آج وہ ایسی نیند سو گئی ہے کہ کوئی اذان اسے کبھی نہ جگا سکے گی۔
مسافر تیسری سیڑھی پر قدم رکھ چکا ہے۔ بچپن میں فضلو بابا سے سنی سمندروں کی کہانیاں اسے آمادۂ سفر کرتی ہیں۔ وہ سمندروں کے سفر کی ٹھانے چل نکلتا ہے۔ پیرس آیئر پورٹ سے چھوٹے جہاز میں بیٹھ کر ایمسٹیرڈیم اترتا ہے۔ اکیلا مسافر، اجنبی لوگوں کا ازدحام، زبان سے نا آشنائی، کہاں جائے گا۔ کون دست گیری کرے گا۔ مگر بھیجنے والوں نے بندوبست کر رکھا ہے۔ مسافر امیگریشن کاونٹر پر پہنچتا ہے۔ تو وہاں موجود خاتون کاغذات دیکھ کر امیگریشن ڈیپارٹمنٹ میں بھجوا دیتی۔ محکمے والے ٹیلی پرنٹر پر جہازی کمپنی سے رابطہ کرتے ہیں۔ مسافر کو کافی پیش کی جاتی ہے۔ ادھر کافی ختم ہوتی ہے۔ ادھر سپاہی مسافر کو باہر جانے کا اشارہ کرتا ہے۔ مسافر ایک بار پھر حیران کہ باہر تو مختلف قومیتوں اور رنگوں کے حامل انسانوں کا ایک بڑا ہجوم ہے۔ وہ کہاں جائے گا۔ وہ اسی ادھیڑ بن میں ایک لکڑی کے کاونٹر سے پشت لگائے کھڑا تھا کہ دوسرے کونے سے کوئی شخص گتے پر مسافر کا نام لکھے۔ گتا سر سے اوپر اٹھائے ہجوم کو چیرتا ادھر ادھر دیکھتا بڑھا چلا آ رہا ہے۔ مسافر کو اطمینان ہوا۔ لپک کے اس کا ہاتھ جا تھاما۔ وہ امریکن تھا۔ چگی داڑھی والا۔ اس نے مسافر کا بیگ پکڑا اسے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ بھاگم بھاگ بس سٹاپ پر پہنچا۔ اب زبان کا کوئی مسئلہ نہ تھا۔ وہ امریکن تھا۔ جب کہ ڈچ انگریزی اتنی ہی جانتے ہیں۔ جتنی ہمارے ہاں اردو میڈیم سکولوں کا چھٹی جماعت کا طالب علم۔ بس آئی تو امریکن نے مسافر کا بیگ نیچے بس سٹور میں رکھا۔ ٹکٹ مسافر کے حوالے کیا۔ اور آخری سٹاپ پر اترنے کو کہہ کر یہ جا وہ جا۔ مسافر نے استفسار کیا کہ آگے کیا ہو گا۔ کہنے لگا وہ نہیں جانتا۔ بس جو اس کی ذمہ داری تھی اس نے پوری کر دی۔ایمسٹرڈیم اور روئر ڈیم قریب قریب واقع جڑواں شہر ہیں۔ کب بس نے ایمسٹرڈیم کو چھوڑا اور کب روٹر ڈیم کی حدود میں داخل ہوئی پتہ نہیں چل پاتا۔ سڑک کے ساتھ ساتھ نہر چلتی ہے۔ ہر گھر کے سامنے نہر میں اہل خانہ کی خوب صورت کشتیاں کھڑی ہیں۔ بالکل جیسے ہر گیراج میں کار ہو۔ ہالینڈ دنیا کا واحد ملک ہے جو سطح سمندر سے نیچے ہے۔ پہلے زمانوں میں لوگوں نے سمندروں کو پرے دھکیل کر ان کے گرد بند باندھ کر زمین حاصل کی۔انسانی بستیاں بنائیں۔ خدا جانے ان زمانوں میں انسان ہوتے تھے یا جن۔ جو دیوارِ چین بنا لیتے۔ فرعونوں کے مقابر Paramidsبنا لیتے۔الحمرا کے محلات میں بغیر بجلی کے فوارے بنا لیتے اور ہالینڈ بنا لیتے اور پتہ نہیں کیا کیا بنا لیتے۔ یعنی ہوا میں گرہ لگا لیتے۔ ڈچ کا واسطہ ہمہ وقتی سمندر سے ہے۔ سو ان کی کہانیاں ان کے ہیروز سب سمندر سے تعلق رکھتے ہیں۔ سمندر کنارے بڑی بڑی ہوائی چکیاں ایستادہ ہیں۔ جو توانائی پیدا کرتی ہیں۔ ایک بار بچے بالے باہر سمندر کنارے کھیلتے تھے کہ ایک بچے نے تازہ بندھے بند میں ایک ننھے شگاف کو دیکھ لیا۔ اس نے جان لیا کہ کچھ دیر بعد یہ شگاف اتنا بڑا ہو جائے گا کہ قابو سے باہر ہو گا۔ سو اس سوراخ میں پاؤں کی ایڑی پھنسا، بیٹھ گیا۔ دوسرے بچوں سے کہا کہ جا کر گاؤں کے بڑوں کو آنے والی تباہی سے آگاہ کریں۔ دوسرے بچے بھول گئے۔ یہ تمام رات سوراخ میں ایڑی پھنسائے بیٹھا رہا۔ شدید سردی نے اپنے مہلک پنجوں میں جکڑ لیا۔ مگر احساسِ فرض اور جذبۂ بقائے انسانی نے اس معصوم کے ارادوں کو متزلزل نہ ہونے دیا۔ صبح پڑتی تھی کہ اس کی روح بدن کو چھوڑ چکی تھی۔ بستی والے پہنچے تو معصوم کی اکڑی لاش کی ایڑی سوراخ کو ڈھانپے عظمت انسانی کی کہانی سناتی اور منہ زور پانیوں کا منہ چڑاتی تھی۔ آج وہ بچہ ان کا ہیرو ہے۔
بس آخری سٹاپ پر پہنچتی ہے۔ مسافر اترتا ہے۔ یہ ایک ویران سا بس سٹاپ ہے۔ جیسے اپنے ہاں دیہاتی ریلوے سٹیشن۔ دور شیڈ کے ستون سے ٹیک لگائے، ٹانگوں کی قینچی بنائے، سیاہ چشمہ لگائے فلیٹ ہیٹ کا گوشہ آنکھوں پر جھکائے کسی جاسوسی ناول کا کر دار بنا سگریٹ کے کش لگاتا ایک ڈچ نوجوان مسافر کو دیکھتے ہی سگریٹ قریبی بن میں پھینک کر اس کی طرف جھپٹتا ہے۔ مسافر سے بیگ چھین کر پارکنگ میں کھڑی اکلوتی گاڑی کی طرف بھاگتا ہے۔ بیگ پچھلی سیٹ پر پھینک کر مسافر کو فرنٹ سیٹ پر باندھ کر جیب سے کاغذ نکالتا ہے۔ یہ ایگریمنٹ کی کاپی ہے۔ وہ کاغذ پر انگلی رکھ سوالیہ انداز میں مسافر کو دیکھتا ہے۔ انگلی کے نیچے مسافر کا نام لکھا ہے۔ مسافر اثبات میں سر ہلاتا ہے۔ تو گاڑی گولی کی رفتار سے آگے بڑھتی ہے۔ اب کے سمندر کے نیچے کا سفر ہے۔ لمبی روشن سرنگیں، اوپر کہیں بحری جہاز کھڑے ہوں گے۔ گھنٹہ بھر کے سفر کے بعد وہ ڈچ جس کے جسم میں بجلیاں بھری تھیں۔ مسافر کو منزلِ مقصود پر پہنچا الٹے پاؤں لوٹ جاتا ہے۔ اور سچ بات تو یہ ہے کہ مسافر نے ان زمانوں میں اور آج کے سفر میں کسی یورپین کو چلتے نہیں دیکھا۔ ماسوا ان بوڑھوں کے جن کی کمریں جھکی ہیں۔ اور جو چھڑیوں کے سہارے چلتے ہیں۔ یورپین کھڑے ہوتے ہیں۔ یا بھاگتے ہیں۔ برِّ صغیر کے لوگوں کے بالکل اُلٹ کہ چلتے میں بھی سوتے، نیم غنودہ دکھتے ہیں۔
سندھ ساگر کے مصنف لکھتے ہیں کہ برِّ صغیر کے باشندوں کو ازل سے سستی ارزنی ہوئی ہے۔ اور تواور یہاں کے جانور بھی سست الوجود واقع ہوئے ہیں۔ دوسرا قدم اٹھانے سے پہلے سو بار سوچتے ہیں۔ ہاتھی، بیل، بھینس، بھیڑ وغیرہ اور جب صاحب تصنیف کو گھوڑے کا حوالہ دیا گیا۔ تو اُنھوں نے بہ کمالِ تحقیق ثابت کیا کہ گھوڑا برِّ صغیر کا جانور نہ ہے۔ بل کہ وسطِ ایشیا سے وقتی ضرورتوں کے تحت در آمد شدہ ہے۔ اعتزاز احسن کی بات درست ہی لگتی ہے۔ اب جب کہ وقتی ضرورت ختم ہوئی۔ گھوڑا بھی ناپید ہو تا جا رہا ہے۔
انقلاب پاسداران ایران کے درو دیوار پر دستک دے رہا ہے۔ ریچھ کے پنجے افغا نستان میں اپنی جگہ بنانے کو بے چین ہیں۔ ارضِ وطن پر صلیب سے تازہ لہو ٹپک رہا ہے۔ جمہوریت کا لہو، عوام کا لہو، امیدوں، آرزوؤں امنگوں کا لہو، راکشس____ ہمالہ کے پہاڑوں سے اترنے پر تیار بیٹھے ہیں۔ بحیرۂ عرب میں نئے طوفان کروٹیں لیتے ہیں۔ ملت مسلمہ کی تباہی کے منصوبہ ساز بلند ایوانوں میں سر جوڑے بیٹھے ہیں۔ نیو ورلڈ آرڈر کے معمار اعلان سے قبل ہی اپنے منصوبوں پر عمل پیرا ہو چکے ہیں۔ نیا منظر نامہ تخلیق ہو رہا ہے۔ DESTINYطے ہونا ہے۔ مگر ہنوز DUSTنے منظر دھندلا رکھا ہے۔ کینیڈا کے ایک چھوٹے شہر سڈنی کے ساحلوں پر ایک بڑی کشتی رکتی ہے۔ رسے باندھے جاتے ہیں۔ سیڑھیاں گرائی جاتی ہیں۔ مسافر کے قدم کینیڈا کی سر سبز و شاداب زمین کو چھو تے ہیں تو ایک نئی کہانی آغاز ہوتی ہے۔
اسی سالہ بوڑھا سٹیل مل کا ریٹائرڈ ملازم مائیک ڈرمیڈی انتہائی جوان، کھلنڈرے دل کا مالک ہے۔ بیس سالہ غنچۂ نو شگفتہ ماریا ڈوروتھی مر سرسماجیات کی طالبہ ہے۔ دونوں دوست ہیں۔ دو نسلوں کے نمائندے۔ دو نسلیں جن کے بیچ میں بہت بڑا خلا ہے۔ مسافر اس خلا کو پر کرنے، اپنا کر دار ادا کرتا ہے۔ اس طرح تین ایم کی مثلث بنتی ہے۔ مائیک، محمد اور ماریا۔ مائیک عرصہ ہوا اپنے حصے کا کر دار ادا کر چکا ہے۔ سوسائٹی کے قرض چکا چکا ہے۔ لاکھوں ٹن لوہے کو پگھلا کر سٹیل بنا چکا ہے۔ بیٹے، بیٹیوں کو جہانِ رنگ و بو میں لا چکا ہے۔ اب پوتوں، نواسوں سے چُہلیں کرتا ہے۔ سمندر کنارے بیٹھ بنسی ڈال کر مچھلیا ں پکڑتا ہے۔ چھوٹی مچھلیاں کنڈی سے اُتار کر سمندر میں پھینکتا ہے۔ اگر خوش قسمتی سے بڑی مچھلی پھنس جائے تو بچوں کی طرح چہکتا۔ بھاگتا، بیٹے، بیٹیوں کے گھر پہنچتا ہے۔ کتابیں پڑھتا ہے۔ دوست بناتا ہے۔ دوستوں کو کتاب پڑھنے کی تلقین کرتا ہے۔ تحفے میں کتابیں دیتا ہے۔
اس نے آج بڑی مچھلی پکڑی ہے پوتوں نواسوں کے ہاں جانے کو بے چین ہے۔ سو مسافر کو ماریا کے حوالے کر کے اسے آدابِ میزبانی پر بھاشن دے کر نکل جاتا ہے۔ ماریا مسافر کو ساتھ لے، میپل لیف ریسٹورنٹ میں جاتی ہے۔ آرڈر لینے والی خاتون کا پی پنسل لیے سر پر آ کھڑی ہوتی ہے۔ تو ماریا اپنے لیے شوگر لیس کافی کا آرڈر دیتی ہے۔ پوچھتی ہے ’’محمد!کیا لو گے۔‘‘ مسافر کے منہ سے بے ساختہ نکل جاتا ہے۔ ’’دودھ کا گلاس‘‘ یہ لفظ نہ تھے دھماکا تھا۔ ماریا کا قہقہہ بلند ہوتا ہے۔ سروس لیڈی کے ہاتھ سے قلم گر جاتا ہے۔ وہ ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو جاتی ہے۔ مسافر بھونچکا رہ جاتا ہے۔ بہ کمالِ نیاز مندی سبب پوچھتا ہے۔ تو جواب ملتا ہے ’’دودھ یہاں بچے پیتے ہیں یا پھر کتے۔ ‘‘ اس طرح ماریا سے شناسائی بے تکلفی میں بدل جا تی ہے، بے تکلفی دوستی میں بدلتی ہے۔ اور دوستی دلوں کے دریچے کھول دیتی ہے۔ دوسرے روز وہ مسافر کو گھر لے جاتی ہے۔ ماں سے ملاتی ہے۔ بڑی بہن سے راہ و رسم نہ رکھنے کی نصیحت کرتی ہے۔ جواز اس کا یہ بتاتی ہے کہ بڑی بہن شراب نوشی کرتی ہے۔ اچھی خاتون نہ ہے۔ جب کہ دوسری بہن ہیلی فیکس میں اپنے میاں بچوں کے ساتھ خوش باش زندگی گذارتی ہے۔ مسافر کو ایک نیا احساس ملتا ہے۔ سماجی قدریں مشرق و مغرب کی حدوں سے ماورا ہیں۔ اچھائی ہر جگہ اچھائی ہے۔ بُرے لوگ، بد قماش لوگ، سماجی قدروں کو پامال کرنے والے ہر معاشرے میں موجود ہیں۔ کسی سوسائٹی کو ہم بالمجموع برا نہیں کہہ سکتے۔
ماریا سے دوستی اور قربت کا دورانیہ مسلسل اڑھائی ماہ تک قائم رہتا ہے۔ شام کو دو گھنٹے بلا ناغہ مائیک بھی شریک محفل رہتا۔ پھر ماریا کے ساتھ اس کے گھر میں محفل جمتی۔ جو تا دیر رہتی۔ چلغوزے پھانکے جاتے۔ کافی کے کپ چڑھائے جاتے۔ مشرق و مغرب کی کہانیاں سنی سنائی جاتیں۔ ایک بار وہ مسافر کو ہیلی فیکس بہن کے گھر لے گئی۔ اس کی بہن مشرقی لڑکیوں کی طرح خاوند سے محبت کرنے والی وفا شعار بیوی، ممتا کے جذبوں سے سرشار دو بچوں کی ماں اور بہن کی ہم درد، ماریا اسی کے توسط سے شادی کی پیش کش کرتی ہے۔ کچھ کچھ مائیک بھی اس تجویز میں شامل تھا۔ جو بعد میں آشکار ہوا۔ شاید مسافر میں جرات رندانہ کا فقدان تھا۔ یا پھر تقدیر کا لکھا کہ جو چاہا نہ ہو سکا۔ عہدو پیمان باندھے گئے بعد از شادی کئی منصوبہ بندیاں زیرِ بحث آئیں۔ پلک جھپکتے اڑھائی ماہ گذر گئے۔ تو مسافر کی واپسی ٹھہری۔ اس وعدہ پر کہ وہ لوٹ کر آئے گا۔ اس نے آٹھ برس تک مسافر کے انتظار کا پیمان باندھا۔ چھ برس تک مسلسل خط و کتابت رہی۔ پھر اچانک مسافر کو تقدیر کے آگے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ خدا جانے جب اسے مسافر کا آخری خط مع شادی کی تصویر ملا ہو گا تو اس کی کیفیت کیا ہوئی ہو گی۔ اس نے جواباً نہ کوئی گلہ لکھا۔ نہ مبارک باد لکھی۔ بس ایک مکمل سکوت۔ مسافر اب بھی جب کبھی ماضی کے دریچوں میں جھانکتا ہے تو وہ منظر نگاہوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ جب اس کی کشتی سڈنی کے ساحلوں سے روانہ ہوتی تھی۔مائیک ڈرمیدی گردن کے آپریشن کی غرض سے ہسپتال میں داخل تھا۔ مسافر روانگی سے اگلے روز اُس کی عیادت کو گیا تو مائیک نے کتابوں سے بھری پیٹی چاکلیٹ کے ڈبے، پھولوں کا گلدستہ اور ڈھیر ساری دُعاؤں کا تحفہ دیا اور وَیو کرنے کے لیے نہ آ سکنے پر پیشگی معذرت کی۔ماریا، اُس کی بوڑھی ماں، اس کی بہن، بہن کا خاوند، دونوں بچے ساحل پر کھڑے ہاتھ ہلاتے تھے۔ اس کی بہن ہیلی فیکس سے مع فیملی مسافر کو وَیو کرنے اس حالت میں آئی تھی کہ بخار کی شدت سے اس کا جسم کانپتا تھا۔ وہ اپنے قدموں کھڑی نہ ہو سکتی۔ مگر وہ کھڑی تھی۔ کشتی اوجھل ہوئی۔ کینیڈا کے ساحل گم ہوتے تھے اور مسافر عرشے پر اکیلا کھڑا تھا۔
چوتھی سیڑھی پر قدم رکھا تو ایک اور سفر کا منظر سامنے تھا۔ اس نے خود کو ہوس پرستوں کے ہجوم میں گھرا تماشائے اہلِ ہوس دیکھتے پایا۔ موسیقی کا روحانی ر چاؤ جاتا تھا۔ شاعری کا فکری سبھاؤ ہوا ہوتا تھا۔ فنونِ لطیفہ اپنی نزاکتیں، اپنا تقدس کھو رہے تھے۔ ہوس زر، حرص جاہ اور خواہشات نفسانی دماغوں پر قابض ہو چکے تھے۔ فقر استغنا اور کیفیاتِ قلبی رختِ سفر باندھ چکے تھے۔ ہر بو الہوس پیشۂ عشق کے مقدس نام پر وارفتگیِ شوق کی تسکین کا خواہاں نظر آتا تھا۔ زندگی کے سٹیج کے اس منظر پر اپنی تمام تر حشر سامانیوں، عشوہ طرازیوں اور بے نیازانہ اداؤں کے ساتھ زریات کھڑی تھی۔ وہ کہ جس کے گوہر عصمت کو ایک ہوس پرست نے اوائل عمر ی میں لوٹ لیا تھا۔ شعور ملا تو اس کا جذبۂ انتقام ابھر آیا۔ اس کے پا س خون آشام تلوار تو نہ تھی۔ مگر انتہائی اعلیٰ درجے کا ذوقِ شعر، فن موسیقی کا شعور اور احساسِ جمال سے آگہی اسے فطرت کی طرف سے ودیعت کی گئی تھی۔ کمالِ حسن ایسا کہ بڑے بڑے شرفا پھسل جاتے۔ناصحین کی زبانیں گنگ ہو جاتیں۔ زہاد، مُشقتِ زہد سے کنارہ کش ہو جاتے۔ وہ شارعِ عام بن گئی اور صلائے عام بھی۔ اس کے کچکول میں کھوٹے سکوں کی بہتات ہوتی گئی۔ مگر محبتوں کی متلاشی وہ زرِ خالص کو ترستی تھی۔ کاسۂ گدائی لیے کو بہ کو پھرتی۔ پر اس کی بستی سوداگروں کی بستی تھی۔ وہ ہر کس و ناکس کو لوٹتی، روندتی، مسمار کرتی اور اپنے گوہرِ عصمت کا خراج وصولی کرتی۔ اس کے حسنِ زہد شکن نے بارہا مسافر کے دامن صبر کو تار تار کرنا چاہا۔ بارہا آئینۂ دل سے لہو پھوٹا۔خواہشاتِ نفسانی نے شیطانی دلائل کے انبار لگا دیے، آخر قتالۂ عالم زین آبادی نے عالم گیر جیسے متقی کو بھی جام لب سے لگانے پر مجبور کر دیا تھا۔ مگر وہ تو عالم گیر تھا۔ ایک متدین و مُتشرِّع جس کے توشہ میں ہزاروں نیکیاں بھی ہوں گی۔ کم مایہ مسافر کا دامن تو پہلے ہی ندامتوں سے بھرا پڑا تھا۔ المختصر مسافر کی جبلت بو الہوسی اس کے ضمیر میں نقب نہ لگا سکی۔ مسافر نے اسے ہمیشہ ایک انسان جانا۔ اشر ف المخلوق سمجھا۔ اس کا ہاتھ تھاما۔ اس کی دل جوئی کی تو اس نے کتابِ زندگی کا ورق ورق کھول دیا۔
آخری سیڑھی پر پہنچ کر گھنٹی کی طرف ہاتھ بڑھا ہی تھا کہ دروازہ کھل جاتا ہے۔ کیسیرین کی ماما آغوش ممتا وا کیے کھڑی ہے۔ 75سالہ فربہ جسم کی مالک جیولری سے لدی پھندی سکاٹ خاتون۔ اس کی جیولری دیکھ کر مسافر کو 21برس پہلے کا وہ منظر یاد آ جاتا ہے۔ جب وہ سکاٹ لینڈ کے ساحلی شہر گرینجر ماوتھ کے قریب ایک سبز لیگون کنارے بیٹھ جھیل میں پاؤں لٹکا کر جھیل میں کنکر پھینکتا تھا۔ مسافر کے قریب ایک بوڑھا سکاٹ جوڑا آ بیٹھتا ہے۔بڑھیا نے ڈھیر ساری جیولری پہن رکھی ہے۔ مسافر کو عجیب سا لگتا ہے۔ وہ باتوں باتوں میں بڑھیا کی جیولری سے متعلق استفسار کرتا ہے۔ تو بوڑھا بتاتا ہے کہ سکاٹ لینڈ میں جواں عمر لڑکیوں کا جیولری پہننا معیوب جانا جاتا ہے۔ جیولری تو ایک ماسک ہے۔ ایکPERSONAہے۔ جو انسان کے حسنِ فطری کو پسِ منظر میں دھکیل دیتا ہے۔ سو عورت کی جبلت سوسائٹی کی قدروں کے نیچے دب جاتی ہے۔ مگر مرتی تو نہیں۔ شادی کے بعد وہ زیادہ شدت کے ساتھ ابھر آتی ہے۔ بس پھر وہ دمِ آخر تک اپنی محرومیوں کا حساب چکا تی ہیں۔ آج برسوں بعد ایک بار پھر مسافر ایک ایسی خاتون کو قریب سے دیکھتا ہے۔ جو اپنی جوانی کی محرومیوں کا حساب چکا رہی ہے۔ وہ گویا ہوتی ہے۔
’’اؤ ! میرے بچے آو! ہم سے زیادہ خوش قسمت آج کون ہو گا کہ جن کے گھر کو دُور دیس سے آنے والے مسافر نے شرفِ میزبانی بخشا ہے۔ فوراً گیلے کپڑے تبدیل کرو۔ میں تمہارے لیے ڈرنک تیار کرتی ہوں۔ سپیشل ڈرنک جو سکاٹ فقط مہمانوں کے لیے تیار کرتے ہیں۔ وہ ہر لمحہ مہمانوں کی آمد کے منتظر رہتے ہیں۔ مگر بیشتر بد نصیبوں کے دروازوں کو خدا کی رحمت نظر انداز کرتی ہے۔ کیسرین بس آتی ہی ہو گی۔ اس نے اپنے اولڈ مین اور میرے ڈے بی کو پارسل فارورڈ کرنا تھا۔ ہم لوگ کل سے تمہارے منتظر ہیں۔ وہ آج فون پر بہت چہک رہی تھی۔ میں نے مدت بعد اسے اتنا خوش دیکھا ہے۔ کیا مشرق سے آنے والے ہمیشہ ایسے ہی خوشیاں لاتے ہیں۔‘‘
مسافر نے پہلی بار لب کشائی کی۔’’جی۔ مام! سورج ہمیشہ مشرق سے طلوع ہوتا ہے۔ نئی امیدوں نئے اجالوں اور توانائیوں کے ساتھ۔‘‘
’’اوہ سویٹ! میرے بچے تم بالکل کیسرین کی طرح باتیں کرتے ہو۔ فلسفہ کی باتیں۔
مسافر کپڑے بدل چکا ہے۔ وہ لانڈری میں مشین کے اندر دھلنے ڈال ماما کوئی ڈرنک اٹھائے آتش دان کے قریب مسافر کے پاس بیٹھی باتیں کرتی ہے۔’’میرے بچے ! میں تمہارے لیے بازار سے حلال گوشت خرید لائی ہوں۔ بہت مشکل سے ایک انڈین مسلم کی شاپ ڈھونڈی ہے۔ کیسرین نے خصوصی تاکید کی تھی۔ وہ لیٹ ہو گئی ہے۔ میرا خیال ہے مجھے اسے فون کرنا چاہیے۔ اور تم اپنا ڈرنک ختم کر لو۔ آج ہم ڈنر سیلی پریٹ کریں گے۔ کاش آج ڈے بی یہاں ہوتا۔‘‘وہ فون کرنے کا ارادہ کر رہی تھی کہ کیسرین آ جاتی ہے۔ وہ دونوں ہاتھوں میں ڈھیر سارا سامان اٹھائے ہوئے ہے۔ گھر کے پچھواڑے ماما کے چڑیا گھر کے جانوروں کی خوراک کے پیکٹ ہیں۔ مہمان کے لیے گفٹ پیک ہے اور نہ جانے کیا کیا ہے۔ وہ ماما سے بغل گیر ہوتی ہے۔ دونوں ایک دوسری کے گال چومتی ہیں۔ پھر مسافر سے مخاطب ہوتی ہے۔ ’’ہیلو ایزام! کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی۔ گھر ڈھونڈنے میں۔ کیا یہ ننھا منا سا چھوٹا سا گھر پسند آیا ہے۔ ہم بھی تو تمہاری طرح پردیسی ہیں۔ یہاں بس گذارہ کر رہے ہیں۔‘‘
مسافر ’’کیسرین ! سچ بات تو یہ ہے کہ میں پشیمان ہوں یہاں آ کر تم سے دوستی کر کے۔‘‘
کیسرین ’’اوہ کیوں ْ کیا میں اتنی ہی بری ہوں۔ کیا ہمارا گھر تمہارے معیارِ میزبانی کے لائق نہیں۔کیا تمہاری اس بات کو پاکستانی بے تکلفی سمجھیں۔ کیا تم میری اس بے تکلفی کا بدلہ چکا رہے ہو۔ جو میں نے تمہیں گاڑی سے اتارنے میں برتی تھی۔‘‘
مسافر ’’نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔ در اصل میں خود ہیروگیٹ کلاسHarrow Gate Classسے بچ کر رہتا ہوں۔ میں ایک چھوٹے طبقے کا فرد ہوں۔ اپنی کلاس میں رہتا ہوں۔ بڑی کلاس میں اٹھنے بیٹھنے سے مجھے گھٹن محسوس
ہوتی ہے۔‘‘
وہ ’’مگر کلاس کا ذکر کہاں سے آ گیا۔ اور یہ ہیرو گیٹ کیا ہے۔ میں نہیں جانتی۔ ہم تو سب ایک جیسے ہیں۔ سب انسان ہیں۔ دوستیوں کے طلب گار، دوستوں کے جاں نثار۔‘‘
مسافر ’’کیسرین اب تم فلسفہ بولتی ہو۔ فلسفہ کی حد تک تمہاری باتیں درست ہیں۔عملاً نہیں۔ میں نے یہاں آ کر خود مشاہدہ کیا ہے۔ کہ صاحبِ حیثیت لوگ۔ یہاں بھی دوسروں سے الگ اپنی بستیاں بساتے ہیں۔ جہاں گراونڈ، گالف کلب اور سپورٹس فراری دوڑانے کے لیے لمبی، ویران سڑکیں ہوتی ہیں۔ جیسے ہمارے ہاں بڑوں کی بستیاں ناموں ہی سے پہچان لی جاتی ہیں۔ چھوٹے طبقہ کے لوگ ادھر جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔‘‘
کیسرین ہنستے ہوئے ’’ایزام! یہ تم سرخ ریچھوں جیسی باتیں کرتے ہو۔ وہ تو چلے گئے۔ اور ہاں تم جس کلاس کا ذکر کر تے ہو۔ وہ اولڈ مین کی کلاس ہے۔ میری اور ماما کی نہیں۔ میں تو محنت کش طالبہ ہوں۔ اور ما ما نے تمہارے گیلے کپڑے لانڈری میں ڈالے ہیں۔ وہ دھل چکے ہوں گے۔ ابھی خشک ہو جائیں گے۔ تو میں پریس کروں گی۔ سمجھے۔ اب کلاس کے چکر میں نہیں پڑنا۔ ہم سب دوست ہیں۔ تین دوست۔ابھی ہم ڈنر لیں گے۔ تو ہر فرد اپنی پلیٹ خود صاف کرے گا۔ تم بھی، میں بھی اور ماما بھی۔ اوکے ؟‘‘ ڈنر ختم ہوتا ہے۔ کپڑے دھل کر پریس ہو چکے ہیں۔ ماما اپنے چڑیا گھر کے جانوروں پر آخری نظر ڈال کر کتے کو گود میں لے آ بیٹھتی ہے۔کیسرین کہتی ہے۔’’ایزام! اب ماما تمہیں سکاٹ لینڈ کی کہانیاں سنائیں گی۔ مشقتوں کی کہانیاں۔
ارض وطن کے دفاع کی خاطر قربانیوں کی داستانیں۔ بابا بروس کے قصے اور تم مشرق کی پر اسرار کہانیاں سناؤ گے۔ٹھیک ہے نا۔‘‘
مسافر ’’مگر کیسرین مشرق میں تو کوئی اسرار نہیں۔ پُر اسرار کہانیاں تو اگاتھاکرسٹی اور الفریڈ ہچکاک تخلیق کرتے ہیں۔ مشرق میں تو احمد ندیم قاسمی ہیں۔ جو کاغذ پر سرسوں کی خوشبوئیں بکھیر تے ہیں۔پریم چند ہیں جو معاشرے کے طبقاتی بعد کے مرثیے رقم کرتے ہیں۔ غلام عباس ہیں۔ سوسائٹی میں آئینے بانٹتے ہیں۔ اور اشفاق احمد ہیں جو گلی کوچوں سے، مزاروں، اور چھوٹے طبقے کے مساکن سے مشرقی دانش تلاش کرتے ہیں۔ اوروں کو اس دانش کے ساجھی بناتے ہیں۔ چھوڑو کہانیوں کو۔ مجھے اپنے اولڈ مین اور مام کے ڈے بی سے متعلق کچھ بتاؤ۔‘‘
’’گریٹ اولڈ مین کے متعلق مام بتائیں گی۔ کہو مام کیا یہ ٹھیک ہے نا۔‘‘
مام کی باچھیں کھل جاتی ہیں۔ وہ اپنے ننھے سے کتے کو گود سے اٹھا کر صوفہ پر رکھتی ہیں۔ قریبی الماری سے کوئی ہلکا مشروب نکال کر تین گلاس بھرتی ہیں۔ اور کتے کو پھر گود میں بٹھا گلاس تھام کر ماضی کے در کھولتی ہیں۔ ’’ڈے بی جوانی میں ایک کھلنڈرا لڑکا تھا۔ ہر وقت اس پر کام کی دھن سوار رہتی۔ کام کام بس کام کرنا اور پیسہ اکٹھا کرنا۔ کئی کئی روز شیو کرنے کا ہوش نہیں۔ نہ ڈھنگ کا لباس، نہ کوئی تفریح، زیادہ سے زیادہ کسی گرل فرینڈ کے ساتھ دو گھنٹے گذار لینا۔ مگر وہ بھی شاذہی۔ یعنی وہ ایک سکاٹ نوجوان تھا۔ مگر سب کا مقدر تو ایک جیسا نہیں ہوتا نا۔ زرومال نے اس کا جنون دیکھ کر اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔ اب وہ بقول تمہارے ہیروگیٹ کلاس کا بوڑھا ہے۔ وسیع و عریض فارم۔ اس کے ذریعہ ہائے آمدن ہیں۔ اس کی تفریح کے لیے گھوڑوں کے اصطبل ہیں۔ اظہار زر و ذات کے لیے اس نے قیمتی گاڑیوں کا بیڑا رکھ چھوڑا ہے۔ وہ صبح تا دیر سوتا ہے۔ رات کو دیر تک جاگتا ہے۔ ہر اتوار کو ریس کورس جاتے ہوئے چرچ سے کنی کترا کر گذرتا ہے۔ عام دنوں میں سٹڈ ی روم میں بیٹھ کر فکشن پر مبنی کتابیں پڑھتا ہے۔سر شام بوڑھوں کے کلب کا رخ کرتا ہے۔ بلا ناغہ شراب پیتا اور سنوکر کھیلتا ہے۔ سکاٹ بوڑھیوں کو ایام جوانی کے فرضی قصے سناتا ہے۔ ان سے داد کا متمنی ہوتا ہے۔ کونسل کی طرف سے دیے گئے خدمت گار کو جھاڑتا ہے۔ اور دنیا کے کونے کونے سے نوادرات اکٹھی کرتا ہے۔ بس اس آخری شوق کے علاوہ وہ ایک مکمل سکاٹ بوڑھا ہے۔ ایزام! کیا تمہارے بوڑھے بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔‘‘
مسافر ’’نو مام! ہمارے جوان اور بوڑھے بالکل اس کے الٹ ہوتے ہیں۔ جوان دن بھر سوتے ہیں۔ بوڑھے باپوں کی کمائی سے شب ہائے نشاط سجاتے ہیں۔ کام کرنے کے خرخشے نہیں پالتے۔ بلا ناغہ شیو کرتے ہیں۔ بلکہ کئی تو دن میں دو بار کرتے ہیں۔ گیسو سنوارتے میں نت نئی جدّت طرازی کرتے ہیں۔ لباس کے نت نئے فیشن استعمال میں لاتے ہیں۔ کرکٹ پر جوا کھیلتے ہیں۔ اور چرچ (ہماری عباد ت گاہ کا نام مسجد ہے ) سے کنی کترا کے نکل جاتے ہیں۔
مام ’’عجیب، بہت عجیب، تو پھر تم ترقی کیسے کر رہے ہو۔اور تمہارے بوڑھے ؟
بس ہم نے اسی کو مقدر جان رکھا ہے۔ اور ہمارے بوڑھے بھی آپ کے بوڑھوں سے یکسر الٹ رویے رکھتے ہیں۔ وہ شیو کے تردّد سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے داڑھی رکھ لیتے ہیں۔ دنیا بھی سکھی۔ آخرت میں بھی اجر و ثواب۔ مسجد سے کنی
کترا کے نکلنا تو کجا۔ ڈیرہ ہی عبادت گاہ میں جما لیتے ہیں۔ اپنی عادات جوانی کو بھول کر دوسروں کی اصلاح پر کمر بستہ ہو تے ہیں۔ رات کو جلد سو تے ہیں۔ اور رات ہی کو جاگ جاتے ہیں۔ جوانی کی رنگینیوں سے صرف نظر کرتے ہیں۔ اور ان ایام میں اپنی پارسائی کے فرضی قصے سناتے ہیں۔ چوں کہ ہمارے ہاں کونسل کی طرف سے خدمت گار مہیا کرنے کی روایت نہیں۔ اس لیے بیٹوں، پوتوں، اور بہووں کو جھاڑتے ہیں۔ اپنی ہر رائے کو پتھر پر لکیر سمجھتے ہیں۔ جس نے چار روز بعد میں جنم لیا ہو۔ ہمیشہ اسے عقل و دانش سمیت کمتر سمجھتے ہیں۔ جوانی کے چونچلوں کے تحت زر و مال تو لٹا چکے ہوتے ہیں۔ مگر تجربہ ڈھیر سارا اکٹھا کر لیتے ہیں۔ بس چھوٹوں کو کفایت اور قناعت کے درس دیتے ہیں۔
عباد ت گاہوں کی تعمیرو تزئین میں مشورے دیتے ہیں۔ اور چندہ اکٹھا کرتے ہیں۔ اور ہاں مام! آپ کے کیا مشاغل ہیں ؟‘‘ کیسرین بول اٹھتی ہے۔’’ایزام! میں بتاؤں گی۔ مام بہت پیار کرنی والی خاتون ہیں۔ مجھ سے پیار کرتی ہیں۔۔۔۔۔‘‘مسافر ’’وہ تو ہیں۔ میں جو اس کا گواہ ہوں۔ اور کیسرین تم تو ہو ہی اتنی اچھی، اتنی پیاری، تم سے کون پیار نہ کرے گا‘‘ کیسرین ’’تھینکیو فار کمپلی منٹس ایزام! دیکھو مام اس عمر میں اولڈ مین کو چھوڑ کر میرے ساتھ قیام پذیر ہیں۔ حالاں کہ دونوں بوڑھوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ یہ ہر لمحہ میرا خیال رکھتی ہیں۔ اپنے چڑیا گھر کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ آئے روز اپنی ہم عمر فورڈ کو مستری کے پاس لے جاتی ہیں۔ اولڈ مین کی طرف سے بھیجی گئی رقوم میں سے نصف اس کے لیے نوادرات خریدنے میں صرف کرتی ہیں۔ باقی نصف چیریٹی میں دے دیتی ہیں۔ میرے محنت سے کمائی گئی روکھی سوکھی کھا کر گزارا کرتی ہیں۔اولڈ مین سے جیولری کی نت نئی فرمائشیں کرتی ہیں۔ اپنے ڈے بی کو لمبے لمبے خطوط لکھتی ہیں۔ حالاں کہ اب خطوط کا زمانہ تو نہیں نا۔ موبائل فون استعمال کرنے سے کتراتی ہیں۔دراصل مام کو استعمال آتا بھی نہیں۔ میں نے کئی روز اتالیقی کر کر بہ مشکل اُنھیں نمبر ڈائل کرنا سکھایا۔ مجھے بھی فون کرنا ہو تو ڈائری کھولیں گی۔ نمبر ڈھونڈیں گی۔ اور پھر سنبھل سنبھل کر ڈائل کریں گی۔ پھر بھی اکثر غلط نمبر ملائیں گی۔ جس روز فورڈ کو مستری کے پاس نہ لے جانا ہو اور وہ چلنے کے قابل ہو جس موقع کم ہی آتا ہے۔ تو جیولری پہن باسکٹ بازو میں لٹکا کسی قریبی مارکیٹ میں جا بیٹھتی ہیں۔ وہاں نوجوان جوڑوں کو حسرت اور بوڑھوں کو افسوس سے دیکھتی ہیں۔کوئی بات کرنے والا مل جائے تو اپنے کتے اور مسٹرڈے بی کی تعریفیں کرتی ہیں۔ اخلاقی قدروں کی پاس داری کرتی ہیں۔ وفاداری کی قدر شناس ہیں۔ اور ان ہر دو میں یعنی کتے اور اولڈ مین میں یہ خصوصیت بدرجۂ اتم موجود ہے۔ خود بھی انتہائی وفادار ہیں۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ شادی کے روز اول سے ہنوز بس اولڈ مین کی بن کر رہی ہیں۔ اب تو مسٹر ڈے بی کے گھر سے ان کی میت ہی اٹھے گی۔ حالاں کہ ادھر ایک شادی ہزاروں میں سے ایک کو نصیب ہوتی ہے۔ میرے سامنے مسٹر ڈے بی کی ہزاروں برائیاں کرتی ہیں۔ لیکن میں اولڈ مین کی شکایت لب پر لاؤں تو کاٹ کھانے کو دوڑتی ہیں۔ ایزام! شریف گھرانوں کی سکاٹ بوڑھیاں سبھی ایسی ہوتی ہیں۔ دل کی انتہائی نرم ہیں۔ ایک بار میں کام سے لوٹی تو دیکھا کہ بے تحاشہ روتی تھیں۔ سامنے ہارڈی کا ناول Return of Nativeکھلا پڑا تھا۔ اب رونے کا سبب معلوم ہوا۔ اس کے مرکزی کر دار کے مسلسل المیوں پر اشک فشاں تھیں۔ اور ہاں ایزام! تمہاری بوڑھیاں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں ؟
مسافر ’’جی ہاں۔ مگر کچھ کچھ۔ مثلاً وہ بھی اپنے اپنے ڈے بی سے شاکی رہتی ہیں۔ مگر دوسروں کو حرفِ ملامت زبان پر نہیں لانے دیتیں۔ البتہ جیولری خریدتی ضرور ہیں۔ پہنتی نہیں۔ اول بیٹے بیٹیوں کے لیے اکٹھی کرتی ہیں۔ پھر پوتے، نواسیوں کے لیے۔ سکاٹ بوڑھیاں خاوندوں سے محبت میں کتوں اور دیگر جانوروں کو ساجھی بناتی ہیں۔ ہمارے والی کلی پیار مسٹر ڈے بیوں کے لیے محفوظ رکھتی ہیں۔ و ہ مارکیٹ میں جا کر تاکا جھانکی نہیں کرتیں۔ گھروں میں محفلیں سجاتی ہیں۔ اپنی ہم عمروں کے ساتھ بیٹھ کر نسلِ نو پر تنقید کرتی ہیں۔ دوسروں کی برائیاں کرتی ہیں۔ اپنے اپنے ڈے بیوں کی گوناگوں خصوصیات بتاتی ہیں۔ بیٹیوں، بیٹوں کی خوبصورتی، کفایت، لیاقت وغیرہ کی تعریف میں مبالغہ کرتی ہیں۔ چھوٹی موٹی بیماریوں کا علاج بتاتی ہیں۔ نمازیں پڑھتی ہیں۔ اور ہر جمعرات کو منڈیروں پر آ بیٹھنے والی مرحومین کی روحوں کو ثواب پہنچاتی ہیں۔ گا ہے گھر سے باہر جانے کے لیے مذہب کا سہارا لیتی ہیں۔ زیارتوں سے نمک پانی اور پیروں فقیروں سے گنڈے تعویذ لاتی ہیں۔‘‘
مام! ’’اوہ ویری سٹرینج ایزام! کیا وہاں مشرق میں محیرالعقول صلاحیتیں رکھنے والے پیر فقیر اب بھی ہوتے ہیں ؟ مسافر ’’ہوتے ہیں۔ مام بالکل ہوتے ہیں۔ اس سے بڑی محیر العقول بات کیا ہو گی کہ محض زبان کے بل بوتے پر ان کے خزانے بھرتے جاتے ہیں۔ مریدوں کی جیبیں خالی ہو تی جاتی ہیں۔ پولیس آنکھ اٹھا نہیں دیکھ سکتی۔ ان کم ٹیکس والے ان کے دروازوں پر پہنچتے ہی اندھے ہو جاتے ہیں۔ سیاست دان ان کی جنبشِ ابرو پر قربان ہوتے ہیں۔ اہل حشم ان کے درباروں تک رسائی کو اعزاز دو جہاں سمجھتے ہیں اربابِ بسط و کشاد۔۔۔۔۔‘‘
کیسرین بات کاٹ دیتی ہے۔ ’’بس بس ایزام مذاق ختم کرو۔ ما ما کا مقصد اہل تصوف سے تھا۔ شعبدہ بازوں موقع شناسوں اور دوسروں کی محنتیں چرانے والوں سے نہیں۔ کیا تمہارے ہا ں بھی ایسے صوفی بزرگ ہوتے ہیں۔ جیسے اپنے سینٹ، تارک الدنیا، تلاش حق میں مستغرق۔‘‘
مسافر ’’ہاں کیسرین ہوتے تھے گذرے زمانوں میں جن کے دم قدم سے سچائی پھیلتی تھی۔ اچھائی نشوونما پاتی تھی۔اور محبتوں کے زم زم بہتے تھے۔ وہ تارک الدنیا نہیں ہوتے تھے۔ اسی دنیا میں اسی سوسائٹی میں رہ کر محبتیں تقسیم کرتے۔ اخلاقی قدریں تعلیم کرتے۔ احترام انسانیت کادرس دیتے اور دنیا کو فانی سمجھتے تھے۔‘‘
کیسرین ’’اوہ اپنے چارلس ڈکنز کی طرح۔ ہیں ناں ؟‘‘
مسافر ’’نہیں کیسرین۔ بہت فرق ہے۔ چارلس ڈکنز کے نزدیک انسان کا مقدر مٹی ہے۔ جب کہ ہمارے صوفیاء کا عقیدہ ہے کہ مٹی میں جسم نے ملنا ہے۔ جو مستعار ہے۔ ہمارا نہیں۔ اور ہم نے کہیں اور جانا ہے۔ بس منتقل ہونا ہے۔ ان کے نزدیک یہ دنیا مقام شکر ہے۔ ہر حال میں خالق کا شکر لازم ہے۔ کیوں کہ خالق ہی حکیم ہے۔ عقل انسانی نہ تو خالق کے تخلیق کردہ وقت کا ساتھ دے سکتی ہے۔ نہ اس کی بسیط کائنات کا احاطہ کر سکتی ہے۔ اور نہ ہی آفرینش کی ابتدا ء و انتہا کا کھوج پا سکتی ہے۔‘‘
کیسرین ’’یعنی انسان دنیاوی لذّتوں سے خط اٹھانے تخلیق ہوا ہے۔ یہ تو ایپی کیورس کی فلاسفی ہوئی نا ہیں نا؟‘‘
مسافر ’’نہیں محترم خاتون!بجا کہ ایپی کیورس فرقہ لدنیہ کا خالق ہے۔ مگر ہمارے تصوف میں جسمانی لذتوں سے گریز ہی عرفان کی شرف اول ہے۔ ہمارے صوفی روحانی لذتوں کے قائل ہیں۔‘‘
کیسرین ’’اچھا تو وہ جو ڈیکارٹس۔۔۔۔کہتا ہے کہ ’’میں سوچتا ہوں۔ اس لیے میرا وجود ہے۔ کیا یہ صحیح نہیں ؟
مسافر ’’خاتون ! میں نہ تو فلسفہ کا کبھی سٹوڈنٹ رہا ہوں نہ تمہاری مشکل فلاسفی سمجھ سکتا ہوں۔ میں تو کہوں گا کہ میرا وجود ہے اسی لیے میں سوچتا ہوں۔ میرے نزدیک فلسفہ محض الفاظ کو گورکھ دھندا ہے۔ میں تو آ منّا و صدقناکا قائل ہوں۔ میرے مرشد بتاتے ہیں کہ اللہ ایک ہے۔ میں مانتا ہوں۔ وہ فرماتے ہیں شب کے ایک حصہ میں آسمانوں کی سیر کر آئے ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں۔ وہ حکم دیتے ہیں دوسروں کی بھلائی کے لیے زندہ رہو۔ میں بہ دل و جان سرِ تسلیم خم کرتا ہوں۔ یہی میرا ایمان ہے۔ میرا عقیدہ ہے۔ میرا فلسفہ ہے۔ میرے تمام صوفیاء کا حُکم بھی یہی ہے کہ مُرشِد کا فرمان ہی درست ہے۔ اس سے آگے اور فلسفے میری فہم سے باہر ہیں۔ ڈیا جینز ہو، کنفیوشش ہو، ایپی کیورس ہو پھر ڈیکارٹس کوئی بھی حقیقت کلی کو نہ جان پایا۔ سب کے سامنے سکرین دھندلا ہے۔‘‘دونوں ماں بیٹی کے چہرے فروغِ مے سے گلستاں ہوتے تھے۔ ماں کی زمان میں تتلاہٹ آ چکی تھی۔ اُس کی زبان اس کے دہن سے آگے نکل چکی تھی۔ کیسرین کے چاند چہرے سے صباحتیں چھلکتی تھیں۔ اُس کی ستارہ آنکھوں سے پھلجھڑیاں برستی تھیں مگر وُہ عالمِ کیف میں آدابِ میزبانی کا پاس کرنا نہ بھُولی تھی۔
کیسرین’’ایزام! تم اس خشک گفت گو سے بور تو نہیں ہو گئے۔ آئیے اس کو ختم کرتے ہیں۔ آخری ڈرنک لیتے ہیں۔ اور سوتے ہیں۔ مجھے صبح یونی ورسٹی جانا ہے۔ تمہاری گفت گو سے مجھے انسانی زندگی کے نئے فلسفہ سے آشنائی ہوئی ہے۔ اور ہاں صبح میں تو جلد چلی جاؤں گی۔ تم نے ماما کا چڑیا گھر ضرور دیکھنا ہے۔ ہو سکے تو ماما کے ساتھ فورڈ پر سواری ضرور کرنا۔ بس ماڈل ہی پرانا ہے۔ کوئی پرزہ پرانا نہیں۔ پھر بھی ماما کو اصرا ر ہے کہ یہ نوادرات میں سے ہے۔ یقیناً یہ ہماری آخری ملاقات ہو گی۔ مگر میں توقع ضرور رکھوں کی بار دگر لندن آنا ہوا تو اس گھر کے دروازے کھلے پاؤ گے۔‘‘

