- Advertisement -

نامور مصور

جس نے شہرت نہ ملنے پر خودکشی کی

ونسنٹ وان کو پاگل پن کے دورے پڑتے تھے اور تصاویر بنانے کے دوران پینٹ پی جاتا تھا۔ اسے موت کے بعد مقبولیت ملی
مصور ونسنٹ وان 30 مارچ 1853ء کو ہالینڈ کے شہر زنڈرٹ میں پیدا ہوا اور 29 جولائی 1890ء کو اس کا انتقال ہوگیا۔ اس کا برج جوزا تھا اور وہ قومیت کے لحاظ سے ڈچ تھا۔ اس کی مصوری کا نمایاں فن پارہ ستاروں بھری رات تھی۔ یہ فن پارہ اس نے 1889ء میں تخلیق کیا تھا۔

ونسنٹ وان کا طرز مصوری کینوس پر روغنی مصوری یا آئل پینٹنگ تھا۔ اس کی روغنی تصاویر یا آئل پینٹنگز میوزیم آف ماڈرن آرٹ نیویارک میں آویزاں ہیں۔ مصور ونسنٹ وان کا مشہور قول ہے کہ ”میں اس حوالے سے کوئی مدد نہیں کرسکتاکہ میرے فن پارے بکتے نہیں ہیں، البتہ ایک وقت ایسا ضرور آئے گا کہ جب لوگ اس بات کے قائل ہو جائیں گے کہ یہ فن پارے اس پینٹ کی قیمت سے کئی گنا قدر و منزلت کے مستحق ہیں جو ان فن پاروں کی تخلیق میں استعمال کیا گیا۔“

ونسنٹ وان نے مفلوک الحالی اور کسی سہارے کے بغیر جو زندگی گزاری، اس پر کھل کر کچھ کہنا بہت مشکل ہے۔ وہ اپنی زندگی میں ایک مشکل یا مصیبت سے نکلتا تو کسی دوسری مشکل میں پھنس جایا کرتا۔ بار بار اس کی ملازمتیں چھوٹتی رہیں۔

اس کی زندگی ناکام کیریئر اور درہم برہم تعلقات پر محیط تھی۔ اس کے پورے تصویر سازی کے دور میں صرف ایک فن پارہ ہی بکا تھا اور آخر کار عاجز آکر اس نے خودکشی کرلی۔ لیکن آج دنیا بھر میں اس کے فن پاروں میں چھپی فنی خوبیوں کو بڑے جوش و خروش سے سراہا جاتا ہے۔

لوگ حیرت میں مبتلا ہیں کہ اس انتہائی مایوس شخص نے صرف آٹھ برسوں کے انتہائی تکلیف دہ کیریئر میں شاداں و فرحاں فن پارے تخلیق کیے ہیں۔ ونسنٹ وان نے جو انقلابی فن پارے تخلیق کیے، انہیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ اس کے رنگ کینوس سے بھی باہر نکل رہے ہیں۔

شوخ نیلے، بہت روشن سبز اور رخشندہ زرد رنگوں کے امتزاج سے مزین وان کے فن پاروں کو دیکھ کر حیرت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ونسنٹ نے اوائل عمری سے ہی آرٹ میں دلچسپی ظاہر کی، لیکن اسے فن پارے تخلیق کرنے کے بجائے انہیں بیچنے سے دلچسپی تھی۔

اس لیے پندرہ برس کی عمر میں ہی ڈیلرزگوپلی اینڈ کمپنی کی ایک برانچ میں جو اس کا ایک چچا چلاتا تھا، اسے کام مل گیا۔ بعدازاں آجروں نے اس کا ٹرانسفر لندن برانچ میں کردیا، لیکن جلد ہی ان کے علم میں یہ بات آئی کہ ونسنٹ میں مذہبی جوش و خروش بے حد بڑھ گیا ہے اور اس دور میں انگلینڈ میں انونجیلزم کی تحریک بڑے زور شور سے جاری تھی۔

