- Advertisement -

بٹائی کے دنوں میں

ایک افسانہ از دیوندر ستیارتھی

بٹائی کے دنوں میں
پچھم کی طرف سے آنے والی ہوا کے نیچے گیہوں کے پودے سر ہلارہے تھے۔ کنکُوت کے لیے ریاست کا سرپنچ کھیت کی مینڈ پر کھڑا تھا۔ دیوان صاحب کا آدمی مونچھوں کو تاو دے رہا تھا۔ فصل کا جائزہ لیتے ہوئے سر پنچ نے فیصلہ کیا کہ کوئی ساٹھ ایک من دانے ہوں گے۔ جو کام پہلے آدھ گھنٹہ مانگتا تھا۔ اب چند ہی منٹوں میں ختم ہوجاتا تھا۔ کسان نمائندہ موجود رہتا تو اب کے یہ بے نظیر ہمواری کنکوت کی خصوصیت ہرگز نہ ہونے پاتی۔

کنکُوتیے بہت دور نکل گئے تھے۔ سنتُو اپنے دل میں حساب لگانے لگا۔ اس کا مطلب ہوا بیس من دیوان کے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ میں مہینوں محنت کرتا رہا ہوں، میں نے خون پسینہ ایک کیا ہے۔

اپنے پان59و پر کھڑا ہوا تو سنتُو چھ فٹ کا جوان دکھائی دینے لگا۔ کُھلے ہاتھ پان59و گلے میں پڑا ہوا تعویذ ٹوٹے ہوئے کان، وہ پہلوان دِکھائی دیتا تھا۔ تہمد کو اُوپر اُٹھا کولھوں پر رکھتے ہوئے وہ سوچنے لگا۔۔۔ بیس من۔۔۔ ہم آج تک دیوان کو اپنی زمینوں سے کھلاتے رہے ہیں۔ سارا سال زمین میں ہل جوتیں ہم، بیلوں کے ساتھ بیل بنیں ہم اور پھر جب ہماری محنت کے نتیجے میں دھرتی کی آشائیں آنکھیں کھول دیتی ہیں، اناج ہی اناج ہوجاتا ہے تو دیوان کہتا ہے کہ میرا حق پہلے مجھے مل جائے زمین اصل میں میری ہے۔

اُجاگر نے آکر بتایا کہ اُس کے کھیت کی کنکُوت بھی ہوگئی۔ کنکوتیے پچاس من دانے لکھ کر لے گئے ہیں۔ اُجاگر نے اپنے چادرے کو گلے سے اُتارا اور ہاتھ پھیلا دیئے وہ ایک بڑاسا پرندہ دکھائی دینے لگا، جو اُڑ کر آسمان کی بلندیوں میں پرواز کرنے والا ہو۔سنتُو کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ بولا۔ ’’میں کہتا ہوں دیوان ریاست کے سرپنچ سے ملا ہوا ہے۔ یہ کنکُوت کا طریقہ بھی کتنا برا ہے۔ بیکار ہی ہم کنکُوت کے لیے لڑتے رہے تھے۔ اب بھلا میرے کھیت میں پچاس من دانے کہاں ہوں گے؟ اس سے تو یہی اچھا تھا پہلے کی طرح کہ کٹائی ہوچکنے پر ہماری جنس تول لی جاتی اور دیوان کے حصّے کا ایک تہائی اناج دیوان کے گھر پہنچا دیا جاتا۔‘‘

بُڈھا رحیمُو اس اثنا میں رہٹ کی گادھی پر آبیٹھا تھا۔ اُجاگر کی بات پر وہ خاموش رہا۔ سنتُو نے اپنی نوخیز مونچھوں پر ہاتھ پھیرا اور سامنے پیپل کے نیچے سمادھ کی طرف دیکھتا ہوا بولا۔ ’’سوگند ہے مجھے بابا ٹہل سنگھ کی اگر میں دیوان کو ایک دانہ بھی دے جاؤں۔ اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ زمین ہماری ہے۔ شہر سے آنے والا بابُو بھی اُس دن ہمیں یہی بتارہا تھا۔‘‘

بڈھا رحیمو ایک ڈرپوک آدمی تھا اور ریاست کے ہر معاملے میں مصلحت کے طور پر جبر کے آگے سر جھکا دیا کرتا تھا۔ اُس میں مصیبت اور ظلم سے جنگ کرنے کی صلاحیت مرچکی تھی۔ حقے کا ایک لمبا کش لگاتے ہوئے وہ کھانس کر بولا۔ ’’ارے سنتُو! جانے بھی دو۔ دس بیس سیر دانے زیادہ بھی دینے پڑگئے تو کیا ہوگیا؟ایسا نہ ہوکہ تجھے پیاز بھی کھانے پڑیں اور جوتے بھی۔ یہ پیاز اور جوتوں کا وہ قصّہ بھی سُنا ہے نا؟‘‘ اور جواب کا انتظار کیے بغیر ہی وہ سنانے لگا،

’’ایک تھا جولاہا۔ پتہ نہیں سالا کیا قصور کر بیٹھا کہ پنچایت میں ایک دن یہ طے پایا کہ وہ چاہے تو سو جُوتے کھالے، چاہے تو ایک سو پیاز کھا لے۔ اُس نے کہا۔ پیاز منگوا لو۔ اُس نے دس بارہ پیاز بھی نہ کھائے ہوں گے کہ سالا تنگ آگیا۔ بولا۔۔۔ پیاز کھانا کٹھن کام ہے، جُوتے ہی کھا لیتا ہوں۔ پھر اُس کے سر پر تڑا تڑ جوتے پڑنے لگے۔ اُس کی چیخیں نکل گئیں۔ بولا۔۔۔ جوتے نہیں۔۔۔ پیاز۔۔۔ پیاز، سر پنچ بادشاہ! لیکن وہ لگاتار اتنے پیاز بھی نہ کھاسکتا تھا۔ پھر جُوتے، پھر پیاز، پھر جُوتے، پھر پیازآخر حساب کرنے پر پتہ چلا کہ سالا سوکے سو جُوتے بھی کھا گیا اور کوئی ایک کم سو پیاز بھی۔‘‘