شیکسپئر کی جنم بھومی

17جون کی شام خوابوں کی بستی سکاٹ لینڈ سے واپسی ہوتی ہے۔ اب گرینجز ماوتھ کے ساحل، ڈونون کے مناظر، کنٹری سائڈ کی جھیلیں، بھیڑوں، گھوڑوں اور گایوں کے فارم، گلاسگو کی مکڑی کے جال نما اوپر نیچے سڑکیں، بیچ شہر، بہتا دریائے کلائیڈ، Stone of Destinyکی کہانی، Oldest House in Glasgowکی تاریخ اور گلاسگو میوزیم سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔یہ سب کچھ ستائیس برس کے وقفے کے بعد بار دگر دیکھ چکنے اور تیسری بار دیکھنے کی حسرت دل میں لیے مسافر چار کی ٹولی کے ساتھ بریڈ فورڈ کی طرف رواں دواں ہے۔ گاڑی کی ہیڈ لائیٹس تاریکی کا سینہ چیرتی دوڑتی ہیں۔ دائیں بائیں کے مناظر تاریکی نے ڈھانپ رکھے ہیں۔ فوری طور پر ان دیکھے ہوئے مناظر کو مزید دیکھنے کا تجسس بھی نہیں ہے۔فطری بات ہے کہ جب مسافر منزلوں کو چھو لیتے ہیں تو تجسس دم توڑ دیتا ہے۔ذہن کو آسودگی میسر آتی ہے تو دل و دماغ پر ایک عجیب سی غنودگی طاری ہو جاتی ہے اور یہی غنودگی مسافر کے ذہن کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔ ویسے بھی باہر سردی اور بارش زوروں پر ہے اور گاڑی کے اندر کا ماحول ماں کی آغوش کی طرح آسودہ اور فرحت بخش ہے۔
موٹر وے پر رَ ش نہ ہونے کے برابر ہے اور گاڑی بریڈ فورڈ کی طرف اڑی چلی جا رہی ہے۔ جہاں خالد خان کو اتار نا ہے۔ وہ فون پر گھر کھانے کا کہہ چکا ہے۔ رات ڈیڑھ بجے خالد خان کے گھر پہنچتے ہیں۔ گھر والوں کو جگانا نا مناسب سمجھ خود ہی ہانڈی چولھا سنبھالتے ہیں۔ برتن سجاتے ہیں۔ خوب ڈٹ کر کھانا کھا چکنے کے بعد ریدچ کی طرف سفر آغاز ہو تا ہے۔ اب ایک سواری کم ہو چکی ہے۔ صبح چار بجے ریڈچ پہنچتے ہیں۔
ریڈچ برمنگھم سے بیس منٹ کی ڈرائیو پر واقع ہے۔ اس ننھے منے شہر کی اہمیت یہ ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران پورا علاقہ اتحادی فوجوں کے تصرف میں تھا۔ دسیوں بارود فیکٹریاں دِن رات اتحادی فوجوں کو گولہ بارود سپلائی کرنے میں مصروف تھیں اور اسی وجہ سے شہر ہٹلر کی بم باری کی براہِ راست زد میں تھا۔ لندن کے بعد نازیوں کا سب سے بڑا ٹارگٹ یہی شہر تھا۔ جس کا مُنْہ بولتا ثبوت ننھی منی بستی کا وسیع و عریض قبرستان ہے۔ مسافر کو اس قبرستان میں گھومنے کا موقع ملا تو انکشاف ہوا کہ مدفون جسموں میں 90%نو عمر لڑکے بیس بائیس برس کے درمیان تھے۔ جو نازیوں کے جنون کا نشانہ بنے۔ آج بھی ان نوجوانوں کی پھولوں سے ڈھکی قبریں مادرِ وطن کی عزت و عصمت کا نشان ہیں۔ مگر بنی نوعِ انسان کو بے مقصد جنگ میں جھونکنے والے ڈکٹیڑ ہٹلر کی قبر کا تو کہیں نشان بھی نہیں۔ مَر تو یہ نوجوان بھی گئے اور مَر وہ بھی گیا مگر حقیقت یہ ہے کہ مقصدیت کی خاطر مَوت فانی انسان کو اَمَر کر دیتی ہے جب کہ بے مقصد مَوت محض موت ہے۔ قبرستان کے داخلی دروازے پرایک بلند مینار ہے جس پر ایک دائمی شمع روشن ہے۔ جو وقت کی قید سے آزاد اُن زمانوں سے جل رہی ہے۔ جب ایک ڈکٹیٹر کی وحشیانہ خواہشات نے پورے کرۂ ارضی کو جنگ میں جھونک دیا تھا اور شاید یہ شمع رہتی دنیا تک جلتی رہے۔ریڈچ کا چھوٹا سا شہر عام برطانوی شہروں جیسا ہے۔ وہی یہودیوں کی مارکیٹیں، سرِ شام آباد ہونے والے پب، کلب، شراب خانے، وہی ویک اینڈ نائٹس کا ہنگامہ ہائے ہاؤ ہو۔ وہی حسین ترین گورے بدنوں کے گرد بد صورت، بے ڈھنگے، لحیم شحیم کالوں کی بانہیں۔ گویا کچھ بھی تو نیا نہیں۔ یہاں مسافر کے لیے اگر کوئی چیز نئی ہے تو وہ عزیزم سرفراز خان کا وجود ہے۔ سرفراز خان حضرو کے اُس قدیمی پٹھان خاندان کا فرزند ہے۔ جسے ایک زمانہ حضرو کے اصل مالکان کی حیثیت سے جانتا ہے۔ اِن کے پردادا شیر خان زمانے ہوئے جنت مکانی ہو چکے مگر آج بھی علاقہ چھچھ کے بڑے بوڑھے، نوجوان نسل کو تمثیلاً بوڑھے شیر خان بابا کی تقلید کی نصیحت کرتے ہیں۔ مرحوم خان بابا نظر کی نعمت سے محروم تھے مگر شہر کے بچے بچے کو اُن کی آوازوں سے پہچانتے تھے۔ اور اس پہچان میں ہندو مسلم کی کوئی تفریق نہ تھی۔ حضرو کے تمام باسی ہندو تھے، خواہ مسلم خان بابا کی بات کی حیثیت دیتے تھے۔ اور وہ پوری بستی پر شفقتِ پدری کی صورت سایہ فگن تھے۔ ان کے فرزند رشید مرحوم عجب خان نے اپنی اولاد کو جس ناز و نعم سے پالا اُس کی مثال ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ عزیزم سرفراز خان کے چچا مرحوم طاہر خان نے خانگی روش اپنائی مگر اُن کے والد مرحوم صفدر خان نے فقیری چلن میں لذت پائی۔ عُمر بھر صفدر خان پر دھن دولت بارش کی طرح برستی رہی اور وُہ دونوں ہاتھوں سے لٹاتے رہے۔ مسافر کو مرحوم کی جلوت و خلوت میں شریک ہونے کا اعزاز حاصل رہا اور مسافر گواہ ہے کہ مرحوم نے کسی معاملے میں ہاتھ روکا ہو تو روکا ہو مگر دولت لٹانے میں کبھی ہاتھ نہیں روکا۔ دوست احباب مرحوم کو روکتے ٹوکتے، بچوں کے مستقبل کا احساس دلاتے تو کمال شانِ بے نیازی سے کہتے ’’بچوں کا مالک اللہ حَیُّ قَیُّوم ہے۔‘‘ مرحوم کے اللّٰہ ربُّ العالمین پر یقین ہی کا معجزہ ہے کہ آج ان کی اولاد پر ربِ کریم کا فضل پہلے سے بڑھ کر ہے۔سرفراز کے چھوٹے بھائی شیراز خان حضرو کے ناظم ہیں اور یہ اتفاق ہی ہے کہ آج کل یہاں مسافر کے ہم سفر ہیں۔ مرحوم عجب خان کے فرزند عبدا لحمید خان نے کوچۂ تصوف میں قدم رکھا۔ وہ من سندرتا کو شعر کا پیرہن دیتے اور عابدؔ تخلص کرتے ہیں جب کہ بڑے بھائی خالد خان نے میدانِ سیاست میں نام پیدا کیا۔ اگرچہ میدانِ سیاست وطنِ عزیز میں ایک شریف آدمی کے لیے میدانِ خار خار ہے کہ اس میں نقصانِ مایہ کے ساتھ ساتھ شماتت ہماشما بھی ہے مگر یہ اُن لوگوں کے لیے بہت بڑا ذریعۂ آمدن بھی ہے جو ہوسِ زر کے اسیر اور انسانی قدروں کے مُنکِر ہیں۔
خالد خان نے میدانِ سیاست میں ایک ایسی کمائی کی، ایک ایسا اثاثہ بنایا جو بے مثل اور قابلِ رشک ہے۔ دونوں جہانوں کا سرمایہ ہے۔ اس جوانِ صالح کی کمائی کی داستان طویل بھی ہے۔ درد ناک بھی اور قابلِ رشک بھی۔ یہ کہانی سکھوں کے دورِ حکومت سے شروع ہوتی ہے۔ حضرو شہر کے عین وسط میں قدیمی مسجد تھی جسے سکھوں نے فوجی چوکی قرار دے کر گھوڑوں کا اصطبل بنا دیا تھا۔ سکھوں کی پسپائی کے بعد انگریزی حکومت نے حرم کی اس بیٹی کو پولیس چوکی میں بدل دیا۔ قیامِ پاکستان کے چالیس برس بعد خالد خان حضرو کمیٹی کے وائس چیئرمین بنے تو پُرانے کاغذات ڈھونڈ نکالے۔ بنتِ کعبہ کو اس کا اصل مقام دینے کی ٹھانی۔ سرخ فیتہ حائل ہوا تو طویل قانونی جنگ لڑی۔ اسلام آباد صدر ہاوس پر جا دستک دی، کاوشیں بار آور ثابت ہوئیں۔ آج اللہ اکبر کی امین وہ جائے مقدس اپنے تمام تر حسن اور خوب صورتی کے ساتھ مسجدِ گلزارِ حبیب کے نام سے عین بیچ شہر کھڑی ہے۔
ریڈچ سے چند منٹ کی ڈرائیو پر واروِک شائر میں دریائے اے وان کے کنارے واقع قصبہ سٹراٹ فورڈ ہے۔ یہ ایک چھوٹا خوب صور ت قصبہ ہے۔ جس کی آبادی 1981ء کی مردم شماری کے مطابق بیس ہزار تھی۔ شہر کی مثال گھر میں موجود سب سے کم عمر بچے کی ہے۔ جو گھر کا پیداواری فرد نہ ہونے کے باوجود سب کو عزیز اور سب سے لاڈلا ہوتا ہے۔دھُلا دھُلایا، خوب صورت کپڑوں میں ملبوس، خوشبوؤں میں رچا بسا ہر ایک کے پیار کا مرکز و محور، جو گھڑی اس کی قربت میں گذرے فراغ ہی فراغ، آسودگی ہی آسودگی۔ یہ شہر انگلستان کے عظیم شاعر، عظیم ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر کی جنم بھومی ہے۔ رائل شیکسپیئر تھیٹر بھی یہیں واقع ہے اور اسی حوالے سے اسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ دنیا جہان سے آنے والے لاکھوں سیاحوں کا سفرِ انگلستان مکمل نہیں ہو پاتا جب تک کہ وہ اس کی زیارت نہ کر لیں۔ بس شیکسپیئر کا نام ہی اس کی وجہِ شہرت اور پہچان ہے وگرنہ انگلستان کے باقی تمام شہر اور علاقے اپنے اپنے پیداواری حوالوں سے جانے جاتے ہیں۔ شیفیلڈ، بریڈ فورڈ، ملوں اور فاونڈریوں کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ برمنگھم لاکھوں ملکیوں، غیر ملکیوں کے رزق کا سامان فراہم کرتا ہے۔ مانچسٹر صنعتوں کے جال کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔ سکاٹ لینڈ گوشت، اون، چمڑے کی پیداوار کا حوالہ ہے۔اہلِ گرینجز ماوتھ اور لورپول سینۂ بحر سے رزق کشید کرتے ہیں۔ کارڈیف بین الاقوامی مالیاتی معاملات میں دخیل ہے۔ لندن کیپیٹل ہے اور دنیا جہاں میں گئے زمانوں کی برطانوی نو آبادیوں اور تیسری دنیا کے جہالت زدہ پسماندہ ملکوں سے باج وصولی کے حیلے تراشتا ہے۔ کہیں جمہوریت اور کہیں بادشاہت کے نام پر اُن ممالک میں اپنے کارندے متعین کرتا ہے۔ حکومتوں کے بنانے بگاڑنے کی سازشیں تخلیق کرتا ہے اور پتہ نہیں کیا کیا کرتا ہے۔
لندن کے ویسٹ منسٹر ایبے کی گیلریوں میں کالے کوٹوں، کالی ٹائیوں میں ملبوس برٹش لارڈز، سیکرٹ ایجنٹس، ریٹائر بیورکریٹس اور بوڑھے دانشور دُنیا بھر کو اپنے شکنجے میں جکڑے رکھنے کی صد سالہ منصوبہ سازیاں کرتے ہیں۔ اسی شہر کے ایجوار روڈ کے محلات میں تیسری دنیا کے عوام کے خون پسینے پر پلنے والے، سیاسی سٹیجوں پر گلے پھاڑ پھاڑ کر ایک دوسرے کے لتّے لینے والے متحارب سیاست دان ایک میز پر بیٹھ کر ان کی پالیسیوں کو آگے بڑھانے اور عملی جامہ پہنانے کے لیے معاہدے کرتے ہیں، اور میڈیا کے لوگ باہر بیٹھے انتظار کرتے ہیں۔ مگر سٹراٹ فورڈ کا قصبہ ان تمام آلائشوں سے پاک ہے۔مسافر تیسری باراس کی زیارت کے لیے موجود ہے۔
مسافر شیکسپئر کی جنم بھومی میں داخل ہوتے ہی چار سو سال پہلے کی انگلستان میں پہنچ جاتا ہے۔ یہ ایک وسیع و عریض گھر ہے جس کے باہر رنگا رنگ پھولوں کی بہار ہے۔ اندر شیکسپئر کے مختلف ادوار حیات میں زیرِ استعمال کمروں کو تقریباً اصل حالت میں قائم رکھا گیا ہے۔ حتیٰ کہ ان کے والد کے ہاتھوں سے بنائے جانے والے دستانوں کی دستی فیکٹری بھی جوں کی توں موجود ہے۔ وہی بیڈ، وہی فرنیچر، وہی کوئلے، لکڑی کے استعمال والے آتش دان، صرف سیاحوں کے بدلتے چہرے۔ مختلف مقامات پر کھڑے گائیڈ سیاحوں کے سامنے شیکسپئر کی زندگی کے مختلف گوشوں کے متعلق گھِسی پِٹی پرانی تقریر سناتے ہیں۔ گویا انسان نہیں روبوٹ ہیں، ٹیپ ریکارڈر ہیں۔ خدا جانے کب سے کھڑے ایک ہی تقریر تسلسل اور روانی کے ساتھ فر فر سناتے ہیں۔
’’اس کا باپ دستانے بناتا تھا۔ یہ سامنے دستانے بنانے کی فیکٹری آج بھی اُسی حالت میں موجود ہے۔ وہ اُس سامنے والی کھڑکی میں کھڑے ہو کر دستانے بیچتا تھا۔ آج بھی وہاں کاونٹر پر دستانے لٹکے ہیں۔ آئیے دیکھیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں۔ اُنھیں چھُو نہیں سکتے، خرید نہیں سکتے۔‘‘
ایک کمرے میں نوزائیدہ شیکسپئر آتش دان کے قریب پالنے میں لیٹا، کپڑے میں لِپٹا، مُنہ میں چوسنی دبائے ٹکر ٹکر سیاحوں کو دیکھتا ہے۔ جس گائیڈ کے سامنے مسافر کھڑا ہے۔ وہاں سیاحوں کا رش قدرے زیادہ ہے۔ مشرقِ بعید کے خواتین و حضرات کی اکثریت ہے۔ کورین یونی ورسٹی کے طلبہ و طالبات ہیں۔ گائیڈ شیکسپئر کی سوانح حیات سنانے کے پردے میں نہایت غیر محسوس طریقہ سے انگریز کی تحقیقی کاوشوں اور عظمتوں کے قصیدے بھی سیاحوں کے گوش گذار کرنے میں کوشاں ہے۔ مسافر گائیڈ کی چالاکی بھانپ جاتا ہے۔ ہاتھ کھڑا کرتا ہے۔ گائیڈ کی قینچی کی طرح چلتی زبان رُک جاتی ہے۔ چہرے پر ناگواری کا تاثر ابھر آتا ہے۔مسافر سوال کرتا ہے۔’’مسٹر ! مانا کہ انگریز اپنی تاریخ کا بہترین محافظ ہے۔ مانا کہ تحقیق میں اس کا کوئی ثانی نہیں مگر میرا سوال یہ ہے کہ شیکسپئر نے سٹراٹ فورڈ سے لندن کا سفر ایک بار کیا ہے۔ میرے ہاتھ میں موجود نقشہ کے مطابق اس دور میں یہاں سے لندن کو تین راستے نکلتے تھے۔ ایک راستہ دشوار گذار برف سے ڈھکی پہاڑیوں سے جاتا تھا۔ دوسرے پر چور، اُچکّے، رہزن مسافروں کو لُوٹ لیتے تھے۔ جب کہ تیسرے راستے پر جنگلی گیدڑوں اور لکڑ بگوں کا قبضہ تھا۔ جو خوراک کی خاطر اپنے ہم جنسوں کو بھی کھانے سے نہیں ہچکچاتے تھے۔ بھلا بتائیے تو شیکسپئر نے ان تین میں سے کون سا راستہ اختیار کیا تھا؟ ‘‘
گائیڈ ’’میرا خیال ہے کہ۔۔۔۔‘‘
مسافر ’’نہیں جناب! خیال کی نہیں، ثبوت کے ساتھ بات کرو۔ انگریز کی تحقیق کا مسئلہ ہے۔ ‘‘ گائیڈ لا جواب ہے۔ مشرقِ بعید کے ملیح چہروں پر شرارت رقص کرتی ہے۔ وہ گائیڈ کی بے بسی پر تالیاں بجاتے ہیں۔ دو امریکن سیاح سیٹیاں بجاتے ہیں۔ سیٹیوں اور تالیوں کی گونج تھمتی ہے تو مسافر پھر گویا ہوتا ہے۔ ’’مسٹر! کیوں نہیں مان لیتے کہ آج کا برطانوی شیکسپئر سے بڑا فن کار ہے۔ جو غریب الدیار سادہ لوح سیاحوں کی جیب سے پیسہ نکالنے کے فن میں طاق ہے۔ وہ کسی پر اعتماد نہیں کرتا۔ اسی لیے اس نے شیکسپئر کے استعمال میں رہنے والے بیڈ اور کرسیوں، پر کانٹے دار ٹہنیاں رکھ چھوڑی ہیں۔ تاکہ کوئی سیاح ان پر بیٹھ نہ جائے۔ وہ عظیم کہانی کار جو عمر بھر پھُول اور آئینے بانٹتا رہا۔ آج تم نے اس کے بستر، اس کی کرسیوں پر کانٹے رکھ چھوڑے ہیں اور باہر رنگا رنگ پھُول اُگا رکھے ہیں ، کیوں ؟ صرف پیسہ بٹورنے کے لیے۔ کیا یہ انگریز کے وجود کی علامت نہیں۔ باہر پھُول، اندر کانٹے، کیا یہی شیکسپئرکا کر دار شائی لاک نہیں۔ یہی بروٹس نہیں ؟ ‘‘مسافر کی بات ختم ہوتے ہی ایک بار پھر تالیوں اور سیٹیوں کا شور اُٹھتا ہے۔ گائیڈ زیر لب کچھ بڑبڑاتا ہے۔ غالباً مسافر کو ناقابلِ تحریر القابات سے نوازتا ہے۔ ٹشو پیپر سے پیشانی پر نمودار ہونے والے پسینے کے قطرے پونچھتا ہے اور جیسے ایک بار پھر ریکارڈ پر سوئی رکھ دی گئی ہو، فر فر بولنے لگتا ہے۔ ’’خواتین و حضرات! یہ ایک عمدہ مذاق تھا، آیئے اِ س مذاق کی ایک طرف رکھیں۔ یہ جو بائیں ہاتھ کھڑکی ہے۔ اس کا فریم بالکل اصلی ہے۔ البتہ کھڑکی بند رکھنے والی بے ڈھنگی چھڑیاں وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ چار سال اُدھر جب میں آرکیالوجی میں ماسٹر کر رہا تھا۔ تو ان چھڑیوں کی تبدیلی کا آخری اعزاز ہماری کلاس کو ملا تھا اور ہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ میں برطانوی انگریز نہیں سکاٹ ہوں۔‘‘ سیاحوں کی ٹولی گائیڈ کو بولتا چھوڑ کر آگے بڑھ جاتی ہے۔
لاہور میں زمانہ طالب علمی میں شیکسپئر سے پہلا تعارف اس کے مشہور جملے Et. Tu Bruteیعنی یوٹو بروٹس کے حوالے سے ہوا۔ یہ جملہ عموماً اس وقت بولا جاتا تھا جب احباب کسی نہ کسی بہانے کسی دوست کو جرمانہ کی زد میں لا کر ہوسٹل کیفے ٹیریا کی میزبانی پر مجبور کرتے۔ ایسے میں کوئی قریبی دوست یا رُوم میٹ بھی مظلوم کے خلاف ووٹ دیتا تو یہ جملہ سننے میں آتا۔
انگریزی کے پروفیسر ابراہیم صاحب بالخصوص پوئٹری پڑھانے میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ ایک بار Solitary Reaperپڑھاتے تھے کہ یہودیوں کا ذکر چل نکلا۔ عُمر کے اُس حصے میں بیشتر طلبہ کو یہودی اور سکھ دیکھنے کا شوق ہوتا تھا۔ شاید بچپن میں سنی کہانیوں میں اول الذکر اپنی چالاکی اور ثانی الذکر اپنی حماقتوں (مبیّنہ) کی وجہ سے لڑکوں کے ذہن میں تجسس بیدار کرتے تھے۔ کسی لڑکے نے پروفیسر ابراہیم سے نہایت معصومانہ سوال کیا کہ جناب یہودی کیسے ہوتے ہیں۔ فرمانے لگے مرچنٹ آف وینس پڑھ لو۔ جملہ سننا تھا کہ پوری کلاس مرچنٹ آف وینس کے جنون میں مبتلا ہو گئی۔ہر ایک نے دوسرے سے پہلے پڑھنے کی ٹھانی۔ لائبریری میں نسخے دو ہی تھے۔ سو باریاں باندھی گئیں۔ اس طرح شیکسپئر کے کر دار شائی لاک کے حوالے سے یہودیوں سے تعارف ہوا۔ پھر شیکسپئر ایک اور وادی نا مہرباں میں لے جاتا ہے۔ سیزرکے بدن سے لہُو ٹپک رہا ہے۔ موم کے پتلوں کا انبوہِ کثیر ساکت و صامت خاموش کھڑا ہے۔ بروٹس کی بے وفائی خراج تحسین وصول کرنے کی منتظر ہے کہ قحط الرجال میں ایک صاحب بصیرت مردِ دانا نمودار ہوتا ہے۔ انٹوینو کی آواز بلند ہوتی چلی جاتی ہے۔ اب اس کی آنکھوں سے چنگاریاں برستی ہیں۔ اس کی زبان شعلے اُگلتی ہے تو ایک لمحہ پہلے کے ساکت و صامت مجسموں کے ذہنوں میں بجلیاں دوڑنے لگتی ہیں۔ ماتمی چیخیں نعرہ بن جاتی ہیں۔ سینہ کو بی کرنے والے ہاتھ اب خنجر بدست ہیں اور صاحبِ صلیب کی رُوح آسودہ ہوتی ہے۔
آج وطنِ عزیز میں کتنے بروٹس چہروں پر تقدس و تقویٰ سجائے زبان کی شیرینیوں سے سیزروں کو دامِ فریب میں گرفتار رکھے۔ خنجر بدست موقع کی تلاش میں ہیں۔ کتنے فریب خوردہ سیزر تاریک راہوں میں مارے جاتے ہیں مگر کوئی انٹونیو دور دور تک نظر نہیں آتا۔ جو نعرۂ لا تذر کا نقیب ہو۔ کوئی شیکسپئر نہیں جو آئینے بانٹ سکے۔ شیکسپئر نے دنیا کو تماشا گاہ قرار دیا تھا۔ ایسی تماشا گاہ جہاں انسان محض اداکار کی حیثیت سے تخلیق کے دروازے سے داخل ہوتا ہے ، اپنا کر دار ادا کرتا ہے اور عدم کے راستے سے رخصت ہو جاتا ہے۔ کر دار کا تعیّن کرنے والا کہانی کار پسِ پردہ ہے۔ گویا جبری نظریہ۔
مسافر سوچوں میں گم پالنے کے سامنے کھڑا ہے۔ پالنے میں ایک نوزائیدہ بچہ لیٹا، مُنْہ میں چُوسنی دبائے سیاحوں کو حیرت سے دیکھتا ہے۔ پھر سیاح اُسے دیکھتے ہیں۔ جو دوسروں کو تماشا دکھاتا تھا، آج خود تماشا بنا ہوا ہے۔ یہ گذشتہ چار صدیوں سے تماشا بنا ہوا ہے یا پھر خود تماش بین بنا ہے۔ ناظر کون ہے اور منظر کون؟ وہی جانے جو پس پردہ کہانی بُنتا ہے۔ اداکاروں نے تو کر دار ادا کرنا ہے ، کر دار جس کا تعین کرنے والا کوئی اور ہے۔

