اردو نظمساحر لدھیانویشعر و شاعری

مادام

ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم

مادام

آپ بے وجہ پریشاں سی کیوں ہیں مادام
لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے
میرے احباب نے تہذیب نہ سیکھی ہو گی
میرے ماحول میں انسان نہ رہتے ہوں گے

نورِ سرمایہ سے ہے روئے تمدن کی جلا
ہم جہاں ہیں وہاں تہذیب نہیں پل سکتی
مفلسی حسِ لطافت کو مٹا دیتی ہے
بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں‌ڈھل سکتی

لوگ کہتے ہیں تو لوگوں کو تعجب کیسا
سچ تو کہتے ہیں کہ ناداروں کی عزت کیسی
لوگ کہتے ہیں، مگر آپ ابھی تک چپ ہیں
آپ بھی کہیئے، غریبوں کی شرافت کیسی

نیک مادام! بہت جلد وہ دور آئے گا
جب ہمیں زیست کے ادوار پرکھنے ہوں‌گے
اپنی ذلت کی قسم، آپ کی عظمت کی قسم
ہم کو تعظیم کے معیار پرکھنے ہوں گے

ہم نے ہر دور میں‌تذلیل سہی ہے لیکن
ہم نے ہر دور کے چہرے کو ضیا بخشی ہے
ہم نے ہر دور میں‌ محنت کے ستم جھیلے ہیں
ہم نے ہر دور کے ہاتھوں کو حنا بخشی ہے

لیکن اس تلخ مباحث سے بھلا کیا حاصل
لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے
میرے احباب نے تہذیب نہ سیکھی ہو گی
میں‌ جہاں ہوں وہاں انسان نہ رہتے ہوں گے

وجہِ بے رنگیِ گلزار کہوں یا نہ کہوں!!
کون ہے کتنا گنہگار کہوں یا نہ کہوں!!

ساحر لدھیانوی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button