- Advertisement -

میں نے بھی اس سے ہاتھ ملایا تھا

ایک غزل بذریعہ تسلیم اکرام

میں نے بھی اس سے ہاتھ ملایا تھا اور بس
وہ شخص میرے خواب میں آیا تھا اور بس

وہ پیکرِ جمال بھی اک شاہکار تھا
فرصت میں جس کو رب نے بنایا تھا اور بس

دل کی تمام دھڑکنیں بہکی ہوئی سی تھیں
سارا خمار اس نے چڑھایا تھا اور بس

میں نیند میں بدل نہ لوں کروٹ اسی لئے
سینے سے اس نے مجھ کو لگایا تھا اور بس

دامن چھڑا کے جانے کو تیار تھا وہ شخص
میں نے پکڑ کے پاس بٹھایا تھا اور بس

 تسلیم اکرام

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
شیخ ناسخ کی کچھ کہانیاں