٭٭٭

آکسنا فورڈا
مسافر ٹیکشیلا یونی ورسٹی کے کھنڈروں میں کھڑا مغرب میں قدموں تلے پھیلی وادی کو دیکھتا تھا۔ اس کے تصور کی آنکھ ماضی کا سفر کرتی تھی۔ وہ خود کو عینی حیدر کا کر دار گوتم نیلامبر تصور کرتا تھا۔ زمانے اس کی نگاہوں کے سامنے تہہ در تہہ کھل رہے تھے۔ حمو رابی کا دور، قانون کی حکمرانی، اصول تمدن، حمو رابی کے پڑوسی شداد کی جنت، آرکیٹکچرنگ کا کمال، ٹیکسلا یونی ورسٹی، جہاں اصولِ حکمرانی کی تعلیم دی جاتی۔ افلاطون اکیڈمی جہاں دنیا کے فلسفوں کی بنیاد رکھی جاتی تھی۔ درو جدید میں وجود میں آنے والی حکومتوں کے خدو خال وضع ہوتے تھے۔ مسافر کی تصور کی آنکھ یہ سب کچھ دیکھتی تھی تو نتیجہ صرف ایک نکلتا تھا کہ ہر دور میں ہر خطے میں تعلیم صرف مخصوص طبقوں کا حق جانا گیا تھا۔ پھر وادی فاران سے آسمانی روشنی کی ایک کرن پھوٹتی ہے۔ گلشنِ کتابِ حکمت کے غنچۂ اول کے لب کھلتے ہیں۔ تو حکم ہوتا ہے۔’’ پڑھو۔ ‘‘قرآن حکیم کا یہ حکم کسی ایک فرد، کسی طبقے یا جنس کے لیے مخصوص نہیں بل کہ ہر مرد اور عورت کے لیے ہے۔ گویا تاریخ انسانی میں پہلی بار بنی نوع انسان کو تعلیم کا حق بلا امتیاز عطا ہوتا ہے۔ شارحِ قرآن عظیم علم کو امانت کا رتبہ عطا فرماتے ہیں۔ یعنی جس تک علم پہنچے وہ امین ہے اور دوسروں تک امانت پہنچانا اس کا فرض ہے۔ اس طرح علم کے پھیلاؤ کا ایک نیا فلسفہ ایجاد ہوتا ہے۔ جو حمورابی کے قانونِ تمدن، افلاطون اکیڈمی کی فلسفیانہ مو شگافیوں اور ٹیکسلا کے اشرافیہ کے لیے مخصوص علمی حقوق کے فلسفوں پر چھا جاتا ہے۔ Each one teach oneکے اصول سے علمی سفر کا آغاز ہوتا ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایک مختصر مدت میں مسلمانوں کے عظیم علمی مراکز کا ایک جال بچھ جاتا ہے۔ جن کے پھیلاؤ کی حدیں وسطِ ایشیا سے لے کر یورپ کے دروازوں تک بکھری نظر آتی ہیں۔
1980ء کے اوائل میں مسافر یونان کے قدیم شہر ایتھینا کے کھنڈروں میں افلاطون اکیڈمی کی باقیات کو تلاش کرتا پھرتا تھا۔ وہ ایک ایسی متاع گم گشتہ میں تھا جسے وقت کی گرد نے یوں چھپا لیا تھا کہ جدید یونانی اس کے نام سے ناآشنا تھے۔ وہ مقامی لوگ تو خالکیدا کے ٹیلوں کا پتہ بتاتے تھے جہاں وہ مردِ درویش لیٹتا تھا۔ جو اہل دنیا سے بے نیاز تھا۔ اوائل بہار کی فرحت بخش دھوپ اس کے جسم کو گرماتی تھی۔ جب فاتح عالم اس کی پائنتی کھڑا ہوا سے مخاطب کرتا ہے۔ ’’اے مردِ درویش آج دنیا تمہارے ایک پیروکار کے پاؤں کے تلوے چاٹتی ہے۔ بول ! تیری کیا خواہش ہے۔ بول کہ تیرا بیٹا وہ متاعِ بے بہا تیرے پاؤں میں لا ڈالے گا‘‘ بابا بولتا ہے ’’اے جوانِ رعنا! تو نہیں جانتا متاعِ بے بہا کیا چیز ہوتی ہے۔ تیرے دماغ میں سودا سمایا ہے۔ تیرے لہو میں حرارتیں کروٹیں لیتی ہیں۔ تیرے بازوؤں میں بجلیاں تڑپتی ہیں۔ مگر تیرا پہلو اس دل سے محروم ہے جس میں دوسروں کے لیے تڑپ موجود ہو تو متاعِ بے بہا سے خود محروم ہے۔ میری صرف ایک درخواست ہے کہ تو اپنے مقام ایستادگی کو چھوڑ کر کھڑا ہوتا کہ خداوند قدوس کے آسمانوں سے اتارنے والی دھوپ مجھ تک پہنچ پائے۔ ‘‘خالکیدا کے ٹیلوں پر دیو جانس کلبی کے معین مقام پر کھڑا مسافر چونک کر دو قدم پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ کہیں اس نے کسی کے حصّے کی دھوپ تو نہیں روک
رکھی۔ جی ہاں ! اس مردِ درویش نے بہت بڑی بات کہہ دی تھی۔ دھوپ تو محض ایک علامت تھی۔ بات دھوپ کی تو نہ تھی۔ بوڑھے درویش نے تو فاتحِ عالم کو ایک درس دیا تھا۔ اصولِ حکمرانی کا درس، حقوقِ انسانی کا درس، انسانیت کے استحصال سے گریز کا درس۔ مگر یہ تو بیسویں صدی کے آٹھویں عشرے کی کہا نی تھی۔ آج اکیسویں صدی میں مسافر علم ودانش کے ایک اور مینارۂ نور کے سائے تلے کھڑا ہے۔ وہ آکسینا فورڈا کی بستی میں داخل ہوتا ہے۔ جی ہاں آکسینا فورڈا جسے آج کی دنیا آکسفورڈ کے نام سے جانتی ہے۔
اس بستی کی علمی تاریخ کی کہانی آٹھویں صدی کے اواخر سے شروع ہوتی ہے جب آکسینا فورڈا کے بوڑھے بادشاہ ڈیڈان کے ہاں فرائڈزوائیڈ نام کی بچی جنم لیتی ہے۔ بچی، بوڑھے بادشاہ کے گریۂ شب کا نتیجہ ہے۔ سولاڈو نیاز سے پلتی ہے۔ وہ ابھی سنِ بلوغت کو نہیں پہنچتی کہ اس کے حسن و سلیقہ کے چرچے باپ کی سلطنت کی حدود کو پھلانگ اردگرد کی راجد ہانیوں تک جا پہنچتے ہیں۔ جب شہزادی کے حسنِ بے مثل کی داستانیں قریبی سلطنت لسٹر کے شہزادہ الفگارو کی سماعتوں میں گھر کرتی ہیں۔ تو شہزادہ بن دیکھے عا شق ہو جاتا ہے۔ رشتے کا پیغام بھجواتا ہے۔ کنگ ڈیڈان انکار کرتا ہے تو شہزادہ لاؤ لشکر کے ساتھ آکسینا فورڈا پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ ادھر شہزادی کو خواب میں ایک بزرگ نظر آتے ہیں جو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ دریا پر پہنچے جہاں ایک کشتی اس کی منتظر ہے۔ کشتی اسے شہزادے کی دشت برد سے دور لے جائے گی۔ شہزادی جاگتی ہے۔ دو ملازماؤں کو ساتھ لے کشتی میں جا بیٹھتی ہے۔ دو دن کے مسلسل سفر کے بعد ملّاح اُنھیں خشکی پر اتارتا ہے۔ یہاں شہزادی کو خبر ملتی ہے کہ جس رات اس نے بستی کو چھوڑا تھا اس رات شہزادہ الفگارونے بستی تو فتح کر لی تھی مگر طوفانی رات میں آسمانی بجلی کی چمک نے شہزادے کی بینائی چھین لی۔ یہ سن کر شہزادی فرائڈزوائیڈ کا دل بھر آتا ہے۔ وہ جنگل میں موجود قریبی ٹیلے پر سینٹ مارگریٹ کے مزار پر پہنچتی ہے۔ گڑ گڑا کر جارح شہزادے کی بینائی لوٹ آنے کی دعا مانگتی ہے۔ اتنے میں مزار کے اوپر سینٹ مارگریٹ کا نورانی ہیولیٰ ظاہر ہوتا ہے۔ شہزادی کو ہدایت کی جاتی ہے کہ مزار سے ہٹ کر ایک مخصوص جگہ زمین پر پاؤں مارے۔ شہزادی سینٹ کی ہدایت پر عمل کرتی ہے۔ تو وہاں زمین پر پانی کا چشمہ پھوٹ نکلتا ہے۔ شہزادہ الفگار کو پیغام بھجوایا جاتا ہے۔ وہ آتا ہے چشمے کا پانی آنکھوں میں ڈالتا ہے۔ تو اسے بینائی مل جاتی ہے۔ وہ اپنے سابقہ ارادوں سے تائب ہو کر فرائڈزوائیڈ کو نہایت عزت و احترام سے آکسینا فورڈا واپس لاتا ہے۔ باپ، بیٹی اور بادشاہ کو تاج و تخت واپس کر کے اپنی سلطنت کو لوٹ جاتا ہے۔ سینٹ مارگریٹ کا فیضانِ نظر کام کر چکا ہوتا ہے۔ شہزادی مہاتما بدھ کی طرح دنیائے فانی کے ہنگامہ ہائے ہاؤ سے منہ موڑ سچّے رب سے لو لگانے کا ٹھان لیتی ہے۔ وہ نن بننا چاہتی ہے۔ اس طرح 720ء میں کنگ ڈیڈان اپنی بیٹی کی خواہش پر اس کی تربیت کے لیے ایک سکول قائم کرتا ہے۔ یہ آکسینا فورڈا یعنی آج کے آکسفورڈ کا پہلا تعلیمی ادارہ تھا جو عین اس جگہ واقع تھا جہاں آج کرائسٹ چرچ کالج کی وکٹورین طرز کی عظیم الشان عمارت کھڑی ہے۔
آکسفورڈ بستی تقریباً ۱۶ سو برس پہلے کے انگلستان کے اس مقام پر آباد ہوئی جو دو تجارتی شاہ راہوں کا سنگم تھا۔ ایک شاہ راہ لندن کو براستہ وادی ٹیمز سیورن تک ویسٹ سے ملاتی اور دوسرے شاہ راہ جنوبی ساحلی بندر گاہوں کو مڈ لینڈ سے ملاتی تھی۔
آکسینا فورڈا کے کنگ ڈیڈان کی بیٹی فرائڈزوائیڈکے لیے تصوف کے مراحل طے کرنے اور دینی تعلیم کے حصول کے لیے جو سکول قائم کیا گیا تھا کون جانتا تھا کہ یہ باران حکمت کا پہلا قطرہ ہو گا۔ جو آگے چل کر عظیم الشان علمی درس گاہوں میں تبدیل ہو گا۔ گویا آج کا آکسفورڈ گذشتہ چودہ سو برسوں کی علمی تحریک کی تاریخ اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔
با لخصوص گذشتہ دو صدیوں سے آکسفورڈ کی ان درس گاہوں سے ان گنت سیاسی مدبر، مذہبی بشپ، آرک بشپ نکلے ہیں۔ جنھوں نے نہ صرف تاریخ انگلستان بل کہ دنیا بھر کی تاریخ میں ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ ان میں ولیم پائن، جیمز اوگلیتھواور سیل رہوڈز جیسے نابغوں کے نام شامل ہیں۔ ان دو صدیوں میں ان درس گاہوں سے کم و بیش بیس ایسے افراد زیورِ تعلیم سے آراستہ ہو کر نکلے جو سلطنت عظمیٰ کے وزیرِ اعظم کے عہدہ پر متمکن ہوئے۔ باقی دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہانِ حکومت و ریاست ان کے علاوہ ہیں۔
ایک ہزار برس پرانی عمارتوں کی تاریخ لیے آکسفورڈ بستی نے انسانی محبتوں کی حلاوتیں بھی چکھی ہیں اور انسانی کرب کے مختلف مناظر بھی دیکھے ہیں۔ان عمارتوں کی بنیادوں میں وکٹورین آرکیٹکچرز، گلبرٹ، سکاٹ فیملی، ولیم بٹر فیلڈ، باسل چمیپی اور تھامس جی جیکسن کا خون پسینہ شامل ہے۔ آرکیٹکچرنگ کا یہ نمونہ کامل آج بھی ان وطن پرستوں کی مہارتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
1070ء میں نارمن گورنر رابرٹ ڈی اوئل نے شہر کے گرد شہر پناہ تعمیر کرائی جس میں چھ دروازے تھے۔ امتدادِ زمانہ کے ساتھ وہ دیوار عنقا ہوئی۔ دروازے اکھڑ گئے۔آج فقط ایک دروازہ موجود ہے۔ اور ہاں وہ کنواں بھی تو ہے جو صوفیہ فرائڈزوائیڈ کی کرامتوں کا مرہون منت ہے۔ اول اول چشمہ تھا۔ پھر اس کے گرد پختہ اینٹیں چن کر کنوئیں کی شکل دی گئی۔ آج بھی آرتھو ڈوکس اس کے پانیوں کو آبِ شفا جانتے ہیں۔
آکسفورڈ یونی ورسٹی کا وجود بھی اس شہر میں کہیں ہو گا۔ مگر اصل اہمیت یونی ورسٹی بلڈنگ کی نہیں علم کے ان ڈیڑھ سو سے زائد مراکز کی ہے جو مختلف ادوار میں مخیر، صاحب حیثیت اور حکومتی کار پردازان قائم کرتے رہے۔ اور وہ تمام آکسفورڈ یونی ورسٹی سے منسلک Affiliatedہیں۔ ان اداروں میں سے چند ایک کے نام Chronologicalترتیب سے کچھ یوں ہیں۔
یونی ورسٹی کالج 1249ء، ہر ٹن کالج 1264ء، ہرٹ فورڈ کالج 1283ء، اوریل کالج 1326ء، کوئیبنزکالج 1341ء، نیو کالج 1379ء، لنکنزکالج 1427ء، سینٹ برنارڈ کالج 1437ء، آل سولز کالج 1438ء، میگڈالن کالج 1458ء، بریز نوز کالج 1509ء، سینٹ جانز 1555ء، جیسس کالج 1571ء، کارپس کرسٹی کالج 1571ء، پمیبرو کالج 1624ء، وارسسٹر کالج 1714ء، ہیرس مانچسٹر کالج 1786ء، (در اصل کالج 1786ء، میں مانچسٹر میں قائم ہوا جہاں سے 1853ء میں لندن منتقل ہوا اور پھر 1889ء، آکسفورڈ میں جگہ پائی) اس طر ح مینسفیلڈ برمنگھم کالج 1830ء میں برمنگھم میں آغاز کیبلے کالج اور سینٹ کیتھرین 1868ء ہوا اور 1886ء میں آکسفورڈ منتقل ہوا۔
سینٹ اینیز1879ء، سینٹ ہے فنز 1886ء، سینٹ ہلڈاز 1893ء، سینٹ پیٹرز 1929ء، سینٹ انٹونی1948ء، لینا کر کالج 1962ء، ٹمپلٹن کالج 1965ء، وونوسن کالج 1965ء۔
انیسویں صدی کے ساتویں عشرے تک ان درس گاہوں میں صرف مردوں کے لیے تعلیم مخصوص تھی۔ 1878ء میں خواتین کی تعلیم کے لیے پہلی درس گاہ سمرویل کالج کے نام سے آغاز ہوئی جسے 1884ء میں آکسفورڈ یونی ورسٹی سے الحاق کا سر ٹیفکیٹ ملا۔
ان درس گاہوں کے علاوہ آکسفورڈ یونی ورسٹی پریس O.U.Pکی اپنی ایک اہمیت ہے۔ یہ پریس وال سٹریٹ پر موجود ایک کلاسیکل بلڈنگ میں ہے۔ جہا ں 1830ء میں منتقل ہوا۔ ازیں قبل یہ ایک دوسر ی جگہ کلیمریڈن بلڈنگ میں قائم کیا گیا تھا۔ اب اس پرانی بلڈنگ کے گرد نئی عمارات بن چکی ہیں۔ اور پرانی بلڈنگ کم از کم سیاحوں کے لیے بند پڑی ہے۔ اس پرانی بلڈنگ میں پریس16ویں صدی میں قائم ہو ا تھا۔ آغاز میں پریس میں پرانے، پیپرز، مخطوطے، دستاویزات چھاپے جاتے تھے۔ انیسویں صدی میں پریس کو بائبل کی طباعت کے حقوق ملے تو آمدن کے ذرائع کھل گئے جن کے طفیل بیسویں صدی کے آغاز سے پریس نے ڈکشنریاں اور حوالہ جاتی مواد چھاپنا شروع کیا۔ 1989ء میں آکسفورڈ انگلش ڈکشنری کی جدید ترین ایڈیشن چھپا جس میں 1980ء تک تمام جدید الفاظ، تراکیب، تعریف وغیرہ شامل ہیں۔
آکسفورڈ کا ایک اور انتہائی اہم ادارہ آکسفورڈ یونین سوسائٹی ہے۔ یہ ادارہ 1823ء میں آکسفورڈدیبیٹنگ سوسائٹی کے نام سے شروع ہوا۔جسے موجودہ نام دو سال بعد ملا۔ جلد ہی یہ ادارہ دنیا بھر کے سیاست دانوں، پارلیمنٹیرین، بیوروکریٹس، سفارت کاروں اور لفظوں کا جادو جگانے والے مقررین کی نرسری بن گیا۔ اس ادارے نے ان گنت ممبرز پارلیمنٹ، وزراء اعظم اور مختلف فنون میں مہارت رکھنے ممبرز پارلیمنٹ، وزرائے اعظم اور مختلف فنون میں مہارت رکھنے والے نابغے پیدا کیے۔ جن میں میکملن اور ایڈورڈ ہیتھ جیسے وزرائے اعظم بھی شامل ہیں، اور سررابن ڈے جیسے بے مثل براڈ کاسٹر بھی، اس یونین کے معاملات میں خواتین کا کر دار بھی نمایاں رہا۔ پاکستان کا یہ اعزاز ہے کہ وطنِ عزیز میں دو بار منتخب ہونے والی وزیرِ اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید 1977ء میں آکسفورڈ یونین کی صدر رہی ہیں۔ محترمہ پہلی ایشین خاتون ہیں جنھیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔
بارھویں صدی کے اواخر تک آکسفورڈ میں طلبہ کی تعداد بے تحاشہ بڑھ چکی تھی۔ مقامی لوگ اُنھیں اپنی معیشت پر بوجھ سمجھنے لگے۔ اس طرح با ر ہا مقامی لوگوں اور طلبہ میں تصادم ہوئے۔ نوبت قتل و غارت تک پہنچی تو بیشتر طلبہ کیمبرج کی طرف کوچ کر گئے۔ اس طرح کیمبرج یونی ورسٹی کا آغاز ہوا۔
16ویں صدی کے نصف آخر میں الزبتھ اول کا دور شروع ہوا تو اس نے آکسفورڈ کے نظریات کو بادشاہت کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے بہ یک وقت تیس سکالرز کو قتل کرا دیا۔ جن میں سینٹ جانز کالج کے انتہائی محترم پرنسپل ایڈمنڈ کیمپلٹن کا نام بھی شامل ہے۔
آکسفورڈ کے عظیم طلبہ مقامی لوگوں کے تشدد، مذہبی کوتاہ اندیشوں کے تعصب اور بادشاہت کے ہوس پرستوں کی شقاوت برداشت کرتے رہے مگر جذبۂ حصول علم سے دامن کش نہ ہوئے۔ بالآخر جیت ان ہی مستقل مزاج طلبہ کی ہوئی۔ الزبتھ کو اپنے کیے پر ندامت کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ دوسری اور آخری بار 1592ء میں آکسفورڈ پہنچی۔ لیکچر دیا۔ طلبہ کی تعریف کی۔ اپنے کیے پر اظہار ندامت کیا۔ معافی کی خواست گار ہوئی اور وقت رخصت طلبہ کو یوں دعا دی۔
Farewell , Farewell, Dear Oxford, God Bless Thee and Increase Thy Sons In Number, Holyness and Virtues.
کرائسٹ چرچ کالج:۔
آکسفورڈ کے ڈیڑھ سو سے زائد کالجز میں سے محض چند کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان تمام اداروں میں کرائسٹ چرچ کالج کو اس لحاظ سے خصوصی اہمیت حاصل ہے کہ یہ عین اس جگہ پہ قائم کیا گیا ہے۔ جہاں آٹھویں صدی میں صوفیہ فرائڈزوائیڈکے لیے اولین تریبت گاہ قائم کی گئی تھی۔ اس لحاظ سے کرائسٹ چرچ کیتھیڈرل کالج کو ہم آکسفورڈ کی قدیم ترین درس گاہ کہہ سکتے ہیں۔ حالانکہ اس کی بنیاد کارڈینل کالج کے نام سے 1525ء میں رکھی گئی۔ یہ ہنری ہشتم کا دورِ حکومت تھا۔ ہنری کے مشیرِ خاص تھا مس وولے نے یہ ادارہ بنایا۔ جو خود میگڈالن کالج کا فارغ التحصیل تھا۔ 1529ء میں وولے محلاتی سازشوں کا شکار ہو کر بادشاہ کی نظروں سے گر گیا۔ اور اسی سال اس کی موت واقع ہو گئی۔ قصہ گو بتاتے ہیں کہ ہنری ہشتم تھامس وولے سے اپنی دو بیویوں کے قتل کا فتویٰ لینے کا متقاضی تھا۔ کیوں کہ وولے آرچ بشپ کا عہدہ بھی رکھتا تھا۔ ہنری نے فتویٰ نہ پا چکنے کے باوجود اپنی دونوں بیویوں کو تیسری بیوی کے کہنے پر قتل کرا دیا۔ ہنری چوں کہ علم دوست آدمی تھا۔
اس لیے اس نے ایک مدت بعد 1546ء میں تھامس وولے کے مرحوم ادارے کو کرائسٹ چرچ کا نام دے کر دوبارہ زندہ کیا۔ ان زمانوں سے آج تک بلاشبہ اس کالج کو آکسفورڈ کا اعلیٰ ترین ادارہ جانا جاتا ہے۔ وطنِ عزیز کے شہید وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی عظیم شخصیت کی تعمیر میں اسی ادارے کا ہاتھ ہے جس اظہار شہید بھٹو کی بیشتر تحریروں سے ملتا ہے۔
کرائسٹ چرچ کا ادارہ برطانوی مزاج کا مکمل عکس ہے۔ یہاں بولی جانے والی انگلش کو سند کا درجہ حاصل ہے۔ کرائسٹ کیتھیڈرل کی عمارت قدیم برطانوی طرزِ تعمیر کا مکمل نمونہ ہے۔ کالج کی آرٹ گیلری سیاحوں کے لیے خاص کشش کی حامل ہے۔ جس میں تقریباً 300تصاویر اور دو ہزار سے زائد ایسی نایاب پینٹنگز ہیں۔پینٹنگز میں لیو نارڈو، مائیکل اینجلو، رافیل اور رابنز جیسے مشاہیر کے شاہ کار شامل ہیں۔ ادارے کی ایک اورقابلِ دید جگہ اس کا وسیع و عریض ڈائننگ ہال ہے۔ جہاں بہ یک وقت 4سو طلبہ کھانا کھا سکتے ہیں۔ گو تھک طرزِ تعمیر کے اس ہال آئرش لکڑی کی بنی ہیں۔کھڑکیوں پر شیشے کا کام نہایت دیدہ زیب ہے۔ ہال کی لمبائی کے دونوں اطراف کھڑکیوں کے اوپر ادارے کے ان سابقہ طلبہ کی ہاتھ سے بنی تصاویر ہیں جنھوں نے اپنے اپنے زمانوں میں نام کمایا۔ ان میں وزراء اعظم بھی ہیں۔ سائنس دان بھی، بین الاقوامی سفارت کار بھی اور وہ بادشاہانِ وقت بھی جن کے دست ہنر نے ادارے کی مشاطگی میں حصہ ڈالا۔
آکسفورڈ کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسے سائیکلوں کا شہر CITY OF BICYCLESکہا جاتا ہے۔ برطانیہ کے عام شہروں میں جس طرح کار پارک ملتے ہیں یہاں سائیکل پارک ہیں۔ مضافات سے آنے والے طلبہ اور شہر میں خریداری کی غرض سے آنے والے اقامتی طلبہ سائیکل استعمال کرتے ہیں۔ سائیکلوں کی بہتات اتنی ہے کہ پارکنگ سے ہٹ کر سٹریٹ لائیٹس کے کھمبوں سے بھی درجنوں سائیکل بندھے ہوتے ہیں۔ طلبہ کے علاوہ بھی دیگر لوگ جو شہر میں کارہائے متفرقہ کے لیے آتے ہیں۔سائیکل ہی استعمال کرتے ہیں۔ سائیکل کے پیچھے فلسفہ یہ ہے کہ لمبی قمیتی گاڑیوں کی نمائش طلبہ کو احساس کم تری میں نہ مبتلا کر دے۔ ایک زمانے میں طلبہ اور مقامیوں کے درمیان کش مکش اور تصادم کو روکنے کے لیے طلبہ کی یونی فارم یعنی گاون پر انتظامیہ نے پابندی عائد کر دی کہ ٹاون اور گاون کے درمیان عام تخصیص نظر نہ آ سکے۔ پھر انتظامیہ نے طلبہ کی محدود پہچان کی خاطر ایک نئی اہم اختراع کی کہ طلبہ کے سر کے عین بیچ میں سے گولائی میں بال تراش دیے گئے جنھیں فیلٹ ہیٹ چھپائے رکھتا۔ البتہ اداروں کے اندر پہچان کے لیے ایک نشانی ہوتا۔ گویا یہ ایک چھپی یونی فارم قرار دی گئی۔ دوسرا قدم یہ اٹھایا گیا کہ ٹاون اور گاون کے فوج داری تنازعات کی سماعت کے حتمی اختیارات یونی ورسٹی کے ریکٹر کو دے دیے گئے۔ اس طرح مقامی تعصب اور تشدد کی لہر کا خاتمہ ہوا۔مسافر کے سامنے وطنِ عزیز میں پھیلی تشدد کی لہر نمایاں ہو جاتی ہے۔ وہ سوچتا ہے۔ اے کاش!وطنِ عزیز میں بھی کسی صاحبِ اختیار کو یہ توفیق ہو کہ وہ تشدد کی اِس لہر کے خاتمے کے لیے کسی علمی درس گاہ کی محترم شخصیت کے مجاز اختیارات دے دے شاید کوئی اہلِ علم ہے منظرِ نو تخلیق کر سکے۔ ایسا منظر جس کی تخلیق میں اہل سیف ناکام ہو چکے ہیں۔

