اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

کس نے دیکھا ہے غم کا آئنہ

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

کس نے دیکھا ہے غم کا آئنہ
ایک پردہ اٹھا تھا پہلے بھی

منزل دل کی جستجو معلوم
دور اک قافلہ تھا پہلے بھی

کس نے دیکھا ہے غم کا آئنہ
دل تماشا بنا تھا پہلے بھی

یہی رنگ چمن کی باتیں تھیں
یہی شور صبا تھا پہلے بھی

پھول مہکے تھے رند بہکے تھے
جشن برپا ہوا تھا پہلے بھی

زیست کے ان فسانہ خوانوں سے
اک فسانہ سنا تھا پہلے بھی

کسی در پر جھکے نہ ہم باقیؔ
اپنا رستہ جدا تھا پہلے

باقی صدیقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button