سنتُو اپنے ڈھیلے تہمد کو درست کرنے لگا۔ اُجاگر بھی کچھ نہ بولا۔ رحیمو گادھی پر بیٹھا حقّے کے کش لگاتا رہا۔ بیچ بیچ میں اُس کی آنکھیں مِچ جاتیں شاید اُس کے دماغ میں بھولے بسرے دھندلے دھندلے خیالات تیر رہے تھے۔ کوئی اور سماں ہوتا تو سنتُو کو رحیمو کے جھریوں والے جُتے ہوئے کھیت جیسے چہرے پر ان آنکھوں کی یہ کیفیت دیکھ کر کسی مندر کے پٹ بند ہونے اور کُھلنے کا گمان ہونے لگتا۔ اُس نے سوچا کہ رحیمو اُس پُرانے رہٹ کی طرح ہے جو ہمیشہ ایک ہی سُر میں اپنا الاپ جاری رکھتا ہے۔ سر سے پان59و تک اُس کے بدن میں ایک کپکپی سی دوڑ گئی۔ ’’کھیتوں کے دیوان تو ہم کسان خود ہیں۔۔۔ خود کسان، رحیمو چچا۔‘‘ وہ بولا۔ ’’میں اب کے ایک دانہ بھی دیوان کو دے جاؤں تو مجھے سنتُو مت کہنا۔ کچھ پروا نہیں اگر مجھے پیاز بھی کھانے پڑیں اور جُوتے بھی کھانے پڑیں۔‘‘

اُجاگر نے قہقہہ لگایا اور رحیمو کی داغی بیروں جیسی آنکھوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ ’’بابا! میں تو باز آیا پیاز اور جُوتے کھانے سے۔‘‘

گیہوں کی بالیاں سائیں سائیں کی آواز کے ساتھ ہوا کی تیز رفتاری کا قصّہ بیان کرنے لگیں۔ بادلوں کے ہلکے، گہرے سائے دور تک پھیل گئے تھے۔ قریب ہی ایک پگڈنڈی تنی ہوئی تھی جس پر ایک دُلہن قطار سے بچھڑی ہوئی کُونج کی طرح اپنی دُھن میں چلی جارہی تھی۔ اُس کی پازیب کی جھنکار آہستہ آہستہ خاموش ہوگئی۔ رحیمو چچا نے حقے کا ایک پُرزور کش لگایا۔

اُجاگر رحیمو چچا کی باتوں میں اُلجھ کر رہ گیا۔ لیکن سنتُو اپنی تیل پلائی ہوئی لوہے کے مُٹھے والی لاٹھی اُٹھاکر گان59و کی طرف چل پڑا۔ ڈوبتے ہوئے سورج کی آخری کرنیں مُٹھے کی ہموار سطح پر پھیل گئیں۔ دُور کہیں سے گیت کی آواز آرہی تھی۔۔۔ ’’کوئی لے گیا بھگت چُراکے، برہمے دیاں دیداں نُوں۔۔۔!‘‘ نغمے کے زیر وبم نے سنتُو کو بیقرار کردیا۔ ایک لمحے کے لیے اسے دنیا بھر کی بے انصافی کا راز معلوم ہوگیا۔ برہما کے پاس وید ہی نہیں رہے۔ نہ جانے کون بھگت اُنھیں چُرا لے گیا۔

اُوپر آسمان پر رات کا دولھا سنجیدہ نظر آتا تھا۔ گیہوں کے کھیت چاندنی میں اُونگھ رہے تھے۔ سرپنچ کے الفاظ سنتُو کے ذہن میں سوئیوں کی طرح چُبھنے لگے۔۔۔ کوئی ساٹھ ایک من دانے ہوں گے۔ فصل میں ایک تہائی حصّہ دیوان کا نہ ہوتا تو وہ کسی کے منہ سے یہ الفاظ سُن کر اُس کا مرید بن جاتا۔ اور کہتا،واہگورو کا پرتاپ چاہیے، ساٹھ کے بھی اسّی من دانے نکلیں گے۔ کُل ساٹھ من دانے۔۔۔! یعنی بیس من دیوان کے، اور میرے پاس رہ جائیں گے کُل چالیس من! اُس کے منہ کا مزہ پل بھر میں ناخوشگوار ہوگیا۔ جیسے اس کی زبان کچّے پیلو کو اُگل کر باہر پھینک دینا چاہتی ہو۔ وہ کوئی شاعر ہوتا۔ تو سرپنچ کی ہجو میں ایک لمبی نظم لکھ ڈالتا۔ جس کے ایک ایک لفظ میں دنیا بھر کی نفرت پرو دیتا۔ اور اس وقت سرپنچ کہیں مل جاتا، تو لوہے کی مُٹھے والی لاٹھی اس کے سر پر اتنے زور سے برستی کہ وہ دیکھتے دیکھتے زمین پر گِرپڑتا۔ اس کی رگیں مونج کی بوسیدہ رسیوں کی طرح ایک بھرپور ہاتھ کا زور بھی نہ سہہ سکتیں۔ اور وہ دیوان کا آدمی، جسے ہمیشہ مونچھوں پر تاؤ دینے سے کام رہتا ہے، ایک پچکے ہوئے لہسوڑے کی طرح نظر آتا۔ ایک ہی وار کے بعد۔ اُس کی آنکھیں چاند کی طرف اُٹھ گئیں، چاند اُسے گُھور رہاتھا۔ جیسے کہہ رہا ہو، یوں نہیں بند ہونے کی یہ برسوں سے چلی آنے والی بٹائی،مُورکھ! ایک سرپنچ کو مار ڈالوگے، دوسرا کوئی اس کی جگہ کھڑا نظر آئے گا۔ دیوان کو تو ایک چھوڑ بیس ملازم مل سکتے ہیں۔ وہ چاہتا تھا کہ چِلاّکر چاند کو بتا دے گی کہ جاگی ہوئی بغاوت اب سوئے گئی نہیں۔ وہ چاہتا تھا۔ کہ کوئی بھُوت اُس کے بس میں آجائے اور رات گذرنے سے پہلے پہلے اس کا اشارہ سمجھ کر سب کے سب کھیت جلا ڈالے۔ یہ ٹھیک ہے کہ کسان برباد ہوجائیں گے۔ اور مجبوراً اپنی ماتر بُھومی کو چھوڑ کر دور کسی شہر کی طرف چل پڑیں گے۔ مگر کم ازکم اس چاٹ کو پیاس بجھانے کی نوبت نہ آئے گی۔ کھیتوں میں کھڑی ہوئی فصلیں جل کر راکھ ہوجانے پر دیوان کو بھی نانی یاد آجائے گی۔ پھر کس سے بٹائی لے گا؟

اُس کی آنکھیں ایک بار پھر چاند کی طرف اُٹھ گئیں۔ چاند اسے گُھور رہاتھا جیسے کہہ رہا ہو، ارے کل کے چھوکرے! تیری عقل کو کوئی بھینس تو نہیں چر گئی؟ یہ بھی کوئی طریقہ ہے دیوان سے دشمنی مول لینے کا؟ تم چلے جاؤگے تو اور لوگ آئیں گے۔ یہاں تو تمھاری ہی طرح بیلوں کے ساتھ بیل بن کر کھیتی کریں گے۔ اور اپنے گاڑھے پسینے کی کمائی کا ایک تہائی اپنے دیوان کو دیتے رہیں گے۔ اب یہ بٹائی بند نہیں ہونے کی۔ اس پر قانون کی مُہر لگ چکی ہے۔