ہولی کی ایک شام

باہر بارش کی مسلسل رم جھم نے سماں باندھ رکھا تھا۔ یہ بارشیں تو انگلستان میں قدم رکھنے کے روز اول سے مسافر کا مقدر بنی ہوئی تھیں۔ اب تو ان کی عادت سی ہو گئی تھی۔ بریڈ فورڈ سے ہول شہر تک تمام راستہ بارش نے ساتھ دیا اور اب بھی شاید باہر ہماری ہی منتظر تھی۔ مگر اندر کا ماحول بارش کی شدت سے بے نیاز تھا۔ یہ ایک بڑا ہال ہے۔ جس میں سو کے لگ بھگ غریب الدیار با ذوق لوگوں کا مجمع ہے وطنِ عزیز کے معروف گلوکار جناب خلیل حیدر اپنی تمام تر زندہ دلانہ مسکراہٹیں چہرے پر سجائے فن کا مظاہر کرتے ہیں۔ خلیل حیدر کو بارہا ٹی وی سکرین پر دیکھا تھا۔ مگر آج جب ملاقات ہوئی تو اس خوب صورت نوجوان کو اپنے اندازوں سے بڑھ کر پایا۔ شہرت ایسی نامراد شے ہے کہ بڑے بڑوں کو جامے سے باہر کر دیتی ہے۔ شُخّ نفس میں مبتلا کر دیتی ہے۔ مگر مجال جو اس جوان رعنا پر ذرا بھی اثر ڈالا ہو۔ محفل میں گھل مل کر گفت گو کرنا۔ انداز ایسا والہانہ کہ ہر فرد کو گماں گذرے کہ اس کی محبت اسی کے لیے مخصوص ہے۔ چہرے کانور، کشادہ پیشانی، گلے کا رس اگر قدرت کا عطیہ ہے۔ تو لباس کا سلیقہ، والہانہ اندازِ گفت گو، لبوں پر ہمہ وقت مسکراہٹ، ہر ایک سے محبت کا اظہار یقیناً اس نوجوان کی اپنی ادا ہے۔
صبح برادرم طفیل خان نے دعوت دی کہ شام کو ہول میں مشاعرہ ہونا ہے۔ جہاں جانا ضروری ہے۔ سو مسافر بھی کچھ سننے سنانے کی نیت لیے دوستوں کے ہم راہ آ گیا۔ یہاں پہنچ کر کھلا کہ مشاعرہ نہیں محفل موسیقی کا اہتمام ہے۔ نعیم حیدر مہتمم ہیں۔’’نعیم حید ر ہمارے علاقہ چھچھ کے گاؤں شینکہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ گارڈن کالج راولپنڈی سے گریجویشن کر چکنے کے بعد پنجاب یونی ورسٹی سے ایم اے سیاسیات اور ایم اے تاریخ کی ڈگریاں لیں۔ پھر یہاں انگلستان میں سکونت اختیار کر لی۔ شعر و سخن سے لگاؤ زمانہ طالب علمی سے تھا مگر جب کاتبِ تقدیر نے دیارِ غیر میں لا پھینکا تو اپنوں سے، اپنی خاک سے اپنے وطن سے دوری کے احساس نے جذبۂ شاعری کو تحریک دی اس طرح جذبات و احساسات خود بخود شاعری کا پیرہن اوڑھنے لگے۔ ریڈیو، ٹی، وی شوز میں شرکت کا موقع ملا تو ادب شناسوں نے وہ پذیرائی دی کہ آگے بڑھنے کا حوصلہ ملا۔ انڈیا پاکستان کے نامی گرامی گلو کاروں نے میری دھرتی کے اس فرزند کے کلام کو سر سنگت اور گلے کا رس دیا تو کئی البم سامنے آئے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر چلے اور لاکھوں شائقینِ فن سے داد لی۔ پہلا میوزک البم آج کی شمع محفل جناب خلیل حیدر کے ساتھ تمہارا پیار، کے نام سے سامنے آیا۔ دوسرا البم ’’حسیں راتیں، کے نام سے مکمل ہوا۔ جس میں بھارت کے شہرۂ آفاق گلوکار السکایا گنک اور برطانیہ کے گلوکار راجہ کاشف نے اپنی آوازوں کا جادو جگایا۔ خود صاحب کلام کی اپنی آواز میں حمدو نعت کا البم ’’النور‘‘ کے نام سے ریلیز ہوا۔ جسے مذہبی حلقوں میں بطور خاص پذیرائی ملی۔ حال ہی میں دو مزید البم سامنے آئے ہیں۔ خلیل حیدر کے ساتھ ’’تم سے مل کر ‘‘دوسرا البم ’’وفا ہم کریں گے ‘‘، جس میں غلام علی، ترنم ناز، حمیرا چنا، انور رفیع، غلام عباس اور انڈین گلو کار گل فام نے نعیم کے کلام کو گلو کاری کا آہنگ دیا۔ نعیم گیت نگاری کے علاوہ چھوٹی بحر میں غزل لکھتے ہیں۔ جو کہ سہل ممتنع کا کامل نمونہ ہوتی ہے۔

جہاں کی رنجشوں کے درمیاں ہوں
دیا ہوں آندھیوں کے درمیاں ہوں
زندگی کو تو خواب میں دیکھا
خود کو ہم نے سراب میں دیکھا
اس ستم گر کی جب بھی یاد آئی
خود کو حید رؔ عذاب میں دیکھا
دل میں تمہارا پیار ہے ایسے
پائل میں جھنکار ہو جیسے
تجھے وہ وقت سہانا بھی یاد آئے گا
وہ ہم سے ملنا ملانا بھی یا د آئے گا
تم سے مل کر بھلی سی لگتی ہے
زندگی، زندگی سی لگتی ہے
رات ایک بجتا تھا۔ جب بریڈ فورڈ سے آنے والے دوستوں نے نعیم سے اجازت طلب کی۔ راستہ طویل تھا۔ بارش تیز تھی اور سَحَر دم سوائے مسافر کے سبھوں نے کار جہاں آغاز کرنا تھا۔ سو کارِ دل کو ختم کر، روانہ ہوتے ہیں۔ محفل رنگ و آہنگ ہنوز شبا ب پر تھی مگر ہائے رے انسان کی مجبوریاں۔ یہ فقط آج اس محفل کی بات نہیں۔ مسافر نے بارہا بھریا میلہ چھوڑ عزیز از جان یاروں کو جاتے دیکھا۔ اس سفر پر جہاں سے لوٹنا حرام ہے۔ یہ تو پھر ہول سے بریڈ فورڈ کا سفر ہے۔ بجا کہ زندگی وقت کی قید میں ہے۔ مگر آزادی کی جو چند سانسیں میسر آ چکی ہیں۔ کیا وہ کم غنیمت ہیں۔ نشاط کی گھڑیوں کو دوام ملا ہی کب ہے۔ جو ایک رات چھن جانے کا ماتم کیا جائے۔ ہاں ایک احساس ضرور ملا کہ اس مادّہ پرست سوسائٹی میں ابھی تک نعیم حیدر جیسے انمول موتی موجود ہیں۔ جو ارض یورپ کی ہمہ وقت مصروف زندگی سے چند لمحے چرا کر ارضِ وطن کے باسیوں کو اکٹھا کر لیتے ہیں۔ روح پر جم جانے والی مشقتوں کی گرد کو محفل نشاط سجا کر دھو ڈالتے ہیں۔ دیارِ غیر میں وطن کی فضا تخلیق کر لیتے ہیں۔ یہ سب کچھ تو ہے مگر سچ بات یہ ہے کہ مسافر کو ایک احساس ندامت بھی ہے کہ چھچھ دھرتی کا ایک ہنرور فرزند ایک اجنبی نام ہے۔ مگر اس میں شاید نعیم کا اپنا بھی قصور ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ دورِ حاضر میں پہچان کے لیے فن کی پختگی کی ضرورت نہیں ایک حلقۂ ستائش باہمی کی ضرورت ہے۔

ٹونی

سرخ وین گذشتہ چار دن سے مسلسل سفر میں تھی۔ راستے میں تین راتوں کا قیام ہوا۔ شاہ راہِ ریشم کا سفر تھا۔ شاہ راہِ ریشم جسے قراقرم ہائی وے K.K.Hبھی کہا جاتا ہے۔ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک عجوبہ ہے۔ پاک چائنا دوستی کی علامت یہ شاہ راہ ہے تو انسانی حوصلوں اور کاوشوں کا نتیجہ مگر لگتا یوں ہے جیسے اسے جنات نے تعمیر کیا ہو۔ پہلی رات کمیلا داسو میں ٹھیکی لی۔ خیمے گاڑے گئے۔ بستر بچھائے گئے۔ ڈنر کے بعد محفل موسیقی بر پا ہوئی۔ قہوہ کے دور چلنے لگے۔ رات دیر تک جنگل میں منگل کا سماں رہا۔ ایسے میں صبح کی نیند کی ایک لذت ہوتی ہے۔ نہ پیچھے کی فکر نہ آگے کی چنتا نہ وقت کی پابندی کا تردد۔ سو صبح دیر سے جاگے۔ کچھ دوست ناشتہ کرتے تھے۔ کچھ شیو بناتے اور کچھ گردو نواح کے پہاڑ چھانتے۔ مناظر فطرت سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ دوسری شب ہنزہ وادی کے صدر مقام کریم آباد میں قیام ہوا۔ تیسری رات پاک چائنا سَرحد کے ادھر پاکستان کے آخری سرحدی شہر سوست میں گذاری۔ 30جون کے دھلی دھلائی صبح سوست کے پہاڑوں کو چھوتی تھی۔ جب قافلہ خنجراب کے لیے روانہ ہوا۔
خنجراب سولہ ہزار فٹ کی بلندی پر پاک چائنا سَرحد ہے۔ جسے Roof of the worldکہا جاتا ہے۔ 30جون 1997 وہ تاریخی دن تھا۔ جب ہانگ کانگ کا جزیرہ پچاس سالہ برطانوی تسلط سے آزاد ہو رہا تھا۔ ادھر ہانگ کانگ میں جشن آزادی منایا جارہا تھا۔ جشن آزادی کی تقریب میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے سیّاح اور میڈیا کے نمائندے وہاں موجود تھے۔ چین کے شہرمیں سرکاری سطح پر تقریبات منعقد ہو رہی تھیں۔ اور پاک چائنا بارڈر سنسان پڑا تھا۔ مسافر ساتھیوں کے ہمراہ سرحدی زنجیر اٹھا کرایک کلو میٹر دور چائنا کی سرحدی چیک پوسٹ پر جا پہنچا۔ پوسٹ خالی پڑی تھی۔ اندر صوفوں پر بیٹھ کر دوستوں نے تصاویر بنائیں۔ مگر آج یہاں برطانیہ میں مکنگھمپیلیس میں تو کسی مسافر کسی سیاح کو جانے کی اجازت نہیں۔ وہ تیس 30جون1997 تھی۔ آج 27جون 2007 ہے۔ آج صرف ٹونی بلیئر نے اندر جانا ہے۔ ملکہ نے اپنا پورا شاہی لباس پہننا ہے۔ تخت شاہی پر رونق افروز ہونا ہے۔ ٹونی نے اپنا استعفیٰ پیش کرنا ہے۔ ابھی اس کی لیبر پارٹی کی میعاد باقی ہے۔ مگر پارٹی کے بڑوں کی رائے ہے کہ ٹونی مزید کچھ عرصہ وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہا تو پارٹی کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔ اسے استعفیٰ دینے کا حکم دیا جاتا ہے۔ سو وہ ملکہ محل میں موجود ہے۔ وہ استعفیٰ کا کاغذ نکالے گا۔ ملکہ عالیہ کو پیش کر نے سے پہلے کچھ رسمی جملے ادا کرے گا۔ کاغذ پیش کرے گا۔ جسے ملکۂ عالیہ کی پشت پر کھڑا چوب دار پکڑ لے گا۔ وہ الوداعی سلام کہے گا۔ملکہ لبوں پر مسکراہٹ سجائے سر کی خفیف جنبش سے جواب دے گی۔ ٹونی باہر چلا جائے گا۔ اس کے بعد گورڈن براون نے آنا ہے۔ یہ سب تو ملکہ محل کے اندر کے شنیدہ مناظر ہیں۔ کیوں کہ میڈیا کے کیمرے ملکہ محل کے اندر نہیں
جھانک سکتے۔ مسافر تو کئی کیمروں کے توسط سے ٹونی کو ملکہ محل تک آتے دیکھتا ہے۔ وہ سیاہ رنگ کی سرکاری گاڑی پر آتا ہے۔ شوفر دروازہ کھولتا ہے۔ تو وہ بریف کیس تھامے تیز قدموں چلتا محل میں داخل ہو تا ہے۔ کچھ ہی دیر بعد باہر نکلتا ہے۔ شوفر گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولتا ہے۔ دنیا جہان کے میڈیا کے کیمرے اس پر آنکھ جمائے ہیں۔ سب سوچتے ہیں کہ اب وہ گاڑی میں بیٹھے گا۔ مگر وہ نہیں بیٹھتا۔ گاڑی کے قریب پہنچ کر دائیں گھٹنے کی ضرب سے کھلا دروازہ بند کر تا ہے۔ ڈرائیور سے مختصر مکالمہ کرتا ہے۔ بریف کیس جھلاتا تیز قدموں چلتا ملکہ محل کے باہر بس سٹاپ پر پہنچتا ہے۔ ہاتھ کے اشارے سے بلیک کیب روکتا پچھلی سیٹ پر بیٹھتا ہے۔ اور چل دیتا ہے۔ مسافر کو تجسس ہے کہ اس نے ڈرائیور سے کیا مکالمہ کیا ہے۔ کیمروں نے ہلتے ہونٹوں کو دکھایا تھا۔ آوازوں کو گرفتار نہ کر پائے تھے۔ دوسرے روز اخباروں میں مکالمہ چھپتا ہے۔ دڑائیور نے اسے سرکاری گاڑی میں بیٹھنے کو کہا تھا تو اس نے جواباً کہا کہ چو ں کہ اب وہ وزیرِ اعظم نہیں لہٰذا اسے حق نہیں پہنچتا کہ وہ سرکاری گاڑی استعمال کرے۔ وہی اداوہی منظر جو زندہ قوموں کی شان ہے۔ وہ بھی ایک قوم تھی۔ زندہ قوم۔ جس کا سربراہ شب کی تاریکی میں دیار وشن کیے امورِ سلطنت کے کاغذ دیکھتا تھا۔ کہ ایک ذاتی دوست مخل ہوا۔ کوئی ذاتی بات کرنا چاہی تو اس رجل رشید نے پھونک مار کر دیا بجھا دیا اور کہنے لگا۔ ’’اب بات کرو‘‘۔ دوست نے دیا بجھا نے کا سبب دریافت کیا تو فرمایا۔’’دیے میں سرکاری تیل جلتا تھا۔ وہ تیل جو قوم کی امانت ہے۔ تم میرے ذاتی دوست ہو۔ قوم کی امانت پر نہ تمہار احق بنتا ہے اور نہ میرا۔ اگر دیا جلتا رہتا تو تاریخ مجھے خائن لکھتی۔ بے شک نیتیں درست ہوں تو دلوں میں حب جاہ کی بجائے خوف خدا
جگہ پاتا ہے۔ فطرت مہربان ہوتی ہے۔ عمر بن عبد العزیز ؒ جیسے کر دار پیدا ہوتے ہیں۔ قومیں بنتی ہیں۔ قومیں امانت کی سزاوار ٹھہرتی ہیں۔ اور جب نیتوں میں کھوٹ آ جائے تو فطرت کی چشمِ عنایت رخ بدل دیتی ہے۔ رجال رشید کو جنم دینے والی مائیں بانجھ ہو جاتی ہیں۔ دماغوں میں حب جاہ، ہوس زر، صفت خو د نمائی، خود نگری جگہ پا لیتی ہے۔ آئینۂ دل دھندلا جاتا ہے۔ خوفِ خدا عنقا ہو جاتا ہے۔ زبانیں حرف حق سے نا آشنا ہو جاتی ہیں۔ ہل من مزید کی صدائیں سماعتوں کو کچھ اور سننے سے عاری کر دیتی ہیں۔ انسانیت معدوم ہو جاتی ہے۔ انسانوں کے ریوڑ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ بھیڑوں کے ریوڑ، دنبوں کے ریوڑ، گایوں کے ریوڑ پھر قربانیوں کا دور شروع ہو تا ہے۔ مکافات عمل کا آغاز ہوتا ہے۔ اور پھر شاید ڈراپ سین۔۔۔۔۔

کیمپنگ

کچھ لوگوں کو قدرت کی طرف سے ایسے صبیح چہرے عطا ہوتے ہیں کہ وقت کی گرد بھی ان کی صباحتیں نہیں دھند لا سکتی۔ عزیزم مسعود بھی ایک ایسی ہی امتیازی شخصیت رکھتا ہے۔ برسوں پہلے دورانِ طالب علمی جیسا تھا اب بھی ویسا ہی ہے۔ ایک خوب صورت دوست، شفیق باپ، وفا شعار شوہر اہل وطن سے پیار کرنے والا نوجوان جس نے وقت کی باگوں پر یوں گرفت کر رکھی ہے کہ اسے تھام لیا ہو۔ مسعود روز اول سے راشڈیل آنے کی مشروط دعوت دے رہا تھا۔ پورا دن اس کے ساتھ گذاریں۔ ساحل سمندر کو آبا د کریں۔ دوستوں کا، شاگردوں کا جمگھٹا ہو گا اور وطن کی پرانی یادیں تازہ کریں گے۔ مسافر کی خواہش بھی تھی مگر اے کاش کہ انسانی خواہشیں کبھی بہ کمال و تمام پوری ہو سکیں۔
محرمانِ راز ہائے فطرت کا عقیدہ ہے کہ انسان کی کوئی دعا، کوئی خواہش تشنہ نہیں رہتی۔ البتہ وقت اور نوعیت پر فطرتِ کا ملہ کا اختیار کلی ہے۔ بات بھی سو فی صد سچ ہے۔ مسافر بارہا ان کیفیات، ان تجربات کو برت چکا ہے۔ دوستوں کی محفل، مناظر فطرت سے قربت اور شہری ہنگاموں سے دوری کی لذت کچھ وہی جانتے ہیں جو ان کیفیات سے گذر چکے ہوں۔ جن کے سروں میں سودا سمایا ہو۔ مسافر کی اس خواہش کی تکمیل یوں ہوئی کہ برمنگھم میں عزیز ان وحید، شکیل نے مسافر کو دو چار روز کے لیے گھر بلانے پر اصرار کیا تو مسافر نے شرط رکھی کہ دو روز کسی دور دراز علاقے میں کیمپنگ کی جائے۔ شرط قبول ہوئی اور اس طرح کیمپنگ نائیٹ کا بندوبست ہوا۔ کیمپنگ سائیٹ ویلز کے دیہاتی علاقہ میں طے ہوئی۔ وحید، شکیل، ملک وحید، عابد شاہ صاحب، ہم راہ تھے۔ راستے میں شیراز خان، ریاض خان، چودھری نذیر، اور رفاقت کو ریڈچ سے لیا۔ ٹینٹ رکھے گئے۔ کھانے پینے کا سامان خریدا گیا۔ برتن، گیس کے چولھوں اور لیمپوں کا بندوبست کیا گیا اور قافلہ روانہ ہوا۔ قبل ازیں عزیزم وحید اس قسم کے معرکے سر کر چکے تھے۔سو ویلز کو چل نکلے۔ ویلز بادشاہوں کی جگہ ہے جسے قدرت نے حسنِ فطرت بخشنے میں انتہائی فیاضی برتی ہے۔ موسم اس لحاظ سے بہتر تھا کہ بارش نہیں ہو رہی تھی۔ البتہ بادل گہرے تھے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتے تھے۔ آدھا دن سفر کے بعد سرِ شام کیمپنگ سائیٹ پر پہنچے۔ یہ ایک ویران پہاڑی علاقہ تھا۔ جہاں مختلف لوگوں کے بھیڑوں کے ذاتی فارم تھے۔ عزیزم وحید نے جو سائیٹ منتخب کی وہ ایک بوڑھی ویلشن کی ملکیت تھی۔ داخلی دروازے پر پلاسٹک کا ڈبہ لٹکا تھا جس پر لکھا تھا کہ کیمپنگ کرنے والے چیریٹی کے لیے ڈبے میں حسبِ مقدور سکے ڈال دیں اجر ملے گا۔ نیز جاتے وقت سائیٹ کی صفائی کر کے جانا شب باشوں کی ذمہ داری ہے اور امید کی جاتی ہے کہ شریف لوگ اپنی ذمہ داریاں نبھانا جانتے ہیں۔ خیمے گاڑے گئے۔ چولھے جلائے گئے اور طعام کا بندوبست ہونے لگا۔ تو چودھری نذیر نے مسافر اور ریاض خان کو ساتھ لیا اور سڑک کنارے اس بستی کا رخ کیا جو کیمپنگ سائیٹ سے نزدیک ترین ہونے کے باوجود تقریباً چار میل دور تھی۔ رات دیر تک بستی کے اکلوتے کلب میں نشست ہوئی۔ کیمپ میں پہنچے ڈنر آغاز ہوا تو باہر بارش زوروں پر تھی۔ ڈنر کے بعد قہوہ کے دور چلنا شروع ہوئے۔ ایسے حسین مواقع پر شاعری اور موسیقی کا دور چلنا چو ں کہ لازمی ہے۔ سو کچی کچی موسیقی اور سچی سچی شاعری سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ خدا جانے رات کس وقت نیند نے آلیا۔ صبح صادق پھوٹتی تھی کہ کچھ نا قابل فہم آوازوں نے مسافر کو جگایا۔ احباب سبھی گھوڑے بیچ سوتے تھے۔ خیمے سے باہر نکل کر دیکھا تو ٹرک کھڑا تھا۔ قصاب بھیڑیں اکٹھا کر کے ٹرک میں لادتے تھے۔ کتا دوڑتا ارد گرد کے پہاڑی ٹیلوں سے بھیڑوں کو ہانک لاتا۔ قصاب ان کی پیٹھوں پر مخصوص نشان دیکھ ٹرک میں ڈال دیتے۔ جو نشان سے محروم ہوتیں اُنھیں چھوڑ دیتے۔ شاید اُنھوں نے ابھی اس عالمِ رنگ و بو کی کچھ اور بہاریں دیکھنا تھیں مگر تابہ کے ؟ با لآخر قصاب نے آنا تو تھا۔ آج نہیں کل۔ رات کو تین خیمے گاڑے گئے تھے۔ مگر سونے والوں نے ایک ہی خیمے کو مناسب جان کررات گذاری۔ بارش ہنوز برستی تھی جب مسافر نے دُخانی خیموں کو لپیٹ کرباندھ دیا اور اب اس بارش میں مزید قیام نا ممکن تھا۔ ایک ایک کر کے ساتھی جاگتے رہے۔ ناشتہ کا سامان ہوا اور واپسی سفر آغاز ہوا۔ مگرواپسی سے پہلے سائیٹ کی صفائی کی گئی۔ بچا کھچا استعمال شدہ، سامان، دودھ کے خالی پیکٹ، ہڈیاں، راکھ اور دیگر اَلَّم غلّم باقیات بڑے تھیلے میں ڈال گاڑی میں رکھے گئے۔ داخلی دروازے پر لٹکے ڈبے میں حسبِ مقدور سکے ڈالے گئے۔ یہاں پہلے سے بھی بیسیوں سکے پڑے تھے۔ بہر حال مسافروں نے اپنا حصہ ڈالا اور واپس چلے۔ اس کیمپنگ نے مسافر کو بہت سے یادیں تازہ کر دیں۔ مری کی کیمپنگ، داسو کمیلا، ہنزہ کریم آباد، دیو سائی بابوسر کیلاش۔۔۔۔اور نہ جانے کہاں کہاں کی کیمپنگ کرتا تھا۔ایک بار مسافر کالج سٹوڈنٹس کے ساتھ ناران بازار کے آخری سرے پر پی ٹی ڈی سی ہوٹل کے قریب کنہار کے کنارے کیمپنگ کرتا تھا۔ اس وقت بھی بارش کی رم جھم جاری تھی اور وہ گذشتہ تین دن سے جاری تھی، راستے سبھی بند ہو چکے تھے۔ سرِ شام مسافر جھیل سیف الملوک سے آنے والے پانیوں کے کنارے ایک حجام کے کھوکھے پر بیٹھا پانچ روز پرانا اخبار دیکھتا ہے۔ حجام سے پوچھتا ہے گرم پانی کا بندوبست ہے ؟ تو وہ مثبت جواب دیتا ہے۔ مسافر ارادہ باندھتا ہے کہ صبح یہاں آ کر غسل کرے گا۔رات کو غضب کی بارش ہوئی۔ صبح مسافر تو لیہ سر پر ڈالے مسواک چباتے نہانے کی غرض سے اس مقام پر آتا ہے تو نہ کھوکھا ہے نہ حجام قریبی ہوٹل والے سے پوچھتا ہے تو وہ شانِ بے نیازی سے جواب دیتا ہے کہ رات کسی وقت اوپر سے زور کا پانی آیا۔ کھوکھا بہا لے گیا۔ ’’اور حجام؟ ‘‘ مسافر پوچھتا ہے۔’’شاید وہ بھی ساتھ ہی گیا۔ وہ کھوکھے ہی میں سوتا تھا۔اگر بچ گیا ہوتا تو یہیں کہیں ہوتا۔ ‘‘

