- Advertisement -

توازن اردو ادب پروگرام نمبر٥٣

رپورٹ عامر یوسف لاہور پاکستان

توازن اردو ادب
پروگرام نمبر ٥٣

ماں ایک خوبصورت معتبر، شفیق اور بے لوث محبت کرنے والی وہ دنیا کی عظیم ترین اور عزیز ترین ہستی ہے، جس کا کوئی نعم العبدل نہیں شفقت سچائی اور محبت کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ کر ہم تمام دنیا کی تمام کلفتیں غم دکھ اور درد بھول جاتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ محبت کے آغاز اور انتہا کی دنیا میں پیمائش  اگر کسی طور ممکن ہو سکتی ہے تو اس کے اظہار کے لیے فقط ایک  لفظ ہی مل سکتا ہے اور وہ لفظ  صرف “ماں”۔ کا ہے

عنوان
حمد، نعت، سلام، منقبت کے ساتھ ماں/ والدہ
مورخہ ٨ مئی ٢٠٢٠ بروز جمعہ

اوقات
پاکستان ۔
صبح 10 سے لیکر شام 0730 بجے
بھارت۔
صبح 1030سے لیکر شام 0800 بجے
صدارت
محترمہ روبینہ میر صاحبہ جموں کشمیر
مہمان خصوصی
محترمہ صبیحہ صدف صاحبہ بھارت
مہمان اعزاز
محترمہ سیما گوہر صاحبہ انڈیا

پروگرام آرگنائزر
احمر جان رحیم یار خان
+923053922334
رپورٹ
عامر یوسف لاہور پاکستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ ۔ پیش کیا گیا کلام ۸— اشعار سے زیادہ پہ مشتمل نہ ہو جس میں کم و بیش دو تین  حمدیہ یا منقبت وغیرہ کے اشعار اور بقیہ ماں کے حوالے سے اشعار یا
نظم ہو گی

توازن اردو ادب کے زیر انتظام ہونے والا پروگرام نمبر ٥٣ ، اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور تاریخی پروگرام ہے کہ ماں کے حوالے سے رمضان کے مقدس مہینے میں اس عنوان کے تحت ایک اور ہی اس کی اہمیت اور مقام کا تعین کر رہا ہے یہ پروگرام جس میں رمضان المبارک کی مناسبت سے حمد و نعت کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔ رمضان المبارک کے پیش نظر پچھلے پروگرامز سے ہٹ کر پروگرام کا وقت مقرر کیا گیا ۔ اس پروگرام میں شعرا اور ادبا کی تعداد کا تعین نہیں کیا گیا ۔ بلکہ تمام احباب کو دعوت عام دی گئی کہ وہ اپنا خوبصورت کلام پیش کریں ۔ پروگرام کی صدارت کا اعزاز ہر توازن اردو ادب کے ہر اول دستے کی صف اول کی سپاہی آج کی میر کارواں عزت مآب محترمہ روبینہ میر صاحبہ جموں کشمیر تھیں جو کسی تعارف کی محتاج نہیں

میں تیرا نام نہ لوں پھر بھی لوگ پہچانیں
آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے

جبکہ مہمان خصوصی کی نشت پر بھارت سے تعلق رکھنے والی بہت حساس دل و دماغ کی مالک قابل صد احترام صبیحہ صدف صاحبہ تھیں ۔ مہمان اعزاز کی نشست پر براجمان خوبصورت لب و لہجے کی مالک سیما گوہر صاحبہ انڈیا سے تھیں ۔

پروگرام آرگنائزر دلوں کی جان توازن اردو ادب گروپ کی شان ادب دوستی کی پہچان  محترم احمر جان رحیم یار خان تھے

پروگرام کا آغاز صدر محفل کی آمد کے ساتھ ہی ڈاکٹر لبنی صاحبہ کے کلام سے ہوا

توازن اردو ادب
پروگرام نمبر 53
دعائیہ حمد باری تعالیٰ
ڈاکٹر لبنیٰ آصف

اے خدا اب دکھا تو وہی راستہ
جس پہ چل کر ملے ہر عمل کی جزا

کتنی صدیوں سے ہوں میں یہاں منتظر
میرے اندر سمندر بھی صحرا ہوا

چکھ لیا موت کا زندگی میں مزہ
دے مجھے میرے احساس ہی کی جزا

حال پر اب کرم ہو میرے بادشاہ
اب تو آگے کی کوئی جھلک ہی دکھا

میرے دل کو بصیرت منور کرے
اور بصارت کو دانائیاں کر عطا

تو مری ذات کو مثلِ امبر بنا
اور ہر اک خواب سے کر مجھے ماورا

ڈاکٹر لبنیٰ آصف
صاحبہ کے بعد بہت سیماب صفت علمی و ادبی میدانوں کے شاہسوار عمر تنہا لیہ پاکستان منظر پہ نمودار ہوئے

توازن اردو ادب
پروگرام نمبر ٥٣

عنوان
حمد، نعت، سلام، منقبت کے ساتھ ماں/ والدہ
مورخہ ٨ مئی ٢٠٢٠ بروز جمعہ

عمر تنہا ، فتح پور لیہ ،جنوبی پنجاب ، پاکستان

1…سلام کے اشعار
نذرانہء عقیدت بحضور شہدائے کربلا

بجھا ئے بجھ  نہ سکیں گے کبھی بقا   کے  چراغ
سنا ں کی  نوک  پہ روشن  ہیں  کربلا  کے  چراغ

زمانہ  اب  بھی  اُسی   در   سے   نور   پاتا   ہے
کہ جس کی خاک سے روشن ہوۓ وفا کے چراغ

مرے    حسینؑ    زمانہ     بھلا     نہیں     سکتا
جہاں  کو  روشنی  بخشی گئی  بجھا کے چراغ

اماں میں اِن    کو   خدا ئے   عظیم   رکھتا  ہے
بجھیں گے کیسے کسی سے بھلا خدا کے چرا غ

نہا کے اپنے  لہو میں  وہ  سر خرو   بھی  ہوئے
زمانہ  جان لے،  جلتے ہیں یو ں  وفا کے  چراغ

اٹھا ئے  کتنے   ہی    لاشے   حسینؑ   نے   تنہا
جلا کے  لب پہ رکھے تھے مگر رضا کے  چراغ

( عمر تنہا )

(2 نظم )

(ما ں )

مجھے درکار ہے پھر ما ں
تری آ غوشِ رحمت کی
تھکن سے چور ہوں تنہا
بہت مجبور ہوں تنہا
مجھے اک بار پھر سے تُو
سنا لوری وہ میٹھی سی
کہ جس آواز میں پنہا ں
وہ صد یو ں کی تسلی تھی
یہ جیون کس طرح کا ٹو ں
کوئی رستہ دکھا ؤ ماں
مرے ماتھے پہ بوسہ دو
مری انگلی پکڑ کر پھر
مجھے چلنا سکھاؤ ماں
غمو ں کی دھول نے مجھ کو
کیا نا آشنا خود سے
مجھے اب یاد آیا ما ں
نہیں نعم البدل تیرا
کوئی رشتہ کوئی ناتا
یہاں پر لوگ ایسے ہیں
کد و رت ہی کد و ر ت ہے
ترے لاچار بیٹے کو
فقط تیری ضرورت ہے

