آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعمران سیفی

مرے دوست تیری خبر ملی بڑا دکھ ہوا

عمران سیفی کی اردو غزل

مرے دوست تیری خبر ملی بڑا دکھ ہوا
تری پھر کسی سے نظر ملی بڑا دکھ ہوا

میں حقیر جسموں کو چھُو رہا تھا وثوق سے
تری روح بھی جو ادھر ملی بڑا دکھ ہوا

مجھے رات ہوتے ہی قتل کرنے کا حکم تھا
تجھے خوں بہا میں سحر ملی بڑا دکھ ہوا

وہ حسین شکل مری ہوس کے ہدف پہ تھی
جو گلی میں تھی وہی گھر ملی بڑا دکھ ہوا

جسے آئنہ بنے اک زمانہ گزر گیا
وہی ریت بارِ دگر ملی بڑا دکھ ہوا

میں وہ زندگی کا مزار ہوں کہ جہاں دعا
نہیں چاہتا تھا مگر ملی بڑا دکھ ہوا

عمران سیفی

post bar salamurdu

عمران سیفی

میرا نام عمران سیفی ہے میں ڈنمارک میں مقیم ہوں پاکستان میں آبائی شہر سیالکوٹ ہے میرا پہلا شعری مجموعہ ستارہ نُما کے عنوان سے چھپ چکا ہے جو غزلوں اور نظموں پر مشتمل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button