- Advertisement -

دامِ محبت

از معطر عقیل ،کراچی

ہاتھ میں کافی کا مگ لئے وہ ڈائری لکھنے کے لئے کرسی پر آکر بیٹھتی ہے تو بےساختہ اس کی نظر میز پر رکھی تصویر پر پڑتی ہے اور اچانک ہی کہکشاں دھیمے سے مسکرا کر خود سے ہمکلام ہوتی ہے
"ہائے کہکشاں کاش تمھارے نصیب میں بھی کوئی ایسا حسین لمحہ آئے کہ جب چاندنی اپنے چاند کے آغوش میں مدہوش ہو اور سمندر کی خاموش لہریں رقص کر رہی ہوں”ہر طرف سناٹا ہی سناٹا ہو ایسے میں اس ہمنوا کا ساتھ میرے وجود کو گرمائی دیتا ہوا کیسی جلتے روشن دان کی طرح کسی خیمے میں کھلے آسمان کے نیچے جلتی بجھتی روشنی کی مانند تیرے بازوؤں کے حصار میں سردی سے ٹھٹھرتی ہوئی خود کو شال میں ڈھانپتے ہوئے اچانک کسی پر نظر پڑے اور میں دیکھوں تو وہ تمھاری نظریں ہوں جو میرے وجود پر مرکوز ہوں میں ہلکا سا جھجک کر اپنی ہی نظروں سے کترا جاؤں اور تمھارا دھیان ہٹانے کے لیے ادھر ادھر کی باتوں میں تمھیں الجھادوں؛جب تم بیکار گفتگو سے تھک جاؤ اور تمھارا دھیان کسی اور طرف بھٹکنے لگے تو میں بےساختہ انداز میں بےجھجک ہو کر تمھارے کانوں میں دھیرے سے صرف اتنا ہی کہ پاؤں
"مجھے تم سے محبت ہے”
اور تم بے دھیانی میں ایسے انجان بنتے ہوئے مجھ سے سوال کرو کیا کہا؟ جیسے کچھ سنا ہی نہیں اور پھر میں اپنی بات سے مکر جاؤں اور تمھاری مسکراہٹ میرے مکرنے کی نفی ہو۔

معطر عقیل

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
فرہاد فگار کا ایک افسانہ