عمر تنہا
فتح پور، لیہ ،جنوبی ، پنجاب پاکستان

ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ اپنے کلام کی تابندگی اور درخشندگی سے یوں جلوہ افروز ہوئیں

ہروگرا نمبر 53 کے لئے

ماں
چمکتے ذرّے تو ہیں آفتاب کوئ نہیں
کتابِ پاک سے بڑھ کر کتاب کوئ نہیں
تمام رشتوں کا نعم البدل تو ہو شاید
بس ایک ماں ہے کہ جس کا جواب کوئ نہیں
____________
نعتِ پاک

قلم میں اس طرح خوشبو سی درآئی محمد ص کی
کہ مہکےمہکے لفظوں میں ہے رعنائی محمد ص کی

رسائ ان کی نظروں کی زمیں سے آسماں تک تھی
خدا ہی جانتا ہےصرف بینائ محمد ص کی

بنائی ہے نبی کے واسطے اللہ نے دنیا
جہاں کے گوشے گوشےمیں ہے زیبائی محمد ص کی

غم و آلام کےلشکر نے مجھ کوگھیر رکھا ہے
مدینہ جاؤں توپاؤں مسیحائی محمد ص کی

درودِ پاک کی خوشبوسے روح و دل مہکتے ہیں
مری سانسوں کے پھولوں میں میں ہے زیبائی محمد ص کی

نمازوں کی قرآت میں اور قرآں کی تلاوت میں
اذانوں کی صدا میں بھی ہے گویائی محمد ص کی

مرے اللہ کر مقبول تو میری دعاؤں کو
بشرکو دے دے بخشش میں شکیبائی محمد ص کی

نہیں ہے آرزو کوئ ، تمنا کچھ نہیں میری
عطا ہو نعت کو میری پزیرائی محمد ص کی

مجھے ہو فخر خود اپنے مقدر پر نہ کیوں”مینا”
کہ مجھ کو بخشوائےگی شناسائی محمد ص کی

ڈاکٹر مینا نقوی۔۔بھارت

جناب گرامی قدر محترم نعمان قاضی کے پختہ کلام نے حاضرین کو سحر زدہ کر دیا

حمدیہ
خالق ارض وسماحسن ہے،رعنائ ہے۔
ہرکلی نے یہ حقیقت ہمیں بتلائ ہے۔
نعتیہ
مبارک،بزم ہستی میں وہ جان عاشقیں آئے۔
جنہیں خالق نےخودمحبوب جانا،وہ حسیں آئے۔
منقبت
حضرت صدیق اکبر کی صداقت کوسلام۔سرورکونین کی اعلے’رفاقت کوسلام۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مثل رسول ہاشمی صورت،حسین کی۔
ناقابل بیان ہےرفعت حسین کی۔
ماں!1989۔مرثیہ۔عیدجدائ!
میری امی نہیں،یہ عجب عیدہے۔
باقی سب ہیں مگر،ترہراک دیدہے۔
کل تلک تھیں یہیں،یک بیک چل بسیں۔
رونقیں لےگئیں،دردسادےگئیں۔
روزہ رکھ کرگئیں،ماہ رحمت ملا۔
درس دیتی رہیں،اذن جنت ملا۔
ہم ہیں یوں غمزدہ،ماں سےمحروم ہیں۔
ایسی مائیں کہاں،سب یوں مغموم ہیں۔
جاکےآتےہیں کب،وہ نہ آئیں گی یاں۔
سب سلف ہیں جہاں،ہم ہی جائیں گےواں۔
پونچھ نعمان آنسو،عمل کر،سنبھل!
ماں کاوقت اجل،تھاتلاوت عمل۔
نعمان انصاری۔صدربزم فکرتھل

ڈاکٹر الیاس عاجز کی احساس اور جذبوں میں گندھی تحریر متاثر کن تھی اور حاضرین متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے

توازنِ اردوادب

پروگرام نمبر 53

(( ماں ))