ونسنٹ کے آجروں نے اس صورت حال کی بنا پر اس کا ٹرانسفر پیرس کردیا، لیکن وہاں بھی اس نے تبلیغ کا کام ترک نہ کیا، جس کے نتیجے میں فن پاروں کی فروخت کے بجائے بہت سے گاہک اورکرم فرما ناراض ہوگئے اور اسے ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔

ونسنٹ نے اپنی برطرفی پر غیر محسوس طور پر بے حد جوش و خروش دکھایا اور واپس انگلینڈ آگیا، تاکہ یہاں مشنری کا کام سنبھال سکے۔ اس دوران کرسمس کے موقع پر جب وہ اپنے والدین سے ملنے گیا تو انہوں نے اس سے بے حد اصرار کیاکہ وہ ہالینڈ میں قیام کرے اور وہاں ڈونیٹی اسکول میں داخلہ لے لے، جہاں اسے لاطینی اور یونانی زبان سکھائی جائے گی۔

ونسنٹ نے والدین کی اس تجویز کی مخالفت کی اور کہا کہ کیا یہ مردہ زبانیں کسی غریب کا کچھ بھلا کرسکیں گی؟۔ اس پر اس کے والدین نے اس کا داخلہ ایک مذہبی اکیڈمی میں کرا دیا جہاں اس نے چند ماہ تک کلاسیں اٹینڈ کیں، لیکن فیکلٹی نے اس کے جارحانہ رویے کو ایک مشنری کے لیے ناموزوں قرار دے دیا۔

اس پر ونسنٹ نے کہا کہ جو کچھ بھی ہوا، صحیح ہوا اور وہاں سے رخصت ہوکر ادھر ادھر بھٹکتا ہوا وہ مایوس اور غریب کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے لوگوں میں جا پہنچا، جہاں وہ انہی کی طرح رہتا اور انہیں تبلیغ بھی کرتا رہتا۔ وہ بچا ہوا کھانا کھاتا تھا اور اس کا لباس چیتھڑے ہوا کرتے تھے۔

اس کے پاس جو تھوڑی بہت رقم ہوتی تھی، وہ وہی ہوتی تھی کہ جو اس کا بھائی تھیو اسے بھیجتا تھا۔ بصورت دیگر اسے بھوکا ہی رہنا پڑتا۔ ایک آرٹسٹ کی حیثیت سے خود کو منوانے میں ونسنٹ بہت کم رجحان رکھتا تھا، تاہم کان کنوں کے ساتھ دو سال کا عرصہ گزارنے کے دوران اس کے جذبات اور احساسات میں تبدیلی رونما ہوئی۔

1880ء میں 27 سالہ ونسنٹ نے مذہبی زندگی کو ترک کردیا اور اب وہ کسی تسلیم شدہ اصول اور رسومات کی پیروی سے بیزار تھا۔ ایک آرٹ اکیڈمی میں لگایا جانے والا دورانیہ اس کی ناکامی پر منتج ہوا۔ وہ واپس ہالینڈ اپنے والدین کے پاس آگیا اور بستی کے مکینوں کو اپنے چیتھڑوں جیسے لباس اور حلیے سے خوفزدہ کرنا شروع کر دیا اور اس کا رویہ بھی انتہائی خراب تھا۔

اس کے باپ نے افسردہ لہجے میں کہا کہ وہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے، کیونکہ وہ غیر معمولی وہمی اور سنکی ہو گیا ہے۔ اسی دور میں ایک آرٹسٹ کی حیثیت سے ونسنٹ نے کام کرنا شروع کیا، تاہم اس کے بے کیف اور مایوس کن ابتدائی کام کا، اس کے بعد کے کام سے موازنہ کرنا بے حد مشکل ہے۔ اس کا بعد کا کام بہترین قرار دیا جاتا ہے۔

ونسنٹ نے مظلوم اور استحصال زدہ کاشت کاروں کی عکاسی شروع کردی اور دانستہ طور پر اس مقصد کے لیے مبہم، پھیکے بھورے، گرے اور ڈرٹی گرین و سیاہ رنگوں کا استعمال کیا۔ اس کی بے چین روح جلد ہی شہری زندگی سے اکتا گئی اور وہ مارچ 1886ء میں پیرس چلا گیا۔

