اردو غزلیاتجلیل عالیشعر و شاعری

جو طوق اپنا بدلوایا گیا ہے

ایک اردو غزل از جلیل عالی

جو طوق اپنا بدلوایا گیا ہے
ہمی سے ہی وہ ڈھلوایا گیا ہے

رکے، جس جا ہمیں رکوائے رکھا
چلے، جس راہ چلوایا گیا ہے

وہ اپنوں ہی سے لگوائی گئی تھی
ہمیں جس آگ جلوایا گیا ہے

بہت کچھ ہم نے خود ٹالا ہے کل پر
بہت کچھ ہم سے ٹلوایا گیا ہے

جو کروایا گیا تھا سوچ باہر
وہ دل سے بھی نکلوایا گیا ہے

گنہ تھا جس کے بارے سوچنا بھی
ہمیں اُس پر عملوایا گیا ہے

گلی ملتی نہیں اک امن والی
دیارِ دل بھی بَلوایا گیا ہے

اور اب توجھوٹ ہی لگتا ہے سچ بھی
دروغ اتنا نگلوایا گیا ہے

کڑا ہے امتحاں تیری نگہ کا
یہ دل جیسے کچلوایا گیا ہے

جلیل عالی

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button