اللہ رب العزت کاکروڑہا شکرہے کہ اُس نے ہمیں بطورِ انسان پیدافرمایا اور پھر ایک اور حسانِ عظیم یہ بھی کیا کہ ہمیں نبی آخرالزماں حضرت محمدﷺ کی اُمت میں پیدا فرمایا جس کے بارے خود اللہ تعالٰی اپنی آخری اور داٸمی کتاب قرآن مجید فرقان حمید میں فرماتا ہے کہ تم بہترین امت ہو جواچھاٸی کا حکم دیتے ہو اور براٸی سے منع کرتے ہو۔یعنی اوامر و نواہی پی عمل پیرا ہو۔۔۔۔۔۔۔
قارٸینِ محتشم! اُسی کتاب میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ والدین کے ساتھ احسان کرو۔
اگربڑھاپے کی حالت میں تمھیں دونوں یا ان میں سے ایک بھی ملے تو انھیں اُف تک نہ کہو۔
اُن کے لیے دعا کیا کرو کہ اے میرے رب ! میرے والدین پرشفقت فرما جس طرح انھوں نے مجھے بچپن میں شفقت سے پالا تھا ۔
حضراتِ گرامٸ قدر! دنیا میں آکر ہم کٸی قسم کے رشتوں ناتوں سے دوچار ہوتے ہیں ۔کہیں یاری دوستی کارشتہ، کہیں بہن بھاٸیوں کارشتہ،کہیں چچاٶں پھپھیوں کارشتہ،کہیں خالاٶں ماموٶں کا رشتہ،کہیں بھابھی دیور اور کہیں سالی بہنوٸی کا رشتہ ۔
الغرض ہم جتنے بھی رشتوں میں بندھتے ہیں میری تحقیق ومشاہدے کے مطابق اُن میں صرف ماں اور باپ کا رشتہ ایساجو بے غرض،بےلوث اورہرقسم کےلالچ سے مبرا ہے باقی دنیا کےسب رشتے آہستہ آہستہ یا وقت آنے پر تحلیل ہوجاتے ہیں مگروالدین کارشتہ پیداٸش سےلےکر مرنے کے بعد بلکہ قیامت تک قاٸم رہنے والا ہے۔
میں نے جب اس دنیا فانی میں آنکھ کھولی تومیری ماں اپنی زندگی کی چالیس بہاریں دیکھ چکی تھیں اور بالوں میں کہیں کہیں چاندی اُتررہی تھی۔ماں کسی سکول،مدرسہ،کالج یایونیورسٹی سے تعلیم یافتہ نہ تھی ۔میرے خیال سے میری ماں اُسی درسگاہ سے فارغ التحصیل تھی جسکےبارے ہادٸ برحقﷺ نے فرمایا کہ ماں کی گود سے گورتک علم حاصل کرو۔یہی وجہ تھی کہ ماں کے ہرکام میں ایک سلیقہ،ترتیب اورحسنِ اہتمام پایا جاتا تھا۔عموماً ہماری آنکھ مدھانی کی آواز کےساتھ کُھلتی جومیری ماں نمازو درود سے فارغ ہوکر دہی کو بلونے کی خاطرچاٹی میں ڈال چکی ہوتی ۔ہم سارے بھاٸی فوراً ہاتھ منھہ دھو مسجد کارُخ کرتے ۔نماز سیپارے سے فارغ ہوکرگھر لوٹتے تو لسی کا ایک ایک گلاس اور مکھن کاچمچہ ہمارا انتظار کررہا ہوتا جو ہماری ماں زبردستی ہمارے منھ میں ڈال دیتیں۔ پھرناشتہ ۔ پھر سکول کی تیاری۔ہرکام میں ایک ترتیب۔ہمیں کبھی محسوس ہی نہ ہوا کہ پریشانی نامی چیز بھی زندگی میں ہوتی ہے۔میری زندگی میں کٸی اکتیس مارچ آٸے جب مجھے سکول بھیج کر میری ماں اپنی بہن یعنی میری خالہ کے ساتھ سکول سے ہمارے گاٶں کےدرآمدی رستے پرگلی میں چارپاٸی بچھاکرمیرے پاس ہونےکا انتظار کرتیں اور میں شرارتًا ہی آدھا کلومیٹرپیچھے رونے والا منھ بناکر ماں کے سامنے آجاتا۔ماں مجھے دبکا کرپوچھتی کہ کیا بنا تمھارا؟میں دو تین آہیں بھر کر اعلان کرتا کہ آپ کا بیٹا پاس ہے تو بےاختیار ماں کی آنکھوں سے خوشی اور تشکر کے آنسوگالوں پر رینگ جاتے۔میری خالہ جن کی شادی ہمارے ہی گاٶں میں ہوٸی تھی حسد اور رشک کے ملےجلے جذبات سے مغلوب ہوکرکہتی ۔بہن! میں نہ کہتی تھی کہ تیرا بیٹا فیل ہوہی نہیں سکتا۔ماں دوپٹے کے پلو سے دس بیس روپے کھول کر مجھے دیتی کہ فوراً ٹافیاں لا کر بانٹو اور خالہ کو سب سے پہلے دینا۔
میں تعلیمی زندگی سے آہستہ آہستہ عملی زندگی کرطرف منتقل ہوتا گیا اور باپ کے ساتھ ساتھ میری ماں بھی میرےلیے مضبوط سہارا بنتی گٸی۔مجھے نہیں یاد کہ میں نے اپنی زندگی میں آنے والی کسی پریشانی کابرملا اظہار اپنی ماں سے کیا ہو مگر میری ماں سب جانتی ہوتی۔میری پیشانی پراُبھرنے والی آڑھی ترچھی لکیروں سے ،میری خاموشی سے اور کھانے میں عدم دلچسپی سے ماں کوفوراً پتہ چل جاتا کہ میں پریشان ہوں حالانکہ ماں نے کہیں سے بھی علمِ نجوم یا علمِ قیافہ نہیں سیکھا تھا ۔ماں کو پتہ چل جاتا تو میری پریشانی کافور۔پھرپریشانی جانے اور ماں جانے۔اور ہاں اُس پریشانی کے خلاف واحد ہتھیار میری ماں کےپاس صرف جاٸے نماز تھااوراللہ رب العزت کے حضور کی گٸی اشکوں سے بھرپور دُعا۔
اپنے خاوندکی سب سے زیادہ وفادار اور خدمتگار میں نے اپنی ماں کو پایا ہے۔بڑھاپے تک میری ماں نے میرے والد کی اطاعت وفرمانبراری کی۔ہم سےکوٸی غلطی ہوجانےپرمیری ماں نے کبھی ہمیں باپ سے ڈرایا نہیں بلکہ احساس دلایا۔والدِ محترم چونکہ عمارتوں کی تعمیر کاکام کرتے تھےاس لیے جیسے ہی شام کو تھکے ہارے گھرلوٹتے موسم کے مطابق ٹھنڈا یا گرم مشروب اُن کا انتظار کررہاہوتا اور ہمارے ہاتھ تاکہ اُن کی ٹانگیں اور سر دبا سکیں۔
ماں نے کبھی پسند نا پسند کااحساس نہ ہونے دیاجوملتا وہ خوشی خوشی کھا لیتیں تاہم ہمارے والد کی خواہش کوہمیشہ مقدم رکھا اور کام پہ جانے سے پہلے رات کے سالن بارے ان سے پوچھنا نہ بھولتیں۔ایک چیز جو میں نے ماں کو تواتر سے کھاتے دیکھا وہ رات کی باسی تنوری روٹی اورشکرملا دہی وہ قریبًا ہرروز کھاتی تھیں کٸی دفعہ میں نے بھی خواہش کی مگر دولقموں کے بعد ہی ہاتھ کھینچ لیا۔گانے، موسیقی اور ٹیلیوژن سے میری ماں کو رتّی برابر دلچسپی نہ تھی تاہم کبھی کام میں بہت زیادہ منہمک ہونے کی وجہ سے وہ بہت ہی مدھم آواز میں پرانی لوریاں گنگناتی رہتیں۔جب کبھی استفسار کیا تو ایک آدھ شعر ہم کو بھی سنادیا جس میں ماٸیں نی ماٸیں اور میرے بابلا جیسے الفاظ کی کثرت ہوتی۔چھبیس مارچ دوہزار تیرہ کادن میرےلیے بڑاحُزن وملال کادن تھا جب صبح سات بج کر تیس منٹ پر میری ماں پچاسی برس اس وادٸ پُرخار میں گزار کرراہی ملکِ عدم ہوٸیں۔ماں کیا گٸی گویا زندگی ایک گھنےاور سایہ داردخت سے محروم ہوگٸی۔زندگی بے آب و گیاہ صحرا لگنے لگی جس میں دور دور تک نہ پانی نہ سبزہ نہ کوٸی خودرو پودا جوتھکے ہارے مسافر کوکچھ دیر تک سراب کی کوفت سے بچا سکے۔ آج جب میں اپنی ماں کا موازنہ دور حاضر کی جدید ماٶں سے کرتا ہوں تویقین کریں دل مسوس کررہ جاتا ہوں۔آج کی ماں دورِ حاضر کے علومِ جدید سے بہرہ ور ہے۔کمپیوٹر چلاناجانتی ہے۔بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہے مگر اس کی ممتا شیلڈ کے فیڈر،ماسٹر کے پیمپرز اورنیسلے کےدودھ میں دفن ہوچکی ہےیہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل کے دلوں سے ماں سے محبت ،اطاعت وفرمانبرداری جیسے جذبات دم توڑتے جارہےہیں۔

ڈاکٹرمحمدالیاس عاجز

ڈاکٹر لبنی آصف جی نے ایک دفعہ پھر شریک محفل کو اپنی خاتونِ جنت امِ حسنین کی شان میں لکھے کلام سے فیض یاب کیا

توازن اردو ادب
پروگرام نمبر 53
مدرز ڈے کے موقع پر خاتونِ جنت امِ حسنین (ع) کی خدمت میں ہدیہءعقیدت
ڈاکٹر لبنیٰ آصف

صبحِ پرنور کا نزول بتول
ہیں جمالِ رخِ رسول بتول

پیکرِ صبر و شکر اورتقویٰ
رب کی خوشنودی کا حصول بتول

ان کی تسبیح ہے نماز کا ناز
زہد کی آپ ہیں اصول بتول

آپ کے سنگِ در پہ میرا بھی
سجدہءعشق ہو قبول بتول

ہیں یہ اشعار آپ ہی کی عطا
ہو مری نذر بھی قبول بتول

جتنا بابا کے بعد زندہ رہیں
ہائے لبنیٰ رہیں ملول بتول

ڈاکٹر لبنیٰ آصف
صدر محفل میر کاروں سخن دل نواز جاں پر سوز محترمہ روبینہ میر صاحبہ نے اپنا کلام پیش کیا