کنواری ماں کی کنواری بیٹی

داستان مدتوں پہلے کی ہے۔ ان دنوں یورپ میں بے تحاشہ برف باری ہوتی تھی۔ لوگ باگ چھ چھ مہینے گھروں میں بند رہتے۔ ڈھور ڈنگروں کی چراگاہیں برف تلے دب جاتیں۔ کتے مرنا شروع ہو جاتے۔ برفانی ریچھ گھروں میں جھانکتے کہ شاید کوئی لقمہ خوراک میسر آئے۔ راستے بند ہوتے تو ذرائع آمدو رفت ختم ہو جاتے۔ ایک بستی کی خبر دوسری بستی تک پہنچتے مہینوں لگ جاتے۔ وہ ایسی ہی ایک برفانی رات تھی۔ اور وہ باکرہ گھر میں اکیلی تھی۔کام اس کا شیکسپئر کے باپ کی طرح اون چھال اور کھال کے دستانے بننا اور گھر کی بیرونی کھڑکی جو سیلز کاونٹر کا کام دیتی پر رکھ کر بیچنا تھا۔ وہ ہمیشہ سے اکیلی تھی۔ ماں باپ برسوں پہلے مر چکے تھے۔ کوئی دور قریب کا رشتہ دار تھا نہیں۔ جو دست گیری، خبر گیری کرتا۔ رات کمر تک پہنچ چکی تھی اور وہ کام میں مگن تھی۔ کہ صبح سویرے کوئی نہ کوئی گاہک آ جانا تھا۔ اور اس کے گاہک بھی کون تھے۔ وہ لکڑہارے جو قریبی پہاڑیوں سے لکڑی کاٹ لاتے تاکہ جسم و روح کا رشتہ برقرار رکھ سکیں۔ ٹھٹھرے بدنوں کو حرارتیں مہیا کر سکیں پا پھر وہ چروا ہے جو دور دراز کی چراگاہوں پر جمی برفیں کھود کر جانوروں کا رزق تلاشتے۔ تیسری قسم کے گاہک وہ ارل بیرن اور نائیٹ تھے جو دوسروں کی مشقتیں چرا کر نشاط کی محفلیں سجاتے اور جن کی اپنی واحد مشقت گا ہے ڈوئل کھیلنا ہوتا۔ وہ اس باکرہ سے گھوڑوں کے پالان بھی بنوا لیا کرتے اور اس طرح اس کی گذر اوقات اچھی خاصی ہو جاتی۔ وہ آنکھوں میں مستقبل کے خواب سجائے مسلسل کام میں مگن رہتی کہ کبھی کوئی ایسا مسافر اس کے دروازے پر دستک دے گا جو اسے من کی ملکہ کے اعزاز سے نوازے گا۔ آنگن سجے گا۔ ڈولی اٹھے گی۔ پیا گھر آنگن میں ننھے فرشتے کھیلا کریں گے۔ تاروں پر ننھے منے رنگا رنگ فراک چولیں لٹکیں گی۔ مگر :
یوں نہ تھا’’ اس نے ‘‘ فقط چاہا تھا یوں ہو جائے
اچانک بیرونی دروازے پر دستک ہو تی تو اس نے جانا کوئی ضرورت مند مسافر ہو گا۔ برفانی طوفان میں پناہ کی تلاش میں ہو گا۔ مگر وہ نہ جانتی تھی کہ آج اس کی خوفناک ترین رات ہو گی۔ اس کی زندگی پر ایسے انمٹ نقوش چھوڑ جانے والی رات جو صدیوں تک نہ مٹ پائیں گے۔ وہ مسافر اور اس کے گھوڑے کو پناہ دیتی ہے۔ ہر دو کو خوراک مہیا کرتی ہے۔ ایک جانور خوراک کی حرارت سے آسودہ ہواور نتھنوں کی خرخراہٹ سے محسنہ کا شکریہ ادا کیا۔دوسرے جانور کی خوراک کی حرارت سے شہوت مہمیز ہوئی تو اکیلی باکرہ کے دامنِ عصمت کو تار تار کرنے کا ارادہ کیا۔ باکرہ نے اللہ کے واسطے دیے۔ اس جانور کو اشرف المخلوقات ہونے کا احساس دلایا۔ اپنی بے بسی کا رونا رویا۔ مگر حضرتِ انسان جب حیوانیت پر اتر آئے تو شیطان کو شرمندہ کر دیتا ہے۔ سو اس نے وہی کچھ کیا جو کرہ ارضی پر موجود کسی بھی ذی نفس کو اپنے محسن کے ساتھ کرنے کا حوصلہ نہ ہو۔ مر د تھا۔ قوت مردانگی نے ضعف نسوانیت سے خوب خوب فائدہ اٹھایا۔ زرخیز بستی پر آب حیات کا پہلا قطرہ برسا تو ایک ننھی سی کونپل کا بیج پڑا۔ ایک حیات مٹتی تھی کہ دوسری کا آغاز ہوا۔ رات گذری۔ صبح دم کنواری نے بستی میں اپنی متاع عزیز لٹنے کی دہائی دی۔ اوّل اوّل تو اہلِ بستی نے کھُرا نکالنے کی سعی کی مگر جب کھوجیوں نے پہاڑ کے دامن تک رسائی حاصل کی تو پہاڑ کی چوٹی پر بنے قلعہ نما محل کو دیکھ سب کی نظریں دھندلا گئیں اور کھرا گم ہو گیا۔ اب کنواری کی باری تھی۔ اہلِ کلیسا اور روسائے بستی نے ایکا کیا ان دنوں قانونِ خداوندی کم زور اور قانونِ کلیسا طاقت ور تھا۔ کنواری اخلاقی حدود سے تجاوز کی مرتکب قرار پائی۔ بستی بدری کی سزا مقرر ہوئی۔ اہلِ بستی پیرانِ کلیسا کی سربراہی میں اسے درندوں سے بھر ے جنگل میں چھوڑ آئے۔ کنواری تو خود زندگی سے چھٹکارے کی خواہاں تھی۔ مگر قطرۂ آب حیات کے زبردستی ڈالے گئے بیج نے جگہ پالی تھی۔ اسے اپنی زندگی کی خواہش تو قطعاً نہ تھی پر ایک آنے والی زندگی کی حفاظت کا احساس جینے پر مجبور کرتا تھا۔ درندوں بھرے جنگل میں ایک قدرتی غار اس کا مسکن بنا۔ جہاں کچھ مدت بعد بجھتے چراغ کی لو سے ایک چراغِ نو جل اٹھا۔
قصہ گو بتاتے ہیں کہ جس روز کنواری کو بستی بدر کیا گیا عین اسی روز بستی کی پہاڑی پر محل کے مالک نواب صاحب ایسے غائب ہوئے کہ باوجود کوششِ بسیا ر کوئی سراغ نہ ملا۔ کچی برفیں پختہ شکل اختیار کر چکی تھیں۔ موسمِ سرما آخری سانسیں لیتا تھا۔ آفتابِ عالم تاب نے اپنی راہِ سفر بدلی تو برفیں پگھلنا شروع ہوئیں۔ لوگ باگ کاموں پر نکلنے لگے۔ زمین کی سانسیں بحال ہوئیں۔ تو بستی کے قرب و جوار میں رزق کے متلاشی دور دراز کے سفر اختیار کرنے لگے۔ ایک روز اُنھی رہ نوردوں نے بریڈ فورڈ سے کوسوں دور ایک پہاڑ ی غار کے قریب برف میں دبا انسانی ڈھانچا دریافت کیا۔ چہرہ سلامت جب کہ باقی جسم جنگلی گیدڑوں کی خوراک بن چکا تھا۔ چہرے سے شناخت ہوئی اور یہ دریافت عین اُس روز ہوئی جب درندوں سے بھر ے جنگل کی غار میں کنواری ایک بچی کو جنم دیتی تھی۔ شاید ان زمانوں میں فطرت بھی سودا نقد کرتی تھی۔
ع اِس ہاتھ دے اُس ہاتھ لے
پیرانِ کلیسا نے درندے نواب کے پس ماندگان کے خوانِ نعمت پر بیٹھ کر تزک و احتشام سے سامانِ تدفین کیا۔ آج کوئی آنجہانی کی قبر کی نشان دہی کرنے سے قاصر ہے۔ کنواری کا چراغ زندگی گل ہو چکا تھا۔ بچی کی کفالت جنگلی درندوں نے اپنے ذمہ لے لی تھی۔ شیرنی معینہ اوقات میں آ کر دودھ پلاتی۔ بندر جنگلی شہد لاتے۔ بھیڑیئے گوشت شکار کر لاتے اور شپٹن کے سامنے ڈالتے۔خدا جانے اسے شپٹن کا نام کس نے دیا۔مگر نام اس کا یہی ٹھہرا۔ وہ بڑی ہوتی گئی۔ جنگل کی غار میں ایک سماں تھا۔ عین عالمِ شباب میں قدرت نے اسے مستقبل بینی کی صلاحیت عطا کی تو اہلِ بستی جوق در جوق حاضر ہونے لگے۔ مستقبل سے قبل از وقت آگا ہی کا تجسس انسان کی جبلت جو ٹھہرا۔ لوگ نذریں گذارتے۔ چڑھاوے چڑھاتے مجبور کرتے کہ بستی کا اعلیٰ سے اعلیٰ محل اس کا منتظر ہے۔ مگر اس نے تو اپنا مستقبل جنگلی درندوں سے وابستہ کر رکھا تھا۔ وہ انسانوں کے جنگل میں کب سانس لے سکتی تھی۔ پھر ایک روز وہ مر گئی اور مری بھی ایسی کہ مردہ جسم کا کوئی سراغ نہ ملا۔ قصہ گو بتاتے ہیں کہ وہ اوپر اٹھا لی گئی یا پھر جنگلی درندوں نے اس کے متبرک جسم کو انسان نما درندوں کی نظروں سے اوجھل کر دیا۔ آج اس کا مسکن جنگلی غار مرجعِ خلائق ہے۔ بریڈ فورڈ بستی پھیلتے پھیلتے اس غار کے نزدیک پہنچ چکی ہے۔ آج وہاں نہ وہ جنگل ہے نہ درندے مگر غار موجود ہے۔ مسافر اسی غار کے اندر کھڑا کہانی سنتا ہے۔ مسافر کی نظر کہانی کے انجام پر اور گائیڈ کی مسافر کی جیب پر۔ خیر چند پاونڈ کے عوض درندہ نما انسانوں اور جنگلی درندوں کا تقابل اور حاصل نتیجہ کوئی اتنا مہنگا سودا نہیں۔ غار کے اندر اور باہر درختوں پر رنگا رنگ دھاگے اور رنگ برنگے کپڑوں کی دھجیاں لٹکی ہیں۔ ٹوٹے پھوٹے کھلونوں کے ڈھیر ہیں۔ قریبی بن میں ٹافیوں کے ریپر، دودھ کے خالی پیکٹ اور زائرین کے آنسووں سے تر ٹشو پیپرز پڑے ہیں۔ لٹکے رنگین دھاگے، دھجیاں اور کھلونے وہ چڑھاوے ہیں جو زائرین عقیدت سے اور دعاؤں کی اجابت کے لیے چڑھاتے ہیں۔ بالکل لاہور میں گھوڑے شاہ کے مزار کی طرح جہاں کنواریاں اچھے مستقبل اور سہاگنیں اولاد کے حصول اور ساسوں سے چھٹکارے کے لیے مٹی کے ننھے منے گھوڑوں کے چڑھاوے چڑھاتی ہیں اور گھوڑوں کے ڈھیر مسافروں اور زائرین کے پاؤں تلے کچلے جاتے ہیں۔ واہ رے انسان!یورپ ہو یا ایشیا انسانی نفسیات بس ایک ہی ہے۔
مسافر حیرت زدہ ہے۔ زمین کی طنابیں کھنچ گئی ہیں۔ لاہور کے گھوڑے شاہ اور بریڈ فورڈ کی مدرشپٹن۔ درندوں کی بستیاں انسانوں کے جنگل۔ پیرانِ کلیسا کا انصاف اکیلی بے بس کنہیائیں، بیرن، لارڈ، نواب، انار کلی اور جہاں گیر، نور جہان، شیر افگن کر دار سب ایک نام الگ الگ۔ آخر فنا۔ دنیا عبرت سرائے۔ اللہ باقی۔
شاید مدر شپٹن کی دعاؤں ہی کا نتیجہ ہے۔ کہ آج انگلستان میں کلیسا کا منافقانہ انصاف پس پا ہو چکا ہے۔ آج کسی بھی کنواری ماں کا بچہ بے یار و مددگار نہیں۔ حکومت خود کفالت کرتی ہے۔ گناہ گار کے کرتوتوں کی سزا بے گناہ نو مولودوں کو نہیں ملتی۔ جب کہ وطنِ عزیز میں گناہ گار صاف بچ جاتے ہیں۔ اور بے گناہ معصوم نو مولودوں کا مقدر کوڑے کے ڈھیروں پر کتوں سے نچتے بدن ہوتے ہیں۔ ثنا خوان تقدیس مشرق خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ عزتِ سادات بچی اور خس کم جہاں پاک بل کہ یہاں تو ایک زمانے میں وہ منظر بھی دیکھے کہ کنواریاں معصوموں کے گود میں لیے پسِ دیوارِ زنداں تھیں اور اُن کے دامنِ عصمت کو تار تار کرنے والے سورمے معاشرے میں تلاشِ مزید میں سرگرداں۔ سنگ مقیّد و سگ آزاد

7-7-7

سچائی اور اچھائی کی تلاش انسانی فطرت ہے۔ فطرت کے چھپے رازوں سے قبل از وقت آگہی کا تجسس انسان کو بے چین رکھتا ہے تو وہ فطرت کے چھپے رازوں کو جاننے کے لیے مظاہر سے شگون لیتا ہے مگر اس کے طریقے مختلف قوموں کے پاس الگ الگ ہیں۔
چین کے قدیم اساطیری کر داروں کے پیروکار دیہاتی لوگ آج بھی لوہے کی نوکدار کُنجیوں کو زمین پر پھینک کر منزلوں کا تعین اور راہوں کا انتخاب کرتے، مشرقِ بعید کے باشندے جنگل بیلوں میں آتما کے دُکھوں کا علاج ڈھونڈتے، اہلِ ہند آنے والے بُرے بھلے وقت سے آگہی کے لیے ایّام کا تعین کرتے ہیں۔آغازِ سفر پر سامنے سے آنے والے انسانوں کی پیشانیوں سے شگون نکالتے ہیں۔ہمیشہ نیچے کی طرف دیکھتے ہیں۔زیرِ زمین بلوں میں چھپے سانپوں کو لائقِ پرستش جانتے ہیں، اوتار مانتے ہیں، دُودھ سے پرورش کرتے ہیں، نروان کی تلاش میں غاروں میں گھُس بیٹھتے ہیں، کھوہ میں اُلٹے لٹکتے ہیں۔گائے کے پیشاب، گوبر کو پوتّر جانتے ہیں۔
عرب کے صحرا نورد ہزاروں برس سے ہمیشہ اوپر نظر رکھتے چلے آئے ہیں۔ستاروں سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ آسمانوں سے مقدر جاننے میں کوشاں رہتے ہیں۔ عبادات و تفکر کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں کا رخ کرتے ہیں تو بے آب و گیاہ پہاڑی چوٹیوں کو کبھی طور کی حرمت حاصل ہوتی ہے۔ کبھی حرا کی بلندیوں سے وہ روشنی پھوٹ نکلتی ہے جو تا قیامت خدائے عظیم کی کائناتِ بسیط کو منور کر دے۔ آبا الانبیاء کو حقیقت کی تلاش کا تجسس ہوا تو سورج میں جھانکا۔ چاند پر نظر ڈالی ستاروں کو دیکھا اور با لآخر رسائی ہوئی تو خلیل اللہ کا منصب پایا۔ باپ کے ارتقائی سفر کی کیا اٹھان تھی کہ پہلا قدم ہی ستاروں پر پڑا۔ دست دعا بلند ہوا تو وہ فرزندِ عظیم عطا ہوا جس کے اشارۂ انگشت سے چاند دو ٹکڑے ہو گیا۔ دشمنوں نے خوف و تحریص کے جال ڈالے تو فرمایا ’’قسم ہے پیدا کرنے والے کی اگر تم میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے پر چاند رکھ دو تو بھی میرے پائے استقلال میں لغزش نہ دیکھ پاؤ گے۔‘‘کیا بلیغ استعارہ تھا کہ اہلِ عرب کی فصاحتیں گنگ ہو کر رہ گئیں۔
اہلِ یورپ شمسی تاریخوں سے شگون لیتے ہیں۔ 13کے ہندسے کو نحوست کی علامت سمجھا جاتا ہے اور 7کا ہندسہ خوش بختی کی علامت جانا جاتا ہے۔ 6جولائی کو جمعہ تھا اور مسافر سکتھورپ کے شہر میں اترا تھا۔ سکتھورپ برطانیہ کا ایک اتنا چھوٹا سا شہر ہے کہ ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے۔ دن بھر کی رم جھم کے بعد کہیں عصر کے قریب سورج نے جھلک دکھائی۔ شہر میں واقع اکا دکا کلیساؤں کے میناروں کو چوما۔ مغرب میں پھیلے میلوں وسیع کھیتوں پر چاندی نچھاور کی۔ رینالٹ کے شو روم کو چھوا تو ہزاروں کاروں کے شیشے جگمگ کر اُٹھے۔اب سورج چھپ رہا تھا۔ بارش سے بھیگے مغربی کھیتوں سے کہرے کا دھواں اٹھتا تھا۔ آہستہ خرام بھیڑیں باڑوں کا رخ کرتی تھیں اور شہر میں ویک اینڈ نائیٹ آغاز ہوتی تھی۔ پب کلب آباد ہوتے تھے۔ کالے سوٹوں میں ملبوس کالے مکہ باز کلبوں کے بیرونی دروازوں پر ڈیوٹیاں سنبھال چکے تھے۔ سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ مگر ایک نئی بات مسافر کی فہم سے باہر تھی۔ پہلے تو انگریز ملتے تو چھوٹتے ہی موسم پر برا بھلا تبصرہ کرتے۔ آج موسم کا ذکر نہیں۔ مبارک سلامت کا غل ہے۔ کا ہے کی مبارک سلامت؟ مسافر کو تجسس ہوا۔ استفسار کیا تو پتا چلا کہ آنے والی کل سات، سات، سات ہے۔ تین سات اکٹھے ہو ں گے۔ یعنی دو ہزار سات کی جولائی کی سات تاریخ، اور ایسا سال ہا سال بعد کبھی کبھار ہوتا ہے۔ سات کا ایک ہندسہ بھی خوش بختی کی علامت ہے جب کہ کل تو بہ یک وقت تین سات اکٹھے ہونا ہیں۔ کوئی بھی اخباری اشتہار، SMSٹیلی فون کی گھنٹی، کسی اجنبی سے ملاقات، کوئی ان ہونا واقعہ آپ کا مقدر بدل سکتا ہے۔ چوکنا رہیے گا۔ نپولین نے کہا تھا ’’ہر معرکے میں ایک نازک موقعہ(CRITICAL POINT)آتا ہے۔ میں اسی کی تلاش میں رہتا ہوں۔ اس سے فائدہ اٹھاتا ہوں۔ دشمن اسے اہمیت نہیں دیتا۔ میں جیت جاتا ہوں۔ دشمن ہارتا ہے۔ یہی میری فتح کا راز ہے۔ سو کل موقعہ کی تلاش میں رہیے گا۔ مسافر کا ہندسوں وغیرہ پر کبھی ایمان نہیں رہا سو وہ اس تمام فلسفے کو ایک کان سے سن دوسرے سے نکال دیتا ہے۔ وہ شبِ نشاط کی حلاوتیں سمیٹ، منا جاتِ سحر کا فریضہ ادا کر، اوس میں بھیگے کھیتوں کے کنارے دو میل کی دوڑ لگا، واپسی پر کافی کا کپ پی کر سو جاتا ہے۔ 7.7.7کا آغاز ہو چکا ہے۔نو بجتے ہوں گے کہ S.M.Sکی گھنٹی بجتی ہے۔ مسافر چونک کر جاگتا ہے آج 7.7.7ہے۔ شاید۔۔۔۔مگر۔۔۔۔نہیں۔ ہاتھ بڑھا ان بکس دیکھتا ہے۔ تو ایک منحوس ترین خبر تحریر ہے۔ وطن عزیز سے ادریس کا پیغام ہے۔ ’’افضل خان فوت ہو گئے ہیں۔‘‘آہ! خالد خان یتیم ہو گیا۔ وہ دو روز پہلے تک میرے ساتھ سکاٹ لینڈ میں تھا۔ ہم باتیں کرتے، افضل خان صاحب کی باتیں۔ اس شخص کی باتیں جو حضرو کی تاریخ میں فقط ایک مثالی انسان نہیں ایک کر دار تھا۔ دبنگ لہجے، بھاری تن و توش، خوب صورت چہرے اور خوب صورت ترین خصائل و کر دار والا مکمل انسان، جس نے عمر بھر دشمنوں کے ساتھ سلوک میں اعتدال کا دامن نہ چھوڑا اور دوستیوں میں کبھی اعتدال کو خاطر میں نہ لایا۔ معاشرے کے ہر طبقے میں یکساں عزت پائی۔ یہی عزت و وقاراس کی عمر بھر کی کمائی تھی۔ ریڑھی، تانگے والے طبقے کے افراد سے بڑے بڑے سیاسی اکابرین تک افضل خان کے دستر خوان کے خوشہ چین رہے۔ خان صاحب مسافر کے بزرگ دوست اور مسافر کے بزرگوں کے دوست تھے اور آج وہ نہیں ہیں۔ خان صاحب کی نمازِ جنازہ تیار تھی۔موجود لوگ بتاتے تھے کہ تا حدِّ نظر انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔ امام صاحب جنازہ سے پہلے کہانی سناتے تھے۔ ’’پچاس برس پہلے چھچھ کے جیّد عالم اور بے بدل متقی مولانا عبدالحق صاحب نے دینی مدرسے کے قیام کا ارادہ کیا۔ زمین کی تلاش کا مسئلہ پیدا ہوا۔ خان صاحب مرحوم رات کی تاریکی میں حضرت صاحب کے پاس حاضر ہوئے۔ پیش کش کی کہ زمین وہ دیں گے مگر ایک شرط ہے۔ پوچھا کیا؟ کہنے لگے جب تک میں زندہ ہوں کسی کو یہ نہیں بتانا کہ زمین کس نے دی ہے۔ ہاں میں مر جاؤں تو شرط ساقط ہو گی۔ یہ سودا آپ کے، میرے اور اللہ کے درمیان ہے۔ حضرت صاحب نے شرط منظور فرمائی۔ حضرت صاحب کا وصال ہوا تو اُنھوں نے وصیت میں بچوں کو کہانی سنائی اور تلقین کی کہ خان صاحب کی زندگی میں شرط کی پاس داری کرنا۔ جب وہ جا چکے ہوں تو مرضی کرنا آج چوں کہ خان صاحب سفرِ آخرت پر جا چکے ہیں۔ سو میں والد مرحوم کی وصیت اور خان صاحب مرحوم کی شرط سے شرکا کو آگاہ کرنا لازم سمجھتا ہوں۔‘‘یہ اس شخص کی داستانِ حیات کا ایک ورق تھا جو اس کے جا چکنے کے بعد منکشف ہوا۔ آج وہ نہیں ہیں۔ آج خالد خان وقت کی کڑی دھوپ میں بے سائبان ہے اور آج 7.7.7ہے۔ انگریز کے لیے تین گنا خوش بختی کی علامت مگر مسافر کا ہندسوں پر ایمان نہیں فقط ایک کے ہندسہ پر ایمان ہے۔ وہی حقیقت ہے۔ وہی بقا ہے۔ دوئی سب فنا۔ سب افسانہ ہے۔

LONDON NEVER SLEEPS

لندن کی گلیاں جھانکنے کی غرض سے شیخ مقصود صاحب نے گاڑی مع شوفر پیش کی۔ مگر مسافر نے معذرت کرتے ہوئے کیمرہ اٹھایا۔ نقشہ لیا اور چل دیا۔ ہائیڈ پارک کے عین سامنے سے انٹر نیشنل ٹورسٹ بس چلتی ہے۔ 22پاونڈ دن بھر کے لیے ہے۔ جہاں چاہو اترو۔ جب چاہو دوسری بس پر سوار ہو جاؤ۔ مگر بس اسی کمپنی کی ہو۔ بس میں دنیا جہان کی قومیتوں کے سیاحوں کی سنگت ایک دل کش تجربہ ہے۔ دو منزلہ بس کی اوپر والی منزل پر چھت نہیں، گائیڈ مسلسل بولتا ہے۔’’ خواتین وحضرات! یہ دائیں ہاتھ ہائیڈ پارک ہے۔ عظیم سلطنتِ برطانیہ میں شہری آزادیوں کی علامت یہاں جو چا ہے جیسے چا ہے دل کی بھڑاس نکال لے۔ مگر سیاحوں کے لیے یہ پارک ایک علیحدہ کشش رکھتا ہے۔ کبھی سرِ شام آئیے گا۔ اہل ہوس بے لگام ملیں گے۔ اہل دل کے لیے ہر شام جائے تماشا اور اہل بصیرت کے لیے سامانِ عبرت۔اب ہم پکاڈلی کے عین بیچ سے گذر رہے ہیں۔لندن میں یہی وہ جگہ ہے۔ جہاں انسانیت کی روح دم توڑتی اور جسم صنفِ مخالف کے جسموں سے حدتیں اور حرارتیں سمیٹتے ہیں۔ آگے بڑا چوک آنے والا ہے۔ جسے لندن کا دل کہتے ہیں۔ کانسی کے شیروں کے منہ سے فوارے ابلتے ہیں۔ تصویریں بنانے اور اکیلے مسافروں کے لیے ہم سفر تلاش کرنے کے لیے بہترین جگہ ہے۔ ‘‘کچھ اکیلے مسافر گائیڈ کے آخری جملے کی سچائی پرکھنے اتر جاتے ہیں۔ کچھ دوسرے مسافر گل مراد لیے بس پر سوار ہو تے ہیں۔ ’’ خواتین و حضرات !یہ دائیں طرف بگ بین ہے۔ لندن کا تاریخی گھڑیال چاروں سمتوں سے یکساں نظر آتا ہے۔ اس کی بغل میں 10ڈاوننگ سٹریٹ ہے۔ کل تک یہاں ٹونی رہتا تھا۔ آج براون براجمان ہے۔ یہ لندن کی سب سے عارضی سرائے ہے۔وہ سامنے ایک مجسمہ کھڑا ہے۔ مگر یہ مجسمہ نہیں۔ جیتا جاگتا انسان ہے۔ بے شک اتر جائیے۔ آزما لیجئے۔ اس کے جسم کا کوئی حصہ حرکت نہ کرے گا۔ سوائے آنکھ کی پتلیوں کے۔ آپ اس کے قریب سے گذر جائیے گا۔ 10ڈاوننگ پر دستک دیجئے گا۔ کوئی چوبدار کوئی محافظ نہ روکے گا۔ مگر چھوڑیئے وہ ایک چھوٹا سا تنگ و تاریک مسافر خانہ ہی تو ہے۔ میرا گھر اس سے کہیں بڑا ہے۔ اور میں ایک مزدور ہوں۔ زبان کی کمائی کھاتا ہوں۔ یہ سامنے ویسٹ منسٹر ایبے ہے۔ (برطانیہ کے نام ور لوگوں کا ایک قبرستان بھی ایبے کہلاتا ہے۔)جہاں امور سلطنت ہی طے نہیں پاتے بل کہ اس کی نیم تاریک پراسرار گیلریوں میں ہونے والی سرگوشیاں تیسری دنیا کے کئی ممالک کی حکومتوں کے تختے الٹنے کا باعث بنتی ہے۔ مگر چھوڑیئے یہ آپ کے لیے نہیں۔آپ کے لیے تو وہ سامنے ہارس گارڈ ز ہیں۔ مجسمہ نما گھوڑوں پر بیٹھے مجسمہ نما بے حرکت گارڈز۔ عظیم برطانیہ کی عظیم روایات کے امین۔ یہاں اتریئے ، ان کے ساتھ تصویریں بنوائیے۔آپ سیاح حضرات با لخصوص تیسری دنیا کے سیاح تیسرے درجے کی مخلوق ہیں۔ آپ کا واسطہ ہمیشہ گھوڑوں اور گارڈز سے رہتا ہے۔ ویسٹ منسٹر ایبے میں جھانکنے کا سوچیے بھی نہیں۔ اب ہم دریائے ٹیمز عبور کرتے ہیں۔ وہ دریا کے اس پار جو بڑا سا چرخہ نظر آتا ہے۔ لندن کی آنکھ کہلاتا ہے۔ ‘‘مسافر اس جگہ اُتر جاتا ہے۔ لندن کی آنکھ سے لندن یاترا کے بعد مسافر واپس قدموں ویسٹ منسٹرایبے، 10ڈاوننگ اور ہارس گارڈز چھونے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اتفاق سے بارہ بجے کا وقت ہے۔ دریا کے اس پار بگ بین کی سوئی پر سوئی چڑھ چکی ہے۔ ٹن ٹن کی گونج میلوں دور تک سنائی دیتی ہے۔ اور عین اس لمحے جب صرف ایک سوئی نظر آتی ہے۔ مسافر بگ بین کی تصویر کھینچ لیتا ہے۔ ایک نادر تصویر جو مسافر کے جمع شدہ اثاثوں میں ایک بے مثل اضافہ ہے۔
لندن کی آنکھ کے عین نیچے دائیں ہاتھ ڈالی آرٹ گیلری ہے۔ جہاں پکاسو کی تصاویر کی نمائش لگی ہے۔ 12پاونڈ میں ٹکٹ خرید کر مسافر اندر جاتا ہے۔ مگر مایوس لوٹتا ہے۔ کوئی ایک بھی تو ایسی تصور نہیں جو زنجیرِ پا بنے۔ جس میں کوئی ندرت کوئی کشش ہو۔ خدا لگتی بات ہے کہ پبلو کا کو ئی ایک فن پارہ بھی اپنے آرٹسٹ استاد اللہ بخش کی تصویروںکا ہم پلہ نہیں لگا۔ مسافر کو یوں لگتا ہے جسے استا د اللہ بخش زمین پر بیٹھ کر اپنے ارد گرد کے زندہ انسانوں اور جیتے جاگتے مناظر کو پور ٹریٹ کرتا ہے۔ جب کہ پبلو کسی خلائی مخلوق اور اجنبی سر زمینوں کو پینٹ کرتا ہے۔ ایسی مخلوق اور ایسی زمینیں جو انسانی تصور سے ماورا ہوں، یا پھر ہو سکتا ہے۔ مسافر کا ذوق ہی اتنا دقیانوسی ہے کہ تجرید ہضم نہیں کر پاتا۔ بہر حال 12پاونڈ سے محرومی پر ماتم کناں مسافر لندن آئی میں جا بیٹھتا ہے۔ لندن آئی ایک بہت بڑا برقی چرخہ ہے۔ جس میں پینتیس، چھتیس شیشے کے ہنڈولے ہیں۔ ہر ہنڈولے میں دس بارہ سیاحوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ یہ ہنڈولے ہمہ وقت متحرک رہتے ہیں۔آہستہ رو ہیں چلتے چلتے ہی سیاحوں کو بیٹھنا اور اترنا پڑتا ہے۔ ایک چکر تقریباً 35 منٹ میں مکمل ہوتا ہے۔ انتہائی بلندی پر پہنچیں تو پورا لندن اور گردو نواح کے سر سبز و شاداب علاقے نظر آتے ہیں۔
لندن آئی سے پورے لندن پر بھرپور نظر ڈال چکنے کے بعد مسافر پیدل اسی روٹ پر واپس آتا ہے۔ جہان سے صبح ٹورسٹ بس پر بیٹھ کر گذرا تھا۔ ٹیمز کے پُل کو عبور کرتا بگ بین کے نیچے سے گذرتا ہے۔ ویسٹ منسٹر ایبے پر قریب سے نظر ڈالتا ہے۔ 10 ڈاوننگ کی کشادہ گلی میں جھانکتا ہوا ہارس گارڈز کے قریب آ رکتا ہے۔ ایک سیاح کو کیمرہ دے کر ہارس گارڈز کے ساتھ تصویریں بنواتا ہے۔ اور پھر پیدل بازار سے ہوتا بڑے چوک کی طرف بڑھتا ہے۔ ہونٹ تر کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ایک طعام گاہ کے باہر فٹ پاتھ پر وکٹورین طرز کی پرانی میزیں لگی ہیں۔ سیلف سروس ہے۔ مسافر اندر سے ڈرنک اور خوراک کی ٹرے لیے باہر پھیلی دھوپ میں جائے نشست کی تلاش میں ہے۔ ایک انگریز جوڑے کے پاس کرسی خالی ہے۔ دونوں نوجوان اور من چلے ہیں۔ مسافر بیٹھنے کی اجازت طلب کرتا ہے۔ نوجوان ا س شرط پر اجازت دیتا ہے کہ مسافر فیصلہ کرے گا کہ جوڑا کیسا ہے ؟ مسافر دونوں کو بغور دیکھ کر نوجوان سے کہتا ہے ’’تم بہت خوش قسمت ہو‘‘ لڑکی کھِل اٹھتی ہے۔ مسافر کو بیٹھنے کی دعوت دیتی ہے۔ ’’مگر سینو ریتا بھی تو خوش قسمت ہے۔ ‘‘ نوجوان احتجاجاً کہتا ہے۔ ’’جی ہاں بشرطیکہ نوجوان تم اپنا موٹا پا قدرے کم کرو۔‘‘ لڑکی مسافر کی بات کی تائید کرتی ہے۔ مسافر خورا ک ختم کر کے اٹھتا ہے تو جوڑا اُسے ویسٹ بورن کار پر ڈراپ کر نے کی پیش کش کر تا ہے۔ مگر مسافر معذرت کرتا ہے۔ کیوں کہ اسے ابھی بڑے چوک سے کانسی کے شیروں کے منہ سے اُبلتے فواروں کی تصویریں بنانا ہیں ، اور بکنگھم پیلیس میں بہر صورت چھٹی کے وقت پہنچنا ہے ، اور وہ پہنچ جاتا ہے۔ مسافر ملکہ محل کے سامنے سینکڑوں دوسرے سیاحوں کے ہجوم میں کھڑا اُس عظیم عمارت کو دیکھتا ہے۔ جو محض عمارت نہیں بل کہ ماضی کی عظیم سلطنت برطانیہ کے جاہ و جلال، انگریز کے تدبر اور بادشاہ سے انگریز کی عقیدت و محبت کی علامت ہے۔عظیم سلطنتِ برطانیہ جس کی سرحدیں کبھی غروبِ آفتاب سے ناآشنا تھیں۔عظیم انگریز مدبّر اپنے منصوبے صدیوں پہلے سوچتا ہے۔ ایسے منصوبے جن میں غلطی کا امکان صفر ہو۔انگریز، جس نے کبھی شکست نہ کھائی۔ اس کی سلطنت پر نظریں جمائے کئی ہینی بال، شارلیمان، نپولین، ہٹلر آئے۔ سلطنت برطانیہ فتح کرنے آندھی کی طرح اٹھے۔ مگر انگریز کے تدبر اور استقلالی نے اُنھیں پسپائی پر مجبور کر دیا۔ فوجی اصطلاح میں کہا جاتا ہے کہ: ”War won by strategy & battles won by Tactics”۔ انگریز نے TACTICSمیں مار کھائی ہو تو کھائی ہو مگر اس کی STRATEGY ہمیشہ بے مثل رہی۔ وہ عظیم برطانیہ کے نام پر لڑتا ہے۔ عظیم بادشاہ کی ناموس کے لیے مرنا شہادت کی معراج سمجھتا ہے۔ عین میدان جنگ میں بھی وقت طعام ڈنر جیکٹ پہن ڈنر سیلیبریٹ کرتا ہے۔ اپنے لوگوں کے لیے انصاف دوسروں کے لیے مقام متعین کرتا ہے۔ گردن تنی ہوئی اور ارادے بلند رکھتا ہے۔ بادشاہ سے عقیدت ایسے رکھتا ہے۔جیسے مسلمان انبیا سے۔ آج اس کی تاج دار ملکہ ہے۔ انگریز کے نزدیک ملکہ ایک مادر مہربان ہے۔ایک دیوی ہے۔ جس کے درشن اہل مقدر ہی کو نصیب ہوتے ہیں۔ یہ سامنے ملکہ محل ہے۔ لوہے کی اونچی سلاخوں کے اس طرف سیاحوں اور محل میں کام کرنے والے ملازمین کے عزیز و اقارب کا ہجوم۔ سیاح گھر پھونک تماشا دیکھنے جمع ہیں۔ اور عزیز و اقار ب اپنے پیاروں کو لینے آئے ہیں۔ وہ پیارے جو صبح سویرے اپنے گھروں سے نکل کر ملکہ محل میں اپنی نوکریوں پر آئے تھے۔ اب چھٹی کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ اور چھٹی کا وقت یہاں ایک تقریب کے طور پر منایا جاتا ہے۔ چھٹی ہوتی ہے۔ کالے سوٹوں میں ملبوس ملازم نکلتے ہیں۔ گھر والے اُنھیں یوں چمٹ چمٹ کر ملتے ہیں۔ گلے لگاتے ہیں۔ جیسے برسوں دیارِ غیر میں گذار کر وطن لوٹے ہیں۔ اس طرح ایک منظر تخلیق ہوتا ہے۔ ایسا منظر جو ہر روز عین اسی وقت اسی جگہ دیکھنے میں آتا ہے۔ ملازم وہی، عزیز و اقارب وہی مگر سیاحوں کے چہرے روزانہ بدلتے ہیں۔ یہ تقریب ملکہ سے عقیدت کا مظہر ہے۔ روزانہ بیویاں بچے، شوہروں اور والدین کو اس امید پر ملتے ہیں کہ شاید آج اُنھوں نے اس کرسی کو دیکھا ہو۔ اسے چھوا ہو۔ جس پر کبھی ملکہ بیٹھی ہو۔ شاید آج ان کے قدم اس ٹائل پر پڑے ہوں۔ جہان سے کبھی ملکہ کا گذر ہوا ہو۔ آئرش اور سکاٹ ہزار معاملات میں اہل برطانیہ سے اختلاف رکھتے ہیں۔ مگر ملکہ کا نام آتے ہی یوں مودّب ہو جاتے ہیں۔ جیسے ذرا سی گستاخی، ذرا سی بے ادبی ان سے دین و دنیا چھین لے گی۔
ایک کم عمر لڑکے سے ٹریفک قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ٹریفک سپاہی چالان لکھتا ہے۔ عدالت حاضری کی تاریخ بتاتی ہے۔ قانون کا تقاضا ہے۔ نابالغ عدالت میں پیش ہوں تو سر پرست کی موجودگی ضروری ہے۔ ماں ساتھ چلی آئی ہے۔ یہ سپریم کورٹ نہیں۔ یہ ہائی کورٹ بھی نہیں۔ نہ ہی ڈسٹرکٹ کورٹ ہے۔ گلی محلے کی عام چھوٹی سے عدالت ہے۔ ماں کو دیکھ کر چوبدار پکار اٹھتا ہے۔ "Ladies and Gentlemen Queen in the Court”ماں ملزموں کے کٹہرے میں بچے کا ہاتھ تھامے کھڑی ہے۔ جج سوال کرتا ہے۔ ’’ملکۂ عالیہ کیا یہ نوجوان آپ کا بیٹا ہے۔ ‘‘ملکہ جواب دیتی ہے۔ ’’سلطنتِ عظمیٰ میں جنم لینے والا ہر بچہ میرا بیٹا ہے۔ ‘‘ملکہ کا یہ جملہ ایک سلوگن بن جاتا ہے۔ برطانیہ کے درو دیوار پر لکھ دیا جاتا ہے۔ منصف ملزم کو وارننگ دے کر چھوڑنے کا ارادہ ظاہر کرتا ہے۔ تو سپاہی سرکاری ٹوپی اتار کر منصف کی میز پر رکھ دیتا ہے۔ کہتا ہے ’’حضور ! میں ملکۂ برطانیہ کا ملازم ہوں۔ ملزم قانون کی نظر میں محض ایک عام شہری ہے۔ اگر آج ملزم کو قانونی سزا نہیں ملتی۔ تو میری ادائیگیِ فرض کی توہین ہو گی۔ گویا میں نوکری کے قابل نہیں۔ جناب
والا! آپ اور میں تاجِ برطانیہ کے وفادار ہیں۔ قانون کے محافظ ہیں۔ اگر ہم ملکہ سے وفاداری کا قول نہیں نباہ سکتے، قانون کا تحفظ نہیں کر سکتے۔ تو میری نو کری کا فائدہ نہ آپ کی منصفی قابل اعتماد۔ ‘‘جج قانون کی کتاب بارِ دگر دیکھتا ہے۔ ملزم کو زیادہ سے زیادہ سزا سناتا ہے کہ ملزم دو برس تک گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر نہ بیٹھ پائے گا۔ نقد جرمانہ الگ۔ ملکہ کٹہرے سے نکل سرکاری ٹوپی اٹھا کر سپاہی کے سر پر رکھتی ہے۔ دستانہ اتار کر سپاہی سے ہاتھ ملاتی ہے۔ کہتی ہے۔’’ دیکھنے والو! دیکھ لو، سننے والو سن لو! اور جاننے والو جان لو، سلطنتِ برطانیہ عظیم ہے کہ یہاں انصاف زندہ ہے۔ قانون متحرک ہے۔ اور ضمیر جاگتے ہیں۔‘‘ گھنٹوں میں سپاہی کی جرأتِ رندانہ اور عزت افزائی سے متعلق ضمیمے چھپ جاتے ہیں۔ محکمہ سپاہی کو تا حیات پوری تنخواہ اور دیگر مراعات کے ساتھ ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دے دیتا ہے۔ اب اس شخص کا آفیسر کون کہلا سکتا ہے۔ جس کے ساتھ ملکۂ برطانیہ نے دستانہ اُتار کر ہاتھ ملایا ہو۔ ایک ایسا اعزاز جو سربراہانِ مملکت کو بھی شاذ ہی نصیب ہوتا ہو۔ ہاں ساٹھ ستر کی دہائی میں پاکستان کے ایک سربراہ کو بھی یہ اعزاز نصیب ہوا تھا۔ لوگ باگ سپاہی کے گھر کا پتا ڈھونڈتے ہیں اور اس سے ہاتھ ملانے والوں کا تانتا بندھ جاتا ہے۔ یہ ہے انگریز کی ملکہ سے عقیدت۔ آج مسافر اسی ملکہ کے گھر کے سامنے کھڑا تصور کی دنیا میں غوطہ زن ہے۔ تصور کی دنیا جہاں قہقہوں سے بھر پور ماضی اور ندامت کے آنسووں سے تر حال موجود ہے۔ مسافر کو ماضی کے جھروکوں میں ملت مرحومہ کے وہ کر دار نظر آتے ہیں۔ جو عدل و انصاف کی علامت تھے۔ وہ فخرِ انسانیت ؐ ہستی جواعدلو ہو اقربو للتقویٰ اور وزن بالقسط، کہتے ہی نہ تھے۔ بل کہ وقتِ آزمائش ان کا یہ فرمان بھی مسافر کی متاع عزیز ہے۔ ’’قسم ہے اس پاک ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ اگر میری بیٹی فاطمہ پر بھی چوری کا الزام لگتا تو بھی میں انصاف سے ہاتھ نہ کھینچتا۔‘‘ پھر مسافر ماضی کی تابناکیوں سے نکل کر یک لخت دورِ حاضر میں آ کھڑا ہوتا ہے۔ تو دامن میں ندامتوں اور آنسووں کے سوا کچھ نہیں پاتا۔ آج ارض وطن پر جابجا عدالتیں کھلی ہیں مگر انصاف کے دروازے بند ہیں۔ منصف بہرے، گواہ جھوٹے، مدعی مجبور اور ظالم والا جاہ۔ بس پہنچ چکی ہے۔ شام کے سائے لمبے ہوتے جاتے ہیں۔ ویسٹ بورن کے علاقہ میں رات پڑتے ہی جرائم پیشہ کالے، منشیات فروش اور رہزن اُچکے شکار کی تلاش میں نکل کھڑے ہو تے ہیں۔ مسافر اکیلا ہے اور اُسے انھی راستوں سے گذرنا ہے۔