یہاں آنے کے فوری بعد اس نے آخری تاثراتی فن پاروں کی نمائش دیکھی اور وہ تاثراتی فن پاروں میں استعمال کیے جانے والے رنگوں کے امتزاج سے بے حد متاثر ہوا۔ اس لیے جلد ہی اس نے اپنے کینوس پر بھی شوخ و شنگ رنگوں اور روشنی سے آراستہ فن پاروں کی تخلیق پرکام شروع کردیا۔

ونسنٹ نے اپنے تمام نقادوں کو نظر انداز کرکے ایک نمائش کا اہتمام کیا جس کے نتیجے میں دوسرے تمام آرٹسٹوں کی توجہ اسے حاصل ہوگئی۔ پیرس میں دو سال گزارنے کے بعد ونسنٹ کی صحت بے حد گر گئی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کثرت سے شراب نوشی کیا کرتا تھا اور ایک ہی وقت میں کافی شراب پی لیتا تھا اور پھر طویل راتیں جاگ کر گزارتا تھا، حالانکہ اس وقت ضرورت اس بات کی تھی کہ وہ شہر سے باہر جاکر آرام و سکون اختیار کرے، تاکہ اس کی صحت بحال ہو، لیکن کافی عرصے تک اس نے اپنے معمولات میں کوئی تبدیلی نہ کی۔

اچانک ہی اسے ایک نیا خیال سوجھا اور اس نے جنوبی فرانس میں”اسٹوڈیو آف ساؤتھ“ تشکیل دینے کا عزم کر لیا، تاکہ وہ وہاں اپنے ہم خیال آرٹسٹوں کی طرح دارالحکومت کے دباؤ سے دور رہتے ہوئے کام کرسکے۔ اس مقصد کیلئے ونسنٹ نے اپنی دانست میں ایک آئیڈیل مقام کے طور پر جنوبی فرانس کے ایک چھوٹے سے آرلیس قصبے کا چناؤ کیا اور اپنے منصوبے کے مطابق فروری 1888ء میں وہاں چلا گیا۔

یہاں ونسنٹ تنہا اور الگ تھلگ ہوکر رہ گیا، کیونکہ یہاں کے لوگوں کی زبان اس سے بالکل جدا تھی۔ اس کے پاس سوائے پینٹنگ کرنے کے دوسرا کوئی کام نہ تھا، اس لیے صرف پندرہ مہینوں میں اس نے تقریباً دوسو فن پارے تخلیق کیے اور اس کے دانشمندانہ تصور کے نتیجے میں یہ فن پارے فوری طور پر مقبول ہوگئے اور اس کے اسٹائل کو کافی پذیرائی ملی۔

اپنے اسٹوڈیو سے دلچسپی رکھنے والے ونسنٹ نے گاگوئین کو بھی وہاں آنے کی دعوت دے دی۔ گاگوئین نے آرٹ کو اپنا دوسرا کیریئر بنا رکھا تھا۔ اس نے اپنی زندگی کا آغاز ایک اسٹاک بروکر کی حیثیت سے کیا تھا۔ اگرچہ وہ ابتدا میں پسارو سے متاثر تھا اور تاثراتی مصوری کو پسندکرتا تھا، لیکن 1888ء تک وہ براہ راست قدرتی ماحول کی عکاسی کے بجائے اپنی تصوراتی سوچ کی جانب مائل ہوگیا تھا۔

اسے ونسنٹ کی آرٹسٹک کمیونٹی میں دلچسپی تو تھی، لیکن وہ اس کے بھائی تھیو کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید بڑھانا نہیں چاہتا تھا جو اس وقت تک ایک اہم ڈیلر بن چکا تھا۔ اس نے آریس کا سفر بھی کیا تھا اور ونسنٹ نے اس کی آمد پر بڑی خوشی کا اظہار کیا تھا۔ اس کے بعد ونسنٹ او گاگوئین میں کشیدگی بڑھتی گئی، یہاں تک کہ گاگوئین نے اعلان کردیا کہ وہ واپس پیرس جارہا ہے۔