توازن اردو ادب۔
پروگرام نمبر 53
بعنوان ۔حمد، نعت، سلام، منقبت، ماں ۔

بیاں کیا کروں میں صِفاتِ مُحَمَّد ﷺ
بڑی شان والی ہے ذاتِ مُحَمَّد ﷺ

تّصور میں اک روشنی پھیلتی ہے
اُترتی ہے جب دل میں نعتِ مُحَمَّد ﷺ

میں روبینہ قربان ہوں اُن پہ دل سے
کہ ذاتِ محمدﷺ ہے ذاتِ مُحَمَّد ﷺ
—————————————-

”ماں تُجھے سلام“

دل سے ہر اک غم بُھلا دیتی ہے ماں
جب مصیبت میں دُعا دیتی ہے ماں

بچوں سے ہوتے ہیں جتنے جُرم بھی
دل سے ہر اک غم بُھلا دیتی ہے ماں

جب اُجڑ جاۓ کبھی دل کا چمن
اس کو اک پل میں بسا دیتی ہے ماں

زندگی ہر غم سے ٹکرا سکتی ہے
حوصلہ اِتنا بڑھا دیتی ہے ماں

گھر میں پیدا ہوتے ہیں جو بارہا
ایسے سب جھگڑے مٹا دیتی ہے ماں

کام آٸے بچوں کے جو عُمر بھر
دل سے اپنے وہ دُعا دیتی ہے ماں

کوٸی پوچھے مُجھ سے روبینہ اگر
کیا بتاٶں میں کہ کیا دیتی ہے ماں

روبینہ ہمیر ۔جموں کشمیر ۔بھارت

گوجرانوالہ سے توازن اردو ادب کے فورم سے محمد علی بشر صاحب نے اپنا کلام پیش کیا اور بہت داد سمیٹی

توازن اردو ادب
پروگرام 53

آلِ نبی کا جو بھی محبت سے ہو گیا
بخشش کا اہتمام سہولت سے ہو گیا

سینچا تھا اہلُِ بیت نے کربل کو خون سے
سیراب ذرہ ذرہ یوں کثرت سے ہو گیا

تشنہ لبی حسین کی دریا بھی دیکھ کر
واللہ پانی پانی ندامت سے ہو گیا

ناداں سمجھ رہے تھے کہ مارا گیا حسین
زندہ مگر حسین شہادت سے ہو گیا

نوحہ لکھوں انیس سا میری کہاں مجال
سچ ہے بشر یہ کام عقیدت سے ہو گیا

(محمد علی بشر)
گوجرانوالہ ، پاکستان

ان کے بعد بڑے محنتی اور خوبصورت لب و لہجہ کے شاعر عامر سہیل نے اپنا کلام حاضرین کے سامنے رکھ دیا اور ستائش حاصل کی

توازن اردو ادب۔۔۔۔۔

پروگرام نمبر۔۔۔53

نظم۔۔۔۔۔۔۔”ماں”

ازقلم۔۔۔۔۔عامر سُہیل

میں نمٹتا گیا سارے حالات سے

پھر نہ سہما کبھی بھی کسی بات سے

اِک تسلی رہی ان مراعات سے

مجھ کو بخشی گئیں جو شروعات سے

کیسا خوف و خطر، کیسی آفت بلا

میری ماں کی دعا سے سبھی شر ٹلا

میں تو بد مست سا سر خوشی میں ہوا

تھا اندھیروں میں پھر روشنی میں ہوا

میرا جوشِ جنوں چھا گیا ہر طرف

ماں کی ممتا نے بخشا ہے مجھ کو شرف

پھر نہیں میں نے جذبوں کو مرنے دیا

پھر کبھی بھی نہ خود کو بکھرنے دیا

میرے مولا کا مجھ پر کرم ہو گیا

دور مجھ سے کہ رنج و الم ہو گیا

ماں کی ہستی نے مجھ کو سہارا دیا

ہو سکا جو مِرے واسطے وہ کیا

میں ہنسا تو مِری مامتا بھی ہنسی

میں جو رویا تو ہمراہ وہ رو پڑی

اپنے بچوں سے پیاری نہ کوئی متاع

ماں سے بڑھ کر نہ کوئی ہو ان کا دفاع

میرے جیون کو تُم نے سنوارا ہے ماں

میری ہستی کو تُم نے ابھارا ہے ماں

تیری عظمت مرِی ماں سلامت رہے

مجھ کو خدمت تِری اک سعادت رہے

عامر حسنی جی کا ماں پہ لکھا گیا بہت متاثرکن کلام نے ایک دفعہ پھر توصیف و مدح کا ساغر بھرا

حمد باری تعالی
تعریف اس خدا کی جو ذات جاودانی
ویسا نہیں جہاں میں کوئی بھی یارجانی

واحد وہ ذات جس کا ہرگز نہیں ہے ثانی
اس کے کرم سے ہر دم ہر ایک کامرانی

ہر کام اس کے بس میں جو چاہے کردکھائے
کُن سے جہاں بنائے وہ ذات آسمانی

نورِ نبیﷺ سے روشن دل کر دکھائے جس نے
یہ چاند اور سورج اس کی ہی ضوفشانی

اپنوں کی جو حفاظت کرتا چلا ہی جائے
کر پائے کوئی ایسی کیا جگ کی ساربانی؟

پھولوں پھلوں سے دنیا کو جس نے بھر دیا ہے
پیارے خدا کی ہم پر ہر آن گل فشانی

محنت سے جو کمایا اس کے کرم سے پایا
انسان کو عطا کی اس نے ہی جاں فشانی

ہر ایک کوعطا ہیں اعضائے با وَفا ہیں
جو بھی عطا ہوا ہے سب اس کی مہربانی

ماں باپ والی نعمت سب نعمتوں سے بڑھ کر
ان کے کرم سے یارو ہرآن شادمانی

جود و سخا اسی کی عامرؔ کو جو عطا ہیں
پانی ہوا فضائیں ہر گام زندگانی

عامرؔحسنی
ملائیشیا

امی جان کی یاد میں

دھیما مزاج، نرم دل اور سادگی بہت
میٹھی زبان جس میں رہی تازگی بہت

ٹھہری ہوئی سی زندگی، عادات باکمال
تھی عاجزی مزاج میں اخلاق میں جمال

گھر کے ہر ایک فرد پہ ہوتی رہیں نہال
امی کے صبر شکر کی ملتی نہیں مثال

بہنوں سے بھائیوں سے محبت رہی ہمیش
سرتاج کی سدا رہیں خدمت میں پیش پیش

ہمدردیاں ہی پاتے رہے تا حیات خویش
مسکان سے سجا ہوا چہرہ رہا ہمیش

اولاد کے لیے رہی قربان زندگی
اللہ کے حضور میں ہرگام بندگی

اعلیٰ صفات من میں لیے ہو گئیں جدا
سایہ فگن ہمیش رہے رحمتِ خدا

عامرؔ ہزار جان سے جن پر رہا فدا
جنت کے ہر مقام سے آئے انہیں ندا
عامرؔحسنی۔ ملائیشیا

