- Advertisement -

ہم آج کہتے ہیں

راز احتشام کی ایک اردو غزل

ہم آج کہتے ہیں ، کل کی تاریخ اہم نہیں ہے تو کیا غلط ہے
نئے زمانے کے ہاتھ کاغذ قلم نہیں ہے، تو کیا غلط ہے !

ہمارے ناکام تجربوں کی کسی کو کوئی خوشی نہیں تھی
ہمیں بزرگوں کی رائیگانی کاغم نہیں ہے، تو کیا غلط ہے

ہمیں بڑوں نے یہی کہا تھا کہ “لا” ہی سچ ہے، سو گھر کی چھت پر
کسی جماعت، کسی خدا کا علم نہیں ہے ، تو کیاغلط ہے

کہ سائنسی طور پر بھی دونوں کا کوئی امکاں نہیں، سو کہہ دوں
تمھارا ملنا خدا کے ملنے سے کم نہیں ہے، تو کیا غلط ہے !!

یہی بہت ہے کہ مدتوں بعد ، دوست آئے ہیں بات کرنے
اب ان کا موضوع تیرا ظلم و ستم نہیں ہے ، تو کیا غلط ہے

جو مان بیٹھے، کہ ارتقا سے سبھی کے کس بل نکل گئے ہیں
تو راز صاحب، اب اس کی زلفوں میں خم نہیں ہے تو کیا غلط ہے !

راز احتشام

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک افسانہ از سریندر پرکاش