"ایران-امریکہ معاہدے سے لے کر قدرت کے پنہاں منصوبے تک”
عتیق : جناب، اکثر تجزیات دیکھنے سے لگ رہا ہے کہ ایران-امریکہ معاہدہ ایران کے حق میں فتح کی علامت بن چکا ہے۔ اب خطے میں امریکہ کا کردار محدود اور ایران کا کچھ حد تک وسیع ہوگا۔
نعیم: جناب، یہ دلچسپ تجزیہ ہے، مگر حقیقت کچھ متوازن بھی ہے۔ یہ کوئی مکمل فتح نہیں، بلکہ عارضی جنگ بندی اور سانس لینے کا موقع ہے…
(گفتگو آگے بڑھتی ہے — امریکہ کی دھاک، خلیجی ممالک کی نئی پوزیشن، اسرائیل کی ناراضگی، مزاحمت کی تحریک، اور طاقت کے توازن پر)
عتیق: اسرائیل ناراض اس مطلب= دنیا کو فائدہ، اسرائیل خوش = دنیا کے لیے تباہی کا پیغام
نعیم: ہاہاہا، آپ کا فارمولا بہت درست ہے جناب!
عتیق: ان دنوں مسلم ممالک میں نظریاتی لوگوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ حکمران انہیں پہلے کی طرح آسانی سے کچل سکیں گے یا نہیں؟
نعیم: اب ایسے لوگ خطرہ بھی بن سکتے ہیں اور اثاثہ بھی۔ یہ منحصر ہے حکمرانوں کی پالیسی پر اور مزید آگے قدرت کا کھیل دیکھنا ہوگا۔
عتیق: ایک تحریک اچھائی سے شروع ہوتی ہے مگر کب تک اُس مقصد پر قائم رہتی ہے؟ یہ کہا نہیں جاسکتا ، اچھی جہدوجہد ہم پر فرض ہے، لیکن بعض وقت اس طرح کی مقامی تحریکیں دشمن کی آلہ کار بھی بن سکتی ہیں تب نتائج ہمارے دائرہ اختیار سے باہر ہوتے ہیں۔
نعیم: بالکل۔ ہمیں تاریخ اسلام سے اور انسانی تاریخ سے اس کی بےشمار مثالیں ہمیں ملتی ہیں ۔
عتیق: (سورۂ الحدید کی آیت 13 پیش کرتے ہوئے) اس آیت میں قیامت کا منظر پیش کیا گیا ہے کہ منافق مرد و عورتیں قیامت کے دن پکاریں گی کہ رُک جاؤ کچھ دیر اے مومنو کہ ہم بھی تمہارے نور سے فوائدہ حاصل کریں، دراصل یہ نور مومنو کے لیے خاص اس لئے ہے کہ انہوں نے دنیا میں ثابت قدمی سے مشکلات کا سامنا کیا تھا ، جس طرح دنیا میں صورت حال ہے کہ مومنین کے لیے مشکلات ہیں اور سودے بازوں کے لیے سہولیات ہیں، لیکن مومنین کے لیے دنیا کی جو مشکلات ہیں ان مشکلات کے اندر اللہ کی رحمت چھپی ہوتی ہے۔
نعیم: سبحان اللہ! بہت گہرا جائزہ ہے
نعیم: دنیا میں حکمران اکثر انجام کو قریب محسوس کرتے ہوئے بھی برائی پر ڈٹ جایا کرتے ہیں جیسے فرعون و نمرود وغیرہ
عتیق: اتنے قدیم زمانے کی بات کیوں پیش کرتے ہو ہمارے دور سے قریب تر دور کی بات کریں جیسے بشار الاسد اور قذافی وغیرہ
نعیم: جی بلکل درست ہے ، جس طرح آپ نے کہا تھا کہ "سب سے اہم یہ ہے کہ انسان خود کو اہم سمجھنا چھوڑ دے” تو حقائق اس کے سامنے آشکار ہو جاتے ہیں۔ یہ بات سب سے بڑی اور اہم ترین ہے۔
عتیق: بعض علمی حلقے "بس دجال آ گیا یا بس آنے والا ہے "اس طرح کے تبصرے ہوا کرتے ہیں، حالانکہ وہ اپنی ذمے داریاں ادا کرنے سے دست بردار نظر آتے ہیں ہیں۔کیوں کہ اس مسئلہ کی بابت ان کی کوئی تیاری ہمیں نظر نہیں آتی، تنقید و تبصرے کی بجائے تنفیذ ( یعنی عمل) کا راستہ اختیار کرنا چاہیے
نعیم : جی آپ نے بالکل درست کہا
عتیق: مسلم ممالک کے لئے اب اس دور میں ضروری اقدامات یہ ہیں جیسے عدل آسان کرنا، محروم طبقات کو انصاف، دشمنوں سے آگاہی فراہم کرنے والے نظام کو فعال کرنا، معاشی ترقی کرنا اور اندرونی صفوں کو درست کرنا وغیرہ… پھر بھی ہم کمزور نظروں کا سہارا لیکر یہ جائزہ لے رہیں ہیں کامل علم تو اللہ ہی پاس ہے اسی لئے یہی کہنا ہوگا کہ واللہ اعلم۔
نعیم: دشمن کی انتہا پسندی ( یعنی حملہ آور پالیسی بظاہر ہمارے لئے مایوس کن لگتی ہے مگر بصیرت کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ دشمن کی جارحیت ہمارے لئے آسانیاں بھی پیدا کرتی ہے۔ اسی کی وجہ سے ہمارے حکمران بادل ناخواستہ صحیح راستہ منتخب کرنے کی طرف مجبور ہو جاتے ہیں۔
عتیق: بالکل۔ یہ طویل لڑائی ہے، جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔
صبر کر جانا گوہ کہ بہت ناگوار لگتا ہے
چہرے کو توازن بخش گوہ دشوار لگتا ہے
تباہی کو کر لے محفوظ تو نگاہوں میں
بدل خود کو، زمانہ کو بدلنا بیکار لگتا ہے
احمد حجازی