امین اوڈھیرائی جی کا مختصر کلام بہت خووووب تھا

ماں کے
حوالے سے دو

شعر

وہ اثر ماں کی ہے دعاٶں میں
یوں بدل جاۓ دھوپ چھاٶں میں

اک تمہارا ہی گھر نہ تھا ورنہ
کیا کمی تھی ہمارے گاؤں میں

امین اوڈیرائ

مصطفی دلکش صاحب کا کلام ہر ہر شعر دمکتا نگینے کی طرح ضو فشاں تھا

گوہر سیما صاحبہ کے خوبصورت کلام کو بہت سراہا گیا جو واقعی بہت مترنم نغمگی اور خوبصورتی سے مزین تھا

حمد باری تعالہ

صرف اس رب سے محبت کیجئے
جتنا ممکن ہو عبادت کیجئے

میں کروں اللہ کی حمد. و. ثنا
سرورِ کونین رحمت کیجئے

بخش دیگا وہ سبھی گستاخیاں
اب بھی موقع ہے عبادت کیجئے

اک خدا کے سامنے ہی سر جھکے
اس قدر پختہ عقیدت کیجئے

نور سے روشن ہے جسکی کائنات
ہر نفس اسکی عبادت کیجئے

سر جھکا کر صرف دب کے سامنے
خوب صورت اپنی قسمت کیجئے

آپ کو رب کی رضا جو چاہئے
دین دکھیوں پہ عنایت کیجئے

گوھر سیما رامپور انڈیا

عنوان ماں

ایک نظم میری معزز ماں کی نزر

آزاد نظم

صرف ماں کے ہونے سے

صرف ماں کے ہونے سے
میرے اس خموشاں میں
زندگی سی لگتی ہے

صرف ماں کے ہونے سے

صرف ماں کے ہونے سے
گھر کے ہر طرف مجھکو
روشنی سی لگتی ہے

صرف ماں کے ہونے سے

سرف ماں کے ہونے سے
رحمتیں برستی ہیں
اسکی مسکراہٹ میں
روح میں میرے جیسے
تازگی سی لگتی ہے

صرف ماں کے ہونے سے

صرف ماں کے ہونے سے
روح مسکراتی ہے
درد روٹھے رہتے ہیں

صرف ماں کے ہونے سے

صرف ماں کے ہونے سے
یہ مکان بھی آخر
گھر کے جیسا لگتا ہے

صرف ماں کے ہونے سے

صرف ماں کے ہونے سے
دور ایک تصور میں
چہرہ مسکراتا ہے

صرف ماں کے ہونے سے
صرف ماں کے ہونے سے

گوہر سیما رامپور انڈیا

غزل

معتّر معتّر ووؐ آنگن کی۔ خوشبو
ہے احساس میں اب بھی بچپن کی خوشبو

کہاں بھول پا ینگے یارو کبھی ہم
گلابوں کی۔ کلیوں کی گلشن کی خوشبو

وو بارش کی بوندوں میں بھیگی فضایں
وو مٹٰی سے اٹھتی ووؓ ساون کی خوشبو

بکھیرے ہوئے کیسی مدہوشیاں تھیں
وو الفت میں چاہت میں ان بن کی خوشبو

کہ جسسے لپٹکر میں پہروں ہوں سویی
ہیں سانسوں میں ماں کے وو دامن کی خوشبو

ہوئی مدتیں جنکے بن اب تو “گوھر”
ہے جکڑے ہوئے انکے تن من کی خوشبو

گوہر سیما رامپور انڈیا

ڈاکٹر نجمہ شاہین صاحبہ اپنا معطر اور خوشبو میں بسا کلام لے کر جلوہ افروز ہوئیں

توازن اردو ادب
پروگرام نمبر ٥٣

عنوان
حمد، نعت، سلام، منقبت کے ساتھ ماں/ والدہ
مورخہ ٨ مئی ٢٠٢٠ بروز جمعہ

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ ،
جان سرجیکل ہسپتال ڈیرہ غازی خان،
جنوبی  پنجاب ، پاکستان

1…سلام کے اشعار

نذرانہء عقیدت بحضور شہدائے کربلا

دکھوں کی تفصیل لکھنے بیٹھوں تو اشک اپنے تمام لکھوں
لہو میں ڈوبیں جو حرف سارے، امام تیرا سلام لکھوں

وہ جس نے سجدے میں سر کٹا کے ہمیں نوازا بلندیوں سے
وفا کے سجدوں کے شاہ کو ہی میں آج شاہ و اما م لکھوں

یہاں سکینہ کا، اصغر ،اکبر کا اور قاسم کا تذکرہ ہے
ورق ورق پر ہیں اشک پھیلے میں حرف حرف احترام لکھوں

مجھے شہیدوں کا ذکر کرنا ہے سوچ کو معتبر تو کر لوں
قطار میں سارے لفظ رکھوں ،ملے جنہیں پھر دوام لکھوں

ہماری گلیوں میں قتل کب تک روا رہے گا ،سوال پوچھوں
ہمارے ظلمت کدے میں کب ہو گا روشنی کا قیام لکھوں

یہی تقدس ہے اب تو میرا،اسی سے نجمہ مری حفاظت
میں اپنی چادر کے چاروں کونوں پہ بی بی زینب کا نام لکھوں
_______—-______—

سہارا ماں ہے

دکھ کے لمحوں میں مرا ایک سہارا ماں ہے
میں اگر ڈوبتی کشتی ہوں کنارہ ماں ہے

اُس کے قدموں میں جو جنت ہے تو مطلب یہ ہے
آسمانوں سے جسے رب نے اتارا ماں ہے

خوشبو ایسی کہ مری روح تلک مہکی ہے
روشنی ایسی کہ بس نور کا دھارا ماں ہے

تپتے صحراؤں میں کس طرح بھٹک سکتی ہوں
مجھ کو جو راہ دکھائے وہ ستارہ ماں ہے

اُس کے ہر دکھ کو میں لفظوں میں سموتی کیسے
میں نے اشکوں سے بس اک لفظ اُبھارا ’’ماں‘‘ ہے

سب نے پوچھا کہ بھنور سے تُو بچے گی کیسے
میں نے بے ساختہ نجمہ یہ پکارا ’’ماں ہے‘‘

ایک بار پھر مصطفی جی ماں پہ یوں گویا ہوئے اور دلکشی کا مجسم بن گئے

لفظ ماں پہ چند اشعار

ساری دنیا کی دعائیں میں کہاں رکھوں گا
میری بخشش کے لئے ماں کی دعا کافی ہے

مری ماں کس قدر بے چین ہوجاتی ہے مت پوچھو
ذرا سی چھینک آجاتی ہے سوتے میں اگر مجھ کو

الٰہی خیر جب بچوں سے مائیں روٹھ جاتی ہیں
تو ان سے روٹھ جاتا ہے دعائیں روٹھ جاتی ہیں

