دروازہ

از قلم صنم فاروق حسین

ہر بند دروازے کی ایک اپنی کہانی ہوتی ہے ۔
ہر دروازہ اپنی ایک الگ ہی داستان سناتا ہے ۔
کچھ دروازوں کی کہانی بہت غمگین اور دردناک ہوتی ہے ۔دروازوں کے پیچھے کی کہانی انتہائی خوشیوں میں انتہائی رونق اور محفل میں اتنی خوبصورتی کو چاند چاند لگاتے ہوئے دکھائی دیتا ہے ۔
لیکن یہاں بات دروازوں کے بند ہو یا کھلنے کی نہیں یہاں بات ہو رہی ہے دروازوں کے پیچھے کی کہانی کی اپ کے گھر کا دروازہ کہتا ہے کیا اپ کے گھر کے دروازے پر کوئی درد مند کوئی غم ہار ا کر دستک دیکھ کر مدد کی امید رکھ سکتا ہے
دروازے پر انے سے پہلے لوگ ہزار بار سوچتے ہیں اور انہیں یقین ہوتا ہے کہ یہاں سے کوئی مدد نہیں ملے گی ہمیں
دروازوں کے پیچھے کی در و دیوار میں وہ اپنے اندر داستانیں ہوتی ہیں کہ اگر وہ بیاں کرنے پر ا جائے تو شاہد انسانیت ہی ختم ہو جائے
گھروں کے دروازوں کے پیچھے کی در و دیوار میں اپنے اندر ان لوگوں کو سمایا ہوتا ہے جو اللہ کے ہاں نہایت ہی عظیم اور احترام کے قابل ہوتے ہیں
ہاں اپنے گھروں کے دروازوں کو بند رکھتے ہیں چوروں کے ڈر سے کہیں ہمارے گھر کی رازداری پاش نہ ہو جائے اس ڈر سے ہم اپنے گھروں کے اندر کسی کو انے کی اجازت نہیں دیتے ۔ لیکن پہلے زمانوں میں لوگوں نے اپنے گھروں کے دروازے کھلے چھوڑے ہوتے تھے کوئی بھی کسی وقت بھی غم ہار ا کر مدد لے سکتا تھا لوگوں کے لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شامل ہوتے تھے ایک دوسروں کے دلوں کے اخوال جانتے تھے ان کے دروازے کھلے ہونے کے ساتھ ساتھ بڑھ کر اور رحمت اور عافیت بھی کھلے دل سے اندر اتی تھی ۔
لیکن اب گھروں کے باہر بڑے بڑے دروازہ ہونے کے باوجود اس گھر میں جتنے کمرے ہوتے ہیں اتنے ہی دروازے ہوتے ہیں
تو کیا معلوم کس دروازے کے پیچھے کیا ہے کس کو کیا معلوم کس دروازے کے پیچھے کون رو رہا ہے کون غم ہار ہے یہ صرف پردے میں بات رہ کر پردے میں ہی ختم ہو جاتی ہے ۔
لیکن انسانیت کا تقاضا یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ اپنے گھروں کے دروازوں کو اج بھی کھلا رکھیں اپنے دل کے دروازوں کی طرح تاکہ کوئی بھی غم ہار ا کر اپنی مدد کے لیے اپ کو پکار دے تو اسے امید ہو کہ اس دروازے کے پیچھے رہنے والوں سے مجھے مدد مل سکتی ہے ۔
اللہ تعالی اج بھی اس انسان کے ساتھ رحم رحم فرماتا ہے جو دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک اختیار کرتا ہے
اب بات ہوتی ہے ایک دروازوں کے ساتھ ساتھ دل کے دروازے کی بھی اب لوگوں نے گھر کے دروازوں کے ساتھ ساتھ اپنے دل کے دروازے بھی بند کر کے ہیں۔ کس کی زندگی میں کیا چل رہا ہے کون کتنا غم خوار ہے کتنا پریشان ہے اس وقت اس بات کا کسی کو کوئی علم نہیں ۔ اب ہر انسان اپنی نفسا نفسی کے دور میں بھاگ رہا ہے ۔ ہر انسان اپنی بھوک کی لالچ میں ادھر ادھر بھاگ رہا ہے کسی کو کسی چیز کا کوئی فکر نہیں ۔ لیکن انسانیت کو زندہ رکھنا انسان کے ضمیر کی سب سے بڑی دولت ہے ۔
اگر اج بھی اپ سے کوئی ا کر اپنے دل کا احوال سناتا ہے یا اپ سے کوئی مدد کی امید رکھ کر اپ کے پاس اتا ہے تو اپ ہی اس چیز کو سمجھ لیں کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے اج بھی اپ کے دل کو زندہ رکھا ہے ۔
گھروں کے دروازوں کے ساتھ ساتھ اپنے دل کے دروازے بھی کھلے رکھیں تاکہ اپ کی انسانیت کا فائدہ وہ لوگ اٹھا سکیں جو غم ہار ہے جو بھوک کے مارے ہیں جو غربت میں افلاس میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں ۔ اللہ تعالی اس انسان کو زیادہ عطا فرماتا ہے جو اس کی مخلوق کی مدد کرتا ہے ۔ کسی کے غم میں شامل ہونا خوشی میں شامل ہونے سے کئی گنا زیادہ بہتر ہے اپنے دروازوں سے خیر بانٹتے رہیں تاکہ اللہ سبحانہ و تعالی کی رحمت و عافیت اپ کے دروازے سے اپ کے گھروں کو روشن اور پرسکون بناتی رہے ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمارے گھروں کے دروازے کے ساتھ ساتھ ہمارے دل کے دروازے میں اللہ رحمت و عافیت کی روشنی ڈال دیں ۔ تاکہ ہم ذکر و عبادت کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی مخلوق کی بھی دل کھول کر مدد کر سکیں ۔ہمارے گھر کے دروازے دوسروں کے لیے اسی طرح کھلے رہیں جیسے اللہ سبحانہ و تعالی کا دروازہ ہر وقت مدد کے لیے کھلا رہتا ہے ۔ اپنے گھروں کی حفاظت ضرور کریں اپنے گھروں کے باہر اس چیز کا لیبل مت لگائیں کہ اس گھر کے افراد کسی کی مدد کے لیے اگے اگے نہیں ہوتے ۔ اللہ تعالی ہم سب کے گھروں پر رحمت و عافیت کا سایہ کرے ۔ ہم سب کو دوسروں کے لیے اچھا کرنے کے لیے بہترین موقع فراہم کریں ۔

صنم فاروق حسین

عائشہ فاروق حسین

وابستہ ہے رب سے ذات ھماری ھماری روح کا جو سکون ھے۔ ذکر الہی کرنے میں رہنے والوں کا صنم رب سے الگ ہی عشقِ جنون ھے۔ رقیب تحریر