ونسنٹ اس کے فوری فیصلے پر غصے سے تلملا کر رہ گیا۔ 1888ء کی کرسمس سے دو روز قبل ان دونوں کے درمیان کیا واقعہ پیش آیا تھا، اس بارے میں تو حقیقتاً ہم کچھ نہیں جانتے۔ تاہم گاگوئین کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اسے اپنا مفاد ہی عزیز تھا، جبکہ ونسنٹ نے ان واقعات کے بارے میں کبھی کچھ نہیں کہا۔

گاگوئین نے استرا نکال کر ونسنٹ کو دھمکیاں دی تھیں اور اس کے بعد ونسنٹ کے کان کی لو کاٹ دی تھی اور بعد میں اس کا پورا ایک کان ہی ختم ہوگیا تھا، ونسنٹ اس زخمی حالت میں بھی قحبہ خانے میں اپنی محبوبہ کے پاس جا پہنچا تھا اور دوسرے دن پولیس اس کے کان سے بہنے والے خون کے قطروں کی نشاندہی پر اس کے گھر پہنچی تو دیکھا کہ ونسنٹ اپنے بستر پر بے ہوش پڑا تھا اور خون جم گیا تھا۔

بعدازاں ونسنٹ کو گھر سے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ بے انتہا خون نکلنے کی وجہ سے ونسنٹ موت کے قریب پہنچ چکا تھا، جبکہ گاگوئین اس کا کان کاٹنے کے بعد پیرس بھاگ گیا اور اس کے بعد دونوں افراد پھر کبھی نہیں ملے۔ ونسنٹ اس کے بعد پہلے والا ونسنٹ نہ رہا۔

جنوری میں اسپتال سے اسے رخصت کردیا گیا، لیکن فروری میں مرض پھر عود آیا۔ اس واقعے کے بعد ونسنٹ کی ذہنی حالت بے حد خراب ہوگئی تھی اور اسے سینٹ ریمی کے ذہنی امراض کے اسپتال میں داخل کر دیا گیا، جہاں وہ کئی ماہ تک زیر علاج رہا اور مکمل پاگل ہونے سے بچ گیا، لیکن اب بھی یہ صورتحال تھی کہ اسے پاگل پن کے دورے پڑتے اور وہ تصاویر بنانے کے دوران رنگوں کو ہی پینا شروع کر دیتا۔

بہرحال بتدریج اس کی حالت سنبھلتی گئی اور مئی 1889ء میں وہ وہاں سے رخصت ہوکر پرونس چلا گیا۔ یہ پیرس کے شمال مغرب میں واقع ایک چھوٹا سا شہر تھا۔ یہاں ونسنٹ نے گندم کے کھیتوں کے حوالے سے فن پارے تیار کئے۔27 جولائی 1890ء کو ونسنٹ کے ہمسایوں نے اسے اپنے کمرے میں خون میں لت پت دیکھا۔ ونسنٹ نے اپنے فن پارے منسوخ کیے جانے پر یہ انتہائی قدم اٹھایا تھا۔ گولی اس کے دل میں لگنے کے بجائے پہلو میں لگی تھی اور اس لئے وہ اس وقت بھی زندہ تھا۔ فوری طور پر اسے اسپتال لے جایا گیا، جہاں دو دن کے بعد وہ مرگیا۔

ونسنٹ کے مرنے کے بعد دنیا نے اس کے فن پاروں کا نوٹس لینا شروع کیا۔ 20ویں صدی کے آخر میں ونسنٹ کی شہرت عروج پر پہنچے گئی اور اس کے فن پارے خطیر رقم کے عوض نیلام ہوئے۔ اس کے آخری فن پاروں میں سے ایک ”اسٹریٹ آف ڈاکٹر گاجیسٹ“ 1990ء میں 82.5 ملین ڈالر میں فروخت ہوا۔

آج ونسنٹ کے فن پارے دنیا بھرکے میوزیمز کے علاوہ تکیوں، ٹائی اور سودا سلف کے بڑے بڑے تھیلوں پر بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ہنری روسو عادی مجرم تھے