پشتو ڈیجیٹل شعر و ادب اور شیرانداز خان کا شعری وقار

مدثر عباس، مردان

ایک طویل عرصے سے پشتو ادب ڈیجیٹل حلقوں کی گرفت میں ہے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسی شاعری پوسٹ کی جا رہی ہے جسے دیکھ کر غالبِ گمان یہی ہوتا ہے کہ پشتو شاعری اب کسکریزم کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اگرچہ کسکریزم کوئی باقاعدہ ادبی اصطلاح نہیں ہے لیکن جب سے یہ سطحی اور فرسودہ تخیلات سوشل میڈیا کی زینت بنے ہیں تب سے یہ ایک باقاعدہ منفی رجحان یا تحریک کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔ آج بیسیوں ایسے شعرا منظرِ عام پر ہیں جنہیں پڑھ کر وہ ادبی لطف اور فکری گہرائی نہیں ملتی جو جدید پشتو شعرا مثلاً صاحب شاہ صابر، رحمت شاہ سائل، ریاض تسنیم، اقبال مومند، تسکین مانیروال، اقبال شاکر، باچا زادہ خیران اور دیگر کے ہاں موجود ہے۔ سوشل میڈیا کا یہ منفی اثر نوآموز قارئین اور نئے لکھنے والوں پر براہِ راست پڑ رہا ہے۔ چوں کہ ہر نوآموز ادیب فوری پذیرائی کا خواہاں ہوتا ہے اس لیے وہ فنی و فکری معیار کو نظر انداز کر کے جو کچھ بھی لکھتا ہے اسے سوشل میڈیا پر شائع کرنے میں دیر نہیں کرتا۔ اس سے ادب کا اعلیٰ ذوق رکھنے والے نئے قارئین بھی اس غیر معیاری مواد سے متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ عمل اگر مسلسل جاری رہی تو کسی بھی زبان و ادب کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوتا ہے۔ اسے آپ سلینگ (Slang) کہہ لیں یا کچھ اور……. لیکن یہ عمل تخلیق کار کو مستقل منفی اور سطحی تخیلات کا اسیر بنا دیتا ہے۔

ابھی چند دن ہی گزرے ہیں جب بنوں سے تعلق رکھنے والے ایک مختلف قسم کے تخلیق کار فصیح اللہ خان سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر انہوں نے ایک صاحبِ طرز شاعر شیر انداز خان کا شعری مجموعہ "لوڑی ژوری” (نشیب و فراز) مجھے عنایت کیا۔ اس مجموعۂ کلام میں بلا کی کشش اور ایک بے نام سی چاشنی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سحر انگیزی کسی ثقیل لغت یا پیچیدہ شعری تراکیب کی وجہ سے نہیں بلکہ سادہ اور اُچھوتے الفاظ میں معنی کی گہرائی تک اتر جانے کی اس خداداد صلاحیت کا نتیجہ ہے جس نے پورے کلام کو ایک انوکھے لطف سے سجا دیا ہے۔

شیرانداز خان کا تعلق بنوں کی تاریخی دھرتی سے ہے۔ وہ غازی دلاسہ خان کے نواسے ہیں جو پشتون تاریخ میں حریت اور بہادری کا ایک روشن استعارہ ہیں۔ شیرانداز خان نے اگرچہ رسمی طور پر کوئی اعلیٰ تعلیمی سند حاصل نہیں کی لیکن فطری اور ادبی لحاظ سے ان کی شاعری میں ایک گہرا شعور اور فنی خوب صورتی موجود ہے۔ ان کی اسی جودتِ طبع کے بارے میں ولی آیاز عاطر رقم طراز ہیں:

"اکثره بې تعلیمه شاعران مزاحیه شاعري کوي، خو کله کله دا شاعران داسې تخلیق هم وکړي چې ډېر تعلیم یافته شاعران هم ورته حق حیران پاتې شي۔”
اردو ترجمہ: اکثر غیر تعلیم یافتہ شعرا مزاحیہ شاعری کرتے ہیں مگر کبھی کبھار یہ لوگ ایسا شاہکار تخلیق کر جاتے ہیں کہ بڑے بڑے تعلیم یافتہ شعرا بھی ششدر رہ جاتے ہیں۔

