- Advertisement -

شاخوں میں کوئی اُس کی پرنده نہیں رہتا

فرانسس سائل کی ایک اردو غزل

شاخوں میں کوئی اُس کی پرنده نہیں رہتا
جس پیڑ میں سائل کوئی پتا نہیں رہتا

اک جیساکبھی وقت کا چهره نہیں رہتا
ہر وقت کوئی آدمی هنستا نہیں رہتا

ہروقت تواُٹھتی نهیں بپھری هوئی موجیں
ہروقت کبھی موج میں دریانہیںرہتا

ہروقت توپُھولوں کی بهاریں نہیں رہتیں
ہروقت تورسته کبھی چلتا نهیں رہتا

ہروقت جواں حُسن کے چرچے نہیں رہتے
ہروقت تو سُورج بھی چمکتا نہیں رہتا

فرانسس سائل

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از ناصر ملک