- Advertisement -

سلام اردو براؤزنگ زمرہ

سید امتیاز تاج

ہندوستانی ڈرامہ اور مغربی ڈراموں کا مطالعہ امتیاز علی تاجؔ کا محبوب ترین مشغلہ تھا۔ اپنے کالج کے ڈراماٹکس کلب کے لئے برناڈ شااورترنڑ جیسے ڈرامہ نویس کے ڈرامے پطرس بخاری کے ساتھ مل کر اردو میں ترجمہ کیا اور شیکسپیئر کے ڈراموں کا بھی ترجمہ کیا۔ امتیاز علی تاجؔ نے آسکروائلڈ، گولڈ اسمتھ، ڈیم تریوس، مدرس تیول، کرسٹین گیلرڈ کی کہانیوں کے ترجمے بھی کئے ہیں۔تاجؔ نہ صرف گورنمنٹ کالج ڈراماٹکس کلب کے ہر سالانہ کھیل کاحصّہ بنے رہے بلکہ دوسری طرف اپنی ادبی دلچسپی پر بھی کام کرتے رہے۔ انہوں نے انیس سو اٹھارہ میں برِ صغیر کا پہلا ادبی رسالہ ’کہکشاں‘ کے نام سے جاری کیا اور تقریباً ڈھائی سال تک اسے کامیابی سے چلایا۔ابتدا میں تاجؔ نے بھی روایت کے مطابق کچھ ڈرامے لکھ کر کمپنیوں کے مالکان کو بھیجے تاکہ انہیں اسٹیج کیا جاسکے۔ وہ ڈرامے پسند تو کئے گئے مگر انہوں نے ایسی ترمیمات کا تقاضہ کیا جو امتیاز علی تاجؔ کو پسند نہ آئیں۔ چنانچہ انہیں اسٹیج نہیں کیا جاسکا۔1921 میں تاجؔ نے گورنمنٹ کالج میں بی۔اے کیا۔ اسی دوران انہوں نے ڈرامہ انارکلی لکھا جو 1930 میں شائع ہوا۔

امتیاز علی تاجؔ کا ڈرامہ انارکلی اردو ڈرامے کے ارتقاء میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ قدیم اور جدیدروایتوں کا سنگم ہے۔ ایک طرف قدیم ڈرامے کی روایت پارسی تھیٹریکل کمپنیوں کے زوال کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی تو دوسری طرف جدید اردو ڈرامہ تھیٹر کی نئی روایتوں کے ساتھ ایک نیا موڑ لے رہا تھا۔ انارکلی میں ہمیں دونوں روایتوں کے اثرات ملتے ہیں۔ امتیاز علی تاجؔ چونکہ قدیم و جدید ڈرامے کی روایتوں کے فکری و ہنی تقاضوں سے کما حقہ روشناس تھے اس لئے انہوں نے ان دونوں سے استفادہ کرتے ہوئے اردو کو ایک ایسا شاہکار دیا جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔1928 میں انارکلی پر مبنی خاموش فلم Love of a Moghul Prince میں تاجؔ صاحب نے شہنشاہ اکبر کا کردار ادا کیا۔ آنے والے برسوں میں انارکلی کی کہانی پر متعدد فلموں بنیں جن میں سب سے زیادہ مقبولیت کے آصف کی فلم مغلِ اعظم نے پائی۔جتنی مقبولیت انارکلی کو برِ صغیر پاک و ہند میں حاصل ہے شاید اتنی مقبولیت ہیلن آف ٹرائے کو یونان اور پورپ میں حاصل نہیں ہوئی۔