- Advertisement -

کٹھن سفر جو بن تیرے گزارا تھا

تہمینہ مرزا کی ایک اردو غزل

کٹھن سفر جو بن تیرے گزارا تھا
میں نے ھر موڑ پہ تجھے پکارا تھا

منجدھار میں ڈوبنے سے ذرا پہلے
تیرے میرے بیچ بس کنارا تھا

دیکھو جو آسماں پہ ستاروں کو
اس جہاں میں تو میرا ستارا تھا

دل کے بدلے میں دل دیا تجھے
یوں تیرا احسان بھی اتارا تھا

الجھے لگتے تھے بکھرے بالوں میں
پھر تیری زلف کو سنوارا تھا

جیتوں گی میں ہی جیتوں گی
سن کہ یہ بات تو ہی ہارا تھا

اب کوئی اور لگائے پھرتا ہے
وہ تیرا نام جس پہ حق ہمارا تھا

سات مرچوں کو لیے ہاتھوں میں
پھر تیرے سر سے ان کو وارا تھا

چار سیدھے تین الٹے دیئے چکر
یوں تیری نظر کو اتارا تھا

لوٹ آئی تہمینہ، وجہ سن لو
ہجر زنداں نے بہت ہی مارا تھا

تہمینہ مرزا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو نظم از سلمیٰ سیّد