- Advertisement -

Wo Bulain To Kya Tamasha Ho

An Urdu Ghazal By Saghar Saddique

ساغر صدیقی
انتظارِ نظر

وقت کی عمر کیا بڑی ہو گی

اک ترے وصل کی گھڑی ہو گی

دستکیں دے رہی ہے پلکوں پر

کوئی برسات کی جھڑی ہو گی

کیا خبر تھی کہ نوکِ خنجر بھی

پھول کی اک پنکھڑی ہو گی

زلف بل کھا رہی ہے ماتھے پر

چاندنی سے صبا لڑی ہو گی

اے عدم کے مسافرو ہشیار

راہ میں زندگی کھڑی ہو گی

کیوں گرہ گیسوؤں میں ڈالی ہے

جاں کسی پھول کی اڑی ہو گی

التجا کا ملال کیا کیجئے

ان کے در پر کہیں پڑی ہو گی

موت کہتے ہیں جس کو اے ساغر

زندگی کی کوئی کڑی ہو گی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
An Urdu Ghazal By Saghar Saddique