آپ کا سلاماردو شاعریاردو نظمگلناز کوثر

نائٹ میئر

گلناز کوثر کی ایک اردو نظم

بہت کالی راتوں کے گرداب سے

ایک آہٹ نکل کر

دبے پاؤں بڑھتی ہے

کھڑکی سے لگ کر

کوئی اجنبی شکل رونے لگی ہے

مجھے وہم ہے

میں اگر اس کے رونے پہ

رونے لگوں تو

یہ فوراً پگھل کر مرے ساتھ

بہنے لگے گی

کوئی لجلجاتی ہوئی چیز

سہمے حلق سے اُترتی ہے

اور تھرتھراتی ہوئی سانس

جمنے لگی ہے

یہ پتھرائی دھڑکن کی

آواز ہے یا کوئی دھپ سے

بستر میں کُودا ہے

اور خرخراتی ہوئی ایک مدھم صدا

یہ صدا ہے کہ پھر میری سوئی

نگاہوں کو دھڑکا لگا ہے

لرزتی ہوئی رات کی آنکھ

کھلتی نہیں ہے

کسی طور پتھرائی ساعت

پگھلتی نہیں ہے

مجھے وہم ہے پھر اگر یہ

پگھلنے لگی تو مرے ساتھ

بہنے لگے گی

اُچٹتی ہوئی سسکیاں

لے رہا ہے کوئی

جیسے میں اپنے بستر میں

تنہا نہیں ہوں

ابھی میں نے چاہا تو ہے

چیخ کر اُٹھ پڑوں

پر کسی نے

مری سانس باندھی ہوئی ہے

مرے پاؤں جکڑے ہوئے ہیں

کوئی اجنبی چیز ہے جو

مرے ایسے بے جان تن کو

دُھنکنے لگی ہے

مری سانس رُکنے لگی ہے

گلناز کوثر

گلناز کوثر

اردو نظم میں ایک اور نام گلناز کوثر کا بھی ہے جنہوں نے نظم کے ذریعے فطرت اور انسان کے باطن کو ہم آہنگ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ گلناز کوثر کا تعلق لاہور سے ہے تاہم پچھلے کچھ برس سے وہ برطانیہ میں مقیم ہیں، انہوں نے اردو اور انگریزی ادب میں ماسٹرز کرنے کے ساتھ ساتھ ایل ایل بی کی تعلیم بھی حاصل کی، البتہ وکیل کے طور پر پریکٹس کبھی نہیں کی۔ وہ نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کے ریسرچ اینڈ پبلیکیشن ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ رہیں، علاوہ ازیں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے عالمی ادب بھی پڑھایا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ دو ہزار بارہ میں ’’خواب کی ہتھیلی پر‘‘ کے نام سے شائع ہوا اور ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button