شیخ مقصود ایک کردار

ڈالس ہلز لندن کا پوش علاقہ ہے۔ جہاں سکون کے متلاشی صاحب ثروت لوگ قیام پذیر ہیں۔ بڑی بڑی کوٹھیاں، ایک ایک کوٹھی میں کئی کئی کاریں، آٹو میٹک دروازے، ریموٹ کنڑول ہیٹنگ سسٹم اور مکینوں کی تنہائی۔ مکانوں کے اندر جم اور باہر وسیع و عریض پارکوں کی سہولت۔ ایسی ہی ایک طلسماتی کوٹھی میں مسافر چائے کی چسکیاں لیتا، شیخ مقصود صاحب کی معلومات افزا گفت گو سنتا تھا۔ شیخ صاحب اپنی جنم بھومی باغ آزاد کشمیر سے جنون کی حد تک محبت کرتے ہیں۔ کوٹھی کے کمروں میں جا بجا باغ شہر کے مناظر کی تصاویر ان کے جنون کی خبر دیتی ہیں۔ بقول ان کے یہ کوٹھی خریدنے میں بھی یہی فلسفہ تھا کہ اس کے اردگرد کے مناظر باغ کے مماثل ہیں۔ شیخ صاحب کے بڑے بڑے سٹور لندن کے مختلف علاقوں میں بکھرے ہیں۔ مگر ہیڈ کوارٹر ویسٹ بورن کا علاقہ ہے۔ شیخ صاحب کی کوٹھی میں اُٹھ آنے سے پہلے مسافر کا قیام دو رات اسی ویسٹ بورن کے علاقہ میں تھا۔ حالاں کہ شیخ صاحب روز اول ہی سے ہلٹن ہوٹل یا اپنی کوٹھی میں قیام کرنے پر مصر تھے۔ مگر مسافر تو فقیروں کا بھیس بنا تماشائے اہل کرم دیکھنے کا خواہاں تھا سو کیا کٹیا کیا کوٹھی۔
چائے کی مٹھاس اپنی جگہ مگر شیخ صاحب کے نطق کی شیرینی نے گذرتے وقت کی رفتار کا احساس چھین لیا تھا۔ رات ڈھلتی جا رہی تھی۔ گلاس ونڈو پر بارش کی مدھر آواز دو چند ہوتی تھی۔ باہر بارش میں بھیگتا پارک شیخ صاحب کے آبائی شہر باغ کا منظر ان کے جذبوں کو مہمیز کرتا تھا۔ اور وہ بولتے تھے ’’ویسٹ بورن کا علاقہ جو کالوں سے بھرا پڑا ہے۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں گورے اوّل اوّل کالوں کو جہازوں میں بھر لائے تھے۔ اُنھیں تہ خانوں میں پابندِ سلاسل رکھتے اور مشقت لیتے، ان زمانوں میں ادھر آبادیاں کم اور درخت زیادہ تھے۔ ایک مدّت بعد جو گوروں نے جا نا کہ یہ مخلوق اب سدھر چکی ہے تو اُنھیں تہ خانوں سے نجات ملی۔ ہاتھ پاؤں سے زنجیریں نکالیں۔ آزادی کا احساس ہوا تو چیختے چلاتے درختوں کی طرف جھپٹے اور بندروں کی طرح چھلانگیں لگاتے آناً فاناً درختوں پر جا چڑھے اور وہ غل مچایا کہ الامان۔ آج یہاں درخت تو اکا دکا ہیں مگر کالے ہر سال مخصوص دن یہ جشنِ آزادی ضرور مناتے ہیں۔ جشن کے روز چیختے چلاتے ہیں۔ پیتے پلاتے ہیں۔ قریب کوئی درخت نظر آیا تو کیا کہنے۔ وگرنہ عمارتوں کی چھتوں پر چڑھ کر اودھم مچاتے ہیں۔
سامنے اب سکرین پر غزہ فلسطین کا منظر ہے۔ نہتے فلسطینی اسرائیلی سپاہیوں کی بکتر بند گاڑی پر پتھر پھینکتے نظر آتے ہیں۔’’ کیسے پاگل لوگ ہیں، دنیا کی مہیب ترین جنگی مشین پر کنکریاں پھینک کر سمجھتے ہیں کہ جنگ جیت لیں گے۔‘‘ مسافر کہتا ہے تو شیخ صاحب اچانک جذباتی ہو جاتے ہیں۔’’ تمہاری سوچ درست ہوتی تو معرکۂ بدر میں سینہ سپر ہو نے والے، قافلہ ہائے سخت جاں میدانِ کربلا کو اپنے مقدس لہو سے سیراب کرنے، سرنگا پٹم کے قلعہ کی دیواروں کوخون سے سینچنے والے بھی تمھاری طرح سوچتے اور آج ہم یہاں ان ناموں سے موجود نہ ہوتے۔ اسرائیلی بکتر بند گاڑیوں پر پتھر پھینکنے والے اورارضِ فلسطین کو نذرانۂ خون دینے والے یہ نو جوان وہ ننھے منے ستارے ہیں۔ جن کی قربانیاں ایک تابناک سورج کو جنم دینے کی نوید دیتی ہیں۔ آزادی کا سورج!اور ہاں مت جانیو کہ ان کے کنکریاں پھینکنے کا مقصد کسی اسرائیلی کی جان لینا ہے۔ نہیں۔ ہر گز نہیں۔ در اصل یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ جب کسی یہودی سپاہی کو غیر یہودی کا پھینکا پتھر چھو لے گا تو وہ خود اپنی کمیونٹی میں نجس قرار پائے گا اور مسلسل تین یوم تک اپنی کمیونٹی سے کٹ کر رہے گا۔پھر پاک ہو گا۔‘‘
شیخ صاحب بولتے جاتے تھے اور مسافر اس سیماب صفت جوان رعنا کی باتوں میں اتنا محو ہو چکا تھا کہ میز پر پڑی چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ شیخ صاحب اٹھے۔ ملحقہ کچن سے تازہ گرم گرم چائے بنا لائے۔ گلاس ونڈو پر بارش کی دستک تیز تر ہو چکی تھی۔ رات کا ایک بج رہا تھا اور اب مسافر کے اصرار پر ان کا موضوعِ گفت گو اپنی داستانِ حیات تھا۔
’’انتہائی عسرت میں میٹرک کا امتحان پاس کر چکنے کے بعد گھر میں کالج کے اخراجات کا ذریعہ نہ تھا اور تعلیم کا شوق فراواں، گھر سے نکل کر کراچی کی راہ لی۔ زادِ راہ فقط ماں کی دعائیں اور جذب و شوق تھا۔ کم عمری، بے سر و سامانی اور اتنے بڑے شہر میں تنہائی۔ کیا کچھ نہ کیا۔ ہوٹلوں پر بیرا گیری تک کی۔ اللہ نے ہاتھ پاؤں سلامت دیے تھے۔ محنت مزدوری کرتے کرتے ایف اے کر لیا تو پاؤں کے چکر نے انگلستان لا اتارا۔ یہاں اوّل اوّل اٹک کے ایک صاحبِ دل فرشتہ نے دست گیری کی۔ قیام و طعام کی سہولتیں مہیا کیں۔ گھر کا فرد جانا اور ایک روز میرے محسن کے گھر پاکستان کے معروف ڈپلومیٹ جناب اے کے بروہی تشریف لائے۔ موصوف کا یہاں ایک ذاتی مسئلہ آن کھڑا ہوا۔میں نے مدد کی تو ان کا مسئلہ حل ہوا۔ بھلے آدمی تھے۔ میرا ہاتھ پکڑ کر سفارت خانے لے گئے۔ اچھی ملازمت دلوائی تو بائیس برس ادھر یوں گذرے کہ دن بھر سفارت خانے میں اہل وطن کی خدمت کرتا۔ شام سمے ٹیکسی چلاتا۔ تھوڑی رقم پس انداز ہوئی تو اپنی دکان کھولی۔ نوکری کو خیر باد کہا۔ اور آج اس مقام پر ہوں، مسافر !
بے شک میں نے محنت کی مگر یہ سب کچھ دَین تو اللہ ربّ اللعالمین کی ہے۔ ورنہ مجھ سے کہیں زیادہ محنتی لوگ اس معاشرے میں ہنوز وہیں ہیں جہاں برسوں پہلے تھے۔ رب کا شکر لازم ہوا تو سوچا کیسے ادا کروں۔ بس ایک راستہ اختیار کر لیا۔ کہ وطنِ عزیز کے غربت و افلاس میں جکڑے نوجوان جو کسی نہ کسی حوالے سے یہاں آ پہنچتے ہیں۔ ان کا ہاتھ پکڑوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اس ایک چراغ سے درجنوں چراغ روشن ہو چکے ہیں۔ مگر اللہ نے مجھ نا چیز پر جو فضل کیا۔ کیا میں اس کا شکر ادا کر پاؤں گا۔ نہیں۔ قطعاً نہیں۔ ‘‘رات کے تین بج رہے تھے۔ جب مسافر نیند کی غرض سے بستر پر اور شیخ صاحب صلوٰۃِ تہجد کے لے مُصلّے پر تھے۔ رب کریم کے شکر کی ایک اور ادا۔
مسافر بستر پر تو پہنچ تھا مگر نیند آنکھ سے کوسوں دور۔ ذہن شیخ صاحب کی سحر انگیز شخصیت کے حوالے سے ماضی کا مسافر بن چکا تھا۔ رمضان کا مہینہ سحری کا وقت اٹک سے زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے سامان لیے دو ٹرک باغ کی طرف جاتے تھے۔ راستے میں دردو کرب اور انسانی المیے کے ہزاروں مناظر بکھرے تھے۔ مگر مسافر وہ منظر کبھی نہ بھول سکے گا۔ ایک کرین ٹرکوں کے آگے جاتی تھی۔ اس کے شاول اور آ ہنی پنجے بندھے تھے۔ جنھوں نے کسی خاص مقام پر پہنچ کر کھلنا تھا۔ سڑک سے نیچے ایک معمر شخص ملبے کے ڈھیر پر کھڑا کرین ڈرائیور کے آگے ہاتھ جوڑتا اور التجائیہ انداز میں بڑ بڑاتا تھا۔ ایک بوڑھی خاتون دوپٹہ ہاتھ پر پھیلائے کرین ڈرائیور سے کچھ کہتی تھی۔ مگر آواز اوپر تک نہ پہنچ پاتی۔ اور کرین ڈرائیور ایک شانِ بے نیازی سے آگے گذر جاتا ہے۔ مسافر دونوں ٹرک روکتا ہے۔نیچے جاتا ہے۔ شاید مذکورہ شخص کو کمبل، خوراک کی ضرورت ہو۔ مگر وہ شخص تو بے تحاشا روتا ہے۔اس کی داڑھی آنسووں سے بھیگ چکی ہے۔ بول نہیں سکتا۔ بار بار ملبے کے ڈھیر کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بڑھیا کا چہرہ بے حس ہے۔ آنکھ کے سوتے خشک ہیں۔ ٹک ٹک ملبے کے ڈھیر کو دیکھتی ہے۔ مسافر کے دل پر برچھی لگتی ہے۔ بھانپ جاتا ہے۔ ٹرک ڈرائیور اور امدادی ٹیم کے جوانوں کو بلاتا ہے۔ پتھر ہٹتے ہیں۔ گارا ہٹایا جاتا ہے۔ بھاری شہتیر سر کائے جاتے ہیں۔ تو نیچے سے ایک معصوم کلی برآمد ہوتی ہے۔ جو اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر چکی ہے۔ ہر آنکھ اشک بار ہو جاتی ہے۔ ماں کی چیخ اس کا گذشتہ سات دن کا سکوت توڑ دیتی ہے۔ باپ کی گریہ و زاری حاضرین کے دلوں چھیدتی ہے اور مسافر اپنی ٹیم کے ہم راہ آگے بڑھ جاتا ہے۔ ان کے پاس وقت نہیں کہ تجہیز و تکفین میں ہاتھ بٹا سکیں۔ اُنھیں ابھی دردو کرب کے کئی دریاؤں کا سامنا ہے۔ اُنھیں باغ امداد پہنچانی ہے۔ باغ جو کل تک ایک شہر بے مثل تھا۔ آج قدرت کی ستم ظریفی کا نوحہ ہے۔ باغ جہاں افطار کے لیے ایک کھجور میسر آنا بھی معجزہ تھا۔ بھوکے جانور انسانوں کی ٹانگوں میں پناہ لیتے تھے۔ مگر انسان کہاں جائیں۔ بھوکے انسان شدید سردی میں بارش سے بھیگتے تھے۔ اوپر سر بفلک پہاڑوں پر بار بار زلزلہ کے جھٹکوں سے لرزہ طاری تھا۔ موت قریب تر اور زندگی کو سوں دور تھی اور مسافر وہاں تھا۔ مسافر تو وہاں بھی تھا۔ جب ڈاڈر بستی غرق ہوئی تھی۔ وہاں بھی تھا جب جون کی شدید گرمی میں ہربنس پورہ کا ڈپو پھٹتا تھا۔ جسموں سے سر جدا ہوتے تھے۔مائیں جانیں بچانے دوڑتی تھیں۔ بچے آ ہنی شہتیروں تلے دبتے تھے۔ سورج سوا نیزے پر تھا اور پانیوں کے سوتے خشک ہوتے تھے۔ مسافر تو اپریل کے آغاز میں اس منظر کو بھی اپنی آنکھ سے دیکھتا تھا۔ جب راولپنڈی کی فضا میں تتلیوں کے موسم میں میزائل پرواز کرتے تھے۔ شہر میں کہرام برپا تھا۔ گھروں کے مکین جانیں بچانے باہر بھاگتے تھے اور باہر والے جائے عافیت جان کر گھروں کا رخ کرتے تھے۔ مسافر کا محلہ دار بارہ سالہ معصوم صفدر حضرو سے پنڈی شادی میں شرکت کرنے آیا تھا، اوجڑی کیمپ کی نذر ہوا۔ مسافر پولیس کے تعاون سے صفدر کی میت گاؤں روانہ کرتا ہے، اور خود رک جاتا ہے۔ اسے ابھی کئی میتیں اور کئی زخمیوں کو ہسپتال پہنچانا ہے۔ اپنی جان کی حفاظت لازم مگر مسافر کی سکاوٹن اور سول ڈیفینس کی تربیت اس کے جسم میں بجلیاں بھر دیتی ہے۔ ذہن میں آندھیاں چل رہی ہیں۔ موت کا رقص جاری ہے۔ لہو کی برسات تھمنے میں نہیں آتی۔ مسافر بھاگتا ہے۔ اردگرد رضا کار زخمیوں کو گاڑیوں میں ڈالتے ہیں۔ مردے گھروں کو اور زخمی ہسپتالوں کو روانہ کیے جاتے ہیں۔ مسافر ہوش و حواس سے بے گانہ وار بھاگتا ہے۔ جب حواس بحال ہو تے ہیں تو خود کو ہسپتال میں بلڈ ڈونرز کی قطار میں کھڑا پاتا ہے۔ خون خزانے بھر جاتے ہیں۔ مگر ڈونرز کی قطاریں طویل تر ہوتی جاتی ہیں۔ ریڑھی والے، تانگہ بان، سکول ٹیچر، دفتری بابو، چیتھڑوں میں ملبوس مزدور پیشہ ایک دوسرے کو دھکیلتے آگے بڑھنے کے لیے کوشاں۔ ان سب کی رگوں میں لہو اُبل اُبل پڑتا ہے۔ وہ قوم کے ان فرزندوں پر لہو نچھاور کر نے کو بے تاب ہیں۔ جن سے ان کا کوئی رشتہ نہیں۔ جنھیں جاننا تو کجا اُنھوں نے دیکھا تک نہیں۔ مگر بے تاب، شاید ان کے لہو کی چند بوندیں کسی ماں کے لخت جگر کو حیاتِ نو بخش دیں۔ مسافر کی نظر بارِد گر قطاروں پر اٹھتی ہے۔ قوم کی مسیحائی کا مدعی کوئی رہنما ان قطاروں میں نہیں۔ وہ کل آئیں گے۔ جب موت کا رقص تھم چکا ہو گا۔ لہو کی بارش رک چکی ہو گی۔ جہنم زار ٹھنڈے پڑ چکے ہوں گے۔ ان کے ساتھ میڈیا ہو گا۔ کیمرے ہوں گے۔ وہ دھڑا دھڑ تعزیتی پیغام داغیں گے۔ مرحومین کے جنازوں میں اگلی صف میں کھڑے ٹیڑھی آنکھوں سے کیمروں کو دیکھیں گے اور مسافر یہ مناظر T.Vسکرین پر دیکھے گا۔ اوجڑی کیمپ کے گرد و نواح کا علاقہ جہنم زار بنا ہے۔ نیلو ر سے ترنول اور دھمیال سے پیر ودھائی تک کی فضا میں اُڑتے میزائلوں نے چھتری بنا رکھی ہے۔ ایک چلتی کار پر میزائل گرتا ہے۔تو ایک بہت بڑی شخصیت اور ان کا ڈرائیور جاں بحق ہو جاتے ہیں۔ دوسرے روز ایک معتبر روز نامہ سرخی لگاتا ہے۔ ’’وہ شہید ہو گئے اور ان کا ڈرائیور جاں بحق ہو گیا۔ ‘‘یہ سب اس مقدس جنگ کا شاخسانہ ہے۔ جو خود ہم نے انتہائی سادہ لوحی سے اپنے اوپر مسلط کی تھی۔ وہ دوسروں کی جنگ جس کے نتیجے میں دو قطبی دنیا یک قطبی میں تبدیل ہونی تھی۔ دوسروں کی اس جنگ کا ایندھن ہم بنے۔ ارض وطن کی سلامتی کو داؤ پر ہم نے لگایا۔ مذہبی رواداری عنقا ہوئی فرقہ واریت کو مہمیز ملی تو مساجد اور امام بارگاہیں لہو میں نہا گئیں۔ قوم کے نوجوانوں کی رگوں میں ہیروئن کا زہر سرایت کر گیا۔ کتاب سے مزین، ہاتھ بندوق آشنا ہوئے۔ جنتوں کی بشارتیں عام ہوئیں۔ شہادتوں کی بولیاں لگنے لگیں۔ با لآخر سرمایہ دارانہ نظام کی جیت ہوئی۔ سوشلسٹ پسپا ہوئے۔ ریچھ کے پنجے کاٹ دیے گئے۔ اب ہاتھی کھل کھیلے گا۔ جسے چاہا پاؤں تلے مسل دیا، ملت مرحومہ کے نوحے لکھنے والے مصنف نے کہا تھا کہ ’’میز پر سیاست دانوں کی غلطیوں کا خمیازہ سپاہی میدانِ جنگ میں بھگتتے ہیں۔‘‘ بجا فرمایا۔’’ مگر سپاہی سیاست دانوں کی غلطیوں کا خمیازہ تو قوموں اور نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔‘‘ ملکوں کے بازو کٹ جاتے ہیں۔ سندھ طاس معاہدے تحریر ہوتے ہیں۔ تو دھرتی کے فرزندوں کی نسلیں پانیوں جیسی نعمت سے محروم ہو جاتی ہیں۔ آنے والی نسلوں کی پیشانیوں پر عرق ندامت کی دائمی تحریریں رقم ہوتی ہیں۔ اوجڑی کیمپ کے سانحے جنم لیتے ہیں۔
آج ڈاڈر بستی از سرِ نو بس چکی ہے۔ باغ شہر آباد ہو گیا ہے، ہربنس پورہ ڈپو یادِ ماضی بن گیا ہے۔ اوجڑی کا جہنم زار گل و گلزار بن چکا ہے۔ واہ رے قدرت کی ستم ظریفی اور واہ رے انسان کے حوصلے۔
تیرے فرق ناز پہ تاج ہے میرے دوشِ غم پہ گلیم ہے
تیری داستان بھی عظیم ہے میری داستان بھی عظیم ہے
ریشمی رضائی کی حِدّتیں مسافر کو غمِ دیروز اور فکرِ فردا سے آزاد کر کے اپنے طلسم میں لے لیتی ہیں۔ مسافر نیند کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔ نیند جو انسان کو ہزار دکھوں اور تفکرات سے آزاد کر دیتی ہے۔نیند جو مادرِ مہربان کی طرح آغوش کشادہ رکھتی ہے۔ جو کارگاہِ حیات کی تگ و دو کے لیے انسان کو توانائی بخشتی ہے۔ جو دُکھوں کو دھندلا دیتی ہے اور امیدوں کو جلا بخشتی ہے۔ موت بھی تو ایک نیند ہی ہے۔ آخری نیند جو انسان کے تمام دکھ، تمام محرومیاں سمیٹ لیتی ہے۔ جو انسان کو ایک نئے سفر کے لیے تیار کرتی ہے۔ ایسا سفر جس میں دُکھ درد اور انسانی المیوں کا کوئی وجود نہیں۔ موت جسے کوتاہ اندیش واعظ خوفناک شکل میں پیش کرتی ہے۔ کتنا حسین عمل ہے۔ مگر وہی جانتے ہیں جن کی روحوں پر آشوبِ آگہی کا کرب اترا ہو۔

