آنکھوں میں شور چہرے پہ اِک خامشی سی تھی
میں چپ رہ کہ کچھ مجھے وابستگی سی تھی
سڑکوں کے تارکو ل میں اب بھی خلوص ہے
اس شہر میں کسی سے کبھی دوستی سی تھی
دل میں خیال آنکھ میں منظر جھلس گئے
کہتے ہیں رات گھر میں مرے روشنی سی تھی
عمروں کے کچے پن نے محبت بنا دیا
جذ بات کا عروج تھا ، دیوانگی سی تھی
ڈاکٹر عرفان احمد بیگ