اِسی تناظر میں دیکھا جائے تو شیرانداز خان کی شاعری میں معاشی، سماجی اور معاشرتی مسائل کے ساتھ ساتھ اپنی قوم اور وطن سے لازوال عقیدت کے نقوش بھی ملتے ہیں۔ وہ ایک ایسے تخلیق کار ہیں جو اپنی عمومی خندہ پیشانی اور ملنسار طبیعت کے باوجود نہایت سنجیدہ شاعری کرتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کی شاعری میں یاسیت (مایوسی) کا اندھیرا نہیں بلکہ اُمید کی ایک روشن کرن نظر آتی ہے۔ اُن کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ ہو:

حقیقت به مې معلوم شي په انجام کې
شیرانداز روان په لاره د کمال یم

مزید دو اشعار قارئین کی نذر:

یوه ذره زما په غم چې غمګین نه شو
له ما هېر چې ولې هغه حسین نه شو

تور ویښته زما د ګېرې او د سر سپین شول
ستا د مینې داسې تور دے چې سپین نه شو

شیرانداز خان کی شاعری میں محبوب کا بچھڑنا ایک ایسا مرکزی موضوع ہے جسے اُنھوں نے پشتو ادب کی مخصوص شائستگی اور روایتی اقدار کے دائرے میں رہ کر نبھایا ہے۔ وہ ہجر کے جانکاہ کرب میں بھی اپنا فکری توازن اور ضبط نہیں کھوتے۔ جہاں دیگر شعرا اکثر محبوب سے بچھڑ کر یاسیت اور خود ترسی کی دلدل میں ڈوب جاتے ہیں وہاں شیرانداز خان کا لہجہ ایک خاص قسم کا وقار، تمکنت اور صبر لیے ہوئے ہے۔ اُن کی شاعری میں ہجر محض ایک اندھا درد نہیں بلکہ یہ ایک ایسا جلی احساس ہے جو انسان کو اپنی ذات اور محبت کی آفاقی حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔ وہ اپنے محبوب کو یاد کرتے ہوئے بھی ایک ایسی پختہ خودداری کا مظاہرہ کرتے ہیں جو قاری کو ان کے کلام کا گرویدہ بنا دیتی ہے۔ محبوب، ہجر اور وصل ایسے موضوعات ہیں جن پر ہر دور کے شاعر نے قلم اٹھایا ہے۔ اگر ہم اردو شاعری میں احمد فراز اور اختر شمار کی مثالیں لیں، تو وہاں ہجر کا دکھ کچھ اِس انداز میں بکھرتا ہے:

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

تُو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں

اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فرازؔ
جیسے دو شخص تمنا کے سرابوں میں ملیں

یا اختر شمار کی ایک غزل ملاحظہ ہو:

اُس کے نزدیک غمِ ترکِ وفا کچھ بھی نہیں
مطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں

اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں
اُس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں

کل بچھڑنا ہے تو پھر عہدِ وفا سوچ کے باندھ
ابھی آغازِ محبت ہے گیا کچھ بھی نہیں

اے شمارؔ آنکھیں اسی طرح بچھائے رکھنا
جانے کس وقت وہ آ جائے پتا کچھ بھی نہیں

اُردو شاعری میں بلاشبہ ہجر کو نہایت موثر انداز میں برتا گیا ہے لیکن پشتو ادب کی خوب صورتی اِس کے اپنے مخصوص تہذیبی وصل اور ہجر پر منحصر ہے۔ جس قدر شائستگی، حیا اور دھیمے پن کے ساتھ پشتو شعرا محبوب کے بچھڑنے کا نوحہ لکھتے ہیں اُس میں ایک اچھوتا پن ہوتا ہے۔ شیرانداز خان نے بھی اسی اُسلوب کو برقرار رکھتے ہوئے کمال کی ابیات کہی ہیں:

لکه ما چې ستا په غم کې سومره پټ پټ دي ژړلي
دا یقین خو زما نه شي چې به بل داسې پیدا شي

ساه نیولې راته ښکاري معلومیږي د مزل نه
خدای دې خیر وکړي یریږم چې جدا نه شو یو بل نه