میڈم ٹساڈ (Tissaud)کا مومی عجائب گھر

آج ٹورسٹ بس نہیں۔ عام سواری بس کا سفر ہے منزل میڈم ٹساڈکا مومی عجائب گھر ہے۔ تا حدِ نظر انسانوں کا انبوہ کثیر ہے۔ کالے، گورے، گندمی، چپٹی ناکوں والے، مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے، سرخ امریکن گلے میں لمبے تسموں والے بیگ لٹکائے۔ بھاری بھر کم رک سیک اٹھائے ہسپانوی، ہاتھوں میں عظیم برطانیہ کے نقشے اٹھائے جاپانی، بڑے بڑے گا گلز آنکھوں پر سجائے یورپی خواتین، لمبی ڈاڑھیوں والے سکھ، بچوں کے بازو پکڑے پاکستانی مرد عورتیں۔ ٹخنوں تک لٹکے سفید چوغوں میں ملبوس عربی، قینچی کی طرح چلنے والی زبانوں والے بنگالی، آنکھوں میں حیرتوں کا جہان لیے ملیح چہروں والے فلپائنی جو کسی اور دنیا میں گم نظر آتے ہیں۔ قطاروں میں کھڑے ہیں۔ گنتی محال مگر تعداد ہزاروں میں نکلتی ہے۔ یہ یہاں کا روزانہ کا معمول ہے۔ بلا شبہ انگریز نے ٹورازم کو انڈسٹری کا درجہ دے رکھا ہے۔ جس سے روزانہ کروڑوں پاونڈ کماتے ہیں۔ ٹکٹ گھر کے باہر دسیوں قطاروں میں ہزاروں نفوس، مگر نظم و ضبط بے مثل کسی کو جلدی نہیں۔ کوئی بھگدڑ نہیں، مسافر اکیلا ہے۔ قطار میں کھڑے لوگوں سے کچھ پوچھنا چاہتا ہے۔ مگر کس سے پوچھے سبھی تو اس جیسے نووارد ہیں۔ وہ بڑا مومی عجائب گھر دیکھ چکا ہے۔ آج چھوٹے کو دیکھنے کا خواہاں ہے۔ بڑے عجائب گھر میں ماضی بھی ہے اور حال بھی ہے۔ مسافروں کو لاکھوں مومی پتلے نظر آتے ہیں۔ قدر ت نے تو انسان تخلیق کرنا چا ہے تھے۔ مگر وہ چند ہی تخلیق ہو پائے۔ باقی سب مومی پتلے بنے۔ مردوں کی پشت سے موم رس ٹپکا اور ماؤں کے بطن سے مومی پتلوں نے جنم لیا۔ کھوپڑیوں میں حُبِّ فراغ نے جگہ پائی۔ دماغ رخصت ہوئے۔ حرص و ہوس نے انسانی قدروں کو مغلوب کیا۔ دل کے آئینہ خانوں میں سفاکیوں نے ڈیرہ جما یا۔ آنکھ میں بصارت موجود مگر بصیرت رخصت ہوئی۔ کوچہ و بازار میں بکتے جسم، تلاش معاش میں تار تار عصمتیں، کوڑے کے ڈھیروں پر کتوں کا رزق بننے والے معصوم جسم، کوڑھ زدہ روحیں، بھوک، بیماری اور غربت و افلاس کے جہنم میں جلنے والے بدن۔ ہر روز ہر قدم انسانی روح کو جھنجھوڑ دینے والے درد و کرب کے ان گنت مناظر، مگر مجال جو ایک منظر موم کے مجسموں پر اثر انداز ہو۔ ہاں اس مومی عجائب گھر میں اکا دکا انسان بھی آتے تھے۔ اب ڈھونڈے نہیں ملتے۔ وہ بھی ایک انسان تھا۔ وسیع و عریض سلطنت کا بلا شرکتِ غیرے مالک قرار پایا۔ ریاست کے تینوں ستون، عدلیہ، انتظامیہ، مقننہ اس کے تصرف میں اس کے اشارہ ابر و پر رقص کر تے تھے۔مگر وہ روتا اور کہتا ’’آج روئے زمین پر مجھ سے کم زور کون ہے۔ آج اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مر گیا تو خدا مجھ سے جواب طلب کرے گا۔ وہ انسان عنقا ہو گئے۔ موم کے پتلے جواب دہ تو کجا احساسِ جواب دہی سے عاری، مسافر بے بسی سے سر جھٹک کر بول اٹھتا ہے۔
مجھے فکرِ جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا
’’جی مجھ سے کچھ کہا ’’قطار میں آگے کھڑا فلپائنی گردن موڑ کر پوچھتا ہے۔ ’’نہیں خود سے ہم کلام ہوں۔ ‘‘مسافر عجائب گھرکے اندر جاتا ہے۔ ہر طرف موم کے پتلے ہیں۔ یہ وہ مشاہیر ہیں جن کے دم قدم سے گذرتے زمانے آباد تھے۔ مکمل جسم مگر روح سے بے گانہ۔ ان کی روحیں وقت نے کھینچ لیں۔ ان کے اصلی جسم رزقِ خاک ہوئے ان میں وہ عظیم ہستیاں بھی ہیں جن کی نگاہِ غلط انداز سے بادشاہوں پر لرزہ طاری ہو جاتا تھا۔ ا ٓ ج ہم جیسے بے حیثیت سیاحوں کے لیے سامانِ تماشا ہیں۔ بادشاہ، جنگجو، شاعر، سیاست دان، اداکار، ہر شخص اپنی جگہ یکتا، بے مثل مگر انجام۔
یہ چارلی چپلن ہے جو عمر بھر دوسروں کو ہنساتا رہا۔ مگر خود دکھ کی آگ میں جلتا تھا۔ بیوی ماہرِ نفسیات کے پاس لے گئی۔ اس سے خاوند کی کیفیت دیکھی نہ جاتی تھی۔ ماہرِ نفسیات جانتا نہ تھا کہ معمول کون ہے۔ معائنہ کیا۔ تجویز دی کہ معمول کو خوش رکھا جائے۔‘‘ مگر کیسے۔ بیوی کا سوال تھا۔ کہنے لگا:’’ اسے چارلی کی فلمیں دکھایا کرو جو آزردہ روحوں کو سامانِ نشاط مہیا کرتا ہے۔ ‘‘بیوی مایوسی سے لوٹ آتی ہے۔ مسافر اس چارلی کے سامنے کھڑا ہے۔ چارلی کا مجسمہ اچانک اپنی ہیئت بدلنے لگتا ہے۔ مسافر عینک اتار کر شیشہ صاف کرتا ہے، بارِ دگر دیکھتا ہے۔مگر یہ چارلی تو نہیں۔ چارلی تو اس وقت بھی اتنا موٹا نہ تھا۔جب اوائل عمری میں مسافر انگریزی فلموں کے جنون میں مبتلا ہو کر چارلی سے متعارف ہوا تھا۔ یہ ابھی کچھ دیر پہلے بھی تو اتنا موٹا نہ تھا۔ آہستہ آہستہ منظر صاف ہو تا ہے۔ یہ کیا؟ مسافر کے سامنے تو پاکستان فلم انڈسٹری کا کامیڈین معصوم چہرہ لیے رفیع عرف ننھا کھڑا ہے۔ جو عمر بھر بچوں سے لے کر بوڑھوں تک کو ہنساتا رہا۔ آزردہ روحوں کو آسودگی دیتا رہا۔ مگر خود نہ جانے کس دکھ میں مبتلا تھا کہ با لآخر اپنے ہاتھوں اپنی جان لے لی۔ مسافر کو انڈین فلم ’’میرا نام جو کر ‘‘ یاد آتی ہے۔ جس کا کامیڈین کر دار اپنی ماں کی میت چھوڑ کر آخری سین کرنے سٹیج پر آتا ہے۔ اداکاری کرتا ہے۔ لوگوں کو ہنساتا ہے۔ اشکوں کی برسات تیز تر ہو جاتی ہے۔ آنسو لہو رنگ ہو جاتے ہیں۔ مومی مجسموں کے قہقہے دو چند ہو تے ہیں۔ واہ واہ!کیا ادا کاری ہے۔
مومی مجسمے اداکاری کے گرویدہ ہیں۔حقیقت کوئی نہیں جاننا چاہتا، جاننا بھی نہیں چاہیے، وہ انسانوں کا کام ہے، مومی مجسموں کا نہیں۔مسافر آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہ نپولین بونا پارٹ ہے۔ فرانس کا مردِ جری جس کی لغت میں شکست کا لفظ نہ تھا۔ چھوٹے قد، موٹی گردن اور لمبوترے سر والا نپولین پنجوں کے بل کھڑا ہے۔ ذہانت میں بے مثل، شجاعت میں یکتا، کاکس گھرانے کا فرزند ہزاروں کے لشکر کو کمانڈ کرتا ہے۔ ایک ایک سپاہی کو نام سے پہچانتا ہے۔ انگریز سے اس کی جنگ عروج پر تھی، جب انگریز امیرالبحر! اسے خط لکھتا ہے۔ ’’نپولین ! جان لو یہ تمہاری مسلّط کردہ جنگ بے مقصد ہے۔ تم فرانس کی سلطنت کو وسعت دینے کے لیے لڑ رہے ہو۔ تمہارا مقصد محض ہوس ملک گیری ہے۔ جب کہ ہم سلطنت عظمیٰ برطانیہ کی عزت و وقار کے لیے لڑتے ہیں۔ سو آؤ ہم دونوں واپس چلے جائیں۔‘‘ نپولین جواب دیتا ہے۔
’’مجھے تمہارے کہے سے اتفاق ہے۔ جس کے پاس جو چیز نہیں ہوتی و ہ اسی کے حصول کے لیے لڑتا ہے۔‘‘نپولین کا فقط یہ ایک جملہ انگریز کے منہ پر تھپڑ ہی نہیں بلکہ اس کی پوری نفسیات کا عکاس ہے۔ پھر یہ جرّی جرنیل جس نے میدان جنگ میں پس پا ہونا نہ سیکھا تھا۔ انگریز کی مکارانہ چال کا شکار ہو جاتا ہے۔ سینٹ ہلیینا کا قید خانہ اس کا مقدر بنتا ہے۔
تنگ و تاریک کوٹھڑی، قید تنہائی، کم خوراکی اور توہین آمیز سلوک، خوراک لانے والا سپاہی کہتا ہے۔’’ جناب آپ بے بس ہیں۔ کچھ نہیں کر سکتے تو انگریزوں سے احتجاج تو کر سکتے ہیں۔ اس سلوک پر۔ احتجاج تو آپ کا حق ہے۔ ‘‘وہ مردِ جرّی بپھر جاتا ہے۔ کہتا ہے۔’’ جاؤ اور جا کر اپنے آقاؤں سے کہہ دو، نپولین کل بھی بادشاہ تھا۔ آج بھی بادشاہ ہے۔ بادشاہ صرف حکم دینے کے لیے زبان کھولتے ہیں۔ احتجاج کرنے کے لیے نہیں۔ تم نپولین کو کبھی نہیں توڑ سکو گے۔ نپولین فرانس کی غیرت کی علامت ہے۔ غیور انسانوں کو قید کر لینے یا ان کے سر جسموں سے اتار لینے سے اُنھیں شکست نہیں دی جا سکتی۔The man of will can be destroyed but can never be defeated.” یہ ہٹلر ہے۔ طویل قامت با رعب شخصیت۔ اوپر کا دھڑ آگے کی طرف قدرے جھکا۔ ایک عقاب کی مثل اڑنے اور شکار پر جھپٹنے سے پہلے کا انداز۔ آنکھیں کہیں دور لگی جیسے دنیا کے دوسرے کو نے کی تلاش میں ہوں۔ یہاں سیاحوں کا ہجوم ہے۔ ہر شخص جیسے مسحور ہو کر رہ گیا ہو۔ کوئی بات بھی کرتا ہے۔ تو فقط ہونٹ ہلتے دکھتے ہیں۔ مسافر کے عین آگے ایک جاپانی جوڑا ہے۔ مرد اپنے دستی بیگ سے کوئی چیز نکلا مٹھی میں چھپا لیتا ہے۔ مسافر متجسس ہوتا ہے۔ وہ جاپانی پر نظر رکھے اس کے پیچھے چپکا کھڑا ہے۔ ہجوم آہستہ آہستہ آگے سرک رہا ہے۔ جیسے اپنے ہاں جنازے کے وقت میت کا چہرہ دیکھنے لوگ آہستہ رو ہوتے ہیں۔ پھر دیکھ چکنے کے بعد تیزی سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ جاپانی جوڑا ہٹلر کے پُتلے کے قریب پہنچتا ہے تو مرد مٹھی میں دبی چیز پتلے کے پاؤں میں رکھ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ مسافر بغور دیکھتا ہے۔ گلاب کا ننھا سا سرخ پھول پُتلے کے پاؤں میں پڑا ہے۔ جاپانی جوڑا جا چکا ہے۔ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے ؟ کیا یہ ہیرو شیما کے سانحے کا رد عمل ہے۔ شاید مگر ایک دوست وہ بھی تو ہوتا ہے۔ جو دشمن کا دشمن ہو۔
یہ انڈین ممدوح، تین انڈین اداکاروں کے مجسمے ہیں۔ مگر چھوڑیئے۔ امیتابھ ہو۔ شاہ رخ ہو۔ یا ایشوریا۔یہ ہمارے ممدوح، ہمارے ہیرو نہیں ہو سکتے۔ اس لیے نہیں کہ انڈین ہیں۔ بل کہ اس لیے کہ زندہ لوگ ہیں۔ اور وہ جو انگریزی میں کہا جاتا ہے کہ زندہ ہیرو کبھی قابلِ تعریف نہیں ہوتے تو درست ہی کہا گیا ہے۔ نہ جانے کب ہمارا آج کا ہیرو ہمارے معیار پر پورا نہ اتر سکے اور زیرو بن جائے۔ شاید اسی لیے بعض قومیں اپنے زندہ ہیروز کو رزقِ صلیب بنا کر دوام بخش دیتی ہیں۔ اپنے بے مثل و بے نظیر کر داروں کو اپنے ہاتھوں قتل کر کے امَر کر دیتی ہیں۔ پھر عمر بھر مرثیہ خوانی کے سامان پیدا کر لیتی ہیں۔
میڈم ٹساڈ میوزیم کی وجہ شہرت تو مومی مجسمے ہیں۔ مگر یہاں مجسموں سے کہیں زیادہ قابلِ دید مناظر ہیں۔ یہ قدیم برطانیہ کے رہزنوں کی نیم تاریک گیلری ہے۔ بھدّے، بے ڈھنگے، پرانے لباسوں میں لِپٹے رہزن چمکتی تلواریں، بھالے، نیزے لیے سیاحوں کو خوف زدہ کر کے سامانِ نشاط مہیا کر تے ہیں۔ ایک مکروہ صورت چڑیل نما عورت مسافر کے سَر پر تلوار تان کر نعرہ لگا تی ہے۔ ’’نکال دو۔ جو کچھ ہے۔‘‘ مسافر موبائل فون نکال کہتا ہے۔’’ یہ لو، مگر کال کر کے واپس کر دینا۔‘‘ وہ ہنستی ہوئی پلٹ جاتی ہے۔
میوزیم تین منزل اوپر اور اتنا ہی زیرِ زمین ہے۔ اب ٹرین کا سفر شروع ہوتا ہے۔ نیچے کی طرف ریلوے ٹریک کے دونوں طرف برطانیہ کے مختلف ادوار کے انسان اپنے اپنے دور کے لباسوں میں مختلف کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ تقریباً چار سو برسوں کا سفرِ ماضی ہے۔ جو آدھ گھنٹے میں مکمل کر کے ٹرین واپس دوسرے راستے سے جدید برطانیہ کے سٹیشن پر آ رکتی ہے۔ ماضی کے راستے میں وہی لوہار کی دھو نکنیاں پارچہ بافوں کی دیسی کھڈیاں۔ تیر۔ بھالوں سے جانوروں اور کم زور انسانوں کا شکار۔ سب کچھ وہی جو مسافر اپنے سفرِ حیات میں اپنی آنکھوں سے وطنِ عزیز میں مشاہدہ کر چکا ہے۔ مگر جدید انسان کے لیے یہ سب عجوبہ ہے۔
انسانی نفسیات کا یہ عجیب تضاد ہے کہ جس چیز سے خوف کھاتا ہے۔ اسی کو دیکھنے کا بھی متمنی رہتا ہے۔ اسی نفسیات کے پیش نظر میوزیم کے دہشت گھر میں ہجوم کثیر ہے۔ باہر واضح ہدایت درج ہے۔ ’’تنہا مسافر، بچے اور کم زور دل کے مالک داخلہ سے گریزاں ر ہیں۔ پابندی نہیں مگر احتیاط لازم ہے۔‘‘ یہ تاریک ماحول میں آہنی پنجوں سے مسلح، ہیبت ناک ماسک چڑھائے کریہہ المنظر چڑیلیں دانت نکوستی مسافروں پر جھپٹتی ہیں۔ ہر دو فریق ایک دوسرے کے جسموں کو چھو نہیں سکتے۔ مگر چیخیں نکل جاتی ہیں۔ بچے آنکھیں موند لیتے ہیں، بیویاں شوہروں کے گلوں میں جھول جاتی ہیں۔ اس عمل میں اپنے اور دوسروں کے مردوں کی پہچان ذرا مشکل ہو جاتی ہے۔ مگر دہشت اور عقیدت کے ماحول میں سفلی جذبات مغلوب ہی رہتے ہیں۔ لہٰذا یہاں کوئی حرکت قابل گرفت نہیں۔ اچانک قبروں سے مردوں کے پنجر اٹھ کر سیاحوں پر جھپٹتے ہوں تو اپنے پرائے کی پہچان کسے رہتی ہے۔ اگرچہ مسافر کے لیے ان مناظر میں کوئی کشش نہیں۔ مگر دہشت گھر کا آخری منظر مسافر کے قدم روک لیتا ہے۔ یہ خوں گرفتہ شخص کسی بادشاہ کا معتوب ہے۔ گردن اس کی ایک شکنجے میں جکڑی ہے۔ ہاتھ پشت پر بندھے ہیں۔ گھٹنے زمین سے چمٹے ہیں۔اچانک اوپر سے ایک جلاد کا بالوں بھرا بھدا ہاتھ نمودار ہوتا ہے۔ ہاتھ میں چمک دار تیز دھار ٹوکہ ہے۔ کھٹاک سے ٹوکہ سَر کو تن سے جدا کر دیتا ہے۔ سیاح بڑ بڑاتے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ مگر مسافر دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا ہے۔ اس منظر کو بار بار دیکھنے کا خواہاں ہے۔ مسافر کا مرکزِ نگاہ جلاد کا ان تھک ہاتھ اور مقتول کی آنکھیں ہیں۔ گردن کٹنے سے قبل اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی پر اسرار چمک دَر آئی ہے۔ جیسے وہ اپنے کام مکمل کر چکا ہو۔ دن بھر کی مشقت کے بعد چین کی تلاش میں گھر جاتا ہو۔ ایک طمانیت، ایک آسودگی اس کے چہرے سے ہویدا ہے۔ وہ غالباً کوئی پیغام لایا تھا۔ جو پہنچ چکا ہے۔ اس کا مقصد پورا ہو گیا ہے۔ سو مطمئن ہے۔ اس جان کی کوئی بات نہیں یہ جان تو آنی جانی ہے۔
اچانک ایک خاتون چیخ مارکر مسافر پر آ گرتی ہے۔ وہ منظر سے خوف زدہ ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ زمین بوس ہو۔ مسافر اسے تھام لیتا ہے۔ وہ حواس سے بے گانہ ہے۔ مسافر اسے گھسیٹ کر منظر سے تھوڑا پرے لے جاتا ہے۔ زبردستی منہ کھول کر اورنج جوس کے چند قطرے اس کے حلق میں ٹپکاتا ہے۔ تو محترمہ کے حواس بحال ہو تے ہیں۔ مسافر سے التجا کرتی ہے کہ جلدی سے اُسے بھوت گھر سے نکالا جائے۔ اب وہ کھڑی ہو گئی ہے۔ مگر لڑکھڑاتی ہے۔ مسافر اُسے کھینچ کھانچ کر بھوت گھر سے باہر لاتا ہے۔ محترمہ کے حواس بحال ہوتے ہیں۔ تو اظہار ممنونیت کے طور پر مسافر کو ڈرنک کی پیش کش کر تی ہے۔ میوزیم کے اندر بڑے ریسٹورنٹ میں ہر قسم کے ڈرنک دستیاب ہیں۔ ہم دونوں اپنے اپنے پسندیدہ ڈرنک لیے ایک پر سکون گوشے میں جا بیٹھتے ہیں۔ محترمہ تقریباً 28برس کی ہوں گی۔ خود 22بتا رہی تھیں جب کہ مسافر 20پر مصر تھا۔ عجب بے ڈھنگے انداز سے بنائے گئے بال اُسے کسی دوسری دنیا کی مخلوق ظاہر کرتے۔ زردی مائل گندمی رنگ، پرانی بوسیدہ جینز کی پتلون شرٹ۔ہیئت کذائی سے کہیں عجیب تر نام۔ مراکش کے علاقہ زناتہ کے کسی غیر معروف نام کے شہر میں صوق خلیل نام کی گلی کی رہائشی اپنی گیارہ عدد شادیوں کی کہانیاں سنانے پر تلی بیٹھی ہے۔ ایسی کہانیاں جن سے مسافر کو کوئی دل چسپی نہیں ہے۔ سو مسافر اتنی شادیوں کا سن کر چونک جاتا ہے۔ وہ اصل حقیقت بتاتی ہے کہ مراکش میں نکاح موقت کی رسم عام ہے۔ یورپ اور افریقہ کے ممالک سے نشاط کے متلاشی مراکش پہنچتے ہیں۔ 15روز کے لیے شادی کا معاہدہ ہوتا ہے۔ جسے باقاعدہ نکاح سمجھا جاتا ہے۔ اور قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ ایامِ مذکورہ گذرنے کے بعد نکاح ختم۔ عورت آزاد، اب وہ کوئی دوسرا خاوند تلاش کرتی ہے اور مرد یہ جا وہ جا۔ وہ اگلے برس پھر آئے گا۔ پھر نکاح کرے گا۔ مگر لڑکی کوئی اور ہو گی۔ اس نکاح کے ایام میں نان نفقہ، قیام و طعام مرد کے ذمے ہے۔ کرائے کا مکان لے کر ہوٹل بک کر کے یا پھر مناسب معاوضہ طے کر کے خاتونِ منکوحہ کے گھر میں ہی قیام کرے۔ حق مہر ضرور ہے۔ جو فریقین کی مرضی یا مجبوریوں کے پیشِ نظر طے کیا جاتا ہے۔ اکثریت مسلمان ہیں۔ مگر نکاح کے لیے آنے والے شائقین عیاشوں کے لیے مذہب کی قید نہیں۔ سو یہ تھی محترمہ کی شادیوں کے حقیقت۔ ڈرنک ختم ہو چکا تھا۔ محترمہ مسافر کے ہم رکاب ہونے پر اصرار کرتی تھی اور مسافر کے پاس فقط ایک راستہ بچتا تھا کہ اس بلائے بے درماں کو جُل دے کر فرار ہو جائے۔ سگریٹ خریدنے کے بہانے مسافر اسے انتظار کرنے کا کہتا ہے اور میوزیم سے نکل کر بیکر سٹریٹ میں گھس جاتا ہے۔
بیکر سٹریٹ کو شہرت بخشنے والا سِری کہانیوں کا مصنف سر آرتھر کانن ڈائل ایک سکاٹ تھا۔ جس نے سِری ادب میں شر لاک ہومز اور ڈاکٹر واٹسن کے وہ کر دار تراشے جو انگریزی سِرّ ی ادب کا سرمایہ ہیں۔ اور رہتی دنیا تک قائم رہنے والے ہیں۔ بیکر سٹریٹ کی نکر پر چبوترے پر شرلاک ہومز کا طویل قامت سیاہ کانسی سے بنا مجسمہ نصب ہے۔ گلی میں اس کر دار کے نام سے ایک مکان منسوب ہے۔ خدا جانے کانن ڈائل کا اپنا مکان تھا۔ یا پھر کسی من چلے صاحبِ ذوق نے شرلاک کے کر دار کو حقیقی روپ دلوانے کے لیے وقف کیا ہو۔ بہر حال افسانوی کر داروں کو حقیقی ثابت کرنے کی انگریز کی ایسی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔ یہ کر دار شرلاک ہومز ایک ارسٹوکریٹ ذہین ترین انگلش جنٹل مین کا ہے۔ جاسوسی اس کا مشغلہ ہے۔ دھن دولت کی لالچ سے بے نیاز کھاتا پیتا، ہمیشہ بلیک کیب پر سفر کرنے والا متحرک شخص جس کی قوت مشاہدہ بڑے بڑے گُنجلک عقدے کھول دیتی ہے۔ ڈاکٹر واٹسن شر لاک کا روم میٹ اور ہم راز دوسرا کر دار جو بچوں جیسا تجسّس رکھتا ہے۔ شر لاک کی قوتِ مشاہدہ کے بل پر کی گئی پیشین گوئیوں سے متعلق سوال پوچھتا ہے۔ مثلاً ایک نووارد موکل کو شر لاک بتاتا ہے کہ وہ روس کے فلاں علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔ وہاں صبح بارش ہو رہی تھی۔ وہ فلاں فلائیٹ سے لندن پہنچا ہے۔ اس کے کمرے کی کھڑکی مشرق میں کھلتی ہے۔ آج صبح اس کے گھر میں بجلی نہ تھی۔ تو نووارد اس کے تمام بیانات کی تصدیق کرتا ہے۔ بعد میں ڈاکٹر واٹسن حیرت کا اظہار کرتا ہے کہ شرلاک کو ان تمام باتوں کا علم کیسے ہوا۔ تو وہ وضاحت کرتا ہے کہ یہ تو قوتِ مشاہدہ اور کامن سنس کی بات ہے۔ موکل مذکور کے بیگ پر روسی فلائیٹ کا ٹیگ لگا تھا۔ جس پر آج کی تاریخ درج تھی۔ اس کے جوتے سرخ مٹی کے گارے میں لتھڑے تھے۔ روس کے فلاں علاقے کی مٹی سرخ ہے۔ گارا بارش کی علامت ہے۔ اس کے چہرے پر ایک طرف صاف شیو تھا۔ دوسری طرف کچھ بال رہ گئے تھے۔ گویا صاف حصہ کھڑکی سے در آنے والی روشنی کا مرہون منت تھا۔ جب کہ دوسری طرف بجلی نہ ہونے کی وجہ سے شیو مکمل نہ ہو پائی تھی۔ وغیرہ۔
لندن کا ایک اور دن ختم ہوتا ہے۔ مراکشی لڑکی سے ٹکراؤ کا خطرہ ہنوز موجود ہے۔ چنانچہ مسافر بڑی سڑک پر بس پکڑنے کا رسک لینے سے گریزاں پیدل ویسٹ بورن کی راہ لیتا ہے۔ لندن کی طویل رہائشی گلیوں میں کالوں کے دست سوال اور گوروں کے کتوں سے دامن بچاتا شرلاک ہومز کی طرح لمبے لمبے ڈگ بھرتا دو گھنٹے کی مسافت طے کرتا، جائے قیام پر پہنچتا ہے۔
ایک چمک دار صبح، جو گوروں کے دیس میں کم کم ہی طلوع ہوتی ہے۔ ایسی صبح جس کی خواہش اہل برطانیہ کے من مندر میں بستی ہے۔ ایسی دیوی جس کے درشن کی تمنا ہر کہ و مہ کو ہے۔ آج اس دیوی کا درشن دن ہے۔اس نے ورشانجلی کو مغلوب کر لیا ہے۔ کھلے موسم کی مبارک، سلامت کا غوغا ہے۔ چہروں پر مسکراہٹ ہے۔ گویا عید کا سماں ہے۔آج مسافر ایک بار پھر ماربلوکا راستہ پیدل ناپتا۔ میکڈانلڈ لیفٹ اِن کے آگے عین ہائیڈ پارک کے سامنے پہنچتا ہے۔ عام سواری بس کا روزانہ کی بنیاد پر حاصل کیا پاس جیب میں ہے۔ ٹاور برج آخری منزل ہے پھر واپسی ہو گی۔ بس نے ٹاور برج کے اوپر سے گذرنا ہے۔ مگر مسافر برج کی اِس طرف اُتر جاتا ہے۔ سامنے برج ہے، جس کا ہیکل اساسی ہزاروں ٹن سٹیل کا خوب صورت تناسب لیے سامنے کھڑا ہے۔ مسافر اکیلا سیاح ہے جو پل پر سے پیدل گذرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مقامی لوگ چلتے ہیں۔ جن کے لیے اس عجوبے میں کوئی کشش نہیں۔ ان کا یہاں سے پیدل گذرنا روزانہ کا معمول ہے۔ وہ اپنے کاموں پر جاتے ہیں۔ شاید اُنھیں روزانہ یہاں سے دو بار گذر نا ہوتا ہے۔ سیاح خواتین و حضرات بسوں پر بیٹھے کھڑکیوں سے کیمرے نکالے دھڑا دھڑ تصویریں اتارتے ہیں۔ نیچے ٹیمز اپنے پیٹ میں سیال زمرد بھرے بہ کمال سکون رواں ہے۔ پل کے دوسری طرف عین کنارے پر ایک ننھا منا سا میوزیم پل کی تاریخ کے مختلف ادوار کی تصویری نشان دہی کرتا ہے۔ مگر کم کم سیاح ہی اس کے وجود سے آشنا ہیں۔ مسافر میوزیم میں چند لمحے گذار کر ٹیمز کے کنارے پیدل چلنے کا ارادہ کرتا ہے۔ اب دریا بائیں ہاتھ ہے۔ دائیں طرف کی سڑک قدرے دور ہو گئی ہے۔ بیچ میں گرین بیلٹ نے سڑک پر چلنے والی گاڑیوں کا شور ضم کر لیا ہے۔ گویا سکون ہی سکون اور اکیلا مسافر آہستہ خرام دریا کنارے چلتا چلا جاتا ہے۔ پہاڑ اور پانیوں میں مسافر کے لیے ایک عجیب کشش ہے۔ پہاڑوں کے اس پار دیکھنا اور پانیوں کے ساتھ ساتھ چلنا مسافر کا ازلی جنون ہے۔ اور وہ چلتا ہے۔ یہیں کہیں ورڈز ورتھ نے بیٹھ کر اپنی نظمیں تخلیق کی ہوں گی۔ شاید ادھر ہی کسی جگہ اس مرد فطرت شناس نے فطرت کے چہرے سے نقاب اٹھائی ہو گی۔ بائرن انسانی خال و خط میں حسنِ فطرت تلاش کرتا تھا۔ ورڈز ورتھ نے مناظر فطرت کے پردوں میں حسنِ ازلی تلاش کیا۔ شاعرِ مشرق نے کہا تھا۔
کوہ و دریا و غروبِ آفتاب
دیکھیے فطرت کو آنجابے حجاب
مسافر انھی تصورات میں گم آبِ رواں کے کنارے چلتا ایک بار پھر بگ بین کے سامنے جا نکلتا ہے۔ وہی، اڈوائننگ، ویسٹ منسٹر، ہارس گارڈز سب وہی مگر سیاحوں کا ہجوم وہ نہیں جو کل تھا۔وہ کہیں آگے جا چکے ہیں۔ جو کل تھے آج نہیں۔ جو
آج ہیں کل نہ ہوں گے۔ اب مسافر کو ان جگہوں میں کوئی کشش نظر نہیں آتی۔ اسے یوسف اٹکی کنعانی کی کتاب کی تلاش ہے۔ چنانچہ سنٹرل لائبریری کا پتا پوچھتے اس عظیم الشان عمارت میں جا پہنچتا ہے۔ جو اپنے پیٹ میں ماضی کے خزانے چھپائے اہل نظر کو دعوتِ نظارہ دیتی ہے۔ کتاب مذکورہ ڈاکٹر ارشد محمود ناشادؔ کی ضرورت تھی۔ مگر باوجود تلاشِ بسیار کے نہ مل پائی۔ قبل ازیں مسافر بریڈ فورڈ برمنگھم کی مرکزی اور مضافاتی لائبریریوں میں جھانک چکا تھا۔ مگر لندن کی سنٹرل لائبریری کی شان ہی جدا ہے۔ یہ مسافر کی انگلستان میں پہلی شکست تھی۔ مسافر کو کتاب نہ ملنے کا رنج اس لیے تھا کہ ایک دوست کی فرمائش پوری نہ کر سکا۔
یہ ہائیڈ پارک ہے۔ یہ علاقہ اپنے لاہور کے ریلوے سٹیشن کی طرح پورے لندن کے لیے ٹرانسپورٹ کے حوالے سے ایک مرکز کا کام دیتا ہے۔ لندن کے ہر دور افتادہ علاقے سے چلنے والی گاڑیوں کی گذر گا ہ ہے۔ ایک جنکشن ہے کہیں سے گاڑی پر بیٹھو۔ یہاں اترو اور اپنی منزل مقصود کی گاڑی پکڑو۔ ہوٹل، ریسٹورنٹ، پب، کلب، نقشوں کی دکانیں گویا مسافروں کے لیے ضرورت کا سامان موجو د ہے۔ پارک کے اندر ایک الگ دنیا ہے۔ لڑکے بالے، بوڑھے مرد خواتین پختہ روشوں پر پاؤں میں پہیے باندھے گاڑی کی رفتار سے بھاگتے ہیں۔ جوگنگ کرتے ہیں۔ کتوں کو ٹہلاتے ہیں۔ ہر قریب سے گذرنے والے کو دیکھ کر مسکراتے ہیں۔ ہیلو ہائے کہتے اور خوش خوش رہتے ہیں۔ روشوں کے چاروں طرف دیدہ زیب سبزہ زار ہیں۔ پھولوں کی چمن بندیاں ہیں۔ قدیم درخت ہیں۔ جن سے ٹیک لگائے جدید جوڑے ایک دوسرے کے بدنوں سے حدتیں سمیٹنے میں مصروف مگر مجال جو کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھتا ہو۔
ماسوائے مسافر جیسے نوواردوں کے جن کے لیے یہ مناظر چونکا دینے والے ہیں۔ وگرنہ ادھر تو :ع کسے رابا کسے کار نباشد
یہ اس طرف سپیکر ز کارنر ہے۔ جس کے متعلق مسافر پڑھ چکا تھا۔ یہاں چند لوگ کھڑے تو ہیں۔ مگر سٹیج خالی ہے۔ سٹیج کے گرد کھڑے لوگ شاید کسی سپیکر کی آس میں ہیں، کوئی من چلا، دل جلا آئے گا۔ دل کا غبار نکالے گا۔ یہ ہمہ وقتی معمول ہے۔ گویا سپیکر نہیں تبتی لامے ہیں۔دن بھر عقیدت مندوں سے خوش کلامی کرتے ہیں۔ شام سمے چہیتے چیلے کو اکیلے میں بُرا بھلا کہہ کر دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں۔ کتھارسس کر لیتے ہیں۔ اس جگہ مقرر جو چا ہے کہہ لے۔ کوئی قدغن نہیں۔ گرفت نہیں۔ ٹونی کے لتّے لیتے ہیں۔ گورڈن براون پر برستے ہیں۔ ایٹلی کا گڑا مردہ اکھاڑتے ہیں۔ حتیٰ کہ چرچل تک کو نہیں بخشتے۔ مگر مجال جو کوئی ملکۂ عالیہ کی شان میں لب کشائی کرے۔ عقیدت کا یہ نام بڑے بڑے سر پھروں کو راہِ راست پر رکھتا ہے۔
مسافر سٹیج پر مقرر نہ دیکھ کر مایوس لوٹتا ہے۔ ابھی چند قدم اٹھائے تھے کہ سٹیج پرسے ابھرنے والی آواز واپس لوٹنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ ایک بھاری تن و توش کا انگریز ہے۔ جو اپنے سے کہیں زیادہ تنومند کتے کی زنجیر تھامے بولتا ہے۔ بوڑھا کتا جس کے دانت گر چکے ہیں۔ پنجوں کی نوکیں کند ہو چکی ہیں۔ منہ سے رال ٹپکتی ہے۔ بظاہر کتا دکھتا بھی نہیں۔ کوئی عجیب سی مخلوق لگتی ہے۔
’’خواتین و حضرات! یہ ہمارا انگریز کا سدھا یا کتا ہے۔ جھپٹنے، پلٹنے میں بے مثل، مالک کی وفاداری میں یکتا۔ لذت کام و دہن سے بے نیاز، مالک نے جو ڈالا کھا لیا۔ نہ دیا تو بھوکا رہ کر چوکیدار ی کرنے والا۔ ہر حال میں مالک کا شکر گذار، شکایت سے نا آشنا۔ مگر یہ پرانے وقتوں کی بات ہے۔ اب ہم نے کتوں کو سدھانا ختم کر دیا۔ اس عمل میں ہر آن ہمیں ایک خطرہ رہتا تھا کہ شاید کبھی کوئی احسان فراموش مالک پر نہ جھپٹ پڑے۔ سو ہم نے پیوند کاری کر کے ان نسلوں کو گھوڑوں میں بدل دیا ہے۔ اب ہم اصیل گھوڑے سدھاتے ہیں۔ وہ بے ضرر بھی ہیں اور مفید بھی۔ اپنی چراگاہوں سے گھاس چرتے ہیں۔ اور اپنی پیٹھوں پر ہمیں سواری دیتے ہیں۔ خواتین و حضرات ! کتوں کو سدھانے کا کام اب غلیظ امریکیوں نے سنبھال لیا ہے۔ وہ ہماری بھونڈی نقل کرنے میں کوشاں ہیں۔ مگر جانئے گا کہ سدھانے کا یہ فن نسلوں کی ریاضت مانگتا ہے۔ ذلیل امریکی فقط مار پیٹ کر ڈرا دھمکا کر سدھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجہ الٹ ہوتا ہے۔ مالکوں کو لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ سدھانے کا عمل ہمارا آبائی نسخہ ہے۔ ہم بد ذات امریکیوں کو دلی داد ضرور دیں گے۔ مگر رموزِ فن کی ہوا تک نہ لگنے دیں گے خواتین و حضرات !‘‘مسافر مقرر کی بکواس یکسر ناقابل فہم سمجھ کر پیاس مٹانے بار کا رخ کرتا ہے۔

