آج اپنی کمی کو فرض کریں
عمر کی زندگی کو فرض کریں
آؤ سانسوں کی اوٹ میں بیٹھیں
لمس کی باطنی کو فرض کریں
آؤ دل با نٹ دھڑکیں کھیلیں
درد کی سنسنی کو فرض کریں
آؤ انسان کو کریں معلوم
آؤ اس آدمی کو فرض کریں
لا کا مفہوم مل ہی جائے گا
آؤ اَک آگہی کو فرض کریں
ڈاکٹر عرفان احمد بیگ