دیکھ کر تیرے گیسوئے برہم

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

دیکھ کر تیرے گیسوئے برہم
مسکرانے لگے حیات کے غم

اک تمہاری نظر بدلنے سے
ہو گئیں کتنی محفلیں برہم

آ گئے آپ درمیاں ورنہ
کھل چلی تھی حقیقت عالم

دیکھنا تو بہار کے انداز
غنچے غنچے کی آنکھ ہے پُرنم

آ رہی ہے وہ صبح نو باقیؔ
دیکھو لے کر حیات کا پرچم

باقی صدیقی