خیبر پختونخوا کی یہ مردم خیز سرزمین گزشتہ چار دہائیوں سے خونریزی، جنگ اور بدامنی کا شکار رہی ہے۔ ایسے میں شیرانداز خان نے ایک انتہائی باشعور اور حساس شاعر کا کردار ادا کیا ہے۔ اُنھوں نے اپنی شاعری کو محض حسن و عشق کے روایتی گل و بلبل کے قصوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ قوم کے اجتماعی دکھوں، سیاسی اضطراب اور مٹی کے درد کو بھی اپنے اشعار میں سمویا ہے۔ اُن کی شاعری دراصل اِس معاشرتی بے حسی اور مخلص قیادت کے فقدان پر ایک گہرا طنز ہے جو آج کے پشتون معاشرے کا سب سے بڑا المیہ بن چکا ہے۔ اُن کے ہاں ایک ایسی سماجی بصیرت موجود ہے جو اُنھیں محض ایک روایتی غزل گو کے مرتبے سے بلند کر کے ایک مصلح اور سماجی نقاد کے درجے پر فائز کرتی ہے:

مقتدیان په خوب ویده دي امامان هم
پښتانه د پښتونخوا د خاورې مړه دي

شیرانداز خان کا یہ تخلیقی سفر اِس سچائی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ادب کا معیار کسی رسمی تعلیمی سند یا ڈگری سے نہیں بلکہ اس درد، کسک اور خلوص سے ماپا جاتا ہے جو شاعر کے سینے میں اپنی قوم اور وطن کے لیے دھڑکتا ہے۔ اُن کا کلام پشتو ادب کی اُس شائستہ اور پروقار روایت کا تسلسل ہے جس میں ہجر کا کرب یاسیت کی نذر ہونے کے بجائے زندگی کی بقا اور امید کی توانا آواز بن کر ابھرتا ہے۔

اگر ہم پشتو زبان و ادب کو سوشل میڈیا کی اس حالیہ سطحی لہر (کسکریزم) سے بچانا چاہتے ہیں، تو ہمیں شیرانداز خان جیسے اُن حقیقی شعرا کی پذیرائی کرنی ہوگی جو اپنی جڑوں اور اسلاف کی روایات سے جڑے ہوئے ہیں۔ سچا ادب وہی ہے جو دلوں کی سچی ترجمانی کرے، معاشرتی زخموں پر مرہم رکھے اور اپنی تہذیبی شناخت کو تحفظ فراہم کرے۔ شیرانداز خان کا فن اِس بات کی سند ہے کہ اصل ادبی وقار گلیوں اور بازاروں کی سستی شورش میں نہیں بلکہ اس فکری سکون اور گہرائی میں پایا جاتا ہے جو انسانی تجربے کی سچائی سے جنم لیتا ہے۔ آج پشتو ادب کو اِسی فکری دیانتداری کی اشد ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلیں ایک ایسے ادب کی امین بنیں جو صرف عارضی طور پر دل بہلانے کا سامان نہ ہو بلکہ بامعنی اور زندہ ہو۔ پشتو شاعری اور سنجیدہ ادب سے شغف رکھنے والے تمام قارئین کے لیے شیرانداز خان کی زندگی کا احوال جاننا اور ان کی کتاب "لوڑی ژوری” کا مطالعہ کرنا ناگزیر ہے۔

مدثر عباس
4 جولائی 2026ء

مدثر عباس

مدثر عباس کا تعلق ضلع مردان کے نواحی علاقے لوند خوڑ سے ہے۔ وہ جامعہ پشاور میں اُردو زبان و ادب(ایم فل) کے طالبِ علم ہیں اور علمی و فکری جستجو سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ تاریخ اور تاریخی کتب سے خاص شغف ان کے مطالعے کو وسعت بخشتا ہے، جب کہ مسلسل اور وسیع مطالعہ ان کی فکری تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مختلف سیاسی، سماجی اور تاریخی موضوعات پر وقتاً فوقتاً قلم اُٹھاتے ہیں، جہاں ان کی تحریروں میں مطالعے کی گہرائی اور سنجیدہ فکری رجحان جھلکتا ہے۔