شکیب جلالی

زخم کھلتے ہیں

شکیب جلالی کی ایک اردو غزل

6 سال پہلے

ہر شے گزشتنی ہے

شکیب جلالی کی ایک اردو غزل

6 سال پہلے

میں اس گلی میں اکیلا تھا

شکیب جلالی کی ایک اردو غزل

6 سال پہلے

اپنے حالات سے مجبور ہیں

شکیب جلالی کی ایک اردو غزل

6 سال پہلے

دریا سے کوئی شخص

شکیب جلالی کی ایک اردو غزل

6 سال پہلے

پیروں میں زنجیریں ڈالیں

شکیب جلالی کی ایک اردو غزل

6 سال پہلے

ہرا بھرا بدن اپنا

شکیب جلالی کی ایک اردو غزل

6 سال پہلے

مگر وہ پھول سا چہرہ

شکیب جلالی کی ایک اردو غزل

6 سال پہلے

حسنِ فردا غمِ امروز سے

شکیب جلالی کی ایک اردو غزل

6 سال پہلے

مجھ سے ملنے شب غم

شکیب جلالی کی ایک اردو غزل

6 سال پہلے