کیسرین

مسافر ہائیڈ پارک سے نکل کر کیسینو کی سمت جاتا ہے۔ دو گھڑی سستائے گا۔ تماشائے اہل کرم کے کچھ مزید مناظر سمیٹے گا۔ ارادہ رکھتا ہے کہ آج لندن میں اس کی آخری رات ہے۔ مگر مسافروں کے ارادوں کا پاس کب ان کے اختیار میں ہوتا ہے۔ زندگی بھی ایک سفر ہے۔ زندہ انسان ارادے باندھتے ہیں۔ مشیّت مسکراتی ہے۔ باب العلم فرماتے تھے۔ ’’میں نے اپنے ارادوں کے ٹوٹنے میں اپنے رب کو پہچانا۔‘‘شام گہری ہوتی ہے۔ دن بھر کے تھکے بدن ذہنی آسودگی کی خاطر جوق دو جوق آتے ہیں۔ پب، کلب، کیسینو آباد ہو رہے ہیں۔ مختلف طبقوں کے لیے علیحدہ علیحدہ جائے تعیش ہیں۔ جگہ کا انتخاب جیب کا مرہونِ منت ہے۔ ہما شما کے لیے الگ، مخصوص اراکین کے لیے علیحدہ، ڈریس سرکل جدا۔ یہ بوڑھوں کی جائے عشرت ہے۔ وہ سامنے جوان جسموں کے لیے جائے نظارہ ہے۔ بائیں ہاتھ مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کا کلب ہے۔ باہر کرنسی تبدیلی کرنے کا کاونٹر ہے۔ البتہ ایک چیز مشترک ہے۔ ہر پب، کلب یا کیسینو کے باہر کالے سوٹوں میں ملبوس لحیم شحیم کالے چوکی دار مستعد کھڑے ہیں۔ جن کی جیبیں بھاری اور چہروں پر خشونت ہے۔ یہ بہکنے والوں کو راہِ راست پر رکھنے اور شوریدہ سروں کو درسِ سلامتی دینے کے فن میں طاق ہیں۔ ان کے کھردرے سخت ہاتھ فن مکہ بازی میں مشاق ہیں۔ مسافر سیاحوں کے کلب کو نظر ا نداز کرتا بڑھا چلا جاتا ہے۔ کیا رکھا ہے یہاں۔ وہی مشرقی چہرے، رنگ دار لوگ، چپٹی ناکیں، بھاری رک سیک، بے ڈھنگے لباس پھٹی پتلونیں، ہر چیز خریدنے سے پہلے قیمتوں کا استفسار، سودوں کی تکرار، کاونٹر پر پاسپورٹوں کی بھرمار۔ یہ سامنے ویگاس نامی کیسینو ہے۔ پیشانی پر DRESS CIRCLEدرج ہے۔ سوٹ میں ہونا ضروری ہے۔ پاؤں میں بند بوٹ لازمی، اور وہ ہیں۔ کالے چوکیدار کی نظر پہلے پاؤں پر پڑتی ہے۔ مسافر بے دھڑک اندر گھس جاتا ہے۔ اندر نہایت مہذب انگریز ریسپشنسٹ ممبر شپ کا کارڈ طلب کرتا ہے۔
’’نہیں ہے۔‘‘ ’’ تو پھر نہیں جا سکتے۔ ‘‘مسافر کے جواب پر انگریز کہتا ہے۔ ’’مگر ہر مسئلے کا متبادل تو ہوتا ہے۔ ‘‘مسافر ’’جی ہاں، کلب کا کوئی معزز ممبر آپ کو اپنا مہمان قرار دے۔ ‘‘’’مگر میں تو اجنبی ہوں۔ پہلی بار آیا ہوں۔ آپ کے علاوہ کسی سے واسطہ نہیں۔ مسٹر کوئی تو سبیل نکالو۔‘‘ ’’اوکے۔ آؤ میرے ساتھ۔ پاسپورٹ تو رکھتے ہونا؟‘‘کاونٹرگرل مسافر کو مخصوص مقام پر کھڑا کر کے سامنے نصب کیمرے سے تصویر اتارتی ہے۔ تصویر اترواتے وقت دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے کاونٹر پر نصب شیشوں پر دھرنے پڑتے ہیں۔ اس طرح فنگر پرنٹ بھی محفوظ ہو جاتے ہیں۔ اور تصویر بھی۔ خاتون پاسپورٹ کی فوٹوکاپی قابلِ واپسی اور پانچ پونڈ نا قابلِ واپسی وصول کر کے پاس جاری کرتی ہے۔ اب مسافر لندن کے اس بڑے کیسینو ویگاس کا ممبر بن چکا ہے۔ جب چا ہے آ سکتا ہے۔ انٹری پاس نہ بھی ہو تو محض تاریخ پیدائش بتائے گا۔ اور کمپیوٹر اس کی ممبر شب کی تصدیق کر دے گا۔ مسافر اندر کیا داخل ہوا۔ ایک نئے جہان میں در آیا۔ یہ دوسری دنیا ہے۔ جوا کھیلنے کی بڑی بڑی مشینیں، رولٹ، گھومنے والی چرخیاں۔ ماہر فن آپریٹر اور دنیا جہان کے مرد و خواتین جواری۔ میزوں پر لاکھوں، کروڑوں روپوں کے ٹوکن، کھٹا ک کھٹاک کی آوازیں پیدا کرتے لمحہ بہ لمحہ انسانوں کی تقدیریں بدلتے ہیں۔ کسی نفس کو کسی دوسرے کو دیکھنے کو ہوش نہیں۔ مایا دیوی کے جنون نے انسان کی سب حسیں، سب خواہشیں منجمد کر دی ہیں۔ جو پی چکے ہیں۔ اُنھیں جام بھرنے کا ہوش نہیں۔ جن کے ساغر لبریز ہیں۔ گھونٹ بھرنے کی فرصت نہیں۔ یہاں کوئی T.Vچینل نہیں جس پر اسلام آباد کے سانحہ کے خونی منظر اُبھرتے ہوں۔ پر انسانی لہو کے کھیل سے کسی کے خونی مناظر ابھرتے ہوں۔ عراق کا المیہ پیچھے رہ گیا ہے۔ افغانستان میں انسانی لہو کے کھیل سے کسی کو سروکار نہیں۔ اس ہال کے باہر بھی انسان بستے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا۔ نہ ڈیلی ایکسپریس کی خون آلود چیختی چنگھاڑتی سرخیاں ہیں۔ نہ شام کے مرر کو داخلے کی اجاز ت ہے۔ مسافر کو ان مناظر میں بس اتنی ہی دل چسپی ہے کہ ٹک دیکھ لیا، دل شاد کیا اور چل نکلے۔ اس کی منزل تو بار کاونٹر ہے جہاں آسودگی کے لیے لذت کام و دہن کے سامان ہیں۔ کاونٹر جوا ہال سے تھوڑا ہٹ کر گلاس ونڈوز سے ڈھکا ہے۔ جہاں مشینوں کی کھٹا کھٹ ٹوکنوں کی ترنگ رنگ اور جواریوں کے نعرہ ہائے حُزن و مسرت نہیں پہنچ پاتے۔ مسافر ایک میز کے قریب سے گذرتے ہوئے چونک اٹھتا ہے۔ جانا پہچانا چہرہ۔ جی ہاں وطن عزیز کا ایک مقبول گلو کار۔ مایا دیوی کے جال میں الجھا دنیا و مافیہا سے بے خبر۔ غریب الدیار ہم وطن شائقین فن نے اس کی جیبیں بھری ہوں گی۔ جو یہاں الٹ دے گا۔ پھر اگلی رات ایک اور شو کر ے گا۔ شاید کسی اور شہر میں۔ صوفی شعراء کا کلام پیش کرے گا۔ اور عقیدت سے مغلوب سامعین نوٹ نچھاور کریں گے۔ شاید یہ پھر یہیں آئے گا۔ یا پھر ہوس زر اسے کسی اور کیسینو میں لے جائے گی۔ پھر کبھی نہ کبھی بسترِ علالت پر دراز ہو گا۔ تو اخبارات میں آرٹیکل چھپیں گے۔ ملک کا عظیم فن کار، انتہائی کسمپرسی کی حالت میں مر رہا ہے۔ حکومتِ وقت بے حس ہے۔ شائقین فن مندرجہ ذیل پتہ پر مالی مدد دینے کے لیے رابطہ کریں۔ ‘‘پھر وہ مر جائے گا۔ اخباروں میں سیاہ حاشیے چڑھائے جائیں گے۔ انجمنیں تعزیتی قرار دادیں پاس کریں گی۔ مرحوم فن کی دریا دلی اور جود و سخا پر مضمون لکھے جائیں گے۔ مسافر آگے بڑھ چکا ہے۔ وہ ایجوار روڈ پر شیشہ نوشوں کی سر مستیاں دیکھ چکا ہے۔ شیشہ نوش جن کی اکثریت عربوں پر مشتمل ہے۔ عراقی جنگ و جدل اور خونی مناظرے سے اکتائے لوگ، فلسطینی جدو جہد آزادی سے تھکے لوگ، اردن کے سیال سونے سے حاصل زر کثیر دونوں ہاتھوں سے لٹانے والے۔ شام کے بے فکرے، لبنانی دلال سرِ شام شیشہ نوشی میں غرق نشاط گھروں کے باہر محفلیں سجائے نازنین عالم سے چُہلیں کرتے ہیں۔ اسی ایجوار روڈ کے پس منظر میں مسافر کی نظر ان محلات کو بھی چھو چکی ہے۔ جو تیسری دنیا کے معصوم عوام کے خون پسینے کی کمائی لوٹ کر یہاں کھڑے کیے گئے ہیں۔ وطنِ عزیز کے ارباب سیاست اپنے دور اقتدار میں اس’’ علمِ صالح‘‘ کے لیے ملک میں ان تھک جدو جہد کرتے ہیں۔ پھر دوسروں کی باری لگتی ہے۔ تو یہ بھری جیبوں کے ساتھ ان محلات کو رونق بخشتے ہیں۔ یہیں ان ہی محلات میں بیٹھ کر حکومتی ایوانوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں۔ جذبۂ بقائے باہمی کے تحت عملی اقدامات سے گریز اور اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ ویگاس کیسینو کے بار میں سکون ہے۔ ہارے جواری مہنگی شرابوں میں غرق بد قسمتی کا ماتم کرتے ہیں یا صنف مخالف سے بزمِ راز سجائے غم غلط کرتے ہیں۔ یہاں جو چاہو پیو، مشروبات بے دام ہیں۔ آخر جن مہمانوں کی وجہ سے لاکھوں کی آمدن ہے، ان کی دل جوئی اور تواضع بھی تو لازم ہے۔
کاونٹر گرل سیماب صفت ہے۔ بار کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بلاوجہ پنجوں کے بل دوڑتی ہے۔ شیشے کے چمکتے گلاسوں کو نازک ہاتھوں میں پکڑے نفیس کپڑے سے صاف کرتی ہے۔ صاف ہو چکتے ہیں تو بارِ دگر یہی عمل دہراتی ہے۔ قدرے دراز قد، یمنی کمر، آنکھوں میں بہ یک وقت کشش اور ذکاوت قدموں سے زیادہ تیز طرار زبان۔ مسافر کاونٹر سے جڑا سٹول سنبھالتا ہے۔ پسند کے مشروب کا کہتا ہے۔ خاتونِ محترم فوراً حاضر کرتی ہیں۔ ساتھ ہی سوال بھی داغ دیتی ہیں۔ ’’معاف کرنا، کون ہو؟‘‘
مسافر:’’اس سوال کا جواب مجھے آج تک خود نہیں معلوم ہو سکا۔‘‘
خاتون: ’’اوہ !فلسفہ کی بات کرتے ہو۔ میں بھی فلسفے کے سٹوڈنٹ ہوں۔‘‘
مسافر :’’مگر انگریز تو لیے دیے رہتے ہیں۔ اجنبیوں سے گفت گو میں انتہائی بخیل ہیں۔ اور تم____؟‘‘
خاتون: ’’اوہ نو! میں روبوٹ انگریز نہیں، سکاٹ ہوں۔‘‘
مسافر:’’اور میں سکاٹ لینڈ ہی سے آ رہا ہوں۔‘‘
خاتون۔اتنے زور سے میز پر ہاتھ مارتی ہے کہ شیشے جھنجھنا اٹھتے ہیں۔ ’’اوہ نو! ہاؤ لکی یو آر۔ تم میرے دیس سے آ رہے ہو۔ اولڈ مین کے دیس سے۔ تم کتنے عظیم ہو۔ تم نے کرۂ ارضی پر وہ خطہ زمین دیکھا ہے۔ جو بڑے بڑوں کا مقدر نہیں۔ مسافر کیا تم نے سکاٹ لینڈ کی جھیلیں دیکھی ہیں ؟ کیا تم نے ان سبز جھیلوں میں چاند کا عکس دیکھا ہے ؟ کیا تمہارے ننگے پاؤں نے سکاٹ لینڈ کے سبزہ زاروں کو چھوا ہے ؟ کیا۔۔۔۔؟
مسافر۔’’جی خاتونِ محترم! میں سب کچھ مکرر دیکھ چکا ہوں اور بارہا دیکھنے کی خواہش رکھتا ہوں۔‘‘
خاتون:’’تو بس پھر ہم دوست ہیں۔ لاؤ ہاتھ ملاؤ۔ میرا نام کیسرین ہے۔ اور ہاں ! مسافر تم رہتے کہاں ہو؟ ادھر انگلستان میں ؟‘‘
مسافر:’’خاتون محترم ! مسافروں کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔ وہ تو خیمہ بردوش ہوتے ہیں ، ہمہ وقتی سفر میں ، وہ تو بس سفر ہی سے لذتیں کشید کرتے ہیں ،وہ قیام کے لفظ سے ناآشنا ہوتے ہیں ،قیام مسافر کے لیے موت ہے۔‘‘
خاتون:’’لیکن اگر کوئی خلوصِ نیت سے روکنے والا ہو تو؟‘‘
مسافر:’’ہاں مسافر کھلی آغوش اور کشادہ پیشانیوں کو مایوس نہیں کرتے ، مگر کوئی ایسی زنجیر بن نہیں پائی جو مسافروں کے قیام کو دوام بخش دے۔‘‘
خاتون:’’بس تو پھر کل رات، فقط ایک رات تم میرے مہمان بن جاو۔ میں ہو ں گی تم ہو گے اور ماما ہوں گی۔ ہم باتیں کریں گے۔ عظیم سکاٹ لینڈ کی باتیں۔ ما ما ہمیں اس جنتِ ارضی کی خوب صورت اور تم مشرق کی پر اسرار کہانیاں سناؤ گے۔ہاں ! تم نے اب تک تو نام نہیں بتایا؟‘‘
مسافر:’’میرا نام اعظم ہے اور مجھے توکل براستہ وک فیلڈ بریڈ فورڈ واپس جانا ہے۔‘‘
خاتون:’’و ک فیلڈ تو مجھے بھی کل جانا ہے۔ اولڈ مین کے لیے کچھ چیزیں وہاں سے اٹھانی ہیں۔ مگر تم وک فیلڈ کیوں جاتے ہو؟ ایزام!‘‘
مسافر:’’وہاں وک فیلڈ سے تھوڑا پرے ایک ٹیلے پر ایک انگریز بابے کا مزار ہے۔ بس وہیں تک جانا ہے۔ صبح سویرے مجھے وک فیلڈ کی بس پکڑنا ہے۔ دن اس مزار پر گذارنے کا ارادہ ہے۔ شام کو بریڈ فورڈ واپسی ہے۔‘‘
خاتون:’’میں اس جگہ جا چکی ہوں۔ کل مجھے دوپہر کو نکلنا ہے۔ تو پھر یوں کرتے ہیں۔ میں تمہیں بابے کے مزار کے اس طرف نیچے ترائی میں سے اٹھا لوں گی اور پھر اکٹھے واپس لندن_____ اوکے ؟‘‘

اظہارِ تشکر

حرفِ آخر کے طور پر اُن دوستوں کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جنھوں نے دورانِ سفر قدم قدم پر مسافر کو خلوص و محبت کی سوغات سے نوازے رکھا۔ بڑے بھائی لالہ سکندر، عزیزم آصف اور طارق تو خیر مسافر کی نیوکلیئر فیملی کے نزدیک تر ہیں، سو اُن کے خلوص و محبت اور اُن کی مہمان نوازی کو فرض سمجھتا جا سکتا ہے مگر مسافر کے توسیعی خاندان (Extended Family)جس میں دوست احباب، سابقہ حلقۂ تلامذہ اور دیگر اہلِ وطن شامل ہیں نے جس لطف و محبت سے نوازا وہ اُن کے فریضے سے کہیں بڑھ کر تھا۔ان سب کا ذکر کرنا تو محال ہے مگر چند دوستوں کا ذکر نہ کرنا بھی بُخل ہو گا۔ بریڈ فورڈ میں سنجیدہ مزاج زاہد، کھلنڈرا افضل، ہمہ وقت مسکراتا سلیم، بلا ناغہ شام پڑتے ہی گاڑی لیے بھائی سکندر کے گھر آتے اور مسافر کو اُچک اپنے ڈیرے پر لے جاتے۔ ڈیرے پر رات گئے تک محفل جمتی شرکا میں ہر دو جاوید صاحبان، ابرار خان اور دن بھر کے کارہائے دنیوی سے تھکے ماندے دیگر احباب موجود ہوتے۔ جاوید کا معصوم بچہ اعتزاز سو جاتا تو جمشید بھی مسجد سے سیدھا ڈیرے کا رُخ کرتا۔ یہاں ہنسی مذاق ہوتا۔ گپ شپ چلتی، کھانے پینے کا سامان کیا جاتا، گھر وطن کی باتیں ہوتیں۔ رات آخری ہچکیاں لے رہی ہوتی جب محفل برخاست ہوتی اور سلیم مسافر کو گھر چھوڑ اپنے گھر کی راہ لیتا۔کبھی کبھار ڈیرے کے ماحول سے اُکتاہٹ ہوتی یا گھر بیویوں کے ستائے دوستوں کو مزید سکون کی طلب ہوتی تو ڈیرے کے پچھواڑے اسماعیل کے بھائی مسعود کے گھر محفل جم جاتی۔ مسعود نے چوں کہ ہنوز گھر گرہستی کے بکھیڑے نہیں پالے اس لیے اُس کا دروازہ ہر اِک کے لیے ہر وقت کھلا ہے۔وہ بذاتِ خود ایک سچا، سُچا اور کھرا نوجوان ہے۔ صبح ناشتے سے فراغت ہوتے ہی طفیل خان المعروف ممبر صاحب آتے، جہاں جانا ہو، جیسے دن گزارنا ہو، اُن کی ذات، اُن کی گاڑی اور اُن کا وقت مسافروں کے لیے حاضر ہے۔ وطن سے آنے والے ہر مسافر کے لیے اُن کا خلوص و محبت یکساں ہے اسی لیے دوستوں نے اُنھیں پروٹو کول افسر کا خطاب دے رکھا ہے۔رات کو ڈیرے کی محفل میں حسن ابدال کے باسی خان صاحب اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں ،وہ کبھی کبھار محفل میں آتے ہیں مگر جب بھی آتے ہیں محفل پر چھا جاتے ہیں۔عزیزم صداقت برسوں پہلے اِدھر آ بسا تھا۔تیس برس بعد ملا تو وہی معصوم چہرہ، وہی محبت اور وہی اپنائیت لیے ہوئے تھا۔منان خان کالج میں مسافر کے ہم جماعت تھے۔چالیس برس بعد یہاں ملاقات ہوئی تو یک بارگی گزرا زمانہ سامنے آ گیا۔پُرانی یادوں کے سامنے سال و سن بے معنی ہو کر رہ گئے۔خورشید(H.S.M.P.) کے توسّط سے یہاں مقیم ہے۔خدا کرے اُسے نیشنلٹی مل جائے۔شہزاد سے یہیں تعارف ہوا تو اُسے خوب صورتیوں کا مرقع پایا۔ لالہ یونس سے پہلی بار ملاقات ہوئی تو محسوس ہوا جیسے برسوں کی شناسائی ہو۔علی بہادر بے چارہ چار بار ملنے آیا پھر کہیں جا کر ملاقات ہوئی ہر بار مسافر کی گریز پائی آڑے آتی رہی۔
برمنگھم میں ابتدائی قیام تو غلام محمد بھائی کے گھر رہا مگر دوست احباب کو آمد کی خبر ہوئی تو ملنے ملانے والوں کا تانتا بندھ گیا۔ہر ایک مصر تھا کہ اُسے میزبانی کا موقع دیا جائے۔ آباد گھروں میں قیام ویسے بھی راہ نوردوں کے مزاج کے خلاف ہے اگر گھروں میں ہی قیام مقصود ہو تو اپنا گھر کیا بُرا ہے ؟ گھر سے فرار کی یہ سبیل نکالی کہ بلال سے زاہد کے خالی مکان کی چابی لی اور وہاں اُٹھ آیا۔عرصے سے بند پڑا مکان کھولا گیا، پائپوں میں گیس، پانی چیک کیا۔صفائی کی گئی تو دو گھنٹے کی محنت سے مکان جگمگا اُٹھا۔ دوستوں کی صلاح تھی کہ کھانا گھروں سے آئے مگر مسافر کے سامنے کھانے کا کبھی مسئلہ نہیں رہا۔فیصلہ ہوا کہ یہیں پکے گا۔ المختصر سرِ شام دوستوں کی آمد شروع ہوتی، ہنستا مسکراتا بلال آتا، اپنی دُنیا میں مگن، اپنے خیالات میں گُم حنیف خان آتا۔ انتہائی محترم دوست جناب داود صاحب کے بیٹے وحید اور شکیل آتے۔ارشد خان بابا غلام محمد کو گھر سے پکڑ لاتا۔نعیم حیدر اور ملک وحید آتے۔ملک وحید اُس عظیم انسان اور بے بدل دوست ملک اسماعیل شہید کے برادرِ خورد ہیں جو وطن کی مٹی سے عہدِ وفا نبھانے کے جُرم میں تاریک راہوں میں مقتول بنے۔جو دوست بھی آتا، سامان خوردو نوش سے لدا پھندا آتا، رات تا د یر محفل گرم رہتی، چائے کا دور چلتا اور ایک دیہاتی حجرے کا سماں بندھ جاتا۔برمنگھم ہی میں وحید کے گھر حضرت مولانا امداد اللہ صاحب سے بھی نشست کا اعزاز حاصل ہوا، مولانا صاحب مسافر کے اُستادِ محترم مفتی عثمان صاحب مرحوم کے فرزند ہیں جو مفتی صاحب کے علمی و دینی ورثے کا حق ادا کرتے ہیں ، وہ ہمہ وقت ترویجِ دین اور اشاعتِ اسلام میں منہمک ہیں۔
برادرِ گرامی منظور حسین شاہ پچاس برس اُدھر انگلستان آئے، مختلف شہروں میں قیام رہا، آج کل لندن میں مقیم ہیں اُنھوں نے مسافر کے قیام کے لیے ایک خالی فلیٹ کا بندوبست کر رکھا تھا مگر اُن کے فلیٹ میں قیام نہ کر سکا کیوں کہ شیخ مقصود صاحب سے پہلے سے پروگرام طے کر رکھا تھا۔ان غریب الدیار اہلِ وطن کی محبتوں کی داستان دراز ہے اور مسافر کو اعتراف ہے کہ مسافر ان دوستوں کا قرض تا حیات نہ اُتار سکے گا۔

٭٭٭

ضمیمہ
رقاصہ

پہنچ کے تا بہ کمر رات جاگ اٹھی ہے
یہ تانا ری ری کی برسات جاگ اُٹھی ہے
یہ کون رقص پہن کے اُٹھی ہے رقاصّہ
سنگھار ساز بنے، سُر میں ڈھل گیا ہے بدن
فضا میں کس نے کلائی سے زاویے لکھے
کہ جگنوؤں کی چمن میں برات اُتری ہے
ہوا میں قوس اُچھالی ہے کس حسینہ نے
کہ جسم و جان میں چنگاریاں سُلگ اُٹھیں
لبوں کے دائرے پھیلے کہ جاگ اُٹھے غنچے
مچل گیا ہے لہو ایک اک رگِ جاں میں
فگار سینۂ شب گھُنگھروؤں کے شور سے ہے
بھڑک رہے ہیں لہو میں الاؤ جذبوں کے
ہر ایک بول، کہ جیسے گھُلا ہو کوثر میں
ہر ایک پاؤں کی لرزش قیامتیں ناپے
نظر اُٹھی تو زمانوں کی رُک گئی گردش
اُٹھے جو پاؤں، تو یوں، جیسے کائنات چلی
کبھی ستاروں پہ جھپٹیں حباب سینے کے
کبھی زمیں سے نگاہیں خراج لیتی ہیں
کلائی رکھ کے کلائی پہ یوں گرہ ڈالے
کہ جوں مروڑ کے رکھ دے گی گردشِ دوراں
لکیر کھینچنا پانی پہ، مشغلہ اس کا
گرہ ہوا میں لگانا، ہے دل لگی اس کی
کبھی ملہار سروں سے یہ آگ لکھتی ہے
کبھی فرات اچھالے یہ راگ دیپک سے
یہ نرتکی ہے کہ نوحہ ہے شرفِ انساں کا
بلند کوٹھا، یہ مرقد ہے اہلِ ایماں کا

مُطرِبَہ

چلو کہ شامِ الم مطربہ کے نام کریں
طلوعِ صُبح، سرِ شب بہ فیضِ جام کریں
غمِ حیات کو دھوکے میں مبتلا کر کے
دلِ حزیں کو ذرا دیر شاد کام کریں
یہ مُطربہ کا جہاں ہے، سکُوں کی دنیا ہے
نہیں یہ سُود و زیاں کی، جُنوں کی دنیا ہے
زباں درازیِ شیخِ حرم یہاں پہ نہیں
نہیں ہے زُہد کا جھُوٹا بَھرم یہاں پہ نہیں
یہاں پہ بندہ و آقا میں امتیاز نہیں
یہاں پہ جُبہّ و دستار کا لحاظ نہیں
یہ مطربہ بھی فسوں گر ہے، اِک تماشا ہے
ہجومِ درد میں یہ بے بدل مسیحا ہے
یہ لفظ لفظ سے کوثر کے جام چھلکائے
نَفَس نَفَس سے یہ آبِ حیات برسائے
بِہاگ راگ سے کو مل سُروں کی بستی تک
علاجِ درد کے سب مرحلوں سے واقف ہے
یہ حَرف و صوت کی بستی، طرب کی دُنیا ہے
ہر ایک درد یہاں محوِ استراحت ہے
سکوتِ شب میں جو یک بارگی چھڑا سر گم
اساوری کے سبھی ٹھاٹھ بن گئے مر ہم
بنی جو نقرئی انگلی ستار کا زخمہ
تو پور پور سے رنگینیاں چھلک اُٹھیں
جو لب کھلے تو زمانوں کے زاویے بدلے
لہو میں سوئی ہوئی بجلیاں چمک اُٹھیں
کبھی لبوں سے کبھی جنبشِ کلائی سے
تماش بینوں کو ہر ہر ادا سے رام کیا
حنائی ہاتھ کو ماتھے تلک وُہ لے جا کر
نیاز و ناز سے ہر ایک کو سلام کیا
بڑھائے فاصلے وُہ بے خیال نظروں سے
دلوں کے فیصلے چا ہے سوال نظروں سے
لبوں کی لرزشیں جیسے سراب صحرا میں
ردائے زُلفِ سیہ، جوں سحاب صحرا میں
اُبل پڑا ہے دَہن سے وُہ نغمۂ شیریں
سماعتوں پہ ہر اِک بابِ درد بند ہوا
حذر، حذر غمِ دنیا سے اے جہانِ نشاط
ہر ایک سمت سے یہ غُلغلہ بلند ہوا
شبِ طرب ہے مگر آہ! کتنی فانی ہے
پھر اس کے بعد وُہی سابقہ کہانی ہے
وہی سسکتے ہوئے روز و شب کا قصّہ ہے
وہی شقاوتِ دنیا کی مہربانی ہے
سو ایک رات میں جتنا بھی ہو سکے پی لو
کہ یہ حلاوتِ لب پھر ملے، ملے نہ ملے

پروفیسر محمد اعظم خالدؔ

سرمد اکادمی، اٹک

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