دھول اُڑاتی تیز ہوا کے وار سے بچیے

عمران ہاشمی کی ایک اردو غزل

دھول اُڑاتی تیز ہوا کے وار سے بچیے
نظر نہ آنے والی اِس پیکار سے بچیے

شہر میں ایک وبا کے حملے کی خبریں ہیں
بچئیے ہر لاغر سے ، ہر بیمار سے بچیے

زہر میں ڈوب چُکا ہے سارا باغ ہمارا
بچ کر رہیے ہر گُل سے، ہر خار سے بچیے

خستہ بنیادوں کی آہ کراہ کو سُنیے
اپنی جانب آتی ہر دیوار سے بچیے

اپنے نقش و نگار کا حُسن سلامت رکھیے
توڑئیے اندھے آئینے ، زنگار سے بچیے

اپنے دل میں زندہ کیجئے عزم و یقیں کو
وہم و گُماں کی پان چڑھی تلوار سے بچیے

جس کے قلب و نگاہ کی منزل ایک نہیں ہو
ایسے بدن سے اور ایسی گفتار سے بچیے

جنہیں کوئی بھی آہٹ لیکر اُڑ سکتی ہو
اُن کچّے خوابوں کی اندھی ڈار سے بچیے

عمران ہاشمی

عمران ہاشمی

شاعر، افسانہ نگار، کالمسٹ - شعری مجموعہ ’’عکسِ جاں‘‘۲۰۱۱ - ادبی وابستگی: حلقہ اربابِ ذوق گوجرانوالہ - انجمن ترقی پسند مصنفین گوجرانوالہ و پنجاب - آغازِ شاعری 2001 - مینجنگ ڈائریکٹر: عامی پرنٹنگ پریس گوجرانوالہ - بن ہاشم پبلیکیشنز گوجرانوالہ