حافظ نعیم صاحب کو سلام

تحریر: علامہ ڈاکٹر محمد حسین بہشتی

آج 30 جنوری 2026 کو سوشل میڈیا کے ذریعے جناب حافظ نعیم الرحمن، امیر جماعتِ اسلامی پاکستان، کو منصورہ لاہور میں جماعتِ اسلامی کے مرکزی سیکریٹریٹ کی مسجد میں نمازِ جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔ یہ محض ایک خطبہ نہیں بلکہ ایک ایسا روحانی و فکری تجربہ تھا جس نے دل پر خوشگوار اثرات مرتب کیے اور فکر کے کئی دریچے وا کر دیے۔
خطبے کے آغاز میں جناب حافظ نعیم الرحمن نے نہایت خوش الحانی، خشوع اور وقار کے ساتھ قرآنِ مجید کی آیت الکرسی کے آخری آیات کی تلاوت فرمائی۔ ان کی آواز میں ٹھہراؤ، دلنوازیhafiz naeem اور تاثیر نمایاں تھی، جو سامع کو محض سننے والا نہیں بلکہ کیفیت کا حصہ بنا دیتی ہے۔ تلاوت کے اختتام پر ان کا "صدق اللہ العلی العظیم” کہنا قرآنی ادب اور دینی ذوق کی ایک خوبصورت مثال محسوس ہوا—ایسا اسلوب جو آج کے خطیبانہ ماحول میں کم کم دکھائی دیتا ہے۔
خطبے کے دوران ایک اور نکتہ جس نے مجھے خاص طور پر متوجہ کیا، وہ یہ تھا کہ رسولِ اکرم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہوئے آپ نے "صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم” کہہ کر مکمل درود ادا کیا۔ یہ طرزِ بیان نہ صرف رسولِ اکرم ﷺ اور اہلِ بیتؑ سے محبت و احترام کا مظہر ہے بلکہ بین المسالک ہم آہنگی، وسعتِ نظر اور فکری اعتدال کی بھی علامت ہے۔ خصوصاً اس پس منظر میں کہ ہمارے ہاں عموماً اختصار کو رواج دیا جاتا ہے، ایسے بامعنی اور شعوری طرزِ عمل فکری فاصلے کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اگرچہ میں ذاتی طور پر جناب حافظ نعیم الرحمن کو قریب سے نہیں جانتا، تاہم ان کا یہ خطبہ سن کر یہ تاثر ضرور قائم ہوا کہ وہ ایک سنجیدہ، باوقار اور فکری شعور رکھنے والی دینی و سیاسی شخصیت ہیں۔ ان کے لہجے میں اعتدال، گفتگو میں توازن اور فکر میں ایک واضح سمت جھلکتی ہے، جو کسی بھی دینی و سیاسی قائد کے لیے بنیادی اوصاف شمار ہوتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ میں جماعتِ اسلامی کے بانی حضرت ابو الاعلیٰ مودودیؒ کو برصغیر کے عظیم اسلامی مفکرین اور قائدین میں شمار کرتا ہوں۔ ان کی فکر، تحریر اور جدوجہد نے اسلامی سیاست اور اجتماعی شعور کو ایک منظم اور نظریاتی بنیاد فراہم کی۔ اگر کبھی مجھے کسی جماعت سے وابستگی کا موقع یا ارادہ ہوتا تو جماعتِ اسلامی میری ترجیح ہوتی، کیونکہ یہ جماعت نظم، فکر اور نظریے کے اعتبار سے ایک منفرد شناخت رکھتی ہے۔
اسی تناظر میں، میں اس موقع پر جماعتِ اسلامی کے امیر جناب حافظ نعیم الرحمن کی کامیابی، استقامت اور توفیقِ الٰہی کے لیے دل سے دعاگو ہوں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اخلاص، بصیرت اور حکمت کے ساتھ ملتِ اسلامیہ اور وطنِ عزیز کی خدمت کی مزید توفیق عطا فرمائے۔ ان شاء اللہ اگر کبھی بالمشافہ ملاقات کا موقع ملا تو یہ باعثِ مسرت اور شرف ہوگا۔

علامہ ڈاکٹر محمد حسین بہشتی

Exit mobile version