آصف الدولہ کا نام محمد یحیٰ مرزا زمانی تھا۔ وہ 1748ء میں پیدا ہوئے۔ ان کی تعلیم و تربیت کا انتظام شہزادوں کی طرح کیا گیا۔ اور انہوں نے اردو فارسی میں اچھی مہارت کے ساتھ دوسرے فنون میں بھی دستگاہ حاصل کر لی۔ آصف الدولہ صاحب ذ وق تھے اور شاعری کا شوق رکھتے تھے۔ انہوں نے اردو کے علاوہ ایک فارسی دیوان بھی مرتب کیا۔ والد کے انتقال کے بعد ان کے تعلقات اپنی ماں سے کشیدہ ہو گئے تھے۔ ان کے والد شجاع الدولہ کو بکسر کی جنگ کے بعد ایک کثیر رقم انگریزوں کو بطور تاوان جنگ ادا کرنی پڑی تھی۔ اس وقت ان کی ماں نے زبردست ایثار کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے تن کے زیورات بھی شوہر کے حوالے کر دئے تھے۔ ان کی اس قربانی
ان ہی کے عہد میں مرزا محمد رفیع سودا، میر تقی میر اور میر سوز جیسے اہل کمال لکھنؤ آئے۔ سوز کو انہوں نے شاعری میں اپنا استاد بنایا۔ آصف الدولہ نے جس ثقافتی خود مختاری کی بنیاد رکھی اس پر نئی اردو زبان کی عمارت تعمیر ہوئی۔ اردو شاعری محزونی اور درد مندی کے ماتم کدہ سے نکل کر شوخی اور رنگینی کی طرف مائل ہوئی جس نے بالآخر دبستان لکھنؤ کی شکل اختیار کی۔ آصف الدولہ کے عہد تک اردو شاعری بنیادی طور پر غزل یا قصیدہ کی شاعری تھی۔ ان کے عہد میں مثنوی اور مرثیہ کی طرف خاص توجہ دی گئی۔ میر حسن کی سحر البیان سمیت اردو کی بہترین مثنویاں ان کے ہی عہد میں لکھی گئیں۔ ساتھ ہی مرثیہ نگاری اور مرثیہ خوانی کی ایسی فضا تیار ہوئی جس نے میر انیس اور مرزا دبیر جیسے بے مثل مرثیہ نگار پیدا کئے۔ آصف الدولہ کو ایک فیاض اور دریا دل حکمراں، فنون کے قدر دان اور سرپرست، عظیم الشان عمارتوں کے معمار اور ہندستان کی گنگا جمنی تہذہب کے علمبردار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