چنار کے نیچے بینچ رکھا

لطیف ساجد کی ایک اردو غزل

چنار کے نیچے بینچ رکھا تمام شاخوں سے گرد جھاڑی
بہار آئی تو میں نے سُونے پڑے کواڑوں سے گرد جھاڑی

بلا رہا تھا پلیٹ فام کی سیڑھیوں سے کوئی مسافر
پرانے قُلّی نے سر اٹھایا ضعیف کاندھوں سے گرد جھاڑی

بدلتے مذہب کو ہم نے فرقوں کی بند گلیوں میں جھونکنے کو
کئی کتابوں کے صفحے پلٹے کئی صحیفوں سے گرد جھاڑی

کسی بھی تصویر میں کسی نے انہیں اجاگر نہیں کیا تھا
پھر اک مصور نے ہل چلاتے ہوئے کسانوں سے گرد جھاڑی

خسارہ لاگت سے بڑھ گیا تو نئے پجاری کو ہوش آیا
صنم کدے کے چبوتروں پر کھڑے خداؤں سے گرد جھاڑی

جہان بھر کا غبار لادے ہوئے مسافر گھروں کو لوٹے
اداس ماؤں نے والہانہ نڈھال بیٹوں سے گرد جھاڑی

چھپایا جاتا رہا ہے مظلوم کی حمایت کا باب ہم سے
پھر اک محقق نے راجہ داہر کے کارناموں سے گرد جھاڑی

پڑاؤ ڈالا کسی کے چھوڑے ہوئے الاؤ پہ ہاتھ تاپے
تھکن کو خیموں سے دور پھینکا بجھے چراغوں سے گرد جھاڑی

لطیف جذبوں نے آگے بڑھ کر شعور کی داغ بیل ڈالی
محل سرا کی جواں کنیزوں نے ساربانوں سے گرد جھاڑی

لطیف ساجد

Exit mobile version