عطا ہو پھر سے نیا بابِ ارتقا، یا رب

ثوبیہ راجپوت کی ایک اردو غزل

عطا ہو پھر سے نیا بابِ ارتقا، یا رب
ہواۓ رحم اُتر آۓ بارہا، یا رب

عطا ہوں میرے وطن کو عنایتیں تیری
ملے غریب کو رزق و سکوں سدا، یا رب

بہا کے لے گیا سیلاب جن کی محنت کو
اُنہیں عطا ہو دوبارہ نئی فضا، یا رب

اجڑ چکے ہیں جو گھر موجِ آب کے ہاتھوں
وہ پھر سے سج کے بنیں جنتِ بقا، یا رب

چراغ بجھ گئے امید کے اندھیروں میں
سحر کی لَو سے جلا دے نیا دیا، یا رب

گھروں کا ملبہ پڑا ہے ہر اک گلی میں یہاں
یہ سخت گھڑیاں بدل, کر سکوں عطا، یا رب

مویشیوں کی صدائیں بھی ڈوب کر خاموش
اُجڑ گئی ہے معیشت کی ہر ادا، یا رب

ہزار لغزشیں ہیں، رحم کی نظر فرما
بلا کے وقت میں ہو تیری ہی عطا، یا رب

ہمارے دیس کو محفوظ کر بلاؤں سے
کھلیں خوشی کے نۓ باب ہر جگہ ، یا رب

ثوبیہ راجپوت

ثوبیہ راجپوت

ثوبیہ راجپوت پاکستان کے شہر سیالکوٹ کینٹ، اُورا میں 7 اپریل کو پیدا ہوئیں۔ ثوبیہ راجپوت نے اپنے قلم کے ذریعے نہ صرف قارئین کے دلوں میں جگہ بنائی بلکہ بطور شاعرہ، نعت گو شاعرہ، افسانہ نگار، کالم نگار، تبصرہ نگار، تجزیہ نگار ،پنجابی اور اردو کی شاعری میں اپنی منفرد پہچان بناچکی ہیں۔ ان کی ادبی خدمات میں افسانوی مجموعہ "وجود شب" شامل ہے، جس میں انہوں نے مشاہدات و تجربات کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کا نعتیہ مجموعہ بھی جلد منظر عام پر آرہا ہے جبکہ متعدد انتھالوجیز شائع ہو چکی ہیں۔ معاون ایڈیٹر: برج میڈیا یو ایس اے