اس کے قدم اُٹھائے نہ اُٹھتے تھے۔ دماغ میں چیونٹیاں سی رینگ رہی تھیں۔ جیسے یہ اندر ہی اندر جسم کے مختلف حصّوں تک سُرنگیں کھودنے کی فکر میں سرگرداں ہوں۔ یہ تذبذب اس کے لیے ایک نئی چیز تھا۔ جیسے اس کے دل و دماغ میں یہ ڈگڈگی کی طرح مسلسل حرکت کبھی ختم نہ ہوگی۔ چاند پر ایک سرکش بادل چھا گیا۔ اور اب یہ ایک اندھا لیمپ معلوم ہورہا تھا، تاروں میں بھی ایک مری ہوئی روشنی باقی تھی۔ راستے کے کنارے کنارے کھڑے ہوئے درخت بیحد بھیانک اور پُراسرار نظر آتے تھے۔

اب وہ وہاں پہنچ گیا تھا، جہاں راستہ نیچے کو اُترتا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ کسی زمانہ میں یہاں سے ایک دریا گزرتاتھا۔ اُس نے سوچا کہ دریا بھی راستہ بدل لیتے ہیں۔ مگر ہم نے انسان ہوکر پُرانے راستوں سے لَو لگا رکھی ہے۔ دور کہیں سے بیلوں کے گلے کی گھنٹیوں کی آواز آرہی تھی، جِسے راہگیروں کی خوش گپیاں بیچ بیچ میں چیر جاتی تھیں۔ دریا کا خشک پاٹ ختم ہونے پر راستہ اُوپر کو چڑھنے لگا۔ جونہی وہ اونچی سطح پر پہنچا اس کے دماغ میں ایک گیت کے سُر گھومنے لگے۔ جس میں گیہوں سے یہ التجا کی گئی تھی کہ وہ اب کے مہنگے بھاؤ بک کر دکھائے۔ گیہوں کا بھاؤ بھی بدلتا رہتا ہے۔ انسان کو بھی بدلنا چاہیے وقت کے ساتھ ساتھ۔ اب کسانوں کو چاہیے کہ سر جوڑ کر بیٹھیں۔ اور اپنے بھلے کی کوئی راہ نکالیں، بٹائی بند کرا دیں۔

گھر پہنچتے ہی وہ کھا، پی کر کُھردری کھاٹ پر لیٹ گیا۔ وہ چُپ چاپ پڑا رہا۔ بٹائی کے خلاف شور مچانے کا خیال اس کے ذہن میں زور پکڑتا گیا۔ کسان آخر کسان ہیں۔ نرے ریشم کے کیڑے نہیں ہیں جو دھیرے دھیرے اپنے کو سنہری کویوں میں لپیٹتے چلے جاتے ہیں۔ اور اپنے گرد شہتوت کے سبز پتّے دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ اُن کا ننھّا سا سورگ ہمیشہ کے لیے آباد رہے گا۔ جب تک یہ بٹائی قائم ہے۔ ہمارا گان59و سُکھ کی سانس نہیں لے سکتا۔ کوئی ساٹھ ایک من دانے ہوں گے۔ یعنی بیس من دیوان کے پر یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ سوگند ہے مجھے بابا ٹہل سنگھ کی اگر گیہوں کا ایک بھی دانہ کسی کے کھیت سے بھی دیوان کے گھر جانے دوں۔

گان59و کی تاریخ، جو وہ چچا رحیمو سے مزے لے لے کر سنا کرتا تھا، اس کے ذہن میں منڈلانے لگی۔ پُرانے وقتوں میں جب ریاست کی بنیاد بھی نہ رکھی گئی تھی، اس کے گرد و نواح میں بڑی بدعملی پھیلی ہوئی تھی۔ کہیں نہ کہیں سے ڈاکو آنکلتے اور لوگوں کو لُوٹ کر چلتے بنتے، پھر ایک گھڑسوار بہادروں کا ایک گروہ آیا۔ یہ سب ایک ہی کنبے کے آدمی تھے۔ انھوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ ان کی حفاظت کے لیے یہیں رہا کریں گے۔ لوگوں نے انھیں بخوشی اپنی اپنی فصل کا ایک چھوتھائی حصّہ بطور شکرگزاری دینا شروع کردیا۔ اس اثنا میں ریاست کی بنیاد رکھی جاچکی تھی۔ اور اس کی حدود دُور دُور تک پھیل گئی تھیں۔ مگر ہمارے گان59و پر ریاست کا قبضہ نہ ہوا۔ گھڑسوار بہادروں نے یہاں اپنی چھوٹی سی خود مختار حکومت قائم کررکھی تھی۔ پھر جب سکھوں کا راج ختم ہوگیا اور ہمارا گان59و عملداری میں آگیا۔ تو سرکار نے اپنے بندوبست میں بٹائی منسوخ کردی۔ اور اس کی بجائے دیوان کے لیے نقد رقم کی صورت میں لگان مقرر کردیا۔ بعد ازاں یہ گان59و ریاست کو دے دیا گیا۔

دیوان چاہتا تھا کہ مہاراج اپنے خاص حکم سے نقد لگان کی بجائے پھر سے بٹائی رائج کردیں۔ لیکن مہاراج نے کہا۔’’میں زبردستی نہ کروں گا۔ اگر خود کسانوں کو رضامند کرلو تو میں منظوری دے سکتا ہوں۔‘‘ دیوان نے ہمارے باپ داداؤں کو نشہ پلا کر اپنے کاغذ پر ان کے انگھوٹھے لگوا لیے،مہاراج نے بھی منظوری دے دی۔ دیوان نے سرکردہ کنبوں کو اپنی طرف سے رشوت دے رکھی تھی وہ کچھ نہ بول سکتے تھے۔ پھر بٹائی شروع ہوگئی۔ ایک چوتھائی کے بجائے ایک تہائی۔ چچا رحیمو کا خیال تھا کہ یہ سب خدا کی باتیں ہیں۔ اُسی کے حکم سے پُرانے راج جاتے ہیں۔ اُس کے حکم کے بغیر تو پتّہ تک نہیں ہل سکتا۔ آدمی کو چاہیے کہ چُپ چاپ اس کا حکم مانتا چلا جائے۔ کوئی باغی خدا کی لاٹھی سے بچ نہیں سکتا۔ بٹائی نہیں ٹوٹنے کی۔ راجہ کا حکم اس کے ساتھ ہے، خدا کا حکم بھی اس کے ساتھ ہے۔

لیکن یہاں پہنچ کر سنتُو کا اندازِ فکر چچا رحیمو کا ساتھ نہ دے سکتا تھا۔ وہ سوچتا تھا کہ یہ صرف ان کے اجداد کی مصلحت پسندی کی ایک دلیل ہے کہ اُنھوں نے حالات کے ماتحت ڈاکوؤں سے بچنے کے لیے چند بہادر گھڑسواروں کو اپنا سرپرست منظور کرلیا۔ اور اب تک ہم ان کے خاندان کو بٹائی دے رہے ہیں۔ اب اگر مہاراج ایک تہائی کی بجائے ایک چوتھائی بٹائی کا حکم دیں تو بھی ہماری تسلّی نہیں ہوسکتی۔ ہم چاہتے ہیں ہماری گردنوں پر ظلم کی اس تلوار کا چلنا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے۔ ہمیں نہ نقد لگان دینا منظور ہے نہ یہ بٹائی۔۔۔ یہ سُسری بٹائی!

انگڑائی لے کر اس نے کروٹ بدل لی اور سوچ میں ڈوب گیا۔ اپنے ذہن میں اُسے وہ تھرتھر کانپتا ہوا بکرا صاف نظر آرہا تھا، جس نے دو کسانوں کو اس بات پر اُلجھتے دیکھ کر کہ بکرے کو ذبح کرنے کا اصل طریقہ جھٹکا ہے یا حلال، تڑپ کر کہا تھا۔۔۔ کاش کوئی میری رائے بھی پُوچھے۔۔۔

اُسے یاد آیا کہ شہر سے آنے والے اس بابو نے ایک بار اسے بتایا تھا کہ شروع تاریخ سے ہمیشہ سے سرکار کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ کسانوں کو اتنی ہی روٹی ملے جس سے وہ زندہ رہ سکیں اور اپنا کام کرتے چلے جائیں۔ یہی کوشش رہی ہے کہ کسان کو دبا کر رکھا جائے۔ ذرا کوئی کسان زور پکڑنے لگا کہ ایک بہت زبردست طعنہ گان59و کی فضا میں گونج اُٹھا۔ ’’بھُکھّے جٹّ کٹورا لبھا پانی پی پی آپھریا۔‘‘ یعنی کمزور کسان کو کٹوری مل گئی۔ اور وہ پانی پی پی کر اپھرگیا۔ لیکن اب حالات بدل رہے ہیں۔ روس میں کسان مزدور کا راج قائم ہوچکا ہے۔ وہ سوچنے لگا کہ کسان مزدور کا راج یہاں قائم ہونا چاہیے، بٹائی ضرور مِٹ کر رہے گی۔۔۔ یہ سُسری بٹائی!

اُوپر آسمان پر ٹھیک اس کی کھاٹ کے اُوپر، کہکشاں نے پکے ہوئے کھیت کا روپ دھار رکھا تھا۔ وہاں کون کھیتی کرتا ہے۔ وہ سوچنے لگا، اس کی کنکُوت کون کرتا ہے؟ بٹائی کون لیتا ہے؟

گیہوں کی کٹائی زوروں پر تھی۔ ہنسیے کہتے تھے ہمارے دانت تیز ہیں۔ ہمارے دانت ہمیشہ تیز رہیں گے۔ لوک گیتوں کی شعریت کی طرح دھرتی کی آبرواُجاگر ہو اُٹھی تھی۔ کسان سوچتے کہ بٹائی کے دانے دے کر بھی ان کے گھروں میں اتنا اناج پہنچے گا کہ وہ پرانے قرضوں سے سبکدوش ہوجائیں گے۔ چار دن زندگی کو گِدّھا ناچ کے تال پر تھرکتے پائیں گے۔

کھلیان ہی کھلیان۔ مٹی کتنا سونا اُگلتی آئی تھی۔ کسان خوش تھے۔ ان کے قہقہے دھرتی کی زندہ شکتی کے ترجمان تھے۔ کونجوں کی آخری قطاریں جو دور ہمالہ کے اس پار اپنی ماتربُھومی کو لوٹ رہی تھیں۔ کسانوں کا دھیان کھینچ لیتیں۔

چچا رحیمو نے اُجاگر کا کندھا جھنجھوڑکر کہا۔ ’’کنکیں، کونجیں منیہا، جے رہن بیساکھیں‘‘ شروع دنیا سے گیہوں ٹھیک موسم میں پکتا آیا ہے۔ اور ہمالہ پار کی کونجیں میدانوں میں جاڑے کے دن گزار کر گرمیاں شروع ہوتے ہی اپنے وطن کے لمبے سفر پر تیار ہوتی آتی ہیں۔ اگر گیہوں وقت پر نہ پکے اور کونجیں بیساکھ شروع ہوتے ہی اپنے سفر کی تیاری سے چُوک جائیں، تو یہ دونوں کے لیے طعنے کی بات ہوگی۔

اُجاگر بولا۔ ’’آدمی ہونے کی بجائے ہم بھی ہمالہ پار کے پنچھی ہوتے، تو نہ کوئی ہمارے کھیتوں کی کنکُوت کرتا۔ نہ ہمیں بٹائی کی مصیبت جھیلنی پڑتی۔‘‘

چچا رحیمو حقے کے لمبے لمبے کش لگاتا رہا۔ وہ اُجاگر کی بات پر ہنس دیا۔ ’’ناشکرا۔۔۔ خدا کا شکر نہیں کرتا۔ اتنی اچھی فصل میں سے دیوان کو تھوڑا اناج دیتے ہوئے موت تو نہیں آجائے گی۔ خدا تو سب کا رازق ہے۔ وہ دیوان کا بھی رازق ہے۔‘‘

اُس وقت سنتُو وہاں آنکلا اور بولا۔ ’’لو چچا رحیمو! پنچایت میں آج یہ طے ہوگیا ہے کہ بٹائی نہیں دی جائے گی۔‘‘

چچا رحیمو نے ہنس کر کہا۔ ’’سب سے بڑے ناشکرے تو تم ہو۔ بٹائی لینے والا اپنی بٹائی کیسے چھوڑ دے گا؟ چھوکروں کی پنچایت کی اس وقت کوئی پیش نہ جائے گی۔ جب پولیس کے سپاہی تمھیں پکڑلے جائیں گے۔‘‘

’’پنچایت نرے چھوکروں کی تھوڑی ہے چچا رحیمو۔ تم نہ شامل ہوئے تو پنچایت کیسے رُک جاتی؟ گان59وکے دوسرے بڈھے تو شامل تھے۔ اب پولیس کا ڈر بھی پنچایت کے فیصلے کو روک نہیں سکتا۔ اور میں دیکھوں گا کہ چچا رحیمو کب تک پنچایت سے باہر رہ سکتا ہے؟‘‘

چچا رحیمو نے اپنے پھیپھڑوں کی پوری طاقت سے حقّے کا کش لگایا۔ پہلے وہ چپ رہا۔ سنتُو کو اپنے ارادے پر اٹل دیکھ کر اس نے جھٹ اپنی بات کو پلٹتے ہوئے کہا۔ ’’میں اکیلا کیسے الگ رہ سکتا ہوں۔ اُجاگر بھی تو تمھارا ساتھی معلوم ہوتا ہے۔ تمھارے ساتھ میں بھی پیاز اور جُوتے کھانے کو تیار ہوں۔‘‘

پنچایت کا حکم تھا کہ کوئی بٹائی نہ دے۔ سب گیہوں کھلیانوں ہی میں پڑا رہے۔ پولیس آئے گی اور زبردستی بٹائی کے دانے دِلانے کی کوشش کرے گی۔ ہوسکتا ہے کہ دیوان ہمارے کچھ لوگوں کو رشوت دے کر اپنی طرف کرنے کی کوشش کرے۔ لیکن بابا ٹہل سنگھ کی سمادھ پر کیا فیصلہ سارے گان59و کو منظور تھا۔ واضح طور پر پنچایت نے لوگوں کی اس جدوجہد کے مختلف پہلو سمجھا دیے تھے۔ کوئی پروا نہیں اگر ان کے کھلیان لہو سے لال ہوجائیں۔ بٹائی سے ضرور خلاصی مل جائے گی۔

نمبردار نے بہت کوشش کی کہ چچا رحیمو پنچایت میں شامل ہونے سے انکار کردے۔ دیوان کی طرفداری کرنے پر اُسے بہت کچھ مل سکتا تھا۔ لیکن اس نے کسی طرح کی رشوت لینے سے انکار کردیا اور کہا۔ ’’پنچایت کا فیصلہ اللہ پاک کا فیصلہ ہے۔ ہم بزرگوں سے سُنتے چلے آئے ہیں کہ آوازِ خلق کو اللہ پاک کا نقارہ سمجھو۔‘‘

کھلیانوں میں ہمیشہ ایک ہی گیت گونجتا رہتا،

’’دینا نہیں کنک دا دانہ

بچّہ بچّہ قید ہوجائے!‘‘

ہم گیہوں کا ایک بھی دانہ نہ دیں گے، بھلے ہی بچہ بچہ قید ہوجائے۔

مردوں سے کہیں زیادہ جوش عورتوں میں نظر آرہا تھا۔ عورتوں کا جلوس مائی امرتی کے کنوئیں سے شروع ہوتا اور سیدھا دیوان کے دروازے پر جا پہنچتا۔ اس جلوس میں ہر عمر کی عورتیں اور لڑکیاں شامل ہوتیں۔ ’’دینا نہیں کنک دا دانہ، بچّہ بچّہ کَید ہوجائے۔‘‘ یہ گیت فضا میں گونج اُٹھتا۔ بٹائی کے خلاف طرح طرح کے نعرے لگائے جاتے۔ پہلے دیوان نے اسے چند روز کا تماشا سمجھ کر بے توجہی دکھائی۔ لیکن عورتوں کے جوش میں کسی طرح کی کمی کا امکان نظر نہ آتا تھا۔ اب تو عورتیں دیوان کے دروازے پر چھاتیاں پیٹنے کا مظاہرہ شروع کردیتیں۔ہائے ہائے کے نعرے اس احتجاجی ماتم کی جان معلوم ہوتے تھے۔ دیوان حیران تھا، پولیس حیران تھی۔ اُوپر سے حکم آئے بغیر عورتوں پر کسی طرح کی سختی نہ کی جاسکتی تھی۔

رات کو دو دو تین تین فرلانگ سے مگھّر کے نعرے سنائی دیتے۔ جن سے وہ گان59و کے لوگوں کو بٹائی کے خلاف ڈٹے رہنے کے لیے برابر اُکساتا رہتا۔ دس سال کلکتے میں رہ کر وہ اگلے ہی مہینے گان59و میں آیا تھا۔ منہ پر گراموفون کا بھونپو لگا کر وہ اپنی آواز کو دُور دُور تک پہنچا دیتا۔ عورتیں سوچتیں کہ ضرور اس نے بھوت بس میں کر رکھے ہیں۔ اور وہ اپنا نیا گیت اجتماعی لَے میں گاتیں۔ جو کچھ اس طرح شروع ہوتا کہ گھر گھر بیٹوں کا جنم ہوتا ہے۔ مگر مگھّر جیسا بہادر کبھی کبھار ہی پیدا ہوتا ہے۔ پولیس بھی سانپ کی طرح پھن مار کے رہ جاتی۔ مگھّر کو پکڑنا آسان نہ تھا۔

کھلیانوں کو عورتوں کی نگرانی میں چھوڑکر، سب کسان ایک دن بابا ٹہل سنگھ کی سمادھ پر اکٹھے ہوئے۔ پولیس کے سپاہی موقعہ پر موجود تھے۔ گھڑسوار سپاہیوں کا ایک دستہ جو حال ہی میں ریاست کی راجدھانی سے چل کر یہاں آیا تھا۔ ہر طرح کی سختی پر آمادہ نظر آتا تھا۔ چچا رحیمو نے قہر آلود نگاہوں سے گھڑسواروں کی طرف دیکھا۔ اور اپنی جگہ پر کھڑے ہوکر کہنا شروع کیا،

’’جب میں بچہ تھا تو ہمیشہ اپنی بہن سے کہا کرتا تھا کہ اپنی کوہنی یا ناف کو زبان سے چُھونے میں کامیاب ہوجاؤ تو تم لڑکی سے لڑکا بن سکتی ہو۔ وہ لاکھ کوشش کرتی پر ناکام رہتی۔ سیانی ہونے پر وہ بیاہی گئی، تین بچّوں کی ماں بنی، بڑی نیک عورت تھی۔ میرا مذاق ہمیشہ قائم رہا۔۔۔ کیوں بہن عورت سے مرد بنوگی؟ وہ گھور کر میری طرف دیکھتی۔۔۔ اور اب اس گان59و کی عورتوں نے ثابت کر دِکھایا ہے کہ وہ کسی طرح بھی اپنے مردوں سے پیچھے نہیں۔ مردوں کو چاہیے کہ پنچایت کی آواز سن لیں، اور جو فیصلہ ایک بار وہ کرچکے ہیں اس کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار رہیں۔‘‘

اس کے بعد اُجاگر نے ہاتھ جوڑ کر ساری پنچایت کی فتح بلائی۔۔۔ ’’بولو جی گرج کر شری واہگورو سادھ سنگت جی! میں نے سنا ہے کہ پہلے وقتوں میں ہر کسی کی ناف پر گوشت کی ایک ڈھکنی سی لگی رہتی تھی، جسے اُٹھا کر جب بھی کوئی چاہتا یہ دیکھ سکتا تھا کہ اس نے اس دن کیا کھایا ہے؟ ایک بار ایک لڑکی اپنے خاوند کے ساتھ میکے میں آئی۔ اس نے اپنے خاوند کو اچھی اچھی چیزیں کھلائیں۔ اور اسے خود صرف روٹی اور ساگ ہی ملا۔ خاوند نے پوچھا تم نے کیا کھایا بولی وہی جو تم نے کھایا۔ جب وہ سو گئی خاوند نے اس کی ناف پر سے ڈھکنی اُٹھاکر دیکھ لیا۔ اور سب بات سمجھ گیا لڑکی کو معلوم ہوا تو اس نے دعا مانگی، ہے سچّے واہگورو ناف پر کی ڈھکنی کو اب ہر مرد اور عورت کے جسم کے ساتھ ہی جوڑ دو تاکہ کوئی کسی کے بھوجن کے راز سے واقف نہ ہوسکے۔ اور ایسا ہی ہوگیا۔ ناف پر کی ڈھکنی کو جسم کے ساتھ جوڑکر واہگورو نے کیا اچھا کیا۔ میں نہیں سمجھتا کاش! واہگورو اس ڈھکنی کو پھر سے پہلی صورت دے دے۔ تاکہ ہمارے حاکم ہمارے بھوجن کے راز سے واقف ہوجایا کریں۔ سچ تو یہ ہے کہ بہتوں کو روٹی اور ساگ بھی نصیب نہیں ہوتا۔ حالانکہ ہمارے گاڑھے پسینے کی کمائی کچھ اتنی کم بھی نہیں۔ ایک تہائی دانے بٹائی کے نکل جاتے ہیں۔ نہر کا لگان الگ۔ شاہوکار کا بیاج الگ۔ سادھ سنگت جی! اب بٹائی بند کرانے کا وقت آپہنچا ہے۔‘‘

اِتنے میں دُور کہیں سے مگھّر کا بگل بنکار اُٹھا۔۔۔ بٹائی کے دن بیت گئے۔ زمین ہماری ہے۔ دیوان کی مہر ختم۔۔۔ اللہ اکبر۔۔۔ گرج کر بو لوجی۔۔۔ بٹائی کے دن۔‘‘

جدھر سے آواز آرہی تھی، اُدھر ہی کو سب گھڑسوار سپاہی بھاگ نکلے۔ ان کے پیچھے پیچھے پیدل سپاہی لاٹھیاں اُٹھائے بھاگے جاتے تھے۔

پھر ایک دن ریاست کی راجدھانی سے ٹھاکر صاحب باغی کسانوں سے بات چیت کرنے کے لیے چلے آئے۔ تھانے کی بغل میں سبز رنگ کے شاہی خیمے کے سامنے سب کسان حاضر ہوجائیں۔ بچّے، بوڑھے اور جوان سبھی۔ کھلیانوں پر ایک ایک مرد یا عورت رہ جائے۔ رات کو گان59و میں اور کھلیانوں میں یہ ڈھنڈورا پٹوا دیا گیا۔

عورتیں اور مرد ایک جلوس کی شکل میں چلے آرہے تھے۔ خیمے کے سامنے بہت سی سبز دریاں بچھا دی گئی تھیں۔ ایک طرف عورتیں بیٹھ گئیں۔ دوسری طرف مرد، ٹھاکر صاحب کی جے کا نعرہ گونج اُٹھا۔ پیشتر اس کے کہ وہ مہاراج کے رُوبرو پہنچ کر فریاد کرتے مہاراج نے اپنا وزیر ان کا انصاف کرنے کو بھیج دیا تھا۔

ریاستی روایت کے مطابق سبز خیمے پر سبز جھنڈا لہرا رہا تھا۔ گھڑ سوار پولیس نے بھی آج اپنے خاکی لباس پر سبز پُھندنے لگا رکھے تھے۔

کرسیوں پر بیچ میں ٹھاکر صاحب بیٹھے تھے۔ دائیں طرف تھانے دار اور بائیں طرف گان59و کے جاگیردار۔ دیوان صاحب اور ٹھاکر صاحب کا اشارہ سمجھ کر تھانے دار نے کھڑے ہوکر کہا۔

’’جو جس کی شکایت ہو بیان کر سکتا ہے۔‘‘

دیوان صاحب نے کھڑے ہوکر بڑے ادب سے ٹھاکر صاحب کی طرف دیکھا۔ اور پھر کسانوں کی طرف دیکھا۔ اور پھر پُرشکایت لہجے میں کہا۔ ’’میرے کسان میری بٹائی دینے سے انکار کررہے ہیں حضور!‘‘

کسانوں کو چُپ دیکھ تھانیدار نے کہا۔ ’’کیا تم لوگ بھی کچھ کہنا چاہتے ہو؟‘‘

چچا رحیمو جسے سب لوگوں نے اپنا سرپنچ تسلیم کرلیا تھا کھڑا ہوگیا۔ اور اُس نے بلند آواز سے نعرہ لگایا۔ جواب میں سب کسان یک زبان ہوکر بولے۔۔۔ ’’اللہ اکبر!‘‘

چچا رحیمو کے چہرے پر خوشی کی لہریں مچل رہی تھیں۔ جیسے وہ کسی چھوٹے سے دیس کا حکمران ہو اور ضرورت آن پڑنے پر اپنے پڑوسی حکمران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے چل کر آیا ہو۔ بولا۔ ’’ہم بٹائی نہیں دیں گے۔‘‘

’’کوئی وجہ بھی ہو آخر؟ ٹھاکر صاحب نے بظاہر خلوص سے پوچھا۔‘‘

’’یہ پنچایت کی آواز ہے۔‘‘

’’پنچایت کی آواز؟ مگر ریاستی مہر کی آواز بھی تو کوئی چیز ہے۔‘‘

چچا رحیمو نے مسکرا کر ٹھاکر صاحب کی طرف دیکھا۔ پھر اس کی نگاہیں اپنے پیچھے بیٹھے ہوئے کسانوں کی طرف اُٹھ گئیں۔ پہلے عورتوں نے اور پھر مردوں نے وہ نعرے لگائے جو اُنھوں نے پہلے پہل مگھّر کی زبان سے سُنے تھے۔ اور جو شروع شروع میں ان کی سمجھ میں نہ آتے تھے۔۔۔ پنچایت کی آواز، کھیتوں کی آواز۔۔۔ پنچایت کی آواز، گیہوں کی آواز۔

دیوان کے چہرے پر ہوائیاں اُڑنے لگیں۔ ٹھاکرصاحب نے حالات پر قابو پاتے ہوئے کہا۔ ’’بٹائی توڑ سکنا میری طاقت سے باہر ہے۔ اس کے لیے تم لوگوں کو مہاراج سے عرض کرنا ہوگی۔‘‘

چچا رحیمو بولا۔ ’’تو ہماری آواز اُن تک پہنچا دی جائے۔‘‘

’’بٹائی مہاراج بھی نہ توڑیں گے۔۔۔ میں کہتا ہوں بٹائی ضرور دے دی جائے قانون یہی کہتا ہے۔۔۔ ہاں ایک بات ہوسکتی ہے اور وہ بھی فریقین کی رضامندی سے دیوان صاحب حاضر ہیں۔ میں اتنا کرسکتا ہوں کہ بٹائی گھٹاکر ایک تہائی کی بجائے ایک چوتھائی ٹھہرا دی جائے!‘‘

چچا رحیمو بولا۔ ’’پنچایت کی آواز ہے بٹائی مت دو۔ بٹائی کے دن بیت گئے۔ ایک چوتھائی ہی تو تھی پہلے یہ بٹائی، پھر نہ جانے کون سا نشہ پلاکر ہمارے باپ دادا سے ایک تہائی بٹائی پر انگوٹھے لگوا لیے گئے تھے۔ اب ہم جاگ چکے ہیں۔‘‘

اُجاگر نے نعرہ لگایا۔ ’’گرج کر بولو جی شری واہگورو۔‘‘

سب کسان یک زبان ہوکر بولے۔ ’’شری واہگورو۔‘‘

چچا رحیمو ایک زندہ بُت کی طرح خاموش کھڑا تھا۔ پیچھے سے سنتو نے نعرہ لگایا۔۔۔ پنچایت کی آواز! سب کسان یک زبان ہوکر بولے گیہوں کی آواز!

ٹھاکر صاحب کے چہرے پر بھی ہوائیاں اُڑنے لگیں۔ لیکن جھٹ سے سنبھلتے ہوئے وہ بولے۔ ’’ایک سنہری موقع گنوایا جارہا ہے۔ ایسے موقعے روز روز نہیں آیا کرتے۔ بٹائی مہاراج بھی نہیں توڑسکیں گے۔ ریاست کی مہر یہی کہتی ہے۔ دیوان صاحب کی جدّی جائیداد کا بھی یہی تقاضا ہے۔ پھر شاید ایک تہائی سے ایک چوتھائی کی سطح پر ہرگز ہرگز نہ اُترسکے یہ بٹائی۔‘‘

’’ایک چوتھائی۔۔۔؟ ہم بٹائی نہیں دے سکتے۔‘‘

گھڑسوار پولیس کے گھوڑے تیار نظر آتے تھے۔ معلوم ہوتا تھا وہ ابھی چچا رحیمو کو اپنے قدموں کے نیچے کچل کر رکھ دیں گے۔ سپاہیوں کے چہرے اور بھی خونخوار ہو اُٹھے تھے۔

ٹھاکر صاحب نے ایک بار پھر بڑے اطمینان سے کہنا شروع کیا۔ ’’اچھا میں آخری بات کہے دیتا ہوں۔ اور وہ بھی دیوان صاحب کو پوچھے بغیر ہی۔۔۔ فصل کا پانچواں حصّہ بٹائی منظور ہے سب کو؟ اور تم کہوگے تو کنکُوت کا طریقہ بھی ترک کردیا جائے گا۔ کٹائی ہوچکنے پر جنس کو تول کر پانچویں حصّے کے دانے دیوان صاحب کو دے دیے جایا کریں گے۔‘‘

چچا رحیمو چُپ کھڑا تھا۔ پیاز اور جُوتے کھانے کا ڈر جیسے اسے چُھو تک نہ گیا ہو۔

دیوان صاحب نے آداب بجاکر کہا۔ ’’ٹھاکر صاحب آپ کے انصاف کے سامنے میرا سر ہمیشہ جھکا رہے گا۔‘‘

موقعہ پاکر سنتو نے پھر نعرہ لگایا۔۔۔ پنچایت کی آواز!

سب کسان یک زبان ہوکر بولے۔۔۔ گیہوں کی آواز!

اُجاگر نے نعرہ لگایا۔۔۔ بٹائی کے دن!

سب کسان یک زبان ہوکر بولے۔۔۔ ختم ہوگئے!

چچا رحیمو نے کہا۔ ’’میں اکیلا کچھ نہیں کہہ سکتا۔ میں پنچایت سے پُوچھ دیکھوں۔ دوپہر تک ہمارا فیصلہ آپ کو پہنچ جائے گا۔‘‘

سب کسان جلوس کی شکل میں جارہے تھے۔ اُن کا گیت فضا میں گونج اُٹھا۔۔۔

’’دینا نہیں کنک دا دانہ، بچہ بچہ کید ہوجائے۔‘‘

بابا ٹہل سنگھ کی سمادھ پر پنچایت اپنے آخری فیصلہ پر غور کررہی تھی۔ سنتو کا خیال تھا کہ ابھی پانچواں حصہ بٹائی منظور کرلی جائے۔ مگر چچا رحیمو نے بڑے جوشیلے انداز میں جنتا کے رُوبرو اپنے خیالات پیش کردیے اور کہا۔ ’’آؤ ہم آج ہمیشہ کے لیے بٹائی سے آزاد ہوجائیں۔‘‘ سب لوگ چچا رحیمو کے ساتھ تھے۔ سنتُو نے نعرہ لگایا۔۔۔ پنچایت کی آواز چچا رحیمو کی آواز!‘‘

اُجاگر جھٹ پنچایت کا فیصلہ ٹھاکر صاحب کے خیمے میں پہنچا آیا۔ سب کا یہی خیال تھا کہ آج ٹھاکر صاحب مہاراج کا آخری حکم سنادیں گے اور ہمیشہ کے لیے اپنے کسانوں کو بٹائی کے جُوئے سے آزاد کردیں گے۔ دیوان صاحب کو ریاست کے خزانے سے پنشن جاسکتی تھی۔

لیکن دوپہر ڈھلنے سے پیشتر ہی پتہ چل گیا کہ ٹھاکر صاحب پولیس سمیت کھلیانوں کی طرف آرہے ہیں۔ تاکہ زبردستی بٹائی کے دانے دیوان صاحب کو دِلا دیں۔ چچا رحیمو نے حکم دیا کہ سب عورتیں تیار رہیں۔ جس جس کھلیان میں پولیس کے سپاہی یہ زبردستی شروع کرنے والے ہوں اُسی کے گِرد گھیرا ڈال کر، دھرنا مار کر مقابلہ کریں۔ نوجوانوں کی ایک ٹولی کو یہ ہدایت کردی گئی تھی کہ وہ پانی پلانے کا فرض ادا کریں۔

گھڑسوار پولیس کو دیوان صاحب کے دروازے پر پہرا دینے کا حکم ملا۔ کیونکہ یہ ڈر پیدا ہوگیا تھا کہ کہیں بے قابو ہجوم کسی طرح کی زیادتی پر نہ اُتر آئے۔

پیدل پولس سمیت تھانیدار اور دیوان صاحب بابا ٹہل سنگھ کی سمادھ کے قریب ایک کھلیان میں پہنچے۔ لیکن عورتیں اس کے گرد گھیرا ڈالے بیٹھی تھیں۔ کہ بٹائی کے دانے تلوانے کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔ تھوڑی دیر میں ٹھاکر صاحب کی کار بھی پہنچ گئی۔

’’میری ماؤں بیٹیو، ایک طرف ہٹ جاؤ، سپاہیوں کو سرکاری کام کرنے دو۔‘‘ ٹھاکر صاحب نے بظاہر خلوص سے کہا۔

عورتیں اپنے دھرنے پر بضد تھیں۔ ٹھاکر صاحب نے ایک بار پھر اپنا حکم دُہرایا۔ تیسری بار گرم ہوکر انھوں نے اپنا حکم دیا۔ ’’یوں نہیں مانتیں تو ہٹا دو ان کو بازوؤں سے پکڑ کر۔‘‘

سپاہی ابھی آگے بڑھنے ہی والے تھے کہ پانی پلانے والے نوجوانوں کو جوش آگیا۔ ان میں سنتُو بھی شامل تھا۔ ان نوجوانوں نے سپاہیوں کی لاٹھیاں چھین لین اور سنتُو کا اشارہ سمجھ کر بُری طرح ان سپاہیوں پر ٹوٹ پڑے۔ خود سنتُو نے اپنی تیل پلائی ہوئی لوہے کی مٹھے والی لاٹھی، جو اس نے کھلیان میں چھپا رکھی تھی، اُٹھا کر تابڑتوڑ اتنے وار کیے کہ کھلیان کی خشک زمین پر لہو کے چھینٹے نمایاں ہو اُٹھے۔ پیشتر اس کے کہ ٹھاکرصاحب کو گولی چلانے کی ضرورت محسوس ہوتی، دیوان صاحب نے ہوا میں اپنی بندوق چلا دی۔ سب نوجوان بھاگ گئے۔ سنتُو ذرا دیر سے بھاگا۔ لیکن ایسا بھاگا، کہ دو فرلانگ تک گھڑسوار تھانیدار بھی اِسے پکڑ نہ سکا۔

عورتیں بالکل نہ گھبرائیں۔ اپنے دھرنے پر ڈٹ کر کھڑی رہیں۔ چچا رحیمو کا حکم ان کے لیے سب سے بڑا حکم بن چکا تھا۔ لیکن ان کے دیکھتے دیکھتے چچا رحیمو کو گرفتار کرلیا گیا۔ بیویوں کے خاوند، بہنوں کے بھائی، بیٹیوں کے باپ اور ماؤں کے بیٹے سب گرفتار کرلیے گئے۔ سنتُو کو بھی ہتھکڑی پہنائی جاچکی تھی۔ لیکن عورتیں بالکل نہ گھبرائیں۔

ٹھاکر صاحب نے حکم دیا۔ کہ سنتُو کے پان59و میں پورے من بھر لوہے کی بیڑی ڈالی جائے۔ دو سپاہی بھاگے بھاگے تھانے سے وہ بھیانک بیڑی لے آئے۔ عورتوں کے رُوبرو سنتُو کے پان59و میں وہ بیڑی ڈال دی گئی۔ وہ ذرا نہ گھبرایا۔ ’’پنچایت کی آواز، گیہوں کی آواز۔‘‘ اس نے بلند آواز سے نعرہ لگایا اُس سے بہت پوچھا گیا، کہ وہ باقی پانی پلانے والے نوجوانوں کے نام بتادے۔ لیکن اس نے صاف انکار کردیا۔ وہ نوجوان نہ جانے کہاں جا چھپے تھے۔

’’بدمعاش کی پیٹھ ننگی کرکے خوب کوڑے لگاؤ جب مانے گا۔‘‘ ٹھاکر صاحب نے سنتُو کی طرف خونی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔

سنتُو کی پیٹھ دھوبی کا تختہ بن چکی تھی۔ جگہ بہ جگہ اس پر نیل پڑچکے تھے۔ لیکن وہ برابر کہے جارہا تھا۔۔۔ بٹائی کے دن بیت گئے۔

ایک طرف ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے دھرتی کے بیٹے کھڑے تھے۔ جن کی آنکھوں میں بغاوت کی آگ بھڑک رہی تھی۔ دوسری طرف کھلیان کے گرد دھرتی کی بیٹیوں نے دھرنا مار رکھا تھا۔ انھیں اپنی جگہ سے ہٹنا منظور نہ تھا۔ چچا رحیمو اب قیدی بن چکا تھا۔ لیکن اس کا حکم اب بھی پنچایت کا حکم تھا اور انھیں یقین تھا کہ بٹائی کے دن کبھی کے بیت چکے ہیں۔

’’تو نے کیا کھاکر جنا تھا سنتُو کو، نہالو؟‘‘ پیلی شلوار قمیص والی ایک عورت پوچھ رہی تھی۔

سنتُو کی منگیتر اپنے ہونے والے دولھے کی طرف چور نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ خود تھانیدار اور ٹھاکر صاحب اپنے ہاتھوں سے سنتُو کے بال نوچ رہے تھے۔ دیوان صاحب چلاّ رہے تھے ’’یہی حرامی ساری بغاوت کا بانی مبانی ہے۔ ہم اسے زندہ نہیں چھوڑیں گے۔‘‘

دیوندر ستیارتھی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک افسانہ از دیوندر ستیارتھی