ماں کی دعائیں ساتھ نہیں ہیں تو یاد رکھ
پردیش سے تو لوٹ کے ناکام آ ئے گا

جس کی خوشبو سے مہکتی ہے یہ دلکش دنیا
وہ مہک ماں ترے دامن میں بہت ہوتی ہے

مصطفیٰ دلکش مہاراشٹر الہند

محترم ریاض انور بلڈانوی۔۔۔بھارت نے اپنے کلام کے پھول بکھیر دیے تو محفل مہکنے لگی

ماں۔۔۔۔۔۔۔۔
ریاض انور بُلڈانوی بھارت سے اپنے کلام سے محفل کی جان ہوئے

تیرے قدموں تلے ہے جنت ماں
رب کی طاعت ہےتیری طاعت ماں

انس ، ایثار و مہر وصف ترے
تیری ہر بات میں صداقت ماں

تو ہے ہمدرد مشفق و مونس
تیری ہر بات میں صداقت ماں

حکم مانوں ترا دل و جاں سے
تیری خدمت مری سعادت ماں

تیری باتیں ہیں شہدسی شیریں
تو جو ہے سربسر محبت ماں

تو نے بخشا شعور علم دیا
ہر گھڑی کی مری اعانت ماں

فرق نیکی بدی کا سمجھایا
ہر گھڑی کی مری اعانت ماں

ہے خدا سے دعا یہ انور کی
تیرا سایا رہے سلامت ماں

ریاض انور بلڈانوی۔۔۔بھارت

محترم اشرف علی اشرف ایک مخصوص خوبصورت لب و لہجہ اور تفہیی تخلییقی سوچ کے مظہر اشعار قابل صد تحسین تھے

کوئی رِشتہ نہیں ہے ماں جیسا
کوئی لگتا نہیں ہے ماں جیسا

یوں تو الفاظ کا سمندر ہے
لفظ میٹھا نہیں ہے ماں جیسا

لاکھ پَتھر تراش لو لیکن
نقش بنتا نہیں ہے ماں جیسا

روح تک کو سکون ملتا ہے
یعنی سایہ نہیں ہے ماں جیسا

صبحِ صادق ہو مسکراتی ماں
کوئی ہنستا نہیں ہے ماں جیسا

سب کو مائیں عزیز ہوتی ہیں
اور ہوتا نہیں ہے ماں جیسا

پیرومرشد تلاشنے والو
پیر دُوجانہیں ہے ماں جیسا

گھرکے آنگن میں ایک بھی اشرف
پھول کھِلتا نہیں ہے ماں جیسا

اشرف علی اشرف
سندھ پاکستان

ڈاکٹر ارشاد جی کے بارے کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ان کا مترنم اور تخلیقی کلام زبردست سراہا گیا

حمد باری تعالی

یہ شام گنگناتی
یہ لو ہے تھرتھراتی
ہولے سے مسکراتی
باد شمیم آتی
پھولوں کو گدگداتی

تیری ہی یہ عطا ہے
تونے خدا دیا ہے

برفیلی وہ چٹانیں
رنگین وہ کمانیں
زیر زمین کانیں
صحرا کی وہ اذانیں
موسم کی وہ زبانیں

یہ اذن بے بہا ہے
تونے خدا دیا ہے

تارے وہ جھلملاتے
قندیل ٹمٹماتے
بھنورے وہ گنگناتے
اور پھول مسکراتے
خوشبو ہیں یہ لٹاتے

سب کی الگ ادا ہے
تونے خدا دیا ہے

برسات کی وہ چھم چھم
پتوں پہ گرکے سرگم
کھلنا کلی کا کم کم
شاخوں کا ملنا باہم راتوں میں روئی شبنم

ہر چیز خوشنما ہے
تونے خدا دیا ہے

ڈاکٹر ارشاد خان

ماں

میری چھوٹی بڑی شرارت پر

تیری مسکان یاد ہے مجھکو

گود میں لے کے کھیت میں جانا

اور کڑی دھوپ کی تمازت سے

اپنے آنچل میں وہ چھپا لینا

سرد موسم جو آئے چپکے سے

وہ لحافوں میں دھر دبا لینا

منھ میں بھر لاؤں جو کبھی مٹی

پیار کے ساتھ ہلکا غصہ بھی

تیری پیشانی میری پیشانی

ساتھ مسکان کے رگڑنا بھی

جوش ممتا کا یاد ہے مجھکو

ساتھ میرے بھی تیرا تتلانا

گم ہوا کاروبار ہستی میں

شور موٹر کا گاڑیوں کا دھواں

ان پہیوں کی گڑگڑاہٹ میں

بھولی بسری ہوئی ، سبھی یادیں

اک کسک بن کے دل میں آتی ہیں

میں نے فردوس کو نہیں دیکھا

تیرے چہرے کی جھریوں کی قسم

ان میں جنت دکھائی دیتی ہے

ڈاکٹر ارشاد خان

محترم ریاض انور بلڈانوی ۔۔۔بھارت یوں سخن نواز ہوئے

حمد۔۔۔۔۔۔
ہوں قلم جہان بھرکے،بنیں بحر روشناٸی
تورقم نہوسکےگی تری شان کبریاٸی

تری ذات لم یزل ہے، تو جہاں کا ماحصل ہے
ہے ثنا ترے لٸے بس، تجھے زیب ہے بڑاٸی

تومحی،جلیل،حاکم،تری بادشاہی داٸم
ترےدر پہ کررہاہے یہ جہاں جبین ساٸی

توعظیم تر،احدبھی، توغنی بھی ہے صمد بھی
میں ہوں مشتِ خاک داتا،مرا بخت ہے گداٸی
ٕ
تجھے ہر نفس پکارے،تراذکر ہراذاں میں
ترے نام کی صدا ہی ،دےفضاٶں میں سناٸی

توقدیر منفردہے،تو حکیم بھی انوکھا
ہے وہ شاہکار اعلیٰ تو نے جو بھی شے بناٸی

یہ دعا کرے ہےانور اے خدا بروز محشر
ملے خلد میں جگہ بس نہو اسکی جگ ہنساٸی

جناب ریاض انور بلڈانوی کی منقبت اللہ اللہ ذرا ملاحظہ کریں

🌹منقبت در شان حضرت امام حسین ؓ🌹

منارہ نور کا ،ہیں حق نِگر امام حسینؓ
چراغِ منزلِ دیں، راہبر امام حسینؓ

ہیں آپ خلد کے سردار سیّدالشّہدا
جھکیں گے کیسے نہ شاہوں کے سر امام حسینؓ

نہیں ہے کھیل کوٸی حق پہ گھر لٹا دینا
کٹاٸے سر کو ہے کس کا جگر امام حسینؓ

لٹا کے جان بچایا ہے دین ِ احمد کو
جری، شجاع،نڈر معتبر امام حسین ؓ

فروغ پاتی براٸی ،عروج شر پاتا
اگر جو آپ کٹاتے نہ سر امام حسین ؓ

دیا درسِ خودی آپ نے زمانے کو
کہ ظلمتوےں میں ہیں نورِ سحر امام حسینؓ

جہاں میں زندہ رہیں گے وہ حشر تک انور
مسیح ِ دینِ خدا ، چارہ گر امام حسین ؓ

ریاض انور بلڈانوی ۔۔۔بھارت

محترمہ عینی زا سید کا سوز و گداز بھر کلام زبردست اثر پذیری لیے ہوئے تھا

توازن اردو ادب

*پروگرام نمبر 53
*
میں اور آپ

آپ ہیں میری آنکھیں اور
میں ہوں آپ کا چہرہ امی
میں نے آپ کی آنکھوں سے
ساری دنیا دیکھی ہے

وہ لمحہ تو یاد نہیں جب
میں نے بولنا سیکھا تھا
لیکن یہ ایقان ہے میرا
آپ ہی میری سامع ہوں گی

بچپن کی گل رنگ رتوں میں
آپ ہی میری سانجھی ساتھی
گڑیا کھیلی رنگ بھرے یا
مٹی مٹی ہاتھ ہوئے

آپ نے میری ہر غلطی اور
ہر کاوش کو own (اون) کیا

بچپن بیتا موسم بدلا
آپ نے میرا روپ سنوارا

میری چاہت میری خوشیاں
آپ کی ذات سے نکلی ہیں

آپ کا ٹھنڈا میٹھا سایہ
ہر اک لمحہ ساتھ رہا ہے

آپ کی ذات کی ہر اک خوبی
جانےکیسےمیری ذات کارنگ بنی ہے

دنیا میری ہر خوبی کو
“‘ میری ” ذات کا حصہ سمجھے

لیکن امی
میری ذات کی ہر اک خوبی
آپ کے دم سے نکھری ہے
آپ سے اتنا کہنا ہے بس

آپ ہیں ہر اک بات کا حصہ
آپ ہیں میری ذات کا حصہ

عینی زا سید

جناب اعجاز عادل شاہ پوری
بلاک چہرہ کلاں
ضلع ویشالی بہار کا خوبصورت حمدیہ کلام ملاحظہ کیجیے

حمد باری تعالیٰ

جب کبھی دل میں وہ توفیق ثنا دیتا ہے
رنج وغم دور کہیں مجھ سے ہٹا دیتا ہے

دین کی راہ پہ بندوں کو چلا دیتا ہے
خدمت خلق کے جزبوں کو بڑھا دیتا ہے

سوئ تقدیر کو لمحے میں جگا دیتا ہے
جس کو وہ چاہے بلندی پہ بٹھا دیتا ہے

جو بھٹک جائے اسے راہ دکھا دیتا ہے
پل میں منزل کی طرف چلنا سکھا دیتا ہے

ذرے کو مہر کرے مہر کو ذرہ کردے
” ایک قطرے کو سمندر وہ بنا دیتا ہے ”

تیری قدرت کا کرشمہ بھی عجب ہے مولا
رحم مادر میں بھی بچے کو غذا دیتا ہے

وہ ہے ستار وہی رزق رساں ہے عادل
بھو کے ننگے کو بھی بھر پیٹ کھلا دیتا ہے

اعجاز عادل شاہ پوری
بلاک چہرہ کلاں
ضلع ویشالی بہار

منیر فردوس یوں اپنی خوبصورت نظم کے ساتھ داد و تحسین کے حق دار ٹھہرے

••• اے ماں ھم مسافر ہیں •••

اے ماں…!
ہم نے تمھاری آنکھوں میں جنم لیا
اور تمھارے ہونٹوں پر پل کر بڑے ہوئے

ہماری بکھری دنیا کو تم نے اپنی ترتیب دی
اپنے جھریوں بھرے ہاتھوں سے ھمارا مقدر لکھ کر
ہمیں ایک روشن جہاں میں اتارا
جہاں تمھاری بھیجی ہوئی خوشیاں
ہم سے روز ملنے آتی ھیں
اور تمھاری دعائوں کا چمکتا چاند
ہمیں ہر پل روشنی کے حصار میں رکھتا ہے

اے ماں…!
اتنی بلندیوں پر پہنچ کر بھی ہم کچھ نہیں
ہمارا کچھ نہیں

ہماری منزل
ھمارا جہاں
ہماری جنت
سب تمھارے قدموں میں چھپے ہیں
جس کے سبھی راستے تمھارے پاس ہیں
اور ھم اب بھی ان راستوں کے متلاشی اور مسافر ہیں۔

•••منیر احمد فردوس•••

محترمہ روبینہ میر جی افطاری کے باعث اپنے خطبہ دینے کے لیے اپنے خطبہ صدارت کو عطا کرنے کے لیے بڑھیں اور بھرپور جاندار الفاظ میں توازن اردو ادب کے ادبی و علمی موجوں عزت اور شان کو اپنے الفاظ کے کوزے میں سمیٹ دیا

توازن اردو ادب
پروگرام نمبر 53
( خطبہ ٕصدارت
روبینہ میر جموں کشمیر بھارت۔

درود و سلام ہو نبی کریم ﷺ پر اور آپ ﷺ کی آل و اصحابِ کرام ؒ پر

معتبر انتظامیہ ،معزز شعرا ٕ اکرام ، حاضرین و ناظرین :
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
تو اگر مجھے نوازے تو تیرا کرم ہے ورنہ
تیری رحمتوں کا بدلہ میری بندگی نہیں ہے
”اقبال “

سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوے۔
حسبِ معمول آج بھی توازن اردو ادب کا پروگرام نمبر 53 بعنوان حمد، نعت، سلام ، منقبت ، کے ساتھ ” ماں “ بہت شاندار رہا۔ تمام شعرا ٕ حضرات نے موضوعات سے انصاف کرتے خوبصورت عمدہ کلام پیش کٸے۔ ٕٕٕمیں توازن اردو ادب کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ جو اکثر ناچیز کو ایسی خوبصورت محفلوں کی صدارت کا اعزاز بخشتے ہیں۔حتیٰ کہ میں کسی اعتبار سے خود کو اس قابل نہیں سمجھتی۔یہ انتظامیہ کی کشادہ دلی کا مظہر ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ انسان کی روز مرہ زندگی میں ادب کی کیا اہمیت ہے۔ادب زندگی کے مقاصد کو پورا کرنے میں کس قدر مدد گارڈ ثابت ہوا ہے۔اسی چیز کو مدِ نظر رکھتے کٸی ادبی گروپس اور تنظیمیں اردو ادب کے فروغ کے لٸے مصروفِ عمل ہیں۔
آج خوش قسمتی سے جدید تکنیک کے میدان میں مختلف قسم کی آسانیاں پیدا ہوچکی ہیں۔ انٹرنیٹ کی بدولت زندگی کے ہر شعبہ میں آسانیاں ، معلومات کا حاصل ہونا کسی عظیم نعمت سے کم نہیں۔آ ن لائن ادبی تقریبات کے انعقاد کو اسی سمت میں ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
جہاں تک تحریک توازن اردو ادب کا تعلق ہے برقی دنیا میں کام کرنے والے تمام ادبی گروپس، اور تنظیموں میں اس تحریک یا تنظیم کو اس لٸے بھی انفرادٸیت حاصل ہے۔کہ یہاں رسمی یا روایتی پروگرام نہیں کرواٸے جاتے۔بلکہ وقت اور حالات کی ضرورت کے مطابق عنوانات پر پروگرام منعقد کرواٸے جاتے ہیں۔ اس تحریک یا گروپ کی دوسری منفرد شناخت تمام پروگراموں کا برائے تنقید پیش کیا جانا ہے، تنقید کیلئے ایک مخصوص ، تربیت یافتہ، فن شناش، اور بالیدہ ذہن کی ضرورت ہوتی ہے، جس کیلئے ادارہ کے پاس محترم مسعود حساس، محترمہ ڈاکٹر لبنیٰ آصف صاحبہ۔کامل جینیٹوی صاحب ظہور انور صاحب عامر یوسف جیسے عظیم ناقدین موجود ہیں۔ جو پیش کردہ تخلیقات کے عیوب و محاسن پر بے لاگ گفتگو کرتے ہیں۔
شعراء اور ادارہ کے مابین ایک مستحکم رشتہ بنا ئے رکھنے میں محترم احمر جان صاحب، محترم عامر حسنی صاحب اور محترمہ ڈاکٹر لبنیٰ آصف صاحبہ ہمہ جہت کردار کو قطعاً نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو ادارہ کی بقاء اور اس کے مقاصد کی تکمیل میں رواداری اور ادب دوستی کے جذبہ سے بےلوث خدمات انجام دے رہے ہیں ۔
دیگر تمام تخلیق کار اس کارواں کا قیمتی اثاثہ ہیں جو اپنے اپنے طور پر اردو زبان وادب کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں، ان کی تخلیقی صلاحیتیں ادارے کو توانائی بخشے ہوئے ہیں۔
جس کی بدولت ادارہ نت نئے موضوعات لٸے لسانیاتی پروگرام منعقد کرتاہے۔
ادارے کے صدر و روح رواں محترم مسعود حساس صاحب ایک متحرک و فعال شخصیت کا نام ہے، جن کی راہنماٸی میں تحریک توازن اردو ادب نے قلیل عرصے میں اس پلیٹ فارم سے 53 کامیاب پروگرامز منعقد کرکے ایک تاریخ ساز کارنامہ انجام دیا ہے، ظاہر ہے اس مرحلہ کو سر کرنے کے لٸے انتظامیہ کو مختلف نشیب و فراز سے گزرنا پڑا ہو گا۔جس کے لٸے انتظامیہ مبارکباد کی مستحق ہے۔
اس تحریک یا ادارے نے عالمی سطح کے شعراء و ادباء کو ادب کیلئے کی جانے والی اپنی بےلوث محنت شاقہ سے کافی حد تک متاثر کیا ہے۔
عالمی ماہنامہ”توازن ادب” بھی ادارہ کا ایک زریں سلسلہ ہے جس کو محترم سعید سعدی صاحب و کل مجلس ادارت بحسن و خوبی جاری رکھے ہوئے ہیں۔یہ بھی اپنے آپ میں بڑی بات ہے۔
کسی بھی ادارہ، گروپ، یا تنظیم میں اشخاص کی شمولیت و اخراج کا سلسلہ چلتا رہتا ہے ، لیکن یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ کچھ اشخاص اپنی بے شمار صلاحیتوں اور خوبیوں کی وجہ سے ادارے یا تنظیم کے لٸے بہت اہم ہوتے ہیں۔جنہیں کسی بھی قیمت پر کھویا نہیں جاسکتا۔ایسے افراد کو کسی وجہ سے کھو دینا اُس تنظیم یا تحریک کے لٸےبہت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ ایک ادیب یا شاعر سماج اور زمانہ کا تجزیہ اور مشاہدہ کر نے کے عمل میں سماج کے دوسرے افراد سے زیادہ حساس ہوتاہے، عزت نفس اس کیلئے عزیز ترین شے ہوتی ہے ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ ہمارا کوئی بھی عمل اس حساس طبقہ کی دل شکنی کا مؤجب نہ بنے کہ کاروان ادب وسیع تر ہونے کے بجائے سُکڑتا جاٸے۔
بقول شاعر

زمانہ روٹھ جاتا ہے زرا سی دیر میں لیکن
زمانے کو منانے میں زمانے بیت جاتے ہیں

بُجھانے کے لٸے اک پھونک کافی ہے مگر لوگو
چراغوں کو جلانے میں زمانے بیت جاتے ہیں ( ن م )
میں بحثیتِ ایڈمن نٸے آنے والے حضرات کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں۔کہ ” توازن“ گروپ یا تحریک کی بنیاد اس اعتماد اور یقین کے ساتھ رکھی گٸی ہے کہ توازن و اعتدال پر چلتے ہوے۔اتحاد، اخوت ، باہمی محبت و احترم کو برقرار رکھتے ادب کو فروغ دیا جاٸے ۔ادب کے فروغ سے پہلے انسان دوستی کو فروغ دیا جاٸے۔ ادب سے جڑے ہر شخص کو محترم سمجھا جاٸے۔ چاہے وہ عمر اور رتبے کے حساب سے چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔ انہی خوبیوں کی بنیاد پر توازن قاٸم رکھتے ہوۓ یہ تحریک اپنا تشخص قاٸم کر چکی ہے۔
بقول علامہ اقبال
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لٸے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
اسلامی اخوت اور بھاٸی چارہ کا سلسلہ حضور ﷺ نے قاٸم کیا۔ حضور ﷺ نے خطبہ ٕ حجتہ الوداع کے موقع پر فرمایا۔ اے لوگو یہ بات اچھی طرح جان لو کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھاٸی ہے۔وہ اس سے خیانت نہ کرے، جھوٹ نہ بولے۔ اور تکلیف کے وقت اپنے بھاٸی کو تنہا نہ چھوڑے۔ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان بھاٸی کی آبرو و مال اور خون حرام ہے۔( ترمذی)
اسلام ہی ایسا دین ہے جو تمام شعبہ ہاۓ زندگی پر محیط ہے۔جو ہر معاملے میں انسان کی راہنماٸی کرتا ہے۔
آ خر میں تحریک کے صدر وجملہ منتظمین کی نذر ایک شعر کرتے ہوئے اجازت چاہوں گی۔۔
میری ذندگی کا مقصد میں سبھی کے کام آٶں
میں چراغِ راہ گزر ہوں مجھے شوق سے جلاٶ
ن م

—————————————–
جناب اصغر شمیم صاحب اپنے خوبصورت کلام کے ساتھ یوں گویا ہوئے
آج مشاعرہ میں بر وقت شامل نہیں ہوسکا… ایک غزل پیش خدمت ہے

غزل

اصغر شمیم

یہ کیسی آگ ہے جس میں پگھل رہا ہوں میں
“بدن کے دونوں کناروں سے جل رہا ہوں میں”

اندھیرا اپنے پروں کو لگا ہے پھیلانے
میں اپنے وقت کا سورج تھا ڈھل رہا ہوں میں

کسی بھی شخص سے میری تو آشنائی نہیں
یہ کون لوگ ہیں کیوں ساتھ چل رہا ہوں میں

جو میری ماں کی دعائیں طواف کرتی ہیں
ہر ایک موڑ پہ گر کر سنبھل رہا ہوں میں

میں خواہشوں کے سمندر میں غرق ہوں اصغر
وہ ایک چہرے سے اب تک بہل رہا ہوں میں

اصغر شمیم،کولکاتا،انڈیا

ایک اور کامیاب اور منفرد پروگرام کے انعقاد پر جملہ انتظامیہ ، حاضرین محفل اور شرکا مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ اللہ پاک سے دعا اور امید کے ساتھ کہ آپ لوگ اس کارواں کو یوں ہی رواں دواں رکھیں گے ۔ ادب علم اخلاق اور محبتوں کا یہ سفر یونہی جاری و ساری رہے گا اور ہم نہ ہوں گے تو کوئی ہم سا ہو گا انشااللہ

عامر یوسف لاہور پاکستان

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ڈاکٹرمحمدالیاس عاجز کا ایک اردو کالم