اگرچہ اس نے لکھا ہوا ہے

دانش عزیز کی ایک اردو غزل

اگرچہ اس نے لکھا ہوا ہے جہان فانی میں مار دینا
مکان والے سے التجا ہے کہ لا مکانی میں مار دینا

مرے عزیزو میں جا رہا ہوں مری وصیت کو یاد رکھنا
جو مجھ سا کوئی بھی ایک دیکھو اسے جوانی میں مار دینا

مجھے ہے معلوم اے مصنف کہ میرا کردار ثانوی ہے
جہاں اضافی لگے تمہیں یہ مجھے کہانی میں مار دینا

میں جانتا ہوں کہ ضعف پیری تو چھین لیتا ہے بولنا بھی
زباں میں لکنت سے پیشتر ہی مجھے روانی میں مار دینا

انہیں بڑھاپے میں چھوڑنا مت نحیف خوابوں کو توڑنا مت
ضعیف ماں باپ کو نہ تم ان کی زندگانی میں مار دینا

مجھے تمہارے ستم کی نسبت کرم تمہارا عزیز تر ہے
سو دشت غم سے بچا کے صحرائے مہربانی میں مار دینا

اگر یہ ڈر ہے کہ آستیں پر مرے لہو کے نشان ہوں گے
تمہیں سہولت میں دے رہا ہوں کہ مجھ کو پانی میں مار دینا

سبھی محبت کی بات کرتے ہیں میں محبت نبھا رہا ہوں
سو مارنا ہو تو اپنے دانشؔ کو جرم ثانی میں مار دینا

